27/07/2026
تم ہمیں محبت، احترام اور دلیل سے پکارتے تو شاید ہم گھر لوٹ بھی جاتے، مگر تم یہ کیسے سمجھ بیٹھے کہ بندوق کے زور پر ہمیں اپنی تاریخ اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل پر سرنڈر کروایا جا سکتا ہے؟
جب عمر نظیر کشمیری نے پہلی گولی اپنے جسم پر کھائی، اپنے بھائی جیسے دوست کو اپنی آنکھوں کے سامنے قربان ہوتے دیکھا، اور پھر بھی پوری جُرت،عزم، استقلال اور استقامت کے ساتھ دریک کے دھرنے میں آ کر کھڑا ہو گیا، تب تمہیں سمجھ جانا چاہیے تھا کہ یہ لوگ خوف سے ٹوٹنے والے نہیں۔
جب جولائی کی جھلسا دینے والی دھوپ اور برستی بارش میں ہزاروں لوگ دریک کے مقام پر بغیر کسی لغزش، تھکن یا پسپائی کے پچاس دن تک ڈٹے رہے، تب بھی تمہیں سمجھ جانا چاہیے تھا کہ ہمارے حوصلوں کو شکست دینا تمہارے بس کی بات نہیں۔
اور جب ہمارے بچے، ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بھی اس جدوجہد کا حصہ بن گئیں، تب تمہیں جان لینا چاہیے تھا کہ یہ کوئی محض احتجاج نہیں، یہ ہماری بقا کی جنگ ہے۔اور یہ جنگ ہم اپنی بقا تک لڑیں گے۔
آج عمر نظیر اپنے ساتھیوں اور اپنے سگے بھائی کی شہادت کے باوجود جس یقین، حوصلے اور اعتماد سے کہہ رہا تھا کہ ہم رکیں گے نہیں، ہم آگے بڑھیں گے، اس کے بعد تمہیں صرف سمجھنا نہیں چاہیے، بلکہ ڈرنا چاہیے۔
کیونکہ جن لوگوں نے اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا لیے ہوں، انہیں بندوقیں خوف زدہ نہیں کرتیں۔
بشکریہ : یاسر شفاعیت
#