Nawaeuch نوائے اوچ

Nawaeuch نوائے اوچ Precision Journalism for a Perfectly Informed Public.

اوچ شریف (ضلع بہاول پور) سے ہر پندرہ دن بعد شایع ہونے والا 'نوائے اوچ' آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (وزارت اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ، حکومت پاکستان) سے باقاعدہ تصدیق شدہ اشاعت کا حامل ایک معتبر جریدہ ہے۔ مقامی حالات حاضرہ، بین الاضلاعی خبروں، غیر جانب دارانہ تجزیوں اور علمی، ادبی، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کی روداد پر مشتمل اس نیم ماہی اخبار کا اجرا ممتاز صحافی اور ادیب رسول بخش نسیم کے زیرادارت 15 اکت

وبر 1991ء کو عمل میں لایا گیا۔ 'نوائے اوچ' صحافت کے اعلیٰ اصولوں اور علمی و ادبی اقدار سے خود کو مربوط رکھتے ہوئے اپنے باذوق قارئین کو بامقصد اور مستند صحافتی مواد کی بروقت فراہمی میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

شہر کی لڑکیاں کس کونے میں ہیںشہر کے درخت کہاں گئےوزیرِ جنگلات نے کٹوا دیے شہر کے باغات کہاں گئے وزیرِ تعمیرات نے ان میں ...
20/05/2026

شہر کی لڑکیاں کس کونے میں ہیں

شہر کے درخت کہاں گئے
وزیرِ جنگلات نے کٹوا دیے
شہر کے باغات کہاں گئے
وزیرِ تعمیرات نے ان میں پلازے اُگا دئے
شہر کے سکول کہاں گئے
وزیرِ جیل نے اُن میں بیرکیں بنوا دیں
شہر کے طالب علم کہاں گئے
جیلوں میں بیٹھے انقلابی گیت
نیفوں میں چھپانے کی مشق کر رہے ہیں
شہر کے مجرم کہاں گئے
اقتدار کے ایوانوں کی رونق بنے
شہر کے تھیٹر اور سینما گھر کہاں گئے
آڑھت کی منڈیوں میں تبدیل ہوگئے
شہر کی لڑکیاں کس کونے میں ہیں
دادیاں نانیاں بنی محبت کی شادیاں رکوا رہی ہیں

شاعر: مسعود قمر

ضلع مظفر گڑھ کے عالی ہمت جوڑے کی کہانیتحریر: رانا ذوالفقار علیمظفر گڑھ کی سرزمین ہمیشہ باہمت اور باصلاحیت لوگوں کو جنم د...
20/05/2026

ضلع مظفر گڑھ کے عالی ہمت جوڑے کی کہانی

تحریر: رانا ذوالفقار علی

مظفر گڑھ کی سرزمین ہمیشہ باہمت اور باصلاحیت لوگوں کو جنم دیتی رہی ہے، اس دھرتی سے تعلق رکھنے والے رانا محمد فیاض اور اُن کی اہلیہ انجینئر رابعہ فیاض نے اپنی محنت، ہمت اور غیر معمولی صلاحیتوں سے کامیابی کی ایک ایسی تاریخ رقم کی ہے، جو پورے جنوبی پنجاب اور پاکستان کے لیے فخر اور عزت و منزلت کا باعث ہے۔

رانا محمد فیاض نے دنیا کے تیز ترین وہیل چیئر کرکٹ باؤلر ہونے کا اعزاز حاصل کر کے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔ 109 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باؤلنگ کرنا اُن کے عزم، محنت اور جذبے کی واضح مثال ہے۔ وہ دو مرتبہ ایشیئن چیمپئن رہ چکے ہیں، ایشیاء کپ 2023ء میں بہترین باؤلر قرار پائے، جب کہ پاک افغان سیریز 2025ء میں بہترین باؤلر اور مین آف دی سیریز کا اعزاز اپنے نام کیا۔ یہی نہیں بلکہ اُنہوں نے وہیل چیئر کرکٹ میں کئی ریکارڈز قائم کیے جن میں 35 گیندوں پر 102 رنز کی تیز ترین سنچری، 166 رنز کی شاندار اننگز، چھ سنچریوں کا اعزاز اور قائد اعظم ٹرافی میں صرف چار اننگز میں 448 رنز شامل ہیں۔

محمد فیاض صرف ایک عظیم کھلاڑی ہی نہیں بلکہ تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل ریلیشنز اور پولیٹیکل سائنس میں ڈبل ماسٹرز کرنے والے محمد فیاض اس بات کا ثبوت ہیں کہ جسمانی معذوری کبھی بھی انسان کی صلاحیتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اُنہوں نے اپنی ہمت اور لگن سے یہ ثابت کیا کہ اصل طاقت انسان کے حوصلے میں ہوتی ہے۔

محمد فیاض 2026ء میں تیسری مرتبہ ایشیا کپ میں اور پہلی مرتبہ ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

دوسری جانب انجینئر رابعہ فیاض بھی کامیابی، خود اعتمادی اور عزم کی روشن مثال ہیں۔ وہ نیشنل لیول گولڈ میڈلسٹ ہیں جب کہ پنجاب سطح پر گولڈ، سلور اور برانز میڈلز حاصل کر چکی ہیں۔ سی ایم پنجاب نیشنل میراتھن اینڈ سائیکلنگ ریس 2026 میں 1 کلومیٹر وہیل چیئر ریس میں گولڈ میڈل حاصل کرنا اُن کی انتھک محنت کا ثمر ہے۔ اس کے علاوہ وہ پہلی پنجاب پیرا ٹیبل ٹینس ٹورنامنٹ 2026 میں گولڈ میڈلسٹ رہیں جب کہ سی ایم پنجاب اسپیشل گیمز 2025 میں وہیل چیئر بیڈمنٹن اور وہیل چیئر ریس میں ڈبل میڈلز حاصل کیے۔

انجینئر رابعہ فیاض 2026ء کے پانچویں آسیان پیرا گیمز جاپان میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی، جہاں وہ وہیل چیئر بیڈمنٹن، وہیل چیئر ٹیبل ٹینس اور وہیل چیئر ریس میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گی۔ یہ کامیابی صرف اُن کی ذاتی جیت نہیں بلکہ پاکستان کی خواتین، خصوصی افراد اور نوجوان نسل کے لیے ایک امید اور حوصلے کی علامت ہے۔

اس باہمت جوڑے کی کامیابیوں کو اُس وقت مزید خاص مقام ملا جب انہیں HBL PSL کے “Hamaray Heroes” پلیٹ فارم پر خصوصی Recognition دی گئی۔ یہ لمحہ اس بات کا اعتراف تھا کہ اصل ہیرو وہ لوگ ہوتے ہیں جو مشکلات کو شکست دے کر دوسروں کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔

ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

موسیقی کی دنیا کے 'مبینہ طور پر' بے تاج بادشاہ، کروڑوں دلوں( د کے نیچے زیر) کی دھڑکن، لیجنڈ فنکار، کرکٹر اور سیاست دان، ...
20/05/2026

موسیقی کی دنیا کے 'مبینہ طور پر' بے تاج بادشاہ، کروڑوں دلوں( د کے نیچے زیر) کی دھڑکن، لیجنڈ فنکار، کرکٹر اور سیاست دان، استادوں کے استاد چاہت فتح علی خان صاحب کا آج یوم ولادت ہے

+اوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/ یوم چہار شنبہ، بتاریخ 20 مئی 2026ء) موسیقی کی دنیا کے 'مبینہ طور پر' بے تاج بادشاہ، کروڑوں دلوں( د کے نیچے زیر) کی دھڑکن، لیجنڈ فنکار، کرکٹر اور سیاست دان، استادوں کے استاد چاہت فتح علی خان صاحب کا آج یوم ولادت ہے۔ شیخوپورہ سے لے کر مانچسٹر کی فضاؤں تک ایک ہی عظیم گلوکار ہے جس کے نام کا ڈنکا بج رہا ہے۔ چاہت فتح علی خان نے اپنے مشہور گانے

"آئے ہائے اوئے ہوئے۔۔ بدوبدی بدی بدی"
"اکھ لڑی بدوبدی، موقع ملے کدی کدی"

گا کر دنیا بھر کے موسیقاروں کو حیران پریشان کر دیا۔ اس گانے کو اب تک دو کروڑ سے زائد لوگ دیکھ، سن اور برداشت کر چکے ہیں۔ استاد چاہت فتح علی خان نے آتے ہی میوزک انڈسٹری میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ پی ایس ایل کے لیے گایا ان کا ترانہ "یہ جو پیارا پی ایس ایل ہے" یوٹیوب پر اب تک لاکھوں بار سنا جا چکا ہے۔ جو ان کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ استاد چاہت فتح علی خان کے دنیا کے ساتوں براعظموں میں کروڑوں شاگرد ہیں، جو استاد صاحب سے راگوں ہر کلاسز لے رہے ہیں۔

استاد چاہت فتح علی خان کی یہ خوبی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے واقعے پر گانا بنا دیتے ہیں۔ ان سے منسوب ایک واقعہ کے مطابق وہ ایک بار گوشت لینے گئے۔ دکان دار نے پوچھا کتنا گوشت؟
استاد جی نے کہا۔۔۔ ایک پاؤ۔۔ بس پھر کیا تھا استاد جی نے اسی پر گانا بنا دیا۔
"پاؤ پاؤ پاؤ ۔۔پاؤ پاؤ پاؤ
وڈا وی پاؤ چھوٹا وی پاؤ
اسی سارے پاواں گے۔۔ پاؤ پاؤ پاؤ۔

استاد چاہت فتح علی خان کو پاپ، انسٹرومینٹل اور صوفیانہ کے علاوہ غزل گائیگی پر بھی عبور حاصل ہے۔ استاد چاہت فتح علی خان نے اب تک درجنوں گانے جن میں

"قمیض تیڈی کالی۔ کدی لا لئی۔۔کدی پا لئی"

"ہم تم اک کمرے میں بند ہوں۔ پھر پی ایس ایل کا میچ ہو"

"اکڑ دکڑ بمبا بووے۔۔ اسی نوے پورا سو وے"

گائے ہیں اور اب تک استاد نصرت فتح علی خان کی درجنوں قوالیاں گا کر ان کا بیڑہ غرق کر چکے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

⭕ ادارتی نوٹ: نوائے اوچ میڈیا گروپ (رجسٹرڈ) کے زیراہتمام پوسٹ کیا جانے والا یہ مواد صرف معلوماتی اور صحافتی نقطہ ء نظر سے پیش کیا گیا ہے۔ 'نوائے اوچ' اپنی ادارتی پالیسی کے تحت کسی بھی قسم کے مذہبی، سیاسی، لسانی اور نسل پرستانہ ایجنڈے کی حمایت یا ترویج نہیں کرتا۔ 'نوائے اوچ' کی تمام خبریں، تصاویر اور نگارشات عوامی طور پر دستیاب مستند ذرائع کے حوالے سے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔ علمی و ادبی اقدار اور تاریخی روایات سے ہم آہنگ بامقصد نگارشات کی ترسیل کے لیے فیس بک پر 'نوائے اوچ' کے آفیشل صفحہ کو فالو کیجیے:
https://www.facebook.com/nawaeuch
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

#نوائےاوچ

اردو زبان کے معروف ناول نگار اور نام ور صحافی نسیم حجازی کا آج یوم ولادت ہے+اوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/ یوم سہ  شنبہ، بتا...
19/05/2026

اردو زبان کے معروف ناول نگار اور نام ور صحافی نسیم حجازی کا آج یوم ولادت ہے

+اوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/ یوم سہ شنبہ، بتاریخ 19 مئی 2026ء) آج اردو زبان کے معروف ناول نگار اور نام ور صحافی نسیم حجازی کا یوم ولادت ہے۔ 19 مئی 1914ء کو سوجان پور ضلع گورداسپور میں پیدا ہونے والے نسیم حجازی کا اصل نام محمد شریف تھا۔ آپ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت کے شعبے سے کیا اور ہفت روزہ "تنظیم" کوئٹہ، روزنامہ "حیات" کراچی، روزنامہ "زمانہ" کراچی، روزنامہ "تعمیر" راولپنڈی اور روزنامہ "کوہستان" راولپنڈی سے وابستہ رہے۔ انہوں نے بلوچستان اور شمالی سندھ میں تحریک پاکستان کو مقبول عام بنانے میں تحریری جہاد کیا اور بلوچستان کو پاکستان کا حصہ بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔

نسیم حجازی کی اصل وجہ شہرت ان کی تاریخی ناول نگاری ہے جن میں "داستان مجاہد"، "انسان اور دیوتا"، "محمد بن قاسم"، "آخری چٹان"، "شاہین"، "خاک اور خون"، "یوسف بن تاشقین"، "آخری معرکہ"، "معظم علی"، "اور تلوار ٹوٹ گئی"، "قیصر و کسریٰ"، "قافلہ حجاز" اور "اندھیری رات کے مسافر" کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے طنز و مزاح کے موضوع پر "پورس کے ہاتھی"، "ثقافت کی تلاش"، "سفید جزیدہ" اور "سوسال بعد" نامی کتابیں بھی تحریر کیں۔ ان کا ایک سفر نامہ "پاکستان سے دیار حرم تک" بھی اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔

نسیم حجازی کی تصانیف کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور ان پر "آخری چٹان" اور "شاہین" نامی دو ڈرامہ سیریل بھی نشر ہوئے جبکہ ان کے ایک اور ناول "خاک اور خون" پر فلم بھی بنائی گئی۔ 2 مارچ 1996ء کو نسیم حجازی راولپنڈی میں وفات پاگئے۔ وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

⭕ ادارتی نوٹ: نوائے اوچ میڈیا گروپ (رجسٹرڈ) کے زیراہتمام پوسٹ کیا جانے والا یہ مواد صرف معلوماتی اور صحافتی نقطہ ء نظر سے پیش کیا گیا ہے۔ 'نوائے اوچ' اپنی ادارتی پالیسی کے تحت کسی بھی قسم کے مذہبی، سیاسی، لسانی اور نسل پرستانہ ایجنڈے کی حمایت یا ترویج نہیں کرتا۔ 'نوائے اوچ' کی تمام خبریں، تصاویر اور نگارشات عوامی طور پر دستیاب مستند ذرائع کے حوالے سے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔ علمی و ادبی اقدار اور تاریخی روایات سے ہم آہنگ بامقصد نگارشات کی ترسیل کے لیے فیس بک پر 'نوائے اوچ' کے آفیشل صفحہ کو فالو کیجیے:
https://www.facebook.com/nawaeuch
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

#نوائےاوچ

دورِ حاضر کے عظیم نعت گو شاعر، بلند پایہ عالمِ دین اور معروف صاحبِ قلم، حسان العصر جناب حافظ محمد مظہر الدین مظہر کا آج ...
19/05/2026

دورِ حاضر کے عظیم نعت گو شاعر، بلند پایہ عالمِ دین اور معروف صاحبِ قلم، حسان العصر جناب حافظ محمد مظہر الدین مظہر کا آج یوم وفات ہے

+اوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/ یوم سہ شنبہ، بتاریخ 19 مئی 2026ء) دورِ حاضر کے عظیم نعت گو شاعر، بلند پایہ عالمِ دین اور مشہور و معروف صاحبِ قلم، حسان العصر حافظ محمد مظہر الدین مظہر کا آج یوم وفات ہے، حافظ مظہر الدین 1914ء کو برٹش ہندوستان میں قادیان کے قریب واقع ایک گائوں ستکوہا کے ارائیں خاندان کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے، آپ کے والد بزرگوار کا نام مولانا نواب الدّین رام داسی تھا، آپ کے والد ایک ممتاز عالم دین تھے جو حافظ مظہر الدین کی ولادت سے قبل اپنے وطن قصبہ رمداس ضلع امر تسر سے نقل مکانی کر کے موضع ستکوہا میں سکونت پذیر ہوئے، علمی حلقوں میں مولانا نواب الدین کو فاتح قادیان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

حافظ محمد مظہر الدین کو والد ماجد نے بچپن میں انہیں ریاست پٹیالہ بھیجا اور قرآن پاک حفظ کرایا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم موضع ستکوہا میں اپنے والد اور مشہور نعت گو شاعر امیر مینائی کے شاگرد صوفی عبد الرزاق رام پوری سے حاصل کی، علی پور شریف (ضلع سیالکوٹ) اور دار العلوم دیو بند میں کچھ عرصہ حصولِ علم کے بعد آپ نے تکمیلِ درسیات کے لیے ابوالبرکات سیّد احمد کے سامنے زانوئے تلّمذ تہ کیا اور علومِ اسلامیہ کی تکمیل پر دار العلوم حزب الاحناف لاہور سے سندِ فراغت حاصل کی۔1929ء میں آپ نے خواجہ سراج الحق کرنالی کے دستِ پر بیعت کی اور بعد ازاں والد سے سلسلۂ عالیہ چشتیہ قادریہ میں خلافت کا شرف حاصل کیا۔ خواجہ سراج الحق سے آپ کے والدین کو بیعت کی اجازت حاصل تھی۔

حافظ مظہر الدین مظہر اپنے عہد کے ایک عظیم نعت گو شاعر، بلند پایہ عالمِ دین اور مشہور و معروف صاحبِ قلم تھے، آپ اسلامی اسکالر اور کالم نگار کی حیثیت سے خاص حلقوں میں شناخت رکھتے ہیں، آپ کے علمی و ادبی مضامین، روز نامہ 'کوہستان' اور روزنامہ 'ندائے ملّت' میں مسلسل چھپتے رہے ہیں، بالخصوص آپ کی کہی ہوئی نعتیں خاصی مقبول ہوئیں، تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے پی ٹی وی پر نشر ہونے والا مشہور نغمہ "میرے وطن تیری جنّت میں آئیں گے اِک دن" آپ کی شناخت بنا، آپ کی وفات 19 مئی 1981ء کو لاہور میں ہوئی۔

|تصانیف|

1۔ خاتم المرسلین (1937ء میں شائع ہوئی)
2۔ شمشیر و سناں (قومی نظمیں)
3۔ حرب و ضرب (قومی نظمیں)
4۔ تجلیات (نعتیہ مجموعہ)
5۔ جلوہ گاہ (نعتیہ مجموعہ)
6۔ بابِ جبریل (نعتیہ مجموعہ)
7۔ میزاب (نعتیہ مجموعہ)
8۔ نشانِ راہ (نعتیہ مجموعہ)
9۔ نور و نار (نعتیہ مجموعہ)
10۔ وادیٔ نیل (جرجی زیدان کے ناول کا اُردو ترجمہ)

قارئین 'نوائے اوچ' کو بتاتے چلیں کہ حافظ محمد مظہر الدین مظہر صاحب کے سات مجموعوں پر مشتمل کلام 'کلیات مظہر' کے نام سے 2013ء میں شائع ہو چکا ہے جسے ارسلان احمد ارسل نے مرتب کیا ہے۔

|نمونہ کلام|

ہم سوئے حشر چلیں گے شہِ ابرار کے ساتھ
قافلہ ہو گا رواں قافلہ سالار کے ساتھ

رہ گئے منزل سدرہ پہ پہنچ کر جبریل
چل نہیں سکتا فرشتہ تری رفتار کے ساتھ

یہ تو طیبہ کی محبت کا اثر ہے ورنہ
کون روتا ہے لپٹ کر در و دیوار کے ساتھ

اے خدا دی ہے اگر نعتِ نبی کی توفیق
حُسنِ کردار بھی دے لذت گفتار کے ساتھ

پُل سے مجھ سا بھی گنہگار گزر جائے گا
ہو گی سرکار کی رحمت جو گنہگار کے ساتھ

رات دن بھیج سلام انُ پہ ملائک کی طرح
پڑھ درود انُ پہ غلامانِ وفا دار کے ساتھ

دیکھ اے معترض نعتِ رسول عربی!
قُرب حساں کو ملا تھا انہی اشعار کے ساتھ

سب عطائیں ہیں خدا کی میرے مولا کے طفیل
ورنہ یہ لطف و کرم مجھ سے گنہگار کے ساتھ

ہم بھی مظہر سے سنیں گے کوئی نعت رنگیں
گر ملاقات ہوئی شاعرِ دربار کے ساتھ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

⭕ ادارتی نوٹ: نوائے اوچ میڈیا گروپ (رجسٹرڈ) کے زیراہتمام پوسٹ کیا جانے والا یہ مواد صرف معلوماتی اور صحافتی نقطہ ء نظر سے پیش کیا گیا ہے۔ 'نوائے اوچ' اپنی ادارتی پالیسی کے تحت کسی بھی قسم کے مذہبی، سیاسی، لسانی اور نسل پرستانہ ایجنڈے کی حمایت یا ترویج نہیں کرتا۔ 'نوائے اوچ' کی تمام خبریں، تصاویر اور نگارشات عوامی طور پر دستیاب مستند ذرائع کے حوالے سے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔ علمی و ادبی اقدار اور تاریخی روایات سے ہم آہنگ بامقصد نگارشات کی ترسیل کے لیے فیس بک پر 'نوائے اوچ' کے آفیشل صفحہ کو فالو کیجیے:
https://www.facebook.com/nawaeuch
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

#نوائےاوچ

پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ کی قبا چاک کرنے والے فوجی سالار، جدید ترکی کے بانی اور پہلے صدر مصطفیٰ کمال پاشا اتاترک ...
19/05/2026

پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ کی قبا چاک کرنے والے فوجی سالار، جدید ترکی کے بانی اور پہلے صدر مصطفیٰ کمال پاشا اتاترک کا آج یوم ولادت ہے

+اوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/ یوم سہ شنبہ، بتاریخ 19 مئی 2026ء) جنگ عظیم اول میں عثمانی دور کے فوجی سالار، جدید ترکی کے بانی اور پہلے صدر مصطفیٰ کمال پاشا اتاترک کا آج یوم ولادت ہے۔ مصطفیٰ کمال پاشا 19 مئی 1881ء کو سلطنت عثمانیہ کے شہر سالونیکا (موجودہ تھیسالونیکی، یونان) کے متوسط الحال خاندان میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام علی رضا افندی جبکہ والدہ کا نام زبیدہ خانم تھا، ابھی آپ کی عمر سات برس ہی کی تھی کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ سالونیکا اور مناستیر کے کیڈٹ سکولوں میں تعلیم پائی اور 1905ء میں وہاں سے سٹاف کیپٹن بن کر نکلے۔ طالب علمی کے ایام میں ہی ایک منجھے ہوئے مقرر کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔

استنبول کے دوران قیام میں خلیفہ عبدالحمید کی حکومت کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لینے پر کچھ عرصہ قید رہے۔ جیل سے رہا ہوئے تو فوجی ملازمت اختیار کی اور دمشق میں پانچویں فوج کے ہیڈ کوارٹر میں متعین ہوئے۔ اس دوران میں خفیہ تنظیم جمعیت اتحاد و ترقی سے ان کا رابطہ قائم ہوا۔ اور وہ نوجوان ترک رہنماوں سے مل کر ترکی کی نشاۃ ثانیہ کے لیے کام کرنے لگے۔ 1908ء کے انقلاب ترکیہ کے بعد کچھ عرصے کے لیے سیاسیات سے علیحدگی اختیار کر لی۔ جنگ اطالیہ اور جنگ بلقان میں مختلف محاذوں پر فوجی خدمات سرانجام دیں۔ اور اپنی حاضر دماغی اور جرات کے سبب شہرت حاصل کی۔

پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو صوفیہ میں ملٹری اتاشی کے عہدے پر فائز تھے۔ ان کی درخواست پر انھیں جنگی خدمات سپرد کی گئیں۔ انھوں نے 1915ء میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے خلاف آبنائے فاسفورس کی کامیاب مدافعت کی ۔ اس پر انھیں جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ 1916ء میں روسی فوج کو شکست دے کر ترکی کا مقبوضہ علاقہ آزاد کرا لیا۔ 5جولائی 1917ء کو ساتویں فوج کے کمانڈر مقرر ہوئے۔ 30 اکتوبر 1918کو معاہدہ امن پر دستخط ہوگئے جس کے بعد ساتویں فوج توڑ دی گئی اورمصطفے کمال پاشا واپس استنبول بلا لیے گئے۔

اس وقت خلیفہ وحید الدین سریر آرائے سلطنت تھے، ملک میں طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی۔ خلیفہ وحید الدین کو ان کے عزائم کا علم نہ تھا۔ انہوں نے اتاترک کو نویں فوج کا انسپکٹر جنرل مقرر کر دیا۔ جس کا کام باقی ماندہ فوج سے ہتھیار واپس لینا تھا۔ لیکن انھوں نے اس کے برعکس تحریک مقاومت کی تنظیم شروع کر دی۔ انھوں نے اس تحریک کے دوسرے رہنماوں سے رابطہ قائم کیا اور مادر وطن کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہوگئے۔ اسی دوران ان کی قیادت میں متوازی عارضی حکومت قائم ہوگئی۔

1920ء میں اتاترک انگورہ میں ترکی کی پہلی اسمبلی کے صدر منتخب ہوئے۔ اور پھر 1921ء میں ان کی قیادت میں ترکوں نے یونانیوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی ۔ جنھوں نے ایشیائے کوچک کے بہت بڑے حصہ پر قبضہ کر رکھا تھا۔ ایک سال کے اندر اندر یونانی فوج ترکی کی سرحدوں سے باہر نکال دی گئی۔ ترکوں اور انگریزوں کے درمیان براہ راست جنگ چھڑ جانےکا خطرہ پیدا ہوگیا۔ لیکن کمال اتاترک نے اپنی فراست سے یہ خطرہ ختم کر دیا۔

اکتوبر 1923ء میں ترکی میں خلافت ختم کرنے اور ملک کو جمہوریہ قرار دینے کا اعلان ہوا اور کمال اتاترک اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ انھوں نے زمام اقتدار سنبھالتے ہی اصلاحات نافذ کیں۔ لیکن مذہبی حلقوں میں عموماً ان اصلاحات کو اچھا نہیں سمجھا گیا، اور فی الواقع ترکی ان اصلاحات کے نتیجہ میں اپنے قدیم تہذیبی ورثہ سے محروم ہوتا چلا گیا۔ عالم اسلام کے مسلمانوں میں بھی غم و غصہ کی لہر چل پڑی، اور ترکی عالم اسلام سے کٹ کر رہ گیا۔ 1934ء میں قوم کی طرف سے انھیں اتاترک (بابائے ترک/ ترکوں کا باپ) کا لقب دیا گیا۔

مصطفی کمال اتاترک کی قیادت میں ترکی نے رومن رسم الخط اپنا کر اپنی اگلی نسلوں کو اپنی تاریخ سے محروم کر دیا۔ کتابوں کے ذخائر تو موجود رہے مگر ترکی کے لوگ انہیں پڑھنے کے قابل نہ رہے اور پھر بے کار سمجھ کر ان کتابوں کو ضائع کرتے رہے۔ انگریزی کہاوت ہے کہ دشمن کو اپنی تاریخ سے دور کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ اسے نہتا کرنا۔

مصطفیٰ کمال اتاترک کی صحت 1937ء میں خراب ہونا شروع ہوئی، ایک سال بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہ جگر کے تشمع کے مرض میں مبتلا ہیں (یہ ایک ایسی بیماری ہے جسکی وجہ سے جگر اپنا کام چھوڑ دیتا ہے) اتاترک نے علاج کی بہت کوشش کی مگر 10 نومبر 1938ء میں 57 سال کی عمر میں وہ وفات پا گئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

⭕ ادارتی نوٹ: نوائے اوچ میڈیا گروپ (رجسٹرڈ) کے زیراہتمام پوسٹ کیا جانے والا یہ مواد صرف معلوماتی اور صحافتی نقطہ ء نظر سے پیش کیا گیا ہے۔ 'نوائے اوچ' اپنی ادارتی پالیسی کے تحت کسی بھی قسم کے مذہبی، سیاسی، لسانی اور نسل پرستانہ ایجنڈے کی حمایت یا ترویج نہیں کرتا۔ 'نوائے اوچ' کی تمام خبریں، تصاویر اور نگارشات عوامی طور پر دستیاب مستند ذرائع کے حوالے سے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔ علمی و ادبی اقدار اور تاریخی روایات سے ہم آہنگ بامقصد نگارشات کی ترسیل کے لیے فیس بک پر 'نوائے اوچ' کے آفیشل صفحہ کو فالو کیجیے:
https://www.facebook.com/nawaeuch
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

#نوائےاوچ

اردو جرائد کی دنیا میں مصوری کے ایک نئے اسلوب کی بنیاد رکھنے والے پاکستان کے نام ور مصور اقبال مہدی کا آج یوم وفات ہے+ا...
19/05/2026

اردو جرائد کی دنیا میں مصوری کے ایک نئے اسلوب کی بنیاد رکھنے والے پاکستان کے نام ور مصور اقبال مہدی کا آج یوم وفات ہے

+اوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/ یوم سہ شنبہ، بتاریخ 19 مئی 2026ء) اردو جرائد کی دنیا میں مصوری کے ایک نئے اسلوب کی بنیاد رکھنے والے پاکستان کے نام ور مصور اقبال مہدی کا آج یوم وفات ہے۔ اقبال مہدی یکم اپریل 1946ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے، قیام پاکستان کے بعد 1962ء میں وہ کراچی آگئے جہاں انہیں ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں کی صحبت میسر آئی۔ ابتدا میں وہ اپنے عزیز اور مشہور مصور صادقین کے انداز مصوری سے بہت متاثر تھے مگر پھر انہوں نے اپنا ایک الگ اسلوب مصوری تشکیل دیا، 1969ء میں ان کی مصوری کی پہلی نمائش آرٹس کونسل آف پاکستان میں ہوئی اسی زمانے میں انہوں نے مشہور ترقی پسند دانشور سید سبط حسن کے جریدے 'لیل و نہار' سے وابستگی اختیار کی جس میں ان کے بنائے ہوئے سرورق اور اسکیچز بہت پسند کئے گئے۔

1970ء میں جب اردو کا مشہور جریدہ 'سب رنگ' جاری ہوا تو انہوں نے اس جریدے میں اسکیچز بنانا شروع کئے جس نے اردو جرائد کی دنیا میں مصوری کے ایک نئے اسلوب کی بنیاد رکھی۔ ساتھ ہی ساتھ اقبال مہدی کا پینٹنگز بنانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ 1976ء میں جب قائداعظم محمد علی جناح کی پیدائش کا صد سالہ جشن منایا گیا تو اس موقع پر اقبال مہدی نے قائداعظم کی زندگی کے مختلف پہلوئوں کی پینٹنگز تیار کیں جن کی نمائش پورے ملک میں ہوئی۔ 1977ء میں انہوں نے علامہ اقبال کے صد سالہ جشن پیدائش کے موقع پر ان کی شخصیت کے حوالے سے بھی ایسی ہی متعدد پینٹنگز تیار کیں۔

اقبال مہدی رئیلسٹک انداز مصوری کے بہت بڑے پینٹر تھے۔ ان کی بنائی ہوئی پینٹنگز کی نمائش نہ صرف پورے پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ہوئی تھی۔ وہ نہ صرف انسانی چہروں کو پینٹ کرنے میں مہارت رکھتے تھے بلکہ انہوں نے گھوڑوں کی جو پینٹنگز بنائی تھیں وہ بھی ان کی مصورانہ مہارت کا شاہکار تھیں، 19 مئی 2008ء کو اقبال مہدی اسلام آباد میں وفات پاگئے، ان کی میت کو کراچی لایا گیا جہاں وہ سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

⭕ ادارتی نوٹ: نوائے اوچ میڈیا گروپ (رجسٹرڈ) کے زیراہتمام پوسٹ کیا جانے والا یہ مواد صرف معلوماتی اور صحافتی نقطہ ء نظر سے پیش کیا گیا ہے۔ 'نوائے اوچ' اپنی ادارتی پالیسی کے تحت کسی بھی قسم کے مذہبی، سیاسی، لسانی اور نسل پرستانہ ایجنڈے کی حمایت یا ترویج نہیں کرتا۔ 'نوائے اوچ' کی تمام خبریں، تصاویر اور نگارشات عوامی طور پر دستیاب مستند ذرائع کے حوالے سے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔ علمی و ادبی اقدار اور تاریخی روایات سے ہم آہنگ بامقصد نگارشات کی ترسیل کے لیے فیس بک پر 'نوائے اوچ' کے آفیشل صفحہ کو فالو کیجیے:
https://www.facebook.com/nawaeuch
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

#نوائےاوچ

ڈاکٹر علی احمد شیرازی سرگودھا یونیورسٹی کے شعبہ فارسی کے چیئرمین مقرراوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/ یوم دو شنبہ، بتاریخ 18 م...
18/05/2026

ڈاکٹر علی احمد شیرازی سرگودھا یونیورسٹی کے شعبہ فارسی کے چیئرمین مقرر

اوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/ یوم دو شنبہ، بتاریخ 18 مئی 2026ء) اوچ شریف سے تعلق رکھنے والی ممتاز علمی شخصیت ڈاکٹر علی احمد شیرازی کو سرگودھا یونیورسٹی کے شعبہ فارسی کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر علی احمد شیرازی گورنمنٹ ہائی اسکول اوچ شریف کے ہر دلعزیز پی ای ٹی محمد اصغر کے ہونہار صاحب زادے اور سابق اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر مرکز اوچ شریف غلام اکبر شیرازی کے بھتیجے ہیں۔ علی احمد شیرازی نے 2022ء میں اسلامی جمہوریہ ایران کی امام خمینی بین الاقوامی یونی ورسٹی قزوین سے ڈاکٹریٹ مکمل کی تھی، ان کے پی ایچ۔ ڈی کا مقالہ ''ایران اور پاکستان میں خواتین کی شاعری کا سماجی تجزیہ: فروغ فرخ زاد، سیمیں سیہانی، طاہرہ صغر زادہ، ادا جعفری، فہمیدہ ریاض، پروین شاکر کے اشعار میں تناظر میں" کے موضوع پر مشتمل تھا۔ ڈاکٹر علی احمد شیرازی کے دوست احباب نے ان کو سرگودھا یونی ورسٹی کے شعبہ فارسی کے چیئرمین کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی ہے۔
#نوائےاوچ

پاکستانی سول سروس میں علم، ادب اور شعور کی تثلیث سے اپنا افسرانہ لحن تسطیر کرنے والے 'اہل اور اہل دل' بیوروکریٹ، ممتاز ک...
18/05/2026

پاکستانی سول سروس میں علم، ادب اور شعور کی تثلیث سے اپنا افسرانہ لحن تسطیر کرنے والے 'اہل اور اہل دل' بیوروکریٹ، ممتاز کالم نویس اور مصنف، 'روشنی' میگزین کے بانی و مدیر اعلیٰ بیرسٹر ڈاکٹر احتشام انور مہار کا آج یوم ولادت ہے۔

+اوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/18 مئی 2026ء) پاکستانی سول سروس میں علم، ادب اور شعور کی تثلیث سے اپنا افسرانہ لحن تسطیر کرنے والے 'اہل اور اہل دل' بیوروکریٹ، ممتاز کالم نویس اور مصنف، روشنی میگزین کے بانی و مدیر اعلیٰ بیرسٹر ڈاکٹر احتشام انور مہار کا آج یوم ولادت ہے۔ 18 مئی 1974ء کو ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں بھیلو مہار میں قانون دان چودھری محد انور کے گھر پیدا ہونے والے احتشام انور بیوروکریسی کی کافوری روایت سے تعلق رکھتے ہیں۔ قدرت اللہ شہاب، شیخ منظور الہی، مختار مسعود اور مرتضٰی برلاس جیسے ادیب افسروں کی یہ وہ نسل تھی جس نے آزادی کے بعد بیوروکریسی میں علم، ادب اور شعور کی تثلیث سے اپنا افسرانہ لحن تسطیر کیا۔ ڈاکٹر صاحب رحیل کارواں کی بصیرت اور پہل کاری سے بہرہ مند ہیں۔

تعلیمی پس منظر کے حوالے سے احتشام انور ایک میڈیکل گریجویٹ ہیں تاہم ڈاکٹری کی بجائے مقابلے کا امتحان پاس کر کے سول سروس کی طرف آ نکلے۔ آپ کا شمار پاکستان ایڈنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) کے بااصول اور نیک نام افسروں میں ہوتا ہے۔ آپ قانون کی تعلیم میں دلچسپی رکھتے تھے سو پاکستان سے قانون کی ڈگری لی، برطانیہ سے بیرسٹری پڑھی اور امریکا سے انسانی حقوق میں فیلوشپ کی۔ آپ تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں لہذا اس میں بھی ماسٹرز کر رکھا ہے۔ سول سروس کا سفر اسلام آباد میں بطور اسسٹنٹ کمشنر تعیناتی سے شروع ہوا اور بعدازاں پنجاب کے تین اضلاع بہاول پور، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان اور ساہیوال میں ڈپٹی کمشنر تعینات رہے۔ 2020ء میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں آیا تو آپ کو اس خطے کے پہلے سیکرٹری ایجوکیشن بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ پہلے سیکرٹری کے طور پر ایجوکیشن سیکرٹریٹ جنوبی پنجاب کی آئینہ بندی ان کی خارا شگاف تیز بینی کا ثبوت ہے۔ کچھ عرصہ کمشنر بہاول پور ڈویژن کے منصب پر براجمان رہے اور بعدازاں سیکرٹری اسکول ایجوکیشن پنجاب کا عہدہ سنبھالا۔

احتشام انور کا ہمیشہ سے ہی لکھنے پڑھنے سے تعلق رہا ہے۔ 'ڈان' سمیت انگریزی کے تمام بڑے اخبارات میں آپ کے مضامین شایع ہوتے رہے ہیں جب کہ موقر اردو روزنامہ 'جنگ' کے ادارتی صفحہ پر آپ کے متعدد کالم شایع ہو چکے ہیں۔ معروف نیوز ویب سائٹ 'ہم سب' پر گزشتہ کچھ عرصے سے آپ انسانی حقوق اور دیگر سماجی موضوعات پر لکھ رہے ہیں۔

بطور سیکرٹری اسکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب، ڈاکٹر احتشام انور نے طلباء و طالبات کو موسمی تبدیلی کے مضمرات اور عوامل سے آگاہ کرنے اور سرسبز و شاداب ماحول کی اہمیت و ضرورت کو واضح کرنے کے لیے سرکاری سکولوں میں موسمی تبدیلی کو بطور مضمون پڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اور اس ضمن میں خود ہی ایک کتاب 'بچوں کی سبز کتاب' لکھی جو یونیسکو کی معاونت سے منظر عام پر لائی گئی۔ اس کتاب میں موسمی تبدیلی اور اس سے جڑے متعلقہ معاملات جیسے جنگلات، زراعت، ہارٹی کلچر ، کچن گارڈننگ، پانی کی اہمیت اور دیگر مضمون شامل ہیں۔ 'بچوں کی سبز کتاب' میں ڈاکٹر احتشام انور نے اپنے کثیر مطالعے اور مشاہدے کی روشنی میں مختلف عنوانات کے تحت مختصر مگر پُراثر مکالمے کی شکل میں طلبہ کو موسمی تبدیلی کے سلسلے میں آگہی کی طرف راغب کرنے کے لیے سرسبز و شاداب ماحول کی اہمیت، شجر کاری کی ضرورت، طریق کار اور اپنے تجربات کو جمع کیا ہے۔ ڈاکٹر احتشام انور کی اس کاوش سے پاکستان دنیا کا پہلا ملک ٹھہرا جہاں سکولوں میں موسمی تبدیلی کے مضر اثرات بارے کتاب نصاب میں شامل ہے اور اس اقدام کی بدولت پاکستان کا دنیا بھر میں نام روشن ہوا ہے۔

سیکرٹری اسکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب کے طور پر ڈاکٹر احتشام انور نے بچوں میں مطالعہ کے ذوق اور لکھنے کے شوق کو اجاگر کرنے کے لیے ماہنامہ 'روشنی' میگزین کا اجراء کیا۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب کے زیراہتمام شایع ہونے والا یہ رسالہ پاکستان میں بچوں کا سب سے کثیر الاشاعت میگزین تھا جس میں اسکول کے طلباء و طالبات اور اساتذہ کی نگارشات ہوتی تھیں۔ ڈاکٹر احتشام انور اس کے بانی و چیف ایڈیٹر تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

⭕ ادارتی نوٹ: نوائے اوچ میڈیا گروپ (رجسٹرڈ) کے زیراہتمام پوسٹ کیا جانے والا یہ مواد صرف معلوماتی اور صحافتی نقطہ ء نظر سے پیش کیا گیا ہے۔ 'نوائے اوچ' اپنی ادارتی پالیسی کے تحت کسی بھی قسم کے مذہبی، سیاسی، لسانی اور نسل پرستانہ ایجنڈے کی حمایت یا ترویج نہیں کرتا۔ 'نوائے اوچ' کی تمام خبریں، تصاویر اور نگارشات عوامی طور پر دستیاب مستند ذرائع کے حوالے سے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔ علمی و ادبی اقدار اور تاریخی روایات سے ہم آہنگ بامقصد نگارشات کی ترسیل کے لیے فیس بک پر 'نوائے اوچ' کے آفیشل صفحہ کو فالو کیجیے:
https://www.facebook.com/nawaeuch
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

#نوائےاوچ

خطہ پاک اوچ میں صحافتی ارتقاء کا علمی مطالعہ اور سماجی تناظر میں تنقیدی جائزہمقالہ نگار: جمیلہ ناز (ایڈووکیٹ)مقالے کا مو...
03/05/2026

خطہ پاک اوچ میں صحافتی ارتقاء کا علمی مطالعہ اور سماجی تناظر میں تنقیدی جائزہ

مقالہ نگار: جمیلہ ناز (ایڈووکیٹ)

مقالے کا موضوع اس قدر وسیع اور نازک ہے کہ کچھ لکھنے سے پہلے ہی مخاطب کے ردعمل کا سوچنا پڑتا ہے۔ کیوں کہ وقائع نگاری سے قطع نظر بہ حیثیت مجموعی اوچ کی 'مُرغ باد نما' صحافت شہر میں نئے آنے والے ایس ایچ او کو 'پیارے بھائی' اور 'دبنگ آفیسر' کہہ کر تعیناتی پر 'مبارک باد' دینے سے شروع ہوتی ہے اور مقامی ارباب بست و کشاد کے بیانات سے ہوتی ان کی 'ولولہ انگیز قیادت' اور 'سحر انگیز شخصیت' کی تعریف و توصیف پر ختم ہو جاتی ہے۔ عالمی یوم صحافت کے موقع پر اہل صحافت سے 'پیشگی معذرت' کے ساتھ ایم فل (میڈیا اسٹڈیز) کے تھیسز کی تلخیص کو ذیلی عنوانات کے تحت مضمون کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

ایک تاریخی شہر کے طور پر اوچ شریف کی تہذیبی اور علمی روایت صدیوں پر محیط ہے۔ اسی تاریخی روایت میں صحافت بھی ایک اہم عنصر کے طور پر شامل رہی ہے۔ اوچ شریف میں باقاعدہ صحافت کا آغاز 20ویں صدی کی ساتویں دہائی میں ہوا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ علاقائی سطح پر اثر انداز ہوتی گئی۔ اس مضمون میں اوچ کی صحافت کے آغاز، اس کے ارتقا، اہم اخبارات، نمایاں صحافیوں اور اوچ پریس کلب کے مختلف دھڑوں کے کردار کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

اوچ میں صحافت کا آغاز اور ابتدائی صحافی:

اوچ شریف میں صحافت کا آغاز سن ستر کے عشرے میں ہوا۔ 11 فروری 1978ء کو اوچ شریف میں پہلی بار پریس کلب اور یونین آف جرنلسٹس کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔ اس سلسلے میں اوچ شریف کی صحافتی برادری، ادباء اور شعراء کرام کا ایک اہم اجلاس سرائیکی زبان و ادب کے ممتاز شاعر پرائیڈ آف پرفارمنس غلام رسول خان المعروف جانباز جتوئی کے زیر صدارت ان کی رہائش گاہ واقع محلہ جگ پورہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر جانباز جتوئی کو اوچ پریس کلب اور یونین آف جرنلسٹس کا سرپرست اعلیٰ مقرر کیا گیا جب کہ فضل جیلانی یونین آف جرنلسٹس کے صدر، ملک حاجی احمد ارائیں نائب صدر، رسول بخش نسیم جنرل سیکرٹری، الطاف حسین جوائنٹ سیکرٹری اور حکیم محمد افضل فاروقی کو فنانس سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ اسی طرح اوچ پریس کلب کے انتخابات میں رسول بخش نسیم صدر، الطاف حسین نائب صدر، فضل جیلانی جنرل سیکرٹری، ملک حاجی احمد ارائیں جوائنٹ سیکرٹری اور حکیم محمد افضل فاروقی فنانس سیکرٹری منتخب ہوئے۔ سرائیکی کے ممتاز شاعر عبدالعلی خاک اوچوی، محمد امین (فوٹو گرافر) اور محمد صادق کو اوچ پریس کلب اور یونین آف جرنلسٹس میں اراکین مجلس عاملہ کے طور پر شامل کیا گیا۔ اس وقت کے سجادہ نشین درگاہ جلالیہ عالیہ و چیئرمین ٹاؤن کمیٹی اوچ شریف مخدوم سید غلام اصغر بخاری نے جناح ہال میں نومنتخب عہدے داران و اراکین سے ان کے عہدوں کا حلف لیا۔

اوچ پریس کلب اور یونین آف جرنلسٹس کی تشکیل میں عملی کردار:

اوچ شریف کی تاریخ میں پہلی بار پریس کلب اور یونین آف جرنلسٹس کی تشکیل میں عملی اور متحرک کردار رسول بخش نسیم کا رہا جو اس وقت اوچ شریف میں روزنامہ 'حیات' اور روزنامہ 'آزاد' کے نامہ نگار تھے۔ بعدازاں انہوں نے اپنے وقت کے معروف روزنامہ 'امروز' اور روزنامہ 'نوائے وقت' کے لیے بھی نمائندگی کے فرائض سرانجام دیے۔ ستر کی دہائی میں انہوں نے اوچ شریف کی تاریخ کے پہلے میگزین سہ ماہی 'جہاں گشت' جب کہ اکتوبر 1991ء میں پندرہ روزہ اخبار 'نوائے اوچ' کا اجراء کیا۔ یہ دونوں جرائد 2000ء میں نسیم صاحب کی وفات کے بعد اپنی اشاعت جاری نہ رکھ سکے۔ پندرہ روزہ 'نوائے اوچ' کا 'دوسرا جنم' یکم مئی 2011ء کو ہوا۔ اس پہلے اخبار کے پیٹرن انچیف معروف ایٹمی سائنس دان محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، چیف ایڈیٹر نعیم احمد ناز، ڈپٹی چیف ایڈیٹر ذکیہ غفار اور ایڈیٹر شاہین رسول تھے۔ ضلع بہاول پور کے اخبارات و جرائد میں یہ اعزاز صرف 'نوائے اوچ' کو حاصل ہوا کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے نہ صرف پندرہ روزہ 'نوائے اوچ' کی سرپرستی قبول کی بلکہ پہلے شمارے کے لیے خصوصی طور پر اپنا پیغام بھی تحریر کر کے بھیجا اور گاہے گاہے اس میں مختلف موضوعات پر کالم نویسی بھی کرتے رہے۔ آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی) حکومت پاکستان سے باقاعدہ تصدیق شدہ اشاعت کے ساتھ 'نوائے اوچ' صحافت کے اعلیٰ اصولوں اور علمی و ادبی اقدار سے خود کو مربوط رکھتے ہوئے اپنے قارئین کو غیر جانب دارانہ، بامقصد اور مستند صحافتی مواد کی بروقت فراہمی میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

اوچ کے ابتدائی قلم کار:

اوچ شریف میں صحافت کی ابتداء مراسلہ نگاری سے ہوئی۔ ابتدائی قلم کاروں میں تاج محمد راجپوت اور رسول بخش نسیم شامل تھے۔ رسول بخش نسیم کا آبائی تعلق تحصیل علی پور کے ایک گاؤں ٹبہ برڑا سے تھا، ساٹھ کی دہائی کے آخر میں پاک فوج سے بطور صوبیدار ریٹائرڈ ہوئے تو انہوں نے اوچ کو اپنا مسکن بنا لیا، صحافت کو بطور پیشہ اختیار کرنے سے پہلے بھی ان کی نگارشات اور افسانے افواج پاکستان کے ہفت روزہ جریدے 'ہلال'، ماہنامہ 'سیارہ ڈائجسٹ'، 'آداب عرض' اور 'سلام عرض' وغیرہ میں شایع ہوتے رہے تھے۔ اسی طرح تاج محمد راجپوت کی رہائش گاہ تو محلہ بخاری اوچ شریف میں تھی البتہ انہوں نے بطور صحافی زیادہ تر کام احمد پور شرقیہ میں کیا۔ سن 80ء کی دہائی میں انہوں نےاوچ شریف سے ایک ماہنامہ میگزین 'تہذیب' اور احمد پور شرقیہ سے ہی ہفت روزہ اخبار 'ندائے جہاں' کا ڈیکلریشن حاصل کیا، وہ اس میگزین اور اخبار کے پبلشر و چیف ایڈیٹر تھے، نصرت کمال اوچوی کے قلمی نام سے افسانہ نویسی سمیت مختلف موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے رہے۔ اپنی شعلہ بیانی کے باعث شہر میں 'شعلے شاہ' کے نام سے مشہور ہوئے۔ ماہنامہ 'تہذیب' کے تو چند ایک شمارے ہی سامنے آ سکے، امتداد زمانہ کے باعث 'ندائے جہاں' بھی عرصہ ہوا بند ہو چکا جب کہ تاج محمد راجپوت مختلف عوارض میں مبتلا ہو کر گم نامی کی حالت میں ستمبر 2024ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ 1976ء میں ایم دلشاد قریشی نامی ایک صاحب نے بھی اوچ شریف سے ماہنامہ 'فانوس' کے نام سے ایک کتابی سلسلے کا اجراء کیا تھا تاہم ریکارڈ پر کوئی شمارہ دستیاب نہیں۔

اوچ میں پہلے ہفت روزہ اخبار کا اجراء اور زرد صحافت:

اوچ شریف میں مارچ 1990ء میں ملک حاجی احمد ارائیں کی ادارت میں پہلا ہفت روزہ اخبار 'ہوا' شروع ہوا، حاجی احمد پیشے کے لحاظ سے حجام اور واجبی تعلیم کے حامل تھے۔ یہ اس دور میں ڈیکلریشن کے حصول میں آسان طریقہ کار کے باعث کئی نان پروفیشنل گھس بیٹھیوں کے صحافی بن کر شعبہ صحافت کو گدلا کرنے کی ابتدا تھی۔ بعدازاں حاجی احمد ارائیں نے اوچ شریف سے ایک ہفت روزہ 'ارسطو' بھی نکالا۔ دوسرے مرحلے میں رسول بخش نسیم کے زیر ادارت پندرہ روزہ 'نوائے اوچ' جاری ہوا۔ اور صحافت کے قافلے میں گلزار حسین وڑائچ (فوٹو گرافر)، ملک امیر بخش بھٹی، عبدالغنی لنگاہ وغیرہ شامل ہوئے۔ آخر الذکر صحافی موصوف نے ہفت روزہ 'ارسطو' حاجی احمد ارائیں سے ٹھیکے پر لے لیا اور مختصر عرصے کے لیے بطور منیجنگ ایڈیٹر ہفت روزہ 'ارسطو' کو چلاتے رہے۔ ہفت روزہ 'ہوا' اور ہفت روزہ 'ارسطو' سنسنی خیز سرخیوں، گمراہ کن پروپیگنڈے اور زرد صحافت کے حوالے سے مخصوص شہرت کے حامل تھے اور ان میں خبریت کا عنصر بہت کم تھا۔

اوچ کے 'نام نہاد' صحافیوں کے خلاف متفقہ قرارداد:

یہاں یہ بات دلچسپی کی حامل ہو گی کہ 1984ء میں احمد پور شرقیہ یونین آف جرنلسٹس سب ڈویژن احمد پور شرقیہ کے سالانہ انتخابات میں مرزا منصور یاور صدر، صوفی فیض محمد فیض نائب صدر، رسول بخش نسیم جنرل سیکرٹری، بشیر احمد راہی جوائنٹ سیکرٹری اور عبدالحفیظ نسیم خزانچی منتخب ہوئے، جب کہ اراکین مجلس عاملہ میں محمد یعقوب خان، دلشاد ندیم قریشی اور غلام شبیر ناز شامل تھے۔ اس موقع پر احمد پور شرقیہ یونین آف جرنلسٹس سب ڈویژن احمد پور شرقیہ کی منظور کردہ ایک متفقہ قرارداد میں (جسے من و عن پیش کیا جا رہا ہے) کہا گیا: "اوچ شریف کے (نام نہاد) صحافیوں تاج محمد راجپوت، حاجی احمد، امیر بخش مہتمم اور گلزار فوٹو گرافر کا ہماری یونین اور صحافیوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، اور نہ ہی یونین ہذا انہیں صحافی تسلیم کرتی ہے۔ اس لیے یونین ہذا ان کے کسی قول و فعل کی ذمہ دار نہیں ہے۔ متعلقہ ادارے، اہلکاران سرکار اور عوام ایسے بہروپیوں سے ہوشیار رہیں۔"

اوچ کے مقامی اخبارات اور ان کے سب آفسز:

اوچ شریف سے ہفت روزہ 'ہوا' و 'ارسطو' اور پندرہ روزہ 'نوائے اوچ' کے بعد 1998ء میں محمد اکمل شیخ نے ہفت روزہ 'اوچ ٹائم' کا اجراء کیا تاہم اس اخبار کے صرف چند شمارے ہی منصہ شہود پر آ سکے اور 1999ء میں یہ اخبار اپنی اشاعت برقرار نہ رکھ سکا۔ گلزار حسین وڑائچ نے اوچ شریف میں لاہور سے شایع ہونے والے ہفت روزہ 'چکارا' اور عبد الغنی لنگاہ نے احمد پور شرقیہ سے شایع ہونے والے ہفت روزہ 'ندائے جہاں' جب کہ ارشاد احمد شاد نے بہاول پور سے شایع ہونے والے روزنامہ 'سنگ باری' کا سب آفس قائم کیا۔ 'چکارا' کے پبلشر و چیف ایڈیٹر گلزار حسین وڑائچ کے بھائی چوہدری محمد اکرم جب کہ 'سنگ باری' کے پبلشر و چیف ایڈیٹر گلزار حسین راہی تھے، مذکورہ دونوں اخبارات اب بند ہو چکے ہیں۔ گلزار حسین راہی کی علالت کے دنوں میں ارشاد احمد شاد روزنامہ 'سنگ باری' کی پیشانی پر ایڈیٹر اور بعدازاں چیف ایڈیٹر کے طور پر بھی اپنا نام لکھواتے رہے۔

صحافت کو رواں دواں رکھنے والے مرحوم صحافی:

اوچ شریف میں صحافت کے قافلے کو رواں دواں رکھنے میں جن شخصیات نے وقت دیا اور وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں ان میں جانباز جتوئی، خاک اوچوی، رسول بخش نسیم، شبیر احمد ناز، سلیم احمد جاوید، گلزار حسین وڑائچ، راجہ قاسم (ملت بک ڈپو) عبدالغنی لنگاہ، ملک امیر بخش بھٹی، حاجی احمد ارائیں، اللہ وسایا خان، ساجد حسین شاہین، میاں محمد طارق، حاجی احمد خان، محمد فاروق شامل ہیں۔

اوچ کے ڈیکلریشن ہولڈر صحافی:

اوچ شریف کی صحافتی تاریخ میں اب تک محض پانچ صحافی ہی ڈیکلریشن ہولڈر رہے ہیں، جن میں رسول بخش نسیم، تاج محمد راجپوت، حاجی احمد ارائیں، فہیم کاظمی اور نعیم احمد ناز کے نام سرفہرست ہیں۔ نعیم احمد ناز کو ضلع بہاول پور کے کم عمر ترین ڈیکلریشن ہولڈر صحافی ہونے کا اعزاز حاصل ہے، محض 26 سال کی عمر میں نعیم احمد ناز کی صحافتی و قلمی خدمات اور تجربے کی بناء پر ان کو ڈیکلریشن کے لیے این او سی جاری کیا گیا۔

اوچ کے کم عمر ترین صحافی:

اوچ کی جدید صحافتی تاریخ میں نعیم احمد ناز کا نام ایک ایسے صحافی کے طور پر لیا جاتا ہے جنہوں نے محض 13 سال کی عمر میں عملی صحافت کا آغاز کیا، 1997ء میں وہ گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول اوچ شریف میں جماعت ہفتم کے طالب علم تھے جب مظفر گڑھ سے جمشید خان دستی (سابق ایم این اے) کے زیرادارت شایع ہونے والے ہفت روزہ اخبار 'شاہوانی' کے اوچ شریف میں نامہ نگار مقرر ہوئے، اس سے بھی قبل 1992ء میں نعیم احمد ناز کی پہلی تحریر روزنامہ 'نوائے وقت' کے بچوں کے ایڈیشن 'پھول اور کلیاں' میں شایع ہوئی تھی۔ بطور نامہ نگار 'شاہوانی' نعیم احمد ناز کے کریڈٹ پر کئی اہم تحقیقی خبریں شامل ہیں جو آٹھ کالمی شہ سرخیوں کی صورت میں 'شاہوانی' شایع ہوتی رہیں۔

ماضی اور حال کے 'فعال' صحافی:

اس وقت اوچ شریف کے فعال صحافیوں کی صف میں ڈاکٹر ضیاءالحق شہزاد، اظہر علی دانش، اظہر اقبال مغل، ارشاد احمد شاد، اطہر اقبال مغل، میاں عبدالرؤف، میاں محمد عامر صدیقی، خواجہ سہیل مظہر صدیقی، محمد ساجد خان، خواجہ ابرار حسین، سید اظہر علی رضوی، محمد اعجاز مستوئی، سجاد حسین ملانہ، محمد سلیم شہزاد اور خواجہ غلام شبیر قابل ذکر ہیں۔ ماضی کے صحافیوں میں عبدالخالق سرمد، خواجہ قاسم رضا، فہیم کاظمی، میاں محمد عمران صدیقی، ملک تاج وارن، احمد حسن زٹہ، عامر فیاض، ملک امام بخش، ناصر خان کے بی سی، خواجہ محمد عسکری، محبوب گورائیہ، عمران دانش بڈانی، مظہر اقبال مغل، عبداللہ آسی اور خالد حمید شاہین شامل ہیں۔

دوسرے شہروں کی 'کریڈٹ لائن' رکھنے والے مقامی صحافی:

نوے کی دہائی میں عبداللہ آسی اوچ شریف میں روزنامہ 'جنگ' لاہور کے اولین نامہ نگار تھے۔ ان کا بنیادی تعلق احمد پور شرقیہ تھا، ان کے بھائی عبدالرحمٰن شاکر (جو کہ اے آر شاکر کے قلمی نام سے 'جہاں گشت' اور 'نوائے اوچ' میں سماجی موضوعات پر کالم نگاری کرتے تھے) کی اوچ شریف کے مین بازار میں پاپ کارن اور ڈیکوریشن وغیرہ کی دکان تھی جب کہ عبداللہ آسی الشمس چوک پر کھاد، بیج اور زرعی اجناس کا کاروبار کرتے تھے، آج کل یہ دونوں بھائی احمد پور شرقیہ میں صحافت پر 'تین حرف' بھیج کر اپنے ذاتی کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ستمبر 1992ء میں جب ضیاء شاہد نے لاہور سے روزنامہ 'خبریں' کا اجراء کیا تو محمد اکمل شیخ اوچ شریف میں اس کے 'بانی' نامہ نگار مقرر ہوئے، کچھ عرصہ بعد انہوں نے روزنامہ 'جنگ' لاہور کی نامہ نگاری اختیار کر لی۔ 2002ء میں جنگ میڈیا گروپ کے نجی نیوز چینل 'جیو' کا آغاز ہوا اور ملتان سے 'جنگ' نے اپنی اشاعت کا اجرا کیا تو برقی و ورقی صحافت میں علاقائی مسائل اجاگر کرنے میں محمد اکمل شیخ کا ایک فعال کردار سامنے آیا، آج کل محمد اکمل شیخ بہاول پور سے نجی نیوز چینل 'دنیا' کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اظہر علی دانش بھی کچھ عرصہ بہاول پور اور دھوڑ کوٹ منتقل ہو کر روزنامہ 'پاکستان '، 'نوائے وقت' اور 'جنگ' سمیت مختلف قومی و مقامی اخبارات کے ساتھ منسلک رہے تاہم اب وہ اوچ شریف میں مقیم ہیں اور روزنامہ 'جنگ' کے لیے نامہ نگاری کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ جولائی 2020ء میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کے بعد نعیم احمد ناز محکمہ اسکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب کے میڈیا کوآرڈی نیٹر اور طلبہ کے لیے سرکاری طور پر شایع ہونے والے میگزین ماہنامہ 'روشنی' کے ایڈیٹر کے طور پر ملتان میں خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں، اس دوران انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام اسلام آباد میں منعقدہ بچوں کے ادب کی بین الاقوامی کانفرنس سمیت مختلف فورمز پر اپنے ادارے کی نمائندگی کی۔ اظہر اقبال مغل گزشتہ تین دہائیوں سے اوچ شریف میں 'نوائے وقت' کے خبر نگار جب کہ گزشتہ کچھ عرصے سے احمد پور شرقیہ میں 'ایکسپریس' کے نامہ نگار کے طور پر فعال ہیں۔ اطہر اقبال مغل ہیڈ پنجند سے 'ایکسپریس' کے نمائندے ہیں۔ محمد اعجاز خان پٹھان نبی پور سے 'نوائے وقت' کے نامہ نگار رہے۔ محمد سلیم شہزاد دھوڑ کوٹ سے جب کہ سید مجتہد رضوی ہیڈ پنجند سے 'خبریں' کے نمائندے ہیں۔ اسی طرح اوچ شریف سے تعلق رکھنے والے فہیم کاظمی نے غالباً 2005ء میں بہاول پور سے ہفت روزہ اخبار 'مخدوم جہانیاں' کا اجراء کیا، وہ مذکورہ اخبار کے پبلشر و چیف ایڈیٹر جب کہ ان کی مجلس ادارت میں امجد بخاری، فیاض حسین قمر، محبوب گورائیہ، حاجی طارق سیال شامل تھے۔ فہیم کاظمی نے بعدازاں ایک میگزین بھی جاری کیا۔ آج کل اوچ شریف میں مقیم ہیں۔

اوچ میں صحافتی دھڑے بازی:

اوچ شریف میں صحافی کئی دھڑوں میں تقسیم ہیں۔ اس سب تحصیل میں ایک سے زائد پریس کلبز اور صحافتی تنظیمیں موجود ہیں، البتہ سوائے 'نوائے اوچ میڈیا گروپ' کے کوئی صحافتی تنظیم رجسٹرڈ نہیں ہے، عملی صحافت، رپورٹنگ، میڈیا کے اسرار و رموز سے آگہی اور صحافیانہ فنی و علمی تربیت کا کوئی بندوبست کسی بھی جگہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا سے وابستہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ اور معیار میں بتدریج کمی ہو رہی ہے۔ مقامی صحافتی تنظیموں کی طرف سے پبلک ایشوز پر مکالمہ کا رواج ہے نہ ہی صحافت کی عملی تربیت کا کوئی انتظام۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام اور میڈیا نمائندگان میں فاصلے کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔ سماج میں یہ رائے پختہ ہو رہی ہے کہ صحافت کا قلم دان سنبھالنے والے ہر قسم کی اخلاقی، صحافتی، تقاضوں سے مبرا ہیں، میڈیا نمائندگان کی موجودہ لاٹ میں ایسے بہت سارے نام پیش کیے جا سکتے ہیں جن کا صحافت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے لیکن وہ اپنا تعارف ایک صحافی کے طور پر کرانا پسند کرتے ہیں۔

مقامی صحافت میں عملی تربیت کا فقدان اور 'جعلی' اخبارات:

مقامی صحافت میں ظاہری یا رسمی تعلیم سے قطع نظر عملی تربیت کے فقدان کے باعث سیکھے بغیر بعجلت تمام شہرت کی منزلیں طے کرنے کا رجحان عام ہے۔ صحافت میں معروضیت، تحقیق و جستجو، شائستگی اور معاملہ فہمی کا فقدان ہے۔ زبان کا بیڑا غرق، مخلوط اور غلط سلط زبان کا عام اور بہ کثرت استعال اب ایک روایت سی بن کر رہ گئی ہے۔ یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ عامل صحافیوں میں نچلا طبقہ پسماندہ، درماندہ اور گویا راندہ درگاہ ہے۔ قانون کی عمل داری نہ ہونے کی وجہ سے کئی ڈمی اور پی ڈی ایف اخبارات کسی ڈیکلریشن کے جھنجھٹ میں پڑے بغیر رائے عامہ گمراہ کرنے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ بقول شاعر:

جہل خرد نے دن یہ دکھائے
گھٹ گئے انسان، بڑھ گئے سائے

اوچ کی صحافتی تنظیموں کو متحد کرنے کی 'ناکام' کاوشیں:

اوچ شریف کی تمام صحافتی تنظیموں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد کرنے اور ایک ہی پریس کلب کی تشکیل کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مورخہ 5 فروری 2019ء کو پنجند ہوٹل میں سینئر صحافیوں کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اس موقع پر اجلاس کے شرکاء میں "اوچ شریف کے تمام صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے مقاصد اور ضرورت کیوں ہے؟" کے عنوان سے آٹھ نکات پر مشتمل ایک پمفلٹ بھی تقسیم کیا گیا تھا، جس پر اتفاق رائے کے بعد معاملات آگے بڑھانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی۔ آٹھ نکات میں واضح کیا گیا کہ اوچ شریف میں پریس کلبز کی تعداد زیادہ ہونے سے محکمہ جات، افسران، سیاسی شخصیات اور شہریوں میں اچھا امیج نہیں جا رہا ہے، تمام پریس کلز کو اکٹھا اور صحافتی برادری کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے اوچ شریف کے تمام سینئر اور جونیئر صحافیوں سچے دل سے اپنا کردار ادا کریں تاکہ اوچ شریف کی صحافت کو عزت کا مقام مل سکے۔ اس آٹھ نکاتی ایجنڈے کے مطابق تمام پریس کلبز کے صدور کو اپنی اپنی باڈیاں تحلیل کر کے ایک فہرست مرتب کرنا تھی جس میں اراکین کا نام اور فورم، اخبار یا چینل کا باقاعدہ رپورٹر ظاہر کرنا تھا، سوشل میڈیا اور ویب چینلز کے نمائندے قابل قبول نہ تھے۔ تمام صحافیوں کی لسٹ مرتب ہونے کے بعد ایک کمیٹی تشکیل دی جانی تھی، جس میں تمام گروپوں سے ایک ایک رکن شامل کرنا تھا جو ممبران کی چھان بین کرنے کے بعد ایک فائنل لسٹ مرتب کرتے اور انہی صحافیوں کو اوچ شریف پریس کلب کے ممبران تصور کیا جاتا۔ بعدازاں الیکشن کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے کر الیکشن کا شیڈول جاری کرنا بھی آٹھ نکاتی ایجنڈے میں شامل تھا۔ تاہم اوچ شریف کے صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی سینئر صحافیوں کی یہ کاوشیں بارآور نہ ہوئیں، سوشل میڈیا اور ویب چینلز کے نمائندوں کو 'صحافی' تسلیم نہ کرنے اور ایک ہی اخبار کے پانچ پانچ نمائندوں میں سے کسی ایک نمائندے کو رکن بنانے کی شرط پر بعض صحافتی پریشر گروپس کے تحفظات نے متحدہ پریس کلب کی بیل منڈھے ہی نہ چڑھنے دی۔

اوچ کی صحافتی تاریخ میں پہلی مرتبہ خفیہ رائے دہی کے تحت انتخابات:

29 دسمبر 2019ء اوچ شریف کی صحافتی تاریخ میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جب جمہوری تقاضوں کو ملحوظ خاظر رکھتے ہوئے پہلی مرتبہ خفیہ رائے دہی کے تحت انتخابی عمل کے ذریعے ارشاد احمد شاد کے 'اوچ پریس کلب' کا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا، سال 2020ء کے لیے اوچ پریس کلب کے ان انتخابات میں چیئرمین، صدر اور جنرل سیکرٹری کے عہدوں پر امیدواروں نے باقاعدہ کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ شاہین رسول کی سربراہی میں محمد امتیاز منظور اور نعیم احمد ناز پر مشتمل تین رکنی الیکشن کمیٹی نے عبوری آئین تشکیل دے کر اُمیدواروں کو انتخابی نشانات جاری کیے، ووٹروں کے لیے بیلٹ پیپرز اور بیلٹ باکس کا اہتمام کیا گیا۔ انتخابی مہم چلانے اور اپنے منشور کی تشہیر کے لیے اُمیدواروں کو مخصوص وقت دیا گیا۔ انتخابی عمل کا جائزہ لینے کے لیے دیگر صحافتی گروپس کے سینئر صحافیوں کو مبصر کے طور پر دعوت دی گئی تھی۔ اُمیدواروں کی جوڑ توڑ کے نتیجے میں سیف اللہ خان بلامقابلہ چیئرمین اور محمد ساجد خان بلامقابلہ جنرل سیکرٹری منتخب ہو گئے۔ صدارت کے عہدے کے لیے اظہر علی دانش اور ارشاد احمد شاد نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، اظہر علی دانش کو قلم اور ارشاد احمد شاد کو کتاب کے انتخابی نشانات الاٹ کیے گئے تھے، خفیہ رائے دہی کے تحت ہونے والے انتخابی عمل میں دونوں صدارتی امیدواروں کو برابر برابر ووٹ پڑے، چنانچہ 6، 6 ماہ کے لیے دونوں کو عہدہ صدارت کی معیاد پوری کرنے کا کہا گیا، ٹاس کے ذریعے اظہر علی دانش پہلے 6 ماہ کے لیے منتخب صدر بن گئے، تاہم مفاداتی و گروہی سیاست، اناپرستی اور ذاتی مفاد کی وجہ سے یہ جمہوری قدم اس وقت مشق رائیگاں ثابت ہوا جب بلامقابلہ منتخب جنرل سیکرٹری محمد ساجد خان نے اڑھائی ماہ بعد ہی اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔

اوچ کے اہل صحافت کی ذمہ داری:

اوچ کی صحافت سے وابستہ موجودہ صحافیوں کی فقط یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ روزمرہ کے واقعات کو میڈیا کے ذریعے سے منظر عام پر لائیں، بلکہ ان پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذاتی گروہی فوائد سمیٹنے والے استحصالی طبقات کے منفی طرز عمل کی بھی نشان دہی کریں اور معاشرے کے بااثر طبقات کی صحیح انداز میں اخلاقی، قانونی پہلوؤں کی روشنی میں رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں۔ ملک کے جید صحافیوں، دانش وروں کو مدعو کر کے سیکھنے کے عمل کا آغاز کیا جائے، خاص طور پر سو فیصد حقائق تک پہنچے بغیر جزوی معلومات، ادھورے سچ کا سہارا لے کر جو خبر نگاری کی جاتی ہے، اس سے فریق متاثرہ اور سوسائٹی پر آنے والے دنوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، کو دیکھنا اور ان کا ازسرنو جائزہ لینا اشد ضروری ہے۔ دنیا بھر کا میڈیا ریسرچ سٹوریز اور پبلک ایشوز کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے، قارئین اور ارباب بست و کشاد کی درست سمت میں رہنمائی کا فریضہ بھی ماضی میں صحافی صاحبان کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزرے کل کے وہ صحافی جو آج ہم میں موجود نہیں ہیں، مگر ان کی قدرومنزلت میں کسی طور بھی کمی نہیں آئی ہے۔

سماجی مسائل اور صحافتی طرزعمل:

اوچ شریف اور گردونوح کے علاقوں کے ایسے بہت سارے مسائل ہیں جو میڈیا نمائندگان کی نظروں سے اوجھل ہیں یا پھر اتنی توجہ حاصل نہیں کر پا رہے جس قدر انہیں ضرورت تھی۔ صحافی برادری کو ایسا طرز عمل اپنانا چاہیئے کہ وہ کسی پٹواری، کلرک، تھانے دار، سیاسی کارکن یا سرکاری اہلکار سے معمولی بات پر الجھ کر اپنی توانائی نان ایشوز پر صرف نہ کریں۔ پریس کلبز اور دیگر صحافتی تنظیموں کے پلیٹ فارمز پر مکالمے کا آغاز کیا جائے، جس میں سب سے پہلے اپنے علاقے، وارڈز اور یونین کونسلوں کی سطح کے مسائل، مشکلات اور کرپشن بھرے واقعات پر رائے عامہ کو ہموار کر کے ریاستی مشینری اور عوامی نمائندوں کی توجہ مبذول کروائی جا سکے۔ معاشرے کے ایسے افراد جنہوں نے بلامبالغہ قومی و علاقائی خدمات کا کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہو اس سے ان کی اپنی نیک نامی میں بھی اضافہ ہوا ہو، کو میڈیا کے ذریعے بھرپور کوریج دی جائے تاکہ اچھائی اور بہتری کے کاموں کی طرف دوسروں کو رغبت دلائی جا سکے۔ سرکاری مشینری کا ہر وقت تنقیدی جائزہ لینے کی بجائے ان کے عوام دوست امور کی حوصلہ افزائی کی جائے، پریس کلبز کی سطح پر ایسا ماحول تشکیل دیا جائے کہ ایسی صحافتی ورکرز جو زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے انہیں پھر سے رواں دواں کرنے کے لیے سب مل کر قوت و توانائی فراہم کریں۔

ذمہ دارانہ اور انسان دوست صحافت کی طرف پیش رفت:

ایسے میڈیا ورکرز جو اخبار نویسی سے اخبار فروشی کے عمل میں شریک تھے اور اب اس دنیا میں نہیں رہے، ان کے پسماندگان کے باعزت روزگار، ان کی تعلیم اور ان کی معاشی و طبی ضروریات کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ شعبہ صحافت کو ایسے تمام ورکرز کے لیے قابل فخر بنانے کی طرف اہم پیش رفت کی جائے جو ذمہ دارانہ و انسان دوست صحافت پر یقین رکھتے ہیں اور ایسے عناصر جن کا صحافت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور وہ اپنے خاص مقاصد کے لیے اس صف میں گھس چکے ہیں، ان سے اپنی صفوں کو پاک کرنے کی کوشش کی جائے۔

اوچ میں جدید صحافت اور ڈیجیٹل میڈیا کا پھیلاؤ:

2010ء کے بعد اوچ شریف میں میڈیا کے میدان میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے صحافت کی نوعیت کو مزید تبدیل کر دیا۔ علاقائی مسائل اجاگر کرنے، سیاسی رپورٹنگ، تحقیقی صحافت اور ثقافتی شناخت کے فروغ میں آن لائن صحافت کا مسلمہ کردار ہے۔

بظاہر یہ اوچ شریف کا منظر نامہ ہے مگر کم و بیش فرق کے ساتھ جنوبی پنجاب کے تمام شہروں کا یہی حال ہے۔ ہماری میڈیا نمائندگان سے گزارش ہے کہ ہمیں ایسی مثبت روایات، اصول اور کردار اجاگر کرنا چاہیئے کہ آنے والی نسلیں آج کے صحافیوں پر فخر کر سکیں۔

|حوالہ جات|

1: نسیم، رسول بخش۔ پردے میں رہنے دو (خودنوشت)

2: یاور، مرزا منصور۔ دستور العمل یونین آف جرنلسٹس سب ڈویژن احمد پور شرقیہ

3: راجپوت، تاج محمد۔ ہفت روزہ 'ندائے جہاں' آرکائیوز

4: ارائیں، حاجی احمد۔ ہفت روزہ 'ہوا' آرکائیوز

5: ارائیں، حاجی احمد۔ ہفت روزہ 'ارسطو' آرکائیوز

6: نسیم، رسول بخش۔ سہ ماہی 'جہاں گشت' آرکائیوز

7: نسیم، رسول بخش۔ پندرہ روزہ 'نوائے اوچ' آرکائیوز

8: ناز، نعیم احمد۔ اوچ پریس کلب آفیشل ریکارڈز (1978ء تا
2000ء)

9: سحر، احسان احمد۔ ہفت روزہ 'نوائے احمد پور شرقیہ' آرکائیوز





Address

KASHANA-E-NASEEM, Shams Colony
Uch
63410

Telephone

+92622551192

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nawaeuch نوائے اوچ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Nawaeuch نوائے اوچ:

Share