14/04/2026
To Whom It May Concern,
I am writing to respectfully raise a concern regarding the volume of homework assigned to students.
Currently, children are required to begin their assignments immediately upon returning from school and continue working well into the night, leaving virtually no time for rest, physical activity, or any other enriching pursuits. This level of academic pressure at home is, I fear, beginning to foster a sense of exhaustion and disillusionment in children — not only toward homework itself, but toward school and learning as a whole.
A child who is overburdened is unlikely to develop a genuine love for education. Balance, I believe, is essential — time for play, family, and relaxation is just as important to healthy development as academic work.
I kindly request that the homework load be reviewed and moderated to a level more appropriate for the children’s age and overall well-being.
I trust this concern will be given due consideration.
Respectfully,
بخدمت متعلقہ حکام،
میں انتہائی ادب کے ساتھ طلبہ کو دیے جانے والے ہوم ورک کی مقدار کے حوالے سے ایک تشویش پیش کرنا چاہتا/چاہتی ہوں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بچے اسکول سے واپس آتے ہی اپنے اسائنمنٹس میں جُت جاتے ہیں اور رات گئے تک کام کرتے رہتے ہیں — آرام، جسمانی سرگرمی یا کسی اور مفید مشغلے کے لیے وقت ہی نہیں بچتا۔ مجھے خدشہ ہے کہ گھر پر اس قدر تعلیمی دباؤ بچوں میں تھکاوٹ اور بیزاری پیدا کر رہا ہے — نہ صرف ہوم ورک سے، بلکہ اسکول اور تعلیم سے بھی۔
جو بچہ ضرورت سے زیادہ بوجھ تلے دبا ہو، اس میں تعلیم سے حقیقی لگاؤ پیدا ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ میرے خیال میں توازن بہت ضروری ہے — کھیل، خاندان اور سکون کا وقت بھی بچے کی صحت مند نشوونما کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا تعلیمی کام۔
میری گزارش ہے کہ ہوم ورک کی مقدار کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور اسے بچوں کی عمر اور مجموعی بہبود کے مطابق مناسب حد تک محدود کیا جائے۔
مجھے امید ہے کہ اس تشویش پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔
والسلام،