07/12/2026
عسبِ الفحل (نر جانور کی جفتی کی اجرت) کا شرعی حکم
الحمد للہ، والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد:
نر جانور (جیسے بکرا، مینڈھا، بیل، اونٹ یا گھوڑا) کو مادہ جانور پر چڑھانے کے عوض اجرت لینا فقہِ حنفی کے نزدیک جائز نہیں۔ اس مسئلے کی بنیاد صحیح احادیث اور ائمۂ احناف کی تصریحات پر ہے۔
حدیث نبوی ﷺ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«نهى رسول الله ﷺ عن ثمن الكلب، ومهر البغي، وعسب الفحل.»
ترجمہ:
“رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور نر جانور کی جفتی کی اجرت سے منع فرمایا۔”
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
ایک روایت میں آیا ہے:
«إن من السحت عسب التيس.»
ترجمہ:
“بکرے کی جفتی کی اجرت حرام کمائی (سحت) میں سے ہے۔”
⸻
فقہ حنفی کی معتبر کتابوں کے اقوال
1. الہدایہ (3/238)
امام مرغینانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولا يجوز أخذ أجرة عسب التيس…
ترجمہ:
بکرے کے نر کی جفتی کی اجرت لینا جائز نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “بکرے کی جفتی کی اجرت سحت میں سے ہے۔” یہاں عسب سے مراد اس پر اجرت لینا ہے۔
⸻
2. المحیط البرہانی (7/492)
مصنف فرماتے ہیں:
ولو استأجر فحلاً للإنزاء فهو باطل…
ترجمہ:
اگر کسی نے نر جانور کو جفتی کے لیے کرائے پر لیا تو یہ عقد باطل ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور نر جانور کی جفتی کی اجرت سے منع فرمایا ہے۔ مزید یہ کہ اصل مقصود حمل ٹھہرانا ہے، اور یہ انسان کے اختیار میں نہیں۔
⸻
3. تبیین الحقائق (5/124)
مصنف فرماتے ہیں:
لا أجرة عسب التيس…
ترجمہ:
بکرے کی جفتی کی اجرت لینا جائز نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے سحت قرار دیا ہے۔ نیز حمل ٹھہرانا انسان کے اختیار میں نہیں، اس لیے اس پر اجرت لینا جائز نہیں۔ مزید یہ کہ یہ منی کے بدلے مال لینا ہے، جبکہ منی کی کوئی مالی حیثیت نہیں۔
⸻
4. الدر المختار (6/55)
مصنف فرماتے ہیں:
لا تصح الإجارة لعسب التيس.
ترجمہ:
بکرے کی جفتی کے لیے اجارہ (کرایہ کا معاہدہ) صحیح نہیں۔
⸻
5. رد المحتار (6/55)
علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لأنه عمل لا يقدر عليه وهو الإحبال.
ترجمہ:
اس لیے کہ اصل مقصود حمل ٹھہرانا ہے، اور انسان اس پر قدرت نہیں رکھتا، لہٰذا اس پر اجرت لینا درست نہیں۔
⸻
6. البحر الرائق (8/33)
مصنف فرماتے ہیں:
لا أجرة عسب التيس…
ترجمہ:
بکرے کی جفتی کی اجرت لینا جائز نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے سحت قرار دیا ہے۔ حمل ٹھہرانا انسان کے اختیار میں نہیں، اس لیے اس پر اجرت لینا درست نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص بغیر اجرت اپنا نر جانور جفتی کے لیے دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ اس سے نسل باقی رہتی ہے۔
⸻
خلاصہ
فقہِ حنفی کی معتبر کتابوں کے مطابق:
* نر جانور کی جفتی پر اجرت لینا جائز نہیں۔
* اس مقصد کے لیے اجارہ کا عقد صحیح نہیں۔
* اس کی بنیادی دلیل صحیح احادیث ہیں۔
* فقہائے احناف نے اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ اصل مقصود حمل ٹھہرانا ہے، جو انسان کے اختیار میں نہیں، لہٰذا اس پر اجرت لینا درست نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔