06/22/2023
لاہور فیملی کورٹ میں دس دن میں 500 خلع کی درخواستیں آئی ہیں۔۔!!
اور اکثریت خلع کی درخواستیں دائر کرنے والی پڑھی لکھی خواتین تھیں اور مزے کی بات زیادہ شادیاں تر لو میرج تھیں۔
خلع لینے کی وجوہات جب جانی گئیں تو زیادہ تر نے شوہروں کو بیروزگار ہونے کی وجہ سے چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔
یعنی تنگی میں گزر بسر کرنا ان کیلئے ممکن نہیں تھا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ؟ مرد کیا کریں ؟ ملک کے حالات سامنے ہیں ہر دوسرا مرد ذہنی مریض بن چکا ہے کوئی ملازمت نہیں مل رہی ۔۔۔۔۔کرنے کو دیہاڑی تک نہیں ملتی۔۔۔۔ملک کے حالات اس قدر مقدوش ہوچکے ہیں نوجوان زندگی سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں۔
آئے روز گھریلو پریشانیوں سے تنگ نوجوان خودکشی کی راہ چنتے ہیں کیونکہ ایک تو ان کی بیویوں کی طرف سے مسلسل ذہنی ٹارچر کیا جاتا ہے اور نکمے ہونے کے طعنے الگ ملتے ہیں ۔۔۔۔۔خواتین کا سب سے بڑا مسلئہ یہی ہے کہ وہ حالات کو سمجھتی نہیں ہیں بس جو منہ میں آیا بول دیا اور اس کی وجہ سے اس کا شوہر ذہنی مریض بن جاتا ہے۔
فیصلہ آپ لوگوں پر چھوڑتا ہوں کہ اس وقت وطن عزیز میں ہر طرف بیروزگاری ہی بیروزگاری ہے ۔۔۔۔فیکٹریاں بند پڑی ہیں کاروبار نقصان میں جارہے جو کاروبار بجلی سے منسلک ہیں ان کا ستیاناس ہوچکا ہے۔
تو مرد حضرات کیا کریں؟ اور ہماری خواتین طعنے بازی میں مہارت حاصل کرچکی ہیں۔۔۔۔شادی مل جل کر باہمی مشکلات کا سامنا کرنے کا نام ہے صرف عیاشی کرنے کا نام نہیں ہے اگر آپ کے شوہر کو کوشش کے باوجود ملازمت نہیں مل رہی ہے ۔۔۔۔۔۔مزدوری تک نہیں مل رہی تو اس کا کیا قصور ہے ؟
دس دنوں میں 500 خلع کی درخواستیں دائر ہونا کوئی معمولی سی بات نہیں ہے یہ ہمارے خاندانی نظام کی تباہی کا سبب بنے گا اور برداشت کا زاوی