Jamiat social News

Jamiat social News Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jamiat social News, TAN SIEW ENG, 8617, TAMAN RAYA, TRIANG, PAHANG, Peshawar.

مجھے 5 لاکھ 20 ہزار تنخواہ ملتی ہے، اس میں گزارہ نہیں ہوتا، تنخواہ 10 لاکھ ہونی چاہیے، میں ڈائیٹنگ پہ رہتی ہوں اس لیے مج...
07/09/2026

مجھے 5 لاکھ 20 ہزار تنخواہ ملتی ہے، اس میں گزارہ نہیں ہوتا، تنخواہ 10 لاکھ ہونی چاہیے، میں ڈائیٹنگ پہ رہتی ہوں اس لیے مجھے پیسے بچ جاتے ہیں اگر ڈائیٹ نہ ہو تو پھر مشکل ہے، ن لیگی رکن قومی اسمبلی شمائلہ رانا

 ؟قارئین! ہمارے دوست مفتی نیاز شاد صاحب نے اک پوسٹ لکھی ہےجس کا لب لباب گویا یہی ہیکہ حافظ حمداللہ صاحب اتنے باصلاحیت او...
07/09/2026

؟
قارئین! ہمارے دوست مفتی نیاز شاد صاحب نے اک پوسٹ لکھی ہے
جس کا لب لباب گویا یہی ہیکہ حافظ حمداللہ صاحب اتنے باصلاحیت اور لائق فائق ہوکر بھی جماعت میں حد درجہ نظر انداز کیوں ہوں۔؟؟؟
اور یہ صرف ان کا نہیں بلکہ اکثر کارکنوں کا سوال ہے۔
!
حافظ صاحب کے پاس بے تحاشا پیسہ بھی نہیں جسے تحفے تحائف کے نام پر بہا دیا جائے۔
اصولی اختلاف کی جسارت بھی احیانا کرتے ہیں۔
جبکہ ان کی بڑی کمزوری یہ ہیکہ
ملمع سازی اور ریاکاری کی اس دنیا میں حافظ صاحب سفید ریش ہوگئے
#مگر انہوں نے ابھی تک چاپلوسی اور جی حضوری نہیں سیکھی
حالانکہ انسانی بارگاہوں میں ان صفات قبیحہ کے بغیر جگہ بنائی ہی نہ جاسکتی۔
#اگر وہ مال رکھتے اختلاف کی جسارت بھی بہنکرتے
اور یہ گُر کی چیزیں بھی سیکھتے تو فیر عہدے منصب تک پہنچنے کے لیے انہیں کسی اور ہنر کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔
#کیا آپ دیکھتے نہیں حیدری صاحب کو جو کسی سکلز کے بغیر بھی مرکزی عہدے کے ساتھ اک زمانے سے چمٹے ہیں۔
مولوی عبدالواسع کی صلاحیت پر بھی نظر ذرا ڈالیں۔
بلکہ خود یہ سومرو جی بھی تو اپنی صلاحیت پر کم
بلکہ خاص کر اسی وجہ سے تنہا دو عدد دستوری عہدوں پر عرصہ سات سے براجمان ہیں۔
#تو مقام عبرت ہے ہر شخص کے لیے
جو انسانی بارگاہوں میں توجہ کے طلبگار ہے
وہ پیسہ بہائے گا یا فیر جی حضوری سیکھے گا، ہر گام و آن سمعنا و قطعنا کا پیکر مجسم بنے گا
#ورنہ خاکم بدہن
وہ صلاحیت لیاقت اور اہلیت سے لبریز ہوگا جماعت کو اس کی خدمات کی ضرورت بھی ہوگی
مگر اس کے باجود بھی راندہ درگاہ ہوگا حافظ جی و دیگر متعدد کی طرح۔
وما علینا الا البلاغ۔

#اسدخان!

جتنا سخت اور دردناک موت اس نوجوان کو دی گئی سن کر دل دہل جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو بدترین تش دد کا نشانہ بنایا گیا، پھر رگو...
02/09/2026

جتنا سخت اور دردناک موت اس نوجوان کو دی گئی سن کر دل دہل جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو بدترین تش دد کا نشانہ بنایا گیا، پھر رگوں کے اندر ایسی دوائی لگائی گئی جس سے میر رضا کا جسم تو بالکل ساکت ہوگیا لیکن وہ محسوس سب کچھ کر سکتا تھا۔ اس کے بعد اس بے بس زندہ جسم پر تیزاب ڈالا گیا یعنی کے وہ درد تو محسوس کر سکتا تھا لیکن نا تو بول سکتا تھا اور نا ہی ہاتھ تک ہلا سکتا تھا۔ پھر پسلی ٹوٹی ہوئی تھی اور دل کے اندر تک سوراخ موجود تھے۔

آخر ظالم لوگوں کو اس خدا کا بھی خوف تک نا آیا جو اس بے دردی سے ق ت ل کیا۔ پھر اگلا ظلم تو ان لوگوں نے کیا جنھوں نے میر رضا کے گھر والوں کا ساتھ دینے اور قاتل ڈھونڈتے کی بجائے گھنٹوں بٹھا کر ان کو زبردستی یہ چیز منوانے کی کوشش کی کہ تمھارے بیٹے نے خود۔کشی کی۔ لیکن وہ بے چارہ باپ اور سسکتی ماں چیختے رہے ان کا بیٹا خود۔ کشی کر ہی نہیں سکتا اس کا ق۔تل کیا گیا ہے۔ پھر ایک جھوٹی رپورٹ بنا کر کیس کو بند کردیا گیا۔ لیکن باپ کی ان گنت محنت کے بعد جب قبر کشائی کی گئی اور نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی تو سارا سچ سامنے آگیا۔

یااللہ! یہ کیسا ملک ہے اور کیسا نظام ہے جہاں انصاف ملنے کی امید ہی ختم ہو جاتی ہے۔ بس اللہ پاک میر رضا کو جنت الفردوس میں ایک باغ دے اور گھر والوں کو اس مشکل گھڑی میں صبر جمیل عطا فرما۔ آمین

گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ایک ہمسایہ ملک کے سفارتخانے میں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب پر جس شدت کے ساتھ واوی...
02/09/2026

گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ایک ہمسایہ ملک کے سفارتخانے میں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب پر جس شدت کے ساتھ واویلا کیا گیا، آج اسی ملک کے سفیر صاحب کے سامنے سب نے آنکھیں موند رکھی ہیں جبکہ پروپیگنڈا آپریٹرز نا جانے کن کی ایماء پر گامزن ہیں وہ ابھی تک منظر عام سے اوجھل ہیں ، بخدا ان مناظر کو دیکھ کر دلی خوشی ہوئی ، کہ آخر خدا خدا کرکے کفر ٹوٹ رہا ہے ۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب ہمیشہ خطے میں بہتر اور برادرانہ تعلقات کے داعی رہے ہیں۔ ان کا مؤقف کسی وقتی مصلحت یا بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا، بلکہ سیاسی بصیرت، قومی مفاد اور حالات کے گہرے ادراک پر قائم ہے۔

اس لئے مولانا صاحب کے ایک سفارتی تقریب میں خطاب پر جن بچونگڑوں کو اُس وقت اچانک حب الوطنی کا مروڑ اٹھا تھا، آج ان کے لئے یہ سب سے شافی علاج ہے کہ وہ اپنے کل کے شور اور آج کی خاموشی کا موازنہ کرلیں کہ تمہارا بیانیہ تو ایک ہفتہ بھی نہ چل سکا، جبکہ مولانا فضل الرحمٰن اپنی بصیرت اور حالات کے درست ادراک کی بنیاد پر برسوں قبل ان حقائق کو بھانپ چکے تھے۔

جن تعلقات کی بہتری اور استحکام کو آج ضروری سمجھا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمٰن ہمیشہ اس حقیقت کے داعی رہے ہیں کہ خطے کے ممالک کے درمیان کشیدگی کے بجائے باوقار، متوازن اور مضبوط تعلقات ہی امن اور قومی مفادات کے لیے بہترین راستہ ہیں۔

اور وہ دیہاڑی دار سن لیں ! ہم ایسے وقتی پروپیگنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ کل جنہیں حب الوطنی کا دورہ پڑا ہوا تھا اور آج وہی منظر بدلتے ہی خاموش ہیں، ان کی یہ خاموشی خود ان کے پروپیگنڈے کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

ان میں اور ہم میں فرق صرف اتنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب حالات کو اپنی سیاسی بصیرت سے پہلے ہی بھانپ لیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ حکم آنے کے بعد آنکھیں کھولتے ہیں اور حکم بدلنے پر اپنا بیانیہ ، اور نظریہ بھی بدل دیتے ہیں۔

حب الوطنی کے نام پر مولانا صاحب کیخلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کے منہ پر آج کے یہ مناظر ہی کڑاکے دار طمانچہ ہیں ۔
ان شاءاللہ جلد دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین مضبوط اور شاندار تعلقات استوار ہوں گے۔

یہ مولوی سوال اٹھاتا ہے، تنقید کرتا ہے، ہماری ہاں میں ہاں نہیں ملاتا، ہمارے غلط کو صحیح کہنے سے انکار کرتا ہے اور خاموش ...
29/08/2026

یہ مولوی سوال اٹھاتا ہے، تنقید کرتا ہے، ہماری ہاں میں ہاں نہیں ملاتا، ہمارے غلط کو صحیح کہنے سے انکار کرتا ہے اور خاموش بھی نہیں رہتا—بس یہی اس کا جرم ہے!

اس لیے اسے غدار مشہور کرو، کسی کا وفادار اور کسی کا ایجنٹ قرار دو۔
جب کردار پر انگلی اٹھانے کے لیے کچھ نہ ملے تو جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لو، عوام کو گمراہ کرو اور اس شخص سے بدظن کرنے کی کوشش کرو جس کا دامن کرپشن سے پاک ہے، جو دنگا فساد اور جرائم کے مقدمات میں الجھا ہوا نہیں کہ اسے کیسوں کی دھمکی دے کر خاموش کرایا جا سکے۔

جب دلیل ختم ہو جائے تو کردار کشی شروع ہوتی ہے، جب سچ کا جواب نہ ہو تو جھوٹا بیانیہ گھڑا جاتا ہے۔

افسوس! ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں عوام کا خیرخواہ انہیں دشمن نظر آئے اور سوال کرنے والا غدار۔

اس منفی مہم پر وسائل اور پیسہ بہایا جا رہا ہے، مگر یاد رکھیں:
پروپیگنڈا کچھ وقت کے لیے آنکھوں کو دھوکا دے سکتا ہے، حقیقت کو ہمیشہ کے لیے نہیں چھپا سکتا۔

عوام کو فیصلہ جھوٹے نعروں سے نہیں، کردار، دیانت، دلیل اور عمل کی بنیاد پر کرنا چاہیے۔

دو مختلف مناظر، دو مختلف اقدار، دو قومی نظریےیہ دونوں ویڈیوز سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے کے دوران بنائی گئی ہیں، مگر ان...
28/08/2026

دو مختلف مناظر،
دو مختلف اقدار،
دو قومی نظریے
یہ دونوں ویڈیوز سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے کے دوران بنائی گئی ہیں، مگر ان دونوں میں صرف دو مختلف مناظر نہیں، دو مختلف اقدار، دو مختلف تربیتیں اور دو مختلف قومی نظریے دکھائی دیتے ہیں۔
ایک ویڈیو گزشتہ سال بونیر کی ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد متاثرین کی بحالی کے دوران ایک مدرسے کے طالب علم کو تقریباً پندرہ تولے سونا ملا۔ وہ چاہتا تو اسے اپنی قسمت کا مال سمجھ لیتا، مگر دینی تربیت نے اسے یہ سکھایا تھا کہ امانت، امانت ہوتی ہے؛ خواہ وہ زمین پر پڑی ملے یا کسی کے گھر کے ملبے سے۔
اس طالب علم نے انتہائی دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ سونا اس کے اصل وارثوں تک پہنچا دیا۔ آج بھی اس مدرسے، اس طالب علم اور اس کی تربیت کو دنیا خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے۔
دوسری ویڈیو نیپال کی ہے، جہاں پرسوں سیلاب نے تباہی مچائی۔ منظر دیکھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ جسے ریسکیو کے نام پر انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے تھی، وہی کس قدر اخلاقی پستی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
ایک بے بس اور بے لباس خاتون، جو پہلے ہی قدرتی آفت کی زد میں ہے، اسے سہارا دینے کے بجائے اس کے کانوں سے بالیاں اتار لینا۔۔۔
یہ محض چوری نہیں، یہ انسانیت کی تذلیل ہے۔
قدرتی آفات انسان کے گھروں کو تو تباہ کرتی ہیں، مگر انسان کی اصل آزمائش یہ ہوتی ہے کہ وہ اس تباہی کے بیچ اپنا کردار بچا پاتا ہے یا نہیں۔
ایک طرف وہ طالب علم ہے جسے بارہ تولے سونا ملا اور اس نے اسے امانت سمجھ کر لوٹا دیا؛ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو ایک بے بس انسان کی مجبوری کو بھی اپنے لالچ کا موقع سمجھ بیٹھے۔
یہ صرف دو ویڈیوز نہیں، انسانی کردار کے دو متضاد چہرے ہیں۔
ایک طرف ایمان، دیانت، امانت اور حیا کی تربیت ہے؛
دوسری طرف لالچ، اخلاقی پستی اور انسانیت سے گرتا ہوا کردار۔
ایسے مناظر دیکھ کر بے اختیار زبان پر ایک ہی جملہ آتا ہے:
الحمدللہ علیٰ نعمتِ الاسلام۔
واقعی، اسلام نے ہمیں صرف عبادات نہیں سکھائیں، انسان بننا بھی سکھایا ہے۔

‏مولانا فضل الرحمن مکتب سیاست کے اُستاد ہیں۔ سیاست میں ایسی زیرک شخصیات کم ہی ہیں جن کا ہاتھ سیاست کی نبض پر رہتا ہے۔ مل...
28/08/2026

‏مولانا فضل الرحمن مکتب سیاست کے اُستاد ہیں۔ سیاست میں ایسی زیرک شخصیات کم ہی ہیں جن کا ہاتھ سیاست کی نبض پر رہتا ہے۔ ملاقات میں موجودہ سیاسی صورت حال پر مولانا سے خصوصی نشست ہوئی حسب سابق مولانا کو موجودہ حالات پر متفکر پایا۔
معروف اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات پر تبصرہ ♥️

مولانا فضل الرحمٰن صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کے لیے شاید یہ تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی موقع ہے کہ وہ ماضی کے عدمِ اعتماد والے ...
22/08/2026

مولانا فضل الرحمٰن صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کے لیے شاید یہ تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی موقع ہے کہ وہ ماضی کے عدمِ اعتماد والے فیصلے کے گناہ کا کفارہ عمران خان کی آزادی کی جدوجہد کرکے ادا کریں۔

سچ تو یہ ہے کہ مولانا کو کسی مقبولیت کی ضرورت نہیں، مگر اگر آج وہ عمران خان کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں، تو یقین جانیں یہ قدم مولانا کو ایک نئی سیاسی بلندی پر لے جا سکتا ہے۔ کیونکہ اس وقت اگر پاکستان میں کوئی ایک شخص عمران خان کی آزادی کے لیے طاقتور اور فیصلہ کن سیاسی کردار ادا کرسکتا ہے، تو وہ صرف اور صرف مولانا فضل الرحمٰن ہی ہیں،

یہ بہترین وقت ہے کہ مولانا ماضی کے فیصلوں کو تاریخ کے حوالے کریں، حال کے درد کو سمجھیں اور مستقبل کی سیاست کا ایسا فیصلہ کریں جسے آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں۔

سیاست کا اصل کمال یہی ہے کہ انسان وقت کی نبض پہچانے، موقع کو غنیمت جانے اور ایک درست فیصلہ کرکے تاریخ کا رخ بدل دے۔

19/08/2026

اگر سب مذہبی جماعتیں ایک مولانا فضل الرحمان صاحب کے چوکھٹ پر جمع ہو جائے تو سیکولر جماعتیں مذہبی جماعتوں کو ملی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکے گا

16/08/2026

آئی ڈی کا ریچ ڈاؤن کردیا گیا
ساتھی کم از کم 5 5 کمنٹس کریں
شکریہ

Address

TAN SIEW ENG, 8617, TAMAN RAYA, TRIANG, PAHANG
Peshawar
28300

Telephone

+923329698859

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamiat social News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Jamiat social News:

Shortcuts

Share