معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی

  • Home
  • Pakistan
  • Topi
  • معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی

معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی المدینہ مسجد سلطان آباد بامخیل صوابی

24/05/2026
18/05/2026

انہوں نے شاید کبھی مدرسہ پڑھایا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔😞

میں اساتذہ کی طرف سے بچوں پر غیر انسانی تشدد کا کبھی حامی نہیں رہا۔ نہ آگے کبھی اس سلوک کی حمایت کروں گا۔ چاہے یہ غیر انسانی سلوک کسی مدرسے میں ہو یا اسکول و کالج میں۔
لیکن دوسرا پہلو بھی مد نظر رہنا چاہۓ☺

مجھے تدریس کی فیلڈ میں یہ گیارھواں سال ہے، لہذا میں جو کچھ لکھ رہا ہوں اچھے خاصے تجربے کی بنیاد پر لکھ رہا ہوں۔ اختلاف کرنا آپکا حق ہے۔ مگر حقائق سے نظریں چرانا اچھی بات نہیں☺

بات یہ ہے کہ جب بھی کسی مولوی صاحب کی طرف سے کسی بچے پر تشدد، بلکہ ہلکی پھلکی سزا والی بھی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہے تو فورا ہی ہمارے دین بیزار طبقے کی اسلام و علماء کے خلاف بھو بھو شروع ہوجاتی ہے۔
خیر آج میرے مخاطَب یہ لوگ نہیں ہیں۔ ویسے بھی ایسے لوگوں کے بارے میں میری والدہ محترمہ فرماتی تھی
"گدھے کی گالی ہنس کے ٹالی"😁

میرے مخاطَب وہ مذہبی حضرات ہیں جنکے نزدیک لبرل باندروں کو فقط مولوی کی مار ہی اسلام سے دور رکھے ہوۓ ہے۔😯

میں گارنٹی سے کہتا ہوں کہ ان حضرات نے کبھی مدرسہ پڑھایا ہی نہیں
یا اگر پڑھایا ہے تو کسی امیر علاقے میں چند ممی ڈیڈی بچوں کو ٹیوشنز یا پھر اسکول کالج کے بچوں کو لیکچرز دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ اس طریقے سے ہر گدھے گھوڑے کو پڑھایا جا سکتا ہے۔😃

حضور والا۔۔۔۔!
کبھی کسی غریب علاقے میں آ کر باقاعدہ مدرسے کی کلاس پڑھا کر دیکھیں
ایک ہفتے میں بچے ڈپریشن کا مریض نہ بنا دیں تو کہۓ گا😬

قاری صاحب کے پاس دو گھنٹے میں چالیس بچے دے دۓ جاتے ہیں، جس میں اسے سبق سننا بھی ہے، سمجھانا بھی ہے، اخلاقی تربیت بھی کرنی ہے، نماز بھی سکھانی ہے، کلمے و دعائیں بھی یاد کروانی ہیں 😵
اور پھر سب سے بڑھ کر
قاری صاحب اس نے مجھے مار دیا،
قاری صاحب یہ میرے ابو کا نام بگاڑ رہا ہے،
قاری صاحب یہ مجھے کالا بول رہا ہے،
قاری صاحب اس نے میرا سپارہ چھپا دیا،
قاری صاحب پانی پینے جائیں،
قاری صاحب واشروم جائیں،
قاری صاحب وہ چیز کھا رہا ہے
اور اس جیسی ہزاروں باتیں جنہیں اساتذہ کو حل کرنا ہوتا ہے۔😷

پھر انتظامیہ اور والدین کی طرف سے دباؤ کہ بچے کو دو سال ہوگۓ مگر ابھی تک قرآن ختم نہیں ہوا۔

چھٹیاں خود کروائیں گے، استاد سزا دے دے تو پھر شکایت کہ استاد مارتا ہے۔😒

اب اگر اس سب کو جھیلتے ہوۓ استاد تھوڑی بہت سزا ( پھر کہہ رہا ہوں غیر انسانی تشدد کی بات نہیں کر رہا) دے دے، چند اسکیل ہاتھ پر مار دے یا مرغا بنادے یا کان پکڑ وا دے۔
تو یہ بھی آپکو برداشت نہیں ہے؟؟؟
اس سے زیادہ تو امائیں ہی بچوں کوٹ دیتی ہیں گھروں پر
مگر استاد کا ہاتھ بھی لگانا حرام ٹھہرا؟؟؟؟😢

تو پھر نتیجہ بھی آپکے سامنے ہے۔
جب تک والدین اساتذہ سے کہتے تھے " گوشت آپکا ہڈیاں ہماری" تب تک بچے بھی اساتذہ کا ادب کرنے والے ہوتے تھے۔☺
اور جب سے یہ سیریلیک والی بریڈ آئ ہے تب سے آۓ دن اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی حتی کے اساتذہ کو مار پیٹ کرنے کی ویڈیوز بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔😢

آپ دیکھ لیں
کیا ضرورت سے زیادہ نرمی کی وجہ سے نئ نسل بدتمیز نہیں ہوتی جا رہی؟؟؟؟؟
خود غور فرمائیں☺

فتدبر

#اســــــدقــــادری

05/05/2026

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب حسب معمول درس حدیث کیلئے دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی آرھا تھا کہ راستے میں سفاک قاتلوں نے شہید کردیا اللہ تعالیٰ شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام آور پسماندگان خصوصا مذھبی طبقے کو صبر جمیل عطا فرمائیں

*مدرسہ حدیقتہ العلوم کے ناظم مقرر ہونے پر مبارکباد* الحمدللہ ثم الحمدللہ!حضرت مولانا مفتی ہارون الرشید بنوری  صاحب دامت ...
30/04/2026

*مدرسہ حدیقتہ العلوم کے ناظم مقرر ہونے پر مبارکباد*

الحمدللہ ثم الحمدللہ!

حضرت مولانا مفتی ہارون الرشید بنوری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو *مدرسہ حدیقتہ العلوم باجا* کے ناظم تعلیمات مقرر ہونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

آپ کی علمی بصیرت، تقویٰ، اور انتظامی صلاحیتیں یقیناً مدرسہ کے لیے سرمایہ افتخار ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کی سربراہی میں مدرسہ حدیقتہ العلوم علم و عمل کا گہوارہ بنے، طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت میں نئی بلندیوں کو چھوئے، اور اسلاف کے مشن کو آگے بڑھائے۔

اللہ رب العزت آپ کو استقامت، حکمت اور اخلاص کے ساتھ اس عظیم ذمہ داری کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ کا وجود ہمارے لیے سایہ رحمت ہے۔

*منجانب: تمام محبین و متعلقین*

بارک اللہ فی علمکم وعملکم و عمرکم
آمین یا رب العالمین

---
منجانب اراکین شورٰی معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی
مفتی ہارون الرشید بنوری آفیشل گروپ

08/04/2026

خطے میں جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کامیابی پورے عالم اسلام کے لیے اعزاز ہے۔

متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ


21/02/2026

#ہفتہ وار #درس حدیث 2 #رمضان٢٠٢٦
معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی
موضوع #صبر و #ہمدردی
مفتی ہارون الرشید بنوری

ہمیں اپنے اکابر پر مکمل اعتماد ہے۔۔۔وفاق المدارس کا پرچہ لیک کرنے والے نیٹ ورک کے بارے میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان ...
24/01/2026

ہمیں اپنے اکابر پر مکمل اعتماد ہے۔۔۔

وفاق المدارس کا پرچہ لیک کرنے والے نیٹ ورک کے بارے میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ہنگامی اجلاس میں اہم فیصلے

جمعہ صرف "آدھی چھٹی" نہیں، بلکہ "تربیت اور انسانیت" کا دن ہے! 🌙✨اسلامی معاشرے اور خاص طور پر پاکستان کے تعلیمی اداروں کے...
17/01/2026

جمعہ صرف "آدھی چھٹی" نہیں، بلکہ "تربیت اور انسانیت" کا دن ہے! 🌙✨
اسلامی معاشرے اور خاص طور پر پاکستان کے تعلیمی اداروں کے پالیسی سازوں، پرنسپلز اور اساتذہ کے نام ایک اہم پیغام!

ہم سب جانتے ہیں کہ عالمی نظام کے تحت اتوار کو ہفتہ وار چھٹی ہوتی ہے، لیکن ہم یہ بھولتے جا رہے ہیں کہ "سید الایام" (دنوں کا سردار) تو جمعہ ہے۔ وہ دن جس کی نسبت براہِ راست اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ہے۔ کیا ہم نے اپنے بچوں کے لیے اسے صرف ایک "جلدی چھٹی والے دن" تک محدود کر دیا ہے؟
آئیے! جمعہ کو ایک نئی روح دیں اور اسے اپنے سکولوں میں "یومِ تربیت و انسانیت" کے طور پر منائیں۔ میری تمام تعلیمی اداروں سے چند عملی گزارشات ہیں:

1. لباس کی تبدیلی (فری ڈریس کوڈ): 👕
جمعہ کے دن بچوں کو سکول یونیفارم کی قید سے آزاد کریں۔ انہیں کہو کہ وہ صاف ستھرا اسلامی یا روایتی لباس (شلوار قمیض) پہن کر آئیں، تاکہ انہیں بچپن سے ہی اس دن کی خاص نسبت اور پروٹوکول کا احساس ہو۔

2. اسمبلی میں خصوصی اہتمام: 🎤
عام اسمبلی کے بجائے جمعہ کی اسمبلی کو "محفلِ درود و سلام" اور "نعتِ رسولِ مقبول ﷺ" کے لیے وقف کریں۔ بچوں کے درمیان درودِ پاک پڑھنے کے مقابلے کروائیں تاکہ ان کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع روشن ہو۔

3. انسانیت اور ہمدردی کا سبق (Humanity Day): 🤝
اسلام سراسر انسانیت کا دین ہے۔ ہر جمعہ کو ایک "انسانیت ایکٹیویٹی" رکھیں۔ بچے گھر سے کوئی اضافی لنچ یا پھل لائیں اور آپس میں بانٹ کر کھائیں یا کسی ضرورت مند کی مدد کریں۔ اس سے ان میں "احساسِ ہمدردی" پیدا ہوگا۔
4. سنتوں کی عملی مشق: 📖
بچوں کو جمعہ کے آداب سکھائیں: غسل کرنا، خوشبو لگانا، ناخن کاٹنا اور سورۃ الکہف کی تلاوت کی اہمیت۔ یہ باتیں صرف کتابوں تک نہ رہیں، بلکہ سکول میں ان کا عملی تذکرہ ہو۔

5. ہر جمعہ، ایک نیا عنوان (Theme-based Friday): 🏷️
ہم پورے سال کے ہر جمعہ کو ایک خاص نام دے سکتے ہیں، مثلاً:
سلام کا جمعہ: (اس دن ہر ایک کو سلام کرنے کی خاص مہم)
اخلاق کا جمعہ: (اچھے اخلاق اور گفتگو پر بات چیت)
صفائی کا جمعہ: (اپنے اردگرد کو صاف رکھنے کی عملی تربیت)
والدین کا جمعہ: (والدین کی خدمت اور ادب کا سبق)
میرا مقصد صرف "واہ واہ" سمیٹنا نہیں، بلکہ ایک نظریہ پیش کرنا ہے۔ اگر ہم آج اپنے بچوں کو جمعہ کا پروٹوکول سکھائیں گے، تو کل ربِ کائنات ہمیں دنیا اور آخرت میں پروٹوکول عطا فرمائے گا۔
تعلیمی اداروں کے سربراہان سے اپیل: اس جمعہ سے اپنے سکول میں کوئی ایک چھوٹی سی تبدیلی ضرور لائیں۔ اسے ایک تحریک بنائیں تاکہ ہمارے بچے بڑے ہو کر صرف ڈگریاں لینے والے روبوٹ نہ بنیں، بلکہ ایک سچے مسلمان اور بہترین انسان بنیں۔
آئیے اس پیغام کو ہر اسکول، ہر ٹیچر اور ہر والدین تک پہنچائیں! 🔄

اہم اطلاع احباب نوٹ فرمالیں شعبہ نشر و اشاعت معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی
15/01/2026

اہم اطلاع
احباب نوٹ فرمالیں
شعبہ نشر و اشاعت
معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی

سوشل میڈیا: فائدہ بھی، فتنہ بھی — فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہےسوشل میڈیا اس دور کا ایک طاقتور ذریعہ ہے، جو اگر بے شعوری کے سا...
09/01/2026

سوشل میڈیا: فائدہ بھی، فتنہ بھی — فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے

سوشل میڈیا اس دور کا ایک طاقتور ذریعہ ہے، جو اگر بے شعوری کے ساتھ استعمال ہو تو فتنہ بن جاتا ہے، اور اگر نیت، مقصد اور حدود کے ساتھ استعمال ہو تو یہی ذریعہ خیر، اصلاح اور بیداری کا سبب بنتا ہے۔ آج سوشل میڈیا کے ذریعے دین کی بات، تعلیمی شعور، اخلاقی پیغام اور حق کی آواز 24 گھنٹے دنیا تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ یہ نہ صرف اچھے کاموں کی حمایت کا ذریعہ ہے بلکہ باطل، فتنوں اور منفی رجحانات کو پہچاننے میں بھی مدد دیتا ہے، جس سے دوست اور دشمن کی تمیز آسان ہو جاتی ہے۔

یہ کہنا درست ہو سکتا ہے کہ سوشل میڈیا ایک جدید ایجاد ہے، مگر اصل سوال ایجاد کا نہیں بلکہ استعمال کا ہے۔ اگر کوئی ذریعہ دین، علم اور معاشرے کی اصلاح کے لیے فائدہ مند ہو تو اس سے حکمت کے ساتھ فائدہ اٹھانا دانائی ہے۔ البتہ یہی ذریعہ جب بے مقصد اسکرولنگ، فحاشی، وقت کے ضیاع اور اخلاقی کمزوری کا سبب بنے تو یہی نعمت زحمت بن جاتی ہے۔

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو اپنے قابو میں رکھیں، وقت کی حد مقرر کریں، غیر ضروری اور نقصان دہ مواد سے بچیں، اور صرف وہی چیز دیکھیں، سنیں اور پھیلائیں جو ہمارے دین، کردار اور مستقبل کے لیے مفید ہو۔ سوشل میڈیا کو استعمال کریں، مگر اس کے غلام نہ بنیں — یہی توازن ہمیں فتنوں سے بچا کر فائدے کی طرف لے جاتا ہے۔









منقول

جامعہ بیت السلام ، بدلتے رجحانات کا باد نما ان دنوں تلہ گنگ میں ہوں. کل مانسہرہ کے ایک عزیز اور کشمیر کے ایک دوست کے سات...
08/01/2026

جامعہ بیت السلام ، بدلتے رجحانات کا باد نما

ان دنوں تلہ گنگ میں ہوں. کل مانسہرہ کے ایک عزیز اور کشمیر کے ایک دوست کے ساتھ جامعہ بیت السلام جانا ہوا...... ہمارے علاقے میں واقع ہے، سو آنا جانا لگا رہتا ہے........ او لیول اور اے لیول کے داخلے کے سلسلے میں ٹیسٹ ہو رہے تھے. وہاں پہنچ کر دیکھا تو دور دور تک کاروں کی طویل قطاریں تھیں. گلگت بلتستان، کشمیر، قبائلی علاقے، شمالی اور مغربی کے پی کے اور پنجاب کے کونے کونے سے لوگ آئے تھے.

آج سے تقریباً دو دہائی قبل عوام میں معروف تھا کہ مدارس میں غریب اور نادار لوگ جاتے ہیں، مگر اب ہر طبقے اور ہر درجے کے لوگ مدارس کا رخ کر رہے ہیں. بیت السلام میں کراچی کے ڈیفنس، لاہور کے بحریہ ٹاؤن اور اسلام آباد کے پوش علاقوں کے جگر پارے بھی دکھائی دیں گے اور نعمتِ غربت سے مالامال گھرانوں کے نور ہائے نظر بھی دولتِ علم سمیٹ رہے ہوں گے.

بیت السلام کو سامنے رکھتے ہوئے چند نکات پیشِ خدمت ہیں.

الف : مدارس اگر حسنِ انتظام اور اعلیٰ تعلیمی معیار کو اپنا نصب العین بنائیں تو عوام دولت و ڈونیشن کی برسات کرنے سے نہیں ہچکچاتے
بیت السلام نے محض دس بارہ سالوں میں پنجاب، کے پی کے، گلگت بلتستان اور کشمیر کے لوگوں کی توجہ کے دھارے کو پوری طرح اپنی جانب موڑ دیا ہے. تلہ گنگ شہر سے سولہ کلومیٹر دور ایک چھوٹے سے گاؤں میں واقع ایک مدرسہ اس وقت شمعِ انجمن بنا ہوا ہے اور خلقِ خدا پروانہ بنی لپکتی اور طوف نبھاتی ہے.

جامعہ میں عربی کو تدریسی زبان بنانا کراچی سے باہر ایک منفرد تجربہ ہے، جس میں بیت السلام سو فیصد کامیاب ہے. وفاق المدارس کے امتحانات میں دامن بھر بھر کر پوزیشنیں لینی ہوں ، ٹیکسلا انجینئرنگ یونیورسٹی سمیت صفِ اول کے عصری اداروں کے سائنسی مقابلے ہوں، یہ مکتب ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے گاڑتا چلا آ رہا ہے. ایک جگہ دیکھا، انگنت ٹرافیاں سجی ہوئی تھیں. پتہ چلا کہ یہ ٹرافیاں یہاں کے ہونہار طلباء نے بہترین اداروں کے مقابلے جیت کر حاصل کر رکھی ہیں.

ب : ایک مثالی مدرسہ محض ا ب ت یا ضرب یضرب نہیں سکھاتا، بلکہ اس کی نظر اپنے علاقے کی ترجیحات پہ بھی ہوتی ہے. چکوال اور تلہ گنگ کا یہ اعزاز ہے کہ ملک کے دیگر اضلاع کی بہ نسبت یہاں سے افواجِ پاکستان کو زیادہ افرادی قوت فراہم ہوتی ہے، چنانچہ بیت السلام نے تلہ گنگ شہر میں کیڈٹ سکول اور کالج کی داغ بیل ڈال دی ہے. آثار بتاتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں یہ علاقے کا نمائندہ ترین تعلیمی ادارہ ہوگا.

ج : اگر ملک و ملت کی خدمت کا جذبہ ہو تو پوشیدہ انداز میں کیا جانے والا کام بھی سورج کی طرح چمک کر اپنے ہونے کا ثبوت دیتا ہے. بیت السلام اور اس کے بانی میڈیا پہ تشہیر سے زیادہ سرِ میدان محنت پہ یقین رکھتے ہیں. چنانچہ بیت السلام مالیاتی مضبوطی کے لحاظ سے اس وقت تمام مدارس میں سرِ فہرست ہے.

د : مجمع اور وفاق کے وابستگان کی باہمی شکر رنجی میں جامعۃ الرشید کے کچھ نوجوان ثنا خوان بر سبیلِ گفتگو کہہ دیا کرتے ہیں کہ " یہ سب" حسد کی وجہ سے کیا جارہا ہے. سچ یہ ہے کہ یہ بات حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے. اگرچہ جامعۃ الرشید بڑی سطح کا بڑا کھلاڑی ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بیت السلام نے اس کا خلا بہت عمدگی سے پُر کیا ہے. بلکہ قرینِ انصاف بات یہ ہے کہ کچھ جہات سے جامعہ بیت السلام نے جامعۃ الرشید سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی ہے. بہرحال دونوں ادارے ہمیں محبوب ہیں. رب کریم دونوں کو چمکتا رکھے.

ہ : کے پی کے، کشمیر اور پنجاب کے دیگر شہروں کے مدارس کو سوچنا اور سمجھنا چاہیے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ان کے علاقے کے لوگ انہیں چھوڑ کر ایک دور دراز علاقے میں موجود ادارے کو ترجیح دے رہے ہیں.

و : پاکستان میں مذہب پسند اور لبرل طبقے دونوں پریشان رہنے لگے ہیں. اہلِ مذہب کو لگتا ہے کہ عوام تیزی سے دین سے دور ہو رہے ہیں، جبکہ لبرل طبقات معاشرے میں پنپتی مذہب سے محبت کو دیکھ دیکھ کر کڑھتے رہتے ہیں. چیلنجز دونوں کے لئے ہیں، مگر بہ نظرِ غائر دیکھا جائے تو اہلِ مذہب بہتر پوزیشن میں ہیں. آج سے بیس پچیس برس قبل مساجد میں چند سال خوردہ بوڑھے نظر آیا کرتے تھے، اب نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی خانہء خدا کا رخ کرتی ہے. تب خال خال چہرے ایسے ہوتے تھے، جو داڑھی سے مزین ہوتے تھے، اب باریش نوجوان بکثرت دکھائی دیتے ہیں. پہلے عبائیں اور حجاب اتنے مقبول نہ تھے، اب خواتین کی بڑی تعداد پردے کا اہتمام کرتی ہے. تب مدارس کی جانب لوگوں کی توجہ کم تھی، اب مدرسے نے اپنی حیثیت منوا لی ہے.
۔
#نوازـکمال
#بیت #السلام

Address

Topi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share