01/06/2020
(تاریخ تھل)
حصہ دوئم
ٹوانہ اور آہیر کو چھوڑ کر،ایک اور تاریخی بڑا قبیلہ جو تھل کے دائرہ میں پایا جاتا ہے وہ(بھچر) ہیں
جو خاص طور پر واں بھچراں شہر، اور آس پاس کے دیہات جیسے
مظفرپور،شادیہ ،بندیال ،گنجیال، شمار،اور صحرائے تھل کے شمالی کنارے پر پاے جاتے ہیں۔
بھچر تاریخی طور پر قطب شاہی کھوکھر قبیلہ کا حصہ ہیں۔
جو(علوی اعوان) قبائل کا ایک قبیلچہ ہیں۔علوی اعوانوں کے جد امجد حضرت عون قطب شاہ گیارویں صدی عیسوی میں بغداد سے افغانستان آئے،اور بعد میں ترک نژاد جرنیل محمود غزنوی کی فوج کیساتھ ہندوستان آے۔یہاں پر محمود غزنوی نے ان کو سون سکیسر کے دونوں طرف کے علاقہ کی حکومت عطا کی۔قطب شاہ نے 3 شادیاں کیں،جن سے کل 11 بیٹے تھے۔انہوں نے ایک شادی دینکوٹ(کالاباغ)کے رئیس راجپوت راجہ کلک کھوکھر کی بیٹی سے کی۔جنکا اسلامی نام زینب رکھا گیا۔اس زوجہ سے ان کے 3 بیٹے پیدا ہوے۔ایک بیٹے کا نام ملک زمان علی رکھا۔ان کی کنیت اپنی ماں کی قوم پر کھوکھر مشہور ہو گئی۔
ملک زمان علی کھوکھر کی اپنی شادی بھی کڑانہ بار کے رئیس راجپوت کھوکھر گھرانہ میں ہوئی۔انکی زوجہ کا نام بھرت تھا۔ان کی اولادوں میں سے بہت سے قبائل نے جنم لیا۔جن میں بھچر،مجوکہ،نتھوکہ،جوڑا،بگور،نسوانہ،،دینار،بکھر،بھرت،واگراہ،
پیر سیال شریف،جالپ اور ساہنپال نمایاں ہیں۔
تاریخ کے مطابق کہ بھچر قبیلہ کا اصل گھر ضلع گجرات میں تھا،موجودہ ضلع منڈی بہاوالدین میں آج بھی بھچر نام کا ایک موضع آباد ہے۔جو گجرات کے قریب ہے۔یہاں گجرات سے
سولہویں صدی میں بھچر قبیلہ نے بوجہ قحط سالی جنوب کی طرف اپنے رشتہ دار قبیلوں کے پاس ہجرت کی۔جو اس علاقے سے پہلے ہی ہجرت کر چکے تھے،
بھچر یہاں خوشاب میں دریا جہلم کے کنارے علاقہ گروٹ کے قریب (بگی بگھی) اور برھان میں آباد ہوگئے،
کچھ عرصہ بعد ہی وہاں پہلے سے موجود کمبوہ قبیلے سے پانی اور چراگاہ کے مسئلے پر لڑائی ہو گئ۔جس میں کمبوہ قبیلہ کے کچھ افراد کو قتل کر کے ان کی لاشیں دریا میں بہا دیں گئیں،
اس دشمنی کی وجہ سے بھچر قبیلہ کو یہ علاقہ اور اپنے رشتہ دار قبیلے مجوکا، نتھوکا،جوڑا کو چھوڑ کر ایک بار پھر ہجرت کرنی پڑی،یہ ہجرت سترھویں صدی میں ہوئی۔
اس وقت بھچر قبیلہ کے چیف کا نام سردار ملک بندے علی بھچر تھا۔
(ان کی اولاد بندے آل( بندیال )سے مشہور ہیں)
ملک بندہ خان بھچر نے پہلے
واں کیلا(گنجیال)اور بعد میں ان کے جانشینوں نے اس موجودہ سائٹ "واں بھچراں"کو بڑے(کنواں) کی وجہ سے منتخب کیا۔
جسے شہنشاہ شیر شاہ سوری نے تعمیر کیا تھا۔ یہ کنوئیں گجرات سے بنوں جانے والی سڑک پر قریب قریب ایک دن کے مارچ کے وقفوں پر رکھے گئے تھے۔
بھچر نام کی وجہ تسمیہ بھی ایک دلچسب روایت رکھتی ہے،جس کے مطابق"بھچرا" نام پیار کی ایک قسم ہے جسے اس دور میں ان کے پیر
(پیر بھچر شریف دینہ،جہلم)نے ان پر لاگو کیا تھا
بنوں ضلع کے 19 ویں صدی کے گزٹیر کے مطابق ،
بندیال واقعتا بھچر قبائل کی ایک شاخ ہے ،
گزٹیر کے مطابق ،19ویں صدی میں واں بھچراں کے آس پاس کی زمینیں سردار ملک سرخرو خان بھچر نام کے ایک بندیال چیف نے حاصل کی تھیں،جس نے 20 ویں صدی میں سکھوں کے عروج تک اس سے ملحقہ خطے پر حکومت کی۔ملک سرخرو خان بھچر واں بھچراں کی ملک فیملی کے جد امجد ہیں
اگرچہ بھچر علوی آوان کی شاخ ہیں،مگر یہ واضح طور پر نہیں لکھا ہوا،
لیکن وہ سندھ ساگر دوآب کے دوسرے قطب شاہی کھوکھر قبیلوں،جیسے نسوانا۔مجوکا،ناتھوکا،جوڑا ، دینار ، بگور،واگرا،بکھر ، بھرتھ،ساہنپال،جالپ اور سیال شریف کے ساتھ بہت قریب سے جڑے ہوئے ہیں ،
یہاں پر ہمسایہ نیازی قبیلوں کی طرح ،
بھچروں کو بھی بہت سی شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو(خیل) کے نام سے مشہور ہیں۔
بڑے بھچر قبیلوں میں سے چند ایک یہ ہیں
اروڑی خیل، محمد خیل،
،وڈو خیل،داد خیل، طاہر خیل،مبارز خیل،
پہلوان خیل،بکے خیل ،
نظروخیل بندیال ،
میاں شیرخیل بندیال ،
بیگو خیل بندیال ،
بشارت خیل،جانے خیل،کوڑے خیل، ٹھارو خیل، ماموں خیل اور علی خیل آف شماری، میاں احمد خیل،
شاہو خیل،محمد خیل آف بندیال،
بھچر سوئی خیل، بھچر دھروئی ،
پاکپتن تحصیل کے ٹوانہ دھروئی ،
بھچر گنجیال ،
بھچر نطقال ،
بھچر بندیال،(ملک آف بندیال اینڈ واں بھچراں)
بھچر بلقال ،
اور میانہ بھچر ،
دلچسپ بات یہ ہے کہ منڈی بہاؤالدین ضلع میں گجرات کے بارڈر کے قریب بھچر نام کا گاؤں آج بھی موجود ہے ، حالانکہ اس گاؤں کی آبادی بڑے پیمانے پر گوندل اعوان ہے۔جس میں بھچر خاندان نہیں ہیں۔ تاہم ، منڈی بہاؤالدین ضلع میں ملکوال کے قریب(واڑہ چمن) میں ابھی بھی کچھ بھچر خاندان آباد ہیں۔
پڑوسی ضلع خوشاب میں،جہلم کے کنارے محیب پور گاؤں میں کئی بھچر خاندان آباد ہیں۔ان بھچر خاندانوں کی اس بستی میں موجودگی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں مشرق اور وادی جہلم سے کچھ ہجرت ضرور ہوئی تھی۔
اسی طرح جہلم اور خوشاب کے اضلاع میں نسووانا اور ان جیسے دیگر کھوکھر قبیلوں مجوکا،،واگرا،بگھور،نتھوکا،اور بھرت کی ہجرت کا امکان بھی نظر آتا ہے
اس کے علاوہ محیب پور کے بھچر بھی واں بھچراں سے بہت دور ہیں۔اسی طرح جو بھچر خوشاب میانوالی بارڈر کے قریب واقع، ججہ مہرو ، ہڈالی اور شاہ والا شمالی دیہات میں پائے جاتے ہیں وہ بھی بھچروں کے اس بنیادی علاقے واں سے باہر ہیں،اسی طرح بہت سے دوسرے بھچر خاندان جو شمالی خوشاب کے تلوکر گاؤں میں بھی پائے جاتے ہیں،وہ بھی مرکز سے دور ہیں۔یہ سب ہجرت کو ثابت کرتے ہیں۔
ان سب کے علاوہ تحصیل پپلاں کے جال موضع،علووالی موضع، دوآبہ موضع،
تحصیل قائد آباد کے بندیال موضع، گنجیال موضع، شمار اور امیر والا ،
67 چک بھچراں والا تحصیل شاہ پور،سرگودھا۔
تحصیل میانوالی کے شادیہ موضع، مظفر پور موضع،کھچی ،ناڑی ،میرا محمد خیل،ناگنی،چاندنی،چک موروث،چک ٹوانہ پاکپتن،14 چک بالا،
ضلع خانیوال کے پیرو وال اور چک 39 ،
تحصیل سمندری کا چک ٹوریاں والا ،
بھکر سٹی، دریا خان تحصیل،
کروڑ سٹی، اور کوٹ جائی تحصیل پہاڑ پور میں بھی کثیر تعداد میں
بھچر آباد ہیں،
اب منڈی بہاؤالدین اور جہلم والے بھچر اور واں کے بھچروں کے درمیان کوئی رابطہ باقی نہیں بچا ہے۔
(تحریر عاشق کھوکھر)