PTM Updates

PTM Updates PTM Updates. ( it's our Official Page
PTM : Pashtun Tahafuz Movement
Type : Human Rights Movement [email protected]
(205)

PTM Updates – The Pashtun Tahafuz Movement is a social Movement for Pashtun human Rights based in Khyber Pakhtunkhwa and Balochistan. It was founded in May 2014 by eight students in Dera Ismail Khan. On 1 February 2018, the name of the movement was changed from “Mahsud Tahafuz Movement” to “Pashtun Tahafuz Movement.”
PTM Updatese
https://www.ptmupdates.com
Disclaimer This is the News Page of PTM

- Pashtun Tahafuz Movement ( Organization ). All Files Found on This Site Have Been Collected From Our Reporters and Various Sources Across The Web And Are Believed To Be in The "Public Domain" If Have Any Other Issue Then Feel Free To Contact Us.

د پښتون ژغورنې غورځنګ د ښځینه څانګې له لوري د خړ کمر د شهيدانو د اووم تلین په مناسبت يوه درنه او باوقاره غونډه د کوټې کچ...
06/01/2026

د پښتون ژغورنې غورځنګ د ښځینه څانګې له لوري د خړ کمر د شهيدانو د اووم تلین په مناسبت يوه درنه او باوقاره غونډه د کوټې کچلاغ په کلی تاجوال کې ترسره شوه.
په دې غونډه کې د غورځنګ ملالو خويندو او ميندو په پراخه کچه ګډون وکړ او خپلو ملي شهيدانو ته يې د ژور عقيدت، درناوي او وفادارۍ پېرزونې وړاندې کړې. د هغوی قربانۍ د دې خاورې د عزت، امن او حق لپاره يو نه هېريدونکی باب دی.
شهيدان زموږ وياړ دي، زموږ تاريخ دي، او زموږ راتلونکی د هغوی د قربانيو نه الهام اخلي. موږ به هېڅکله د خپلو شهيدانو وينه بې ارزښته نه پرېږدو.

05/28/2026

پي ټي اېم خپل قامي شهیدان، بندیان او ملګري هېڅکله نه هېروي.

عید کا دن خوشی، اجتماع اور زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب کے بڑے شہروں میں یہ خوشی کھل کر نظر آتی ہے بازار روشن ہیں...
05/27/2026

عید کا دن خوشی، اجتماع اور زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب کے بڑے شہروں میں یہ خوشی کھل کر نظر آتی ہے بازار روشن ہیں، بچے نئے کپڑے پہن کر گلیوں میں کھیل رہے ہیں، گھروں اور محلوں میں جشن کا سماں ہے۔ ہر طرف ہنسی ہے، روشنی ہے، اور ایک ایسا احساس کہ زندگی معمول کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔
لیکن ۔۔۔۔
شمالی وزیرستان کے علاقے شیواہ، ملک شاہی میں چند بچے عید کی تیاری کے لیے پہاڑی کی طرف جاتے ہیں۔ ان کا مقصد سادہ ہے: "شاشپائی" کے لیے لکڑیاں جمع کرنا، ایک مقامی روایت جس کے تحت عید کی شام آگ جلا کر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ ان بچوں کے لیے عید کا سب سے بڑا جشن ہوتا ہے۔
یہی پہاڑی کچھ دن پہلے تک ایک (ایف سی مورچے) کے زیرِ استعمال تھی، جو اب خالی کی جا چکی ہے۔
مگر یہ خالی جگہ درحقیقت خالی نہیں ہوتی۔
زمین کے نیچے بارودی سرنگیں موجود ہوتی ہیں خاموش، نظر نہ آنے والی، مگر مہلک۔
لکڑیاں جمع کرتے ہوئے ایک بچہ زمین پر پڑی ایک شے کو دیکھتا ہے۔
وہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، ہاتھ لگاتا ہے،
اور ایک دھماکہ ہو جاتا ہے۔
آٹھ سالہ حسنین، جو چوتھی جماعت کا طالب علم ہے، اسی لمحے اپنے دونوں ہاتھ اور ایک آنکھ کھو دیتا ہے۔
قبائلی علاقوں، خصوصاً وزیرستان میں، بارودی سرنگیں برسوں سے ایک خاموش خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ جنگی کارروائیوں کے بعد یہ سرنگیں صاف نہیں کی جاتیں، اور ان کا سب سے بڑا شکار عام شہری، خصوصاً بچے بنتے ہیں۔
عید جیسے مواقع، جو خوشی اور تحفظ کی علامت ہونے چاہئیں، ان علاقوں میں غیر یقینی اور خوف میں بدل جاتے ہیں۔
پشتون علاقوں میں رہنے والے لوگ، خاص طور پر خواتین اور بچے، اس مسئلے کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ ایک طرف بنیادی سہولیات کی کمی، دوسری طرف "زمین میں چھپی موت"۔
پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) روز اول سے یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ بارودی سرنگوں کو فوری طور پر صاف کیا جائے۔
بین الاقوامی سطح پر، بارودی سرنگوں کا استعمال اور ان کی موجودگی ایک سنجیدہ انسانی مسئلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں ان کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
لیکن وزیرستان جیسے علاقوں میں، یہ مسئلہ اب بھی جوں کا توں موجود ہے۔

ایک غم ابھی دل سے اترا بھی نہ تھا کہ ایک اور قیامت ہمارے دروازے پر آ کھڑی ہوئی۔اور وہ بھی ایسے دنوں میں، جب دنیا عید کی ...
05/27/2026

ایک غم ابھی دل سے اترا بھی نہ تھا کہ ایک اور قیامت ہمارے دروازے پر آ کھڑی ہوئی۔
اور وہ بھی ایسے دنوں میں، جب دنیا عید کی خوشیاں منا رہی ہے۔
گزشتہ رات ہرنائی کے شاہرگ تحصیل کی چونگی روڈ پر، جو بازار اور دیہات کو جوڑنے والی واحد راہ ہے، ریاستی اہلکاروں نے زبردستی ناکہ قائم کیا۔
جب عام لوگوں نے صرف اتنا کہا کہ ہمیں گزرنے دیا جائے، تو جواب میں گولیوں کی زبان استعمال کی گئی۔
اندھا دھند فائرنگ… اور چند لمحوں میں مفتي زاہد شاہ، ضیاء الحق، قاہر میانی، اکرام اللہ اور زمان شاہ کو بے رحمی سے شہید کر دیا گیا۔
یہ کوئی دور دراز، غیر محفوظ علاقہ نہیں تھا۔
یہ واقعہ ایف سی کے بڑے کمپاؤنڈ سے صرف دس منٹ کی پیدل مسافت پر پیش آیا ، اُس علاقے میں جہاں ہر طرف چوکیاں ہیں، مورچے ہیں، قلعے ہیں، اور آسمان پر ڈرون کیمروں کا جال بچھا ہوا ہے۔
سوال یہ ہے:
اگر یہ سب کچھ موجود ہے، تو پھر پشتونوں کے خون کی یہ نہ ختم ہونے والی داستان کیوں جاری ہے؟
بے گناہ قتل، دہشتگردی، بھتہ خوری، دھماکے، اور لوگوں کو تاوان کے لیے اٹھا لینا۔
صرف ایک ہفتہ پہلے زیارت اور ہرنائی کے مانگی علاقے میں پانچ کوئلے سے بھرے ٹرک جلائے گئے، اور چار مقامی افراد کو اغوا کر لیا گیا ، آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں۔
یہ سب کچھ ایک ایسے خطے میں ہو رہا ہے جو مکمل طور پر ریاستی کنٹرول میں ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
تو پھر یہ کیسا کنٹرول ہے؟
یہ کیسی سیکیورٹی ہے؟
اور آج عید کے دن!!!
جب باقی دنیا خوشیوں میں مصروف ہے، پشتون اپنے شہیدوں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں۔
ہم کیسے عید منائیں؟
کس چیز کی عید منائیں؟
کون سا وہ دن ہوگا جب ہم سکون سے، بغیر خوف کے، اپنے بچوں کے ساتھ عید منا سکیں گے؟
جب تک اس ظلم کا حساب نہیں لیا جاتا، جب تک اس خون کا انصاف نہیں ہوتا۔
یہ عیدیں، یہ خوشیاں، ہمارے لیے صرف ایک ادھورا خواب رہیں گی۔

نن شپږویشتم د مئۍ دی، پوره اوه کاله وړاندې په همدې ورځ د شمالي وزیرستان د خړ کمر په سیمه کې پاکستاني وسلوالو ځواکونو د پ...
05/26/2026

نن شپږویشتم د مئۍ دی، پوره اوه کاله وړاندې په همدې ورځ د شمالي وزیرستان د خړ کمر په سیمه کې پاکستاني وسلوالو ځواکونو د پښتون ژغورنې غورځنګ په امن پرست کاروان باندې وسلوال برید وکړو چې شپاړس تنکي ځوانان یې شهیدان او پنځه څلوېښت کسان پکې ټپیان شول، چې ځینې یې حتا لا تر اوسه جوړ ندي، د خړ کمر شهیدانو نوم به د پښتون افغان په تاریخ کې په زرینو کرښو لیکل شوی دی.
نن د همدې لپاره په سوشل میډیا کې د یادو شهیدوانو اووم تلین دوي ته د دعا او د دوي د سرښیندنو د یاد تازه کولو لپاره یو ټرېنډ چلوو هیله ده ملتیا مو وکړئ.
Hashtag: KharQamarMassacre

جانی خیل، ولی نور اور شاہد خان کے گاؤں میں آج کی صبح بھی کسی عام دن کی طرح شروع نہیں ہوئی۔ یہاں لوگوں کو نہ اذان کی آواز...
05/26/2026

جانی خیل، ولی نور اور شاہد خان کے گاؤں میں آج کی صبح بھی کسی عام دن کی طرح شروع نہیں ہوئی۔ یہاں لوگوں کو نہ اذان کی آواز جگاتی ہے اور نہ پرندوں کی چہچہاہٹ، بلکہ مارٹر گولوں کی آوازیں ان کی نیند توڑ دیتی ہیں۔
صبح سویرے سے لے کر اب تک ان علاقوں میں مسلسل مارٹر شیلنگ اور ڈرون کی نگرانی جاری ہے۔ ایک طرف فوج اپنی سپلائی گاڑیوں کو چیک پوسٹوں تک پہنچاتی ہے، دوسری طرف مسلح لوگ انہیں نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس سب کے درمیان مر کون رہا ہے؟
جواب واضح ہے: عام پشتون ۔
نور اسلام حاجی کے گھر پر آج مارٹر گولہ گرا۔ اس حملے میں عید کے لیے رکھا گیا جانور شہید ہو گیا، شمسی توانائی کا نظام تباہ ہو گیا اور گھر کا ایک حصہ شدید متاثر ہوا۔ یہ محض ایک گھر کی کہانی نہیں، بلکہ اس پورے علاقے کی اجتماعی حالت ہے جہاں ہر گھر اسی خوف کے سائے میں جی رہا ہے۔
ایک طرف پاکستان کے دیگر شہروں میں عید کی تیاریاں عروج پر ہیں، بازار سجے ہوئے ہیں، بچے نئے کپڑوں کے خواب دیکھ رہے ہیں، اور گھروں میں خوشیوں کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ لیکن پشتون خطے میں عید کا مطلب صرف ایک سوال رہ گیا ہے۔
کیا ہم اس دن تک زندہ بھی رہیں گے؟
آخر کب تک پشتون علاقوں کو جنگ کا میدان بنا کر یہاں کے لوگوں کو (collateral damage) کے نام پر قربان کیا جاتا رہے گا؟
عید خوشی، امن اور زندگی کا پیغام لے کر آتی ہے۔ لیکن جانی خیل کے لوگوں کے لیے یہ دن بھی خوف، غیر یقینی اور بقا کی جنگ میں بدل چکا ہے۔
ریاست پاکستان اور تمام فریقین سے مطالبہ ہے کہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ عام شہریوں کو جنگ کا ایندھن بنانا بند کیا جائے اور کم از کم عید کے دنوں میں ان علاقوں میں مکمل امن یقینی بنایا جائے۔
یہ لوگ دہشتگرد نہیں ہیں۔
یہ لوگ صرف جینا چاہتے ہیں۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ نہ اس کا جرم معلوم ہے، نہ قاتل۔ہمیں پھر وہی پرانی بات سننے کو ملے گی کہ “نامعلوم افراد” تھے۔لیکن سچ یہ...
05/24/2026

اب مسئلہ یہ ہے کہ نہ اس کا جرم معلوم ہے، نہ قاتل۔
ہمیں پھر وہی پرانی بات سننے کو ملے گی کہ “نامعلوم افراد” تھے۔
لیکن سچ یہ ہے کہ یہ “نامعلوم” اب کسی کے لیے نامعلوم نہیں رہے۔ جس معاشرے میں ہر قتل کا قاتل نامعلوم ہو، وہاں اصل میں سب کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام کس کا ہے ۔
یہ کون لوگ ہیں جو رات کو اٹھا کر لے جاتے ہیں، تشدد کرتے ہیں اور لاش پھینک دیتے ہیں؟ اور پھر پورا نظام خاموش رہتا ہے؟
اگر ریاست موجود ہے تو یہ سب اس کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ اور اگر اس کے باوجود کوئی جواب نہیں، کوئی گرفتاری نہیں، کوئی انصاف نہیں تو پھر سوال خود بخود کھڑا ہوتا ہے۔
واحد اللہ ولد میرعباس خان کو کجیھر کوٹ سے مسلح افراد اٹھا کر لے گئے۔ سرہ درگہ لے جا کر اس پر ایسا تشدد کیا گیا کہ وہ جانبر نہ ہو سکا۔
وہ کوئی لڑنے والا آدمی نہیں تھا، نہ کسی قسم کی دشمنی، نہ کوئی جھگڑا۔ ایک سادہ، شریف اور غریب انسان تھا، جو صرف مجبوری میں کجیر میں ملک شاہی قوم کے قومی گھر میں کرایہ دے کر رہ رہا تھا۔
پشتون علاقوں میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ہر دن ایک نئی لاش، ایک نیا “نامعلوم”، اور ایک نیا خاموش جنازہ۔
ہمیں کم از کم اتنا تو سچ بولنا چاہیے کہ یہ “نامعلوم” دراصل معلوم ہیں۔

05/23/2026

ټول پښتون قام ته دې مبارک وي.

05/23/2026

میں ابو مانگ رہا ہوں ، بنوں کے معصوم کی ادھوری پکار

درازندہ کی سڑک ابھی پوری طرح جاگی بھی نہیں تھی۔ ہلکی ہوا چل رہی تھی، اور رحیم اپنے موٹر سائیکل پر خاموشی سے اپنے راستے پ...
05/23/2026

درازندہ کی سڑک ابھی پوری طرح جاگی بھی نہیں تھی۔ ہلکی ہوا چل رہی تھی، اور رحیم اپنے موٹر سائیکل پر خاموشی سے اپنے راستے پر جا رہا تھا۔ نہ اس کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار تھا، نہ دل میں کوئی خوف، کیونکہ وہ اپنے ہی علاقے میں تھا۔
لیکن شاید یہ اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
اچانک فضا چیخ اٹھی۔
پاکستانی فوج نے گشت کے دوران بغیر کسی وارننگ کے سیدھی فائرنگ کر دی۔
گولیوں کی آواز نے سکون کو چیر کر رکھ دیا۔
رحیم کا جسم لڑکھڑایا، موٹر سائیکل زمین پر گری، اور وہ خود سڑک پر خون میں لت پت پڑا تھا۔
اس کا قصور کیا تھا؟
یہ کہ وہ ایک پشتون تھا؟
یا یہ کہ وہ اس ریاست میں زندہ تھا؟
یہ ہر اس پشتون کی کہانی ہے جو اپنے ہی گھر میں اجنبی بنا دیا گیا ہے۔
جہاں سڑکیں راستے نہیں، خطرے کا علامت بن چکی ہیں۔
جہاں چیک پوسٹیں حفاظت نہیں، بلکہ خوف کی علامت ہیں۔
جہاں گشت کرتی بندوقیں امن نہیں، بلکہ موت کا سایہ ہیں۔
یہ ایک ایسی ریاست کی تصویر ہے
جو پشتونوں کو تحفظ دینے کے بجائے
ان کے سینوں پر گولیاں اتارتی ہے۔
ہر روز ایک نیا رحیم گرتا ہے
اور ہر بار سوال وہی رہ جاتا ہے۔
آخر کب تک؟

Address

California City, CA

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PTM Updates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share