20/05/2026
شہر کی لڑکیاں کس کونے میں ہیں
شہر کے درخت کہاں گئے
وزیرِ جنگلات نے کٹوا دیے
شہر کے باغات کہاں گئے
وزیرِ تعمیرات نے ان میں پلازے اُگا دئے
شہر کے سکول کہاں گئے
وزیرِ جیل نے اُن میں بیرکیں بنوا دیں
شہر کے طالب علم کہاں گئے
جیلوں میں بیٹھے انقلابی گیت
نیفوں میں چھپانے کی مشق کر رہے ہیں
شہر کے مجرم کہاں گئے
اقتدار کے ایوانوں کی رونق بنے
شہر کے تھیٹر اور سینما گھر کہاں گئے
آڑھت کی منڈیوں میں تبدیل ہوگئے
شہر کی لڑکیاں کس کونے میں ہیں
دادیاں نانیاں بنی محبت کی شادیاں رکوا رہی ہیں
شاعر: مسعود قمر