03/06/2026
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان کے مذمتی بیان میں زہری میں ریاستی بربریت، میر خلیل احمد موسیانی کو گولی مار کر شہید کرنے , میت واپس کرنے سے انکارـکی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا
2 جون 2026 کو ضلع خضدار کے علاقے بلبل زہری میں سیکورٹی فورسز نے سردار نصیر احمد موسیانی کے فرزند میر خلیل احمد موسیانی کو پیٹ میں گولی مار کر بے دردی سے شہید کر دیا۔ یہ گولی کسی میدانِ جنگ میں نہیں چلی — یہ گولی ایک گھر کے دروازے پر چلی، ایک باپ کے سامنے، ایک خاندان کے سامنے۔ اور اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ شہادت کے بعد فورسز نے میر خلیل احمد کی میت ان کے خاندان کے حوالے کرنے سے صریح انکار کر دیا ہے۔ رات بھر خاندان تڑپتا رہا، کوئی اطلاع نہیں دی گئی، اور صبح یہ خبر دی گئی کہ وہ شہید ہو گئے — مگر میت آج بھی فورسز کے قبضے میں ہے۔ حیلے بہانے کیے جا رہے ہیں، لاش روکی جا رہی ہے۔ یہ ظلم کی انتہا ہے۔
اس سے قبل 2 جون کو جب فورسز دس سے بارہ گاڑیوں میں سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر پہنچیں تو انہوں نے سردار نصیر احمد کو دھکا دے کر زمین پر گرایا جس سے وہ سر پر زخمی ہوئے۔ ان کے بیٹے میر زہری خان موسیانی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اور میر خلیل احمد کو گولی مار کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا — جہاں سے وہ زندہ واپس نہ آئے۔ سردار نصیر احمد موسیانی، ان کے فرزندان زہری خان اور میر خلیل احمد، پوتے قدیر احمد موسیانی اور دیگر کئی عزیز و اقارب کو اٹھا کر بلبل کراس کے اسکول میں بند کر دیا گیا جسے فورسز نے حراستی مرکز میں تبدیل کر رکھا ہے۔ جب علاقے کی خواتین اور قبائلی عمائدین احتجاج کے لیے نکلے تو مردوں کو بھی اسی اسکول میں بند کر دیا گیا اور صرف خواتین باہر کھڑی روتی رہیں۔ عوامی دباؤ پر سردار نصیر احمد سمیت چند افراد کو رہا کیا گیا، مگر میر زہری خان موسیانی، شکر خان، ثناء اللہ موسیانی، امید علی خان، دوست محمد، ارشاد احمد اور احتجاج کرنے والے شہری فداء احمد، سلیم، سلمان، الہی بخش اور دیگر آج بھی حراست میں ہیں۔
یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب 2 جون 2026 کو صبح ہیلی کاپٹروں سے آبادی پر شیلنگ کی گئی، بکتر بند گاڑیوں میں فورسز بلبل شہر میں داخل ہوئیں اور دیر تک اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ بلبل کراس کا اسکول بچوں کی جگہ فورسز کا کیمپ بن گیا، اسپتال عوام کے لیے بند ہو گیا۔ یہ فورسز کا پرانا اور گھناؤنا طریقہ ہے — جب کرفیو لگاتے ہیں تو اسکول، اسپتال اور پیٹرول پمپ پر قبضہ کر کے عارضی فوجی کیمپ بناتے ہیں اور عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم کر دیتے ہیں۔
بی این پی واضح کرنا چاہتی ہے کہ سردار نصیر احمد موسیانی بلوچستان نیشنل پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن، سابق ضلعی ناظم خضدار اور موسیانی قبیلے کے سردار ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ جمہوری اور آئینی راستہ اختیار کیا، انتخابات میں حصہ لیا اور سیاسی پلیٹ فارم سے اپنے عوام کی نمائندگی کی۔ ان کے گھر پر یہ چڑھائی، ان کے بیٹے خلیل احمد موسیانی جو بی این پی کے ضلعی سینئر نائب صدر اور منتخب یوسی کونسلر تھے انکی کی شہادت اور میت روک لینا — یہ سب بتاتا ہے کہ بلوچستان میں جمہوری سیاست کرنا، آئینی راستہ اختیار کرنا بھی اب محفوظ نہیں رہا۔
زہری گزشتہ ایک سال سے خون اور آگ میں جل رہا ہے۔ بی این پی نے ہر موقع پر کہا کہ اس مسئلے کا حل گولی نہیں، سیاسی مکالمہ ہے۔ مگر آج کا یہ واقعہ، یہ شہادت، یہ میت روک لینا — یہ ثابت کرتا ہے کہ اس آواز کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ میر خلیل احمد موسیانی کی میت فوری اور بلاتاخیر ان کے خاندان کے حوالے کی جائے — کوئی شرط نہیں، کوئی حیلہ نہیں، کوئی تاخیر قابلِ قبول نہیں۔ ایک شہید کی میت روکنا انسانیت کی توہین ہے اور ہم اسے کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ میر زہری خان موسیانی سمیت تمام حراست میں لیے گئے افراد کو فوری رہا کیا جائے اور اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو انہیں آئین کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے نہ کہ اسکولوں میں قید رکھا جائے۔ زہری میں نافذ کرفیو فوری طور پر ختم کیا جائے کیونکہ یہ کرفیو عوام کو سزا دینے کا ہتھیار بن چکا ہے۔ بلبل کراس کے اسکول اور اسپتال کو فوری خالی کیا جائے۔ ہیلی کاپٹر شیلنگ اور آبادی پر فائرنگ کی شفاف تحقیقات کی جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اور زہری کے اصل مسئلے کے سیاسی اور پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔
ہم بلوچستان کے عوام، تمام جمہوریت پسند قوتوں، وکلاء، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ میر خلیل احمد کی میت واپسی کے لیے آواز بلند کریں۔ ایک شہید کو اس کی مٹی میں دفن ہونے کا حق ہے — یہ حق چھیننا ریاستی دہشت کی بدترین شکل ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی اپنے قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہر ظلم کے خلاف ڈٹی رہے گی۔ میر خلیل احمد موسیانی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ بلوچستان کے عوام کے حقوق، عزت اور وقار کا تحفظ ہماری سیاسی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے ہم کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔