Minhaj Ul Quran California USA

Minhaj Ul Quran California USA Showing the Real Face of Islam

03/20/2026

سیرتِ محمدی ﷺ قرآنِ مجید جیسا معجزہ کیسے؟

03/20/2026

*دعویٰ نبوت کی دلیل کیا ہے؟*

احتجاجی سیاست کا خاتمہ اور ڈاکٹر طاہر القادری کی اعلیٰ بصیرتپاکستان کی سیاست کے ہنگامہ خیز ادوار میں بہت سے کردار آئے او...
10/27/2025

احتجاجی سیاست کا خاتمہ اور ڈاکٹر طاہر القادری کی اعلیٰ بصیرت

پاکستان کی سیاست کے ہنگامہ خیز ادوار میں بہت سے کردار آئے اور گئے، کسی نے جوش و ولولے کے زور پر شہرت کمائی، کسی نے نعروں اور احتجاجوں کی سیاست سے اپنے وجود کو زندہ رکھا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایک کر کے سب کے نعروں کی گونج مدہم پڑتی گئی، اور اس ملک کا سیاسی منظرنامہ رفتہ رفتہ ایسے مقام پر آ پہنچا جہاں “احتجاج” خود جرم بن گیا۔
یہ وہ مقام تھا جسے برسوں پہلے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اپنی بصیرت سے دیکھ لیا تھا — جب باقی سب جوش میں تھے، وہ ہوش میں تھے۔

بصیرت کا لمحہ — 14 ستمبر 2019:

14 ستمبر 2019 کو، جب ملک میں عمران خان کی حکومت تھی اور احتجاجی سیاست کا زور و شور اپنے عروج پر تھا، ڈاکٹر طاہر القادری نے ایک تاریخی فیصلہ کیا۔
انہوں نے ذاتی طور پر سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے اپنی جماعت پاکستان عوامی تحریک کا نیا صدر و جنرل سیکرٹری مقرر کر دیا۔
یہ اعلان محض "ریٹائرمنٹ" نہیں تھا، بلکہ پاکستان کی سیاست کے آنے والے دور کی پیشگی جھلک تھی۔
انہوں نے صاف کہا:

> “اب احتجاج نہیں، شعور کی بیداری ہمارا ہدف ہے۔”

انہوں نے اپنی پوری جماعت کو احتجاجی سیاست سے الگ کر کے اخلاق، علم، تربیت، اور شعورِ شہریّت کی راہ پر لگا دیا۔
یہ فیصلہ اُس وقت بہتوں کو حیران کن لگا۔
کئی لوگ سمجھے کہ ڈاکٹر صاحب پیچھے ہٹ گئے، بزدل ہو گئے، یا میدان چھوڑ گئے۔
مگر درحقیقت وہ "میدان" کے اندر رہ کر آنے والے "طوفان" کو دیکھ چکے تھے۔

"سیاست نہیں، ریاست بچاؤ" — ایک پیش گوئی نہیں، حقیقت:

ڈاکٹر طاہر القادری کا وہ مشہور جملہ "سیاست نہیں، ریاست بچاؤ" اب محض نعرہ نہیں رہا، بلکہ ایک تاریخی صداقت بن چکا ہے۔
انہوں نے برسوں پہلے خبردار کیا تھا کہ اگر نظام نہ بدلا تو

> "چہرے بدلنے سے کچھ نہیں ہو گا، اس نظام کے تحت سو الیکشن بھی کروا لو، تبدیلی نہیں آئے گی۔"

آج وہی بات حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہی ہے۔
نظام نے ن-لیگ، پیپلز پارٹی، اور پی ٹی آئی — سب کو اپنے سانچے میں ڈھال لیا۔
ڈاکٹر صاحب نے فرمایا تھا:

> "یہ نظام نمک کی کان ہے، جس میں ہیرا بھی رکھ دو تو وہ نمک بن جاتا ہے۔"

اور واقعی، آج وہ تمام جماعتیں جو کبھی انقلاب اور تبدیلی کی علمبردار تھیں، اسی نظام کی قیدی بن چکی ہیں۔

احتجاجی سیاست کا انجام:

ڈاکٹر طاہر القادری نے اس حقیقت کو برسوں پہلے بھانپ لیا تھا کہ پاکستان میں اب احتجاج کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ اب ریاستی ادارے کسی بھی احتجاج کو "بغاوت" کے ہم معنی قرار دے دیں گے۔
انہوں نے پیشگی خبردار کیا تھا:

> "یہاں اب وہی احتجاج کر سکے گا جسے طاقتور حلقے اجازت دیں گے، ورنہ خون بہے گا اور کارکن ریاست کے قابو میں آ جائیں گے۔"

ان کو خبر تھی ملک وہ وقت آنے والا ہے جب غزہ و فلسطین کے معاملے پر بھی وہی احتجاج کر سکے گا جس کی طاقتور حلقوں سے مفاہمت ہو گی اور جب طاقتور حلقے اشارہ کریں گے تب ہی وہ احتجاج کو نکل پائے گا۔
ان کو خبر تھی کہ اگر ان کی جماعت پاکستان عوامی تحریک یا منہاج القرآن غزہ و فلسطین کے مسئلے پر بھی احتجاج کرے گی تو کسی نہ کسی بہانے اس احتجاج کو فساد قرار دے کر جماعت کرش کر دی جائے گی، اور جماعت کرش کر کے ماڈل ٹاؤن کیس سے جان چھڑا لی جائے گی۔ یہ سارے ممکنات ان کے سامنے تھے ۔ انہوں نے بہت پہلے پیشگوئی کر دی تھی کہ نواز شریف وغیرہ پنشمینٹ نہیں بھگت رہے بلکہ سیٹلمینٹ کر رہے ہیں اور ایک دن یہ لوگ عدالتوں سے پاک صاف قرار پا کر دوبارہ اقتدار میں آ جائیں گے ۔ لہذا انہوں پیش بندی کے طور پر 2019 میں ہی سیاست سے ریٹائرمینٹ کا اعلان کر کے اپنی تحریک اور کارکنان کو محفوظ رکھنے کا انتظام کر لیا۔ ان کو خبر تھی کہ جب ن-لیگ دوبارہ اقتدار میں آئی تو کیا کیا کچھ ہو گا، کس طرح فوج کو پنجاب پولیس بنا دیا جائے اور کس طرح احتجاج پر پابندی لگا کر مخالفین کو کرش کرنے کا اہتمام کیا جائے گا۔
جب لوگ عمران خان کی قید و بند کو جرات و بہادری قرار دے رہے تھے تو وہ اپنے علمی پراجیکٹس تفسیر و حدیث کی تکمیل میں مصروف تھے۔ وہ کسی مرحلے پر بھی ذرا برابر بھی جذباتی نہیں ہوئے۔ خمارِ عمرانیت میں ان کے کئی لوگ ان کا ساتھ بھی چھوڑ گئے ، بزدلی و طعن وتشنیع اور بیرونِ ملک مقیم ہونے کے طعنے بھی برداشت کیے مگر وہ نظامِ ظلم کی گرفت سے انتہائی حکمت کے ساتھ خود کو اور کارکنان کو بچانے میں کامیاب رہے۔ وہ جب نظام کی حقیقت کے متعلق بیانات دے رہے تھے تو صرف بیانات نہیں دے رہے تھے بلکہ آنے والے متوقع حالات میں تحریک کو زندہ رکھنے کی حکمتِ عملی بھی ترتیب دے رہے تھے۔۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ن-لیگی حکومت کسی موقع پر شاید PTI سے تو درگزر کر لے مگر وہ PAT اور منہاج القرآن سے ذرا برابر درگزر نہیں کرے گی۔ ان کو ریاستی قوت کا بھی صحیح طرح سے اندازہ تھا کہ ریاست جب کرش کرنے پر آئے تو قوت بچا نہیں سکتی۔ بعد میں حالات نے ثابت کر دیا رہاستی قوت کا پیشگی درست اندازہ عمران خان سمیت کوئی سیاستدان سوائے ڈاکٹر طاہر القادری کے نہ کر سکا۔ ان کو معلوم تھا کہ عمران خان کی جرات و بہادری کے جتنے بھی ترانے گائے جائیں رہائی اس کو تب ہی ملنی ہے جب فوج سے ڈیل ہونی ہے، بالآخر کمپرومائز ہونا ہی ہے، اور کمپرومائز کے بعد ساری تبدیلی دوبارہ سے اسٹیبلشمینٹ کی گود میں بیٹھ جائے گی۔ اب امریکی CIA کے عہدیدار کے انڈین میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو سے بہت سے راز آشکار ہو گئے ہیں۔

وقت نے ثابت کیا — وہی سب کچھ ہوا، جو جو انہوں نے کہا تھا۔
پی ٹی آئی کا 9 مئی، تحریک ل-ب-ی-ک کا 13 اکتوبر، اور بے شمار دیگر احتجاج — سب کچل دیے گئے۔
ایک بھی جماعت اپنے ورکرز کو محفوظ نہ رکھ سکی۔
اور آج ملک میں احتجاج کی “جان” باقی نہیں رہی۔

مگر منہاج القرآن محفوظ ہے۔
اس کے ہزاروں کارکن، سینکڑوں ادارے، اور لاکھوں وابستگان آج بھی اسی سکون اور وقار سے خدمتِ دین، تعلیم، اور اخلاقی تربیت میں مصروف ہیں۔
یہ ڈاکٹر طاہر القادری کے حکیمانہ فیصلے کا ثبوت ہے۔

خاموش انقلاب — احتجاج سے خدمت کی طرف:

ڈاکٹر طاہر القادری نے احتجاجی سیاست کو خیر باد کہہ کر اپنی قوت کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا —
علم، خدمت، اور بیداریِ شعور۔

آج پاکستان کے طول و عرض میں ساڑھے تین سو سے زائد ماہانہ دروسِ قرآن ہو رہے ہیں،
ہزاروں ہفتہ وار حلقاتِ درود و فکر منعقد ہو رہے ہیں،
رمضان المبارک میں ملک گیر دروسِ قرآن ہوتے ہیں،
ربیع الاول میں ہزارہا محافلِ میلاد اور سال بھر گوشہ ہائے درود سے ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی صدائیں بلند ہیں۔

منہاج یونیورسٹی ایک بین الاقوامی علمی برانڈ بن چکی ہے،
اور اب اگلا ہدف پچیس ہزار مراکزِ علم کا قیام ہے۔
یہ ہے وہ عملی انقلاب جو کسی دھرنے، نعرے یا تصادم کے بغیر برپا ہو رہا ہے۔

وہ جو بزدلی سمجھی گئی، وہ دراصل حکمت تھی:

جب باقی رہنما قید و بند کے جھنڈے لہرا کر خود کو ہیرو بنا رہے تھے،
ڈاکٹر طاہر القادری اپنی قوم کے جوانوں کو بچا رہے تھے۔
انہوں نے نہ ریاست سے ٹکر لی، نہ اپنے کارکنوں کو قربانی کا ایندھن بنایا۔

انہوں نے کہا:

“جان دینا عبادت ہے، مگر جان بچانا بھی حکمت ہے۔”

ان کی خاموشی دراصل وہ عقلِ عملی تھی جس نے آج منہاج القرآن کو واحد غیر متنازع اور نان-کمپرومائزڈ تحریک بنا دیا ہے۔ منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک نظام، اسٹیبلشمینٹ و حکومت سے نان-کمپرومائزڈ ہو کر بھی انتہائی حکمت سے اپنے مشن کو فروغ دینے میں کامیاب ہے۔ اب تو پاکستان کی سب سیاسی و مذہبی جماعتیں ہی کمپرومائزڈ ہیں۔ جو کمپرومائذڈ نہیں تھے ان کو کرش کر دیا گیا ہے اور ان میں اب دہائیوں تک دوبارہ اٹھنے کی استطاعت باقی نہیں رہی۔۔ صرف تحریک منہاج القرآن ایسی واحد تحریک بچ گئی ہے جو نان-کمپرومائزڈ بھی ہے، کرش ہونے سے محفوظ بھی ہے اور اس کے نظریہ میں انقلاب برپا کر دینے کا مکمل پوٹینشل بھی موجود ہے۔ جس کے ورکرز بیشک حکمت کی وجہ سے ظاہرًا خاموش ہیں مگر ان میں انقلاب برپا کرنے کا جذبہ ہر وقت تروتازہ رہتا ہے۔

آج کا منظرنامہ اور کل کی بصیرت:

آج ملک میں نہ کوئی جماعت احتجاج کر سکتی ہے،
نہ کوئی رہنما ریاستی گرفت سے آزاد ہے۔
میڈیا سچ بولنے سے محروم،
عدلیہ دباؤ میں،
اور سیاست مکمل کمپرومائزڈ۔
ایسے میں صرف منہاج القرآن ایک نظریاتی، علمی، اور روحانی تحریک کے طور پر سربلند ہے —
کیونکہ اس نے شور نہیں، شعور پیدا کیا۔
یہ نہ کسی طاقت کا دم چھلہ بنی، نہ کسی ورغلانے والے کے جھانسے میں آئی اور نہ ہی ٹکراؤ کی پالیسی سے اپنی قوت کو ضائع کیا۔
جب ایک ہی معاملہ پر بعض پارٹیز کو احتجاج کی اجازت دی جائے اور اسی معاملے پر بعض کو اجازت دینے کی بجائے کرش کر دیا جائے تو سمجھ لیں کہ اجازت انہیں کو ملی جو کمپرومائزڈ تھے۔
یہی وہ حقیقت ہے جو ڈاکٹر طاہر القادری 2019 میں ہی سمجھ چکے تھے۔

نتیجہ:

ڈاکٹر طاہر القادری نے 2019 میں جو فیصلہ کیا،
وہ وقت سے نہیں بھاگنا تھا، بلکہ وقت سے آگے چلنا تھا۔
آج جب احتجاجی سیاست دم توڑ چکی ہے،
تو ثابت ہو گیا کہ اُن کا راستہ غلط نہیں، بلکہ سب سے درست تھا۔

وہ نہ مصلحت کا شکار ہوئے،
نہ جوش میں حکمت کھوئی،
بلکہ مستقبل کی دہلیز پر کھڑے ہو کر وہ خطرہ دیکھ لیا جو دوسروں کو برسوں بعد نظر آیا۔

اور یہی بصیرتِ قائد کی پہچان ہے —
کہ جب لوگ شور میں راستہ بھول جائیں،
وہ خاموشی میں منزل دیکھ لے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی بصیرت کا یہ فیصلہ آج ایک تاریخی حقیقت کے طور پر ہمارے سامنے ہے — کہ احتجاجی سیاست کا دور ختم ہو چکا،
اب علم، اخلاق، اور بیداریِ شعور کی سیاست ہی اس قوم کا مستقبل ہے---

تحریر :
ڈاکٹر سید محمد ہارون بخاری
گجرات



09/05/2025

12 ربیع الاول کی صبح اکیس توپوں کی سلامی کے عمل خیر کا سہرا شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو جاتا ہے

09/03/2025

*رسالت محمدیﷺ پر درخت کی گواہی

09/03/2025

*🌹میلاد النبیﷺ کو بطور عید منانا کیسا ہے؟*

09/03/2025

12 ربیع الاول حضور ﷺ کی ولادت کے ساتھ وصال کا دن بھی ہے تو امّت ولادت کا جشن تو مناتی ہے پر سوگ کیوں نہیں مناتی

09/03/2025

*👈🏻صلاح الدین ایوبی کا خاندان حضورﷺ کا میلاد کیسے مناتا؟*

09/03/2025

*حضور نبی اکرم ﷺ کی نسبت اور اسکی تاثیر

08/03/2025

His Eminence Shaykh-ul-Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri visited the exhibition stalls at Al-Hidayah 2025, engaging with participants and appreciating the creative and scholarly contributions showcased by the youth and various departments.

08/03/2025

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کی بہو ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی زوجہ ڈاکٹر غزالہ حسن قادری
الہدایہ 2025 میں خطاب کرتے ہوئے

Address

Marysville, CA

Telephone

+15307557063

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Minhaj Ul Quran California USA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Minhaj Ul Quran California USA:

Share

Category