31/08/2025
آج کل پنجاب کے پانچوں دریا بپھرے ہوئے ہیں اور اب ان تمام دریاوں کا سنگم پنجند کے مقام پر ہوگا خطرہ یہ ہے کہ ان دریاوں کے سیلاب کا سارا پانی يكجا ہو کر ہیڈ پنجند بیراج کو نقصان نہ پہنچا دے ۔ اس بیراج سے سات لاکھ کیوسک پانی گزر سکتا ہے اگر اس سےزیادہ پانی آ گیا تو پھر رائیٹ مارجنل بند توڑنا پڑے گے ۔
پنجند بیراج کی ہسٹری میں لکھا ہوا ہے کہ اس کا داياں بند توڑا جاۓ کیوں کہ پانی بند کے ساتھ ساتھ چند میل بعد دوبارہ دریا میں شامل ہو جاۓ گا جبکہ بایاں بند کسی صورت نہیں توڑنا کیوں کہ اس طرف دریا سندھ کا قدیم راستہ ترکڑی ڈھورا ہے جس میں پانی چلا گیا تو پھر یہ رکے کا نہیں بلکہ اس پوراضلع رحیم یار خان تباہ ہو گا جائے گا
1973 میں یہ غلطی غلام مصطفی کھر نے کروائی تھی کیونکہ اسے مظفر گڑھ کے لوگوں نے باور کروا دیا تھا سائیں اپنا ضلع ڈوب جائے گا اس پر غلام مصطی کھر نے جو اُس وقت پنجاب کا گورنر تھا نے محکمہ انہار کے افسران کو دایاں بند نہ توڑنے دیا اور بایاں بند توڑنے کا حکم دے دیا بایاں بند ٹوٹتے ہی ترکڑی ڈھورےکے راستے سے سیلاب کا پانی اوچ شریف کی مکمل تباہی بربادی کرتےہوئے لیاقت پور تحصیل کو روندتا ہوا خانپور شہر میں داخل ہوگا اور مکانوں کے روشندانوں تک پانی آ گیا تھا ۔
غلام مصطفی کھر کے اس حکم کی وجہ سے سیلابی پانی نے پورے ضلع رحیم یار خان کی آبپاشی کے نظام کو درہم برهم کر دیا ۔ قیمتی جانوں کے ساتھ مال مویشی اور گھر تباہ ہو گئے
اب ارباب اختیار کو اور محکمہ نہر کو چاہیے کہ وہ کسی سیاسی دباو میں نہ آئے اور پنجند بیراج کی ہسٹری میں درج ہدایات پر عمل کرے اور ہیڈ پنجند کو خطرے کی صورت میں بائیں منچن مارجنل بند کو نہ توڑے ورنہ ایک دفعہ پھر رحیم یار خان اور بہاولپور میں 1973 والی تباہی اور بربادی ہو سکتی ہے