17/07/2026
تحریری معاہده مابین حکومت بلوچستان و لواحقین۔ 💥
💥 شہداء زیارت اور آل پارٹیز
1- جوڈیشنل کمیشن کی تشکیل کے لئے حکومت بلوچستان، بلوچستان ہائی کورٹ کو متفقہ ٹی آو ارز کے مطابق آج ہی مراسلہ جاری کریگی۔
2 حکومت بلوچستان تمام صوبے بشمول جو علاقے حالیہ دہشت گردی کے واقعات سے متاثر ہوئے ہیں ضلع زیارت ، منگلہ ، ہنہ اوڑک ، شعبان ، زرغون غر ، ہرنائی ، خوست، شاہرگ اور تکلو ، قلعہ عبد اللہ اور کوئٹہ سمیت پورے بوچستان میں حکومت بلوچستان دہشت گردوں بھتہ خوروں، مسلح گروپس اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے ختم کریگی ۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ کی سربراہی میں امن وامان کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز، سیکورٹی اداروں کے سربراہان، پولیٹیکل پارٹیز، شہداء کے لواحقین کے ساتھ اگلے ہفتے اِن کیمرہ اجلاس منعقد کیا جائیگا۔
-3 لیویز فورس کا پولیس میں انضمام پر نظر ثانی اور غور وخوض کے لئے اسمبلی کے پارلیمانی پارٹیز بشمول وہ پارٹی جن کی اسمبلی میں نمائندگی نہیں ہے۔ پی کے میپ، پی کے نیپ، بی این پی، جمعیت علماء اسلام نظریاتی ، پی ٹی آئی ، این ڈی ایم کے رہنماؤں پر مشتمل مشترکہ آل پارٹیز کانفرنس 15 دن کے اندر طلب کیا جائیگا۔ اگر کانفرنس میں اتفاق رائے نہ ہوسکا تو اس صورت میں اسمبلی کے اندر رائے شماری کی جائیگی۔
4۔ بلوچستان کے تمام شہری علاقوں میں امن اومان کو یقینی بنانے اور بتدریج ذمہ داریاں سوچنے کے لئے پولیس کے استعداد کار میں مزید اضافہ کیا جائیگا۔
5 ضلع زیارت بالخصوصاً ، مڈگارچ ، کچھ پولیس تھانہ ایریا نیکی اور اُن سے ملحقہ علاقوں زمینوں سے متعلقہ وزیر ریونیو کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائیگی جس میں تمام متعلقہ سرکاری آفسران اور علاقے کے پتہ داران، مالکان کے پانچ ممبران کمیٹی کا حصہ ہونگے جو کہ متعلقہ علاقوں کی اراضیات کے سٹلمنٹ اور تمام جملہ حقوق دیگر معاملات طے کریگی۔
6۔ تمام شہداء بشمول سویلین شہداء کے لواحقین کو مروجہ پالیسی کے تحت شہید ڈکلیئر کیا جائے گا اور ان کے لواحقین اور بچوں کے کفالت و تعلیم حکومتی پالیسی کے عین مطابق کی جائے گی اور معاوضہ مروجہ پالیسی کے تحت دیا جائیگا ۔ یادر ہے کہ شہداء پیکیج میں معاوضہ، پلاٹ، بچوں کی تعلیم و کفالت ، شہید کوئٹہ میں بھرتی اور شہید کی تنخواہ میں 60 سال کی عمر تک جاری رہتی ہیں۔
شہداء کے نام مختلف سرکاری عمارات اور کوئلہ پھاٹک چوک کو شہداء زیارت چوک سے منسوب کیا جائیگا ۔ اس معاہدہ پر دونوں فریقین متفق ہیں دھرنے کا خاتمہ اور شہداء کی تدفین کی جائے گی ۔