10/06/2026
Iاپر چترال میں دفعہ 144 کے نفاذ کے خلاف ٹی ٹی أر ایف کے پٹیشن کی ہائی کورٹ میں سماعت، تحریری فیصلہ جاری
اپر چترال میں گذشتہ دنوں ضلعی انتظامیہ نے امن و امان کی 'مخدوش' صورتحال کی أڑ میں 15 دن کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ کرکے جلسے جلوسوں اور پانچ سے زائد افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کی تھی جس کو فوری طور پر ٹی ٹی أر ایف نے پشاور ہائی کورٹ کے سوات بینچ میں چیلینج کر دیا تھا۔
ٹی ٹی أر ایف نے 8 جون کو ہی معروف قانون دان اور ٹی ٹی أر ایف کے لیگل ونگ کے سربراہ سید احمد چترالی کے توسط سے اس غیر منصفانہ اور لوگوں کو حق احتجاج سلب کرنے اور اس بنیادی أئینی حق بر بلاجواز قدعن لگانے والے حکمنامہ کو چیلنج کیا تھا۔۔
اتوار 7 نومبر کو بونی بزند روڈ میں کام کی تاخیر کے خلاف ٹی ٹی أر ایف کا جلسہ احتتام پذیر ہوتا ہے اور رات أٹھ بجے ضلعی انتظامیہ دفعہ 144 لگاتی ہے۔۔ سید احمد ایڈوکیٹ نے پیر 8 جون کو جسٹس ڈاکٹر اقبال خورشید سے خصوصی اجازت لے کر اس کے خلاف ہنگامی پٹیشن دائر کر دیا۔۔
سید احمد ایڈوکیٹ نے اپنی پٹیشن میں کہا کہ ضلعی انتظامیہ ایک طرف شندور فیسٹول کا انعقاد کر رہی ہے اور پورے ملک اور دنیا بھر سے سیاحوں کو اس میں مدعو کر رہی ہے اور دوسری طرف یہ موقف لے رہی ہے کہ جس ضلع میں ہڑاروں سیاح دنیا بھر سے شندور فیسٹول میں شرکت کے لیے ارہے ہیں وہاں امن و امان کی صورتحال اتنی مخدوش ہے کہ دفعہ 144 لگا کر ان کی ائینی حق، حق اجتماع اور حق پرامن احتجاج کو محدود کر رہی ہے اور اس پر قدعن لگا رہی ہے۔
انہوں نے دلائل دیے کہ تورکھو تریچ فورم کے ارکان صرف یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ 17 سال سے زیرتعمیر بونی بزند روڈ پر کام تیز کرکے اسے مکمل کیا جائے۔۔انہوں نے کہا کہ اس روڈ کا معاملہ پشاور ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بینچ کے سامنے زیرالتوا ہے اور وہاں سی اینڈ ڈبلیو کے چیف انجینئر تین مرتبہ تحریری طور پر کمٹمنٹ دے چکے ہیں کہ مذکورہ منصوبے کے لیے درکار فنڈ سی اینڈ ڈبلیو کے اکاونٹ میں موجود ہیں اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں اور محمکہ اس منصوبے کو مکمل کرے گا۔۔لیکن ان یقین دہانیوں کے باوجود کام تیزی سے نہیں ہورہا اور نہ ہی ٹھیکیدار درکار مشینری اور مزدور سائیٹ پر پہنچا رہا ہے اور نہ ہی محکمہ سی اینڈ۔ڈبلیو اس کا نوٹس لے رہی ہے۔اس پر لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔۔اس ائینی، قانونی اور پرامن احتجاج کو دفعہ 144 لگا کر روکنا أئینی حقوق کی خلاف ورزی اور پامالی ہے جسے أئین اور قانون کی خلاف ورزی قرار دے کر رد کیا جائے۔
اس پر پشاور ہائی کورٹ کے جج ڈاکٹر خورشید اقبال نے پٹیشن سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے جواب دہندگان کو نوٹس جاری کر دیا تھا۔۔نو جون کو جب پٹیشن سماعت کے لیے جج صاحب کے سامنے أئی تو عدالت کو اگاہ کیا گیا کہ مذکورہ حکمنامہ واپس لیا گیا ہے۔ اس پر سید احمد ایڈوکیٹ نے نشاندہی کی کہ دفعہ 144 واپس لینے کی بات افیشل نہیں سوشل میڈیا پر ائی ہے۔۔اس پر عدالت نے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل کو طلب کیا جس نے تصدیق کی کہ دفعہ 144 واپس لے لیا گیا ہے۔۔اس پر عدالت نے کہا کہ أپ نے جو ریلیف مانگا تھا وہ مل گیا ہے۔۔
اس موقع پر ٹی ٹی أر ایف کے وکیل سید احمد خان نے نشاندہی کی کہ ایک دن پہلے ضلعی انتظامیہ کا موقف تھا کہ ضلع میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں اس لیے دفعہ 144 نافذ کیا جاتا ہے اور ایک دن بعد اسے واپس لیا گیا۔۔
اس پر جج صاحب نے ریمارکس دیے کہ یہ تو ضلعی انتظامیہ کی incompetence ہے۔۔ عدالت نے حکمنامہ واپس لینے پر پٹیشن ٹمٹادی۔۔
اس موقع پر سید احمد ایڈوکیٹ نے نشاندہی کی کہ کل کلاں ڈی سی صاحب دوبارہ دفعہ 144 لگا کر لوگوں کے ائینی حقوق پر قدعن لگا سکتے ہیں۔۔ اس پر معزز جج نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ دوبارہ عدالت سے رجوع کرسکتے اور ان کی داد رسی کی جائے گی۔۔۔
أج دس جون کو عدالت نے اس پٹیشن کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔
ٹی ٹی أر ایف