31/05/2026
ایک گاؤں تھا جو کبھی محبت، بھائی چارے اور خوشحالی کی مثال سمجھا جاتا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے، خوشیوں کو مل کر مناتے اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے تھے۔ مگر وقت کے ساتھ حالات بدلنے لگے۔ معمولی اختلافات نے دشمنیوں کی شکل اختیار کر لی۔ لوگوں نے ایک دوسرے کو سمجھنے کے بجائے الزام دینا شروع کر دیا۔ نفرت کے بیج بوئے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا گاؤں بے چینی اور خوف کی لپیٹ میں آ گیا۔
اسی گاؤں میں ایک بزرگ رہتے تھے جنہیں سب احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ایک دن گاؤں کے نوجوان ان کے پاس آئے اور پوچھا:
بابا جی! ہمارے گاؤں سے امن کیوں ختم ہو گیا اور ہم اسے واپس کیسے لا سکتے ہیں۔
بزرگ نے مسکرا کر جواب دیا:
امن صرف حکومتوں، اداروں یا قوانین سے قائم نہیں ہوتا بلکہ امن ہر انسان کے دل سے شروع ہوتا ہے۔ جب دلوں میں نفرت پیدا ہو جائے تو پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے، اور جب دلوں میں محبت اور برداشت پیدا ہو جائے تو امن خود بخود قائم ہونے لگتا ہے۔
نوجوان خاموشی سے ان کی بات سنتے رہے۔
بزرگ نے مزید کہا
"اگر تم واقعی امن چاہتے ہو تو سب سے پہلے اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا۔ دوسروں کی عزت کرنا سیکھو، اختلاف رائے کو برداشت کرو، جھوٹی خبروں اور افواہوں سے دور رہو، اور اپنے الفاظ میں نرمی پیدا کرو۔ ایک تلخ جملہ کئی دلوں کو زخمی کر سکتا ہے جبکہ ایک اچھا لفظ دشمنی کو دوستی میں بدل سکتا ہے۔
ان نوجوانوں نے اس نصیحت پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے گاؤں میں صفائی مہم چلائی، بزرگوں کی خدمت شروع کی، بچوں کی تعلیم پر توجہ دی اور مختلف خاندانوں کے درمیان صلح کرانے کی کوششیں کیں۔ آہستہ آہستہ ماحول بدلنے لگا۔ لوگ ایک دوسرے کے قریب آنے لگے اور نفرت کی جگہ محبت نے لے لی۔
کچھ عرصے بعد گاؤں دوبارہ امن کا گہوارہ بن گیا۔ لوگ خوش تھے اور ہر طرف سکون محسوس ہوتا تھا۔
یہ افسانہ ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے کہ ملک میں امن قائم کرنے کے لیے ہر شہری کا کردار نہایت اہم ہے۔ اگر ہم قانون کی پابندی کریں، دوسروں کے حقوق کا احترام کریں، اختلافات کو برداشت کریں، تعلیم کو فروغ دیں، نفرت انگیز گفتگو سے بچیں اور محبت و اخوت کو عام کریں تو امن کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ امن صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں بلکہ دلوں کے درمیان اعتماد، محبت اور احترام کا نام ہے۔ جب ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھ کر مثبت کردار ادا کرے گا تو نہ صرف اس کا محلہ اور گاؤں بلکہ پورا ملک امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔
امن کی شمع ایک ہی دل میں جلتی ہے، مگر اس کی روشنی پورے معاشرے کو منور کر سکتی ہے۔