Areeba Afzal : Novelist

Areeba Afzal : Novelist ASSALAMUALAIKUM How are you � this is my new page please support me and follow my page �

03/09/2023

" تم مجھے برباد کرو گی یمن وحید ۔۔۔۔!! تم جازب کمال کو شیطان بناؤ گی "۔۔۔۔۔!!

وہ قہقہہ لگاتے دیوار پر رکھے اپنے ہاتھ پر دباؤ ڈالتا اس سے دور ہوا وہ پیچھے کو ہوتے ہی لڑکھڑا گیا تھا اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی عجیب سا نشہ طاری تھا اس میں۔۔۔۔۔!! ایک آگ کا سماں تھا جیسے ۔۔۔۔!!
اس کے بے ڈھنگے قہقہے پر یمن وحید نے سر اٹھا کر اسے دیکھا کان پر جلن بے ساختہ بڑھ گئی وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کی کالی چمکتی آنکھوں میں اب درندگی نا تھی ۔۔۔۔۔۔!

💕
.... 💕

So over possesive's Love story start 😈🖤🔥🎯 episode 40 post on Monday 1:45 pm .... 💞

Click the name " Dia Zahra Novels" and follow her page

Dia ZahDia Zahra Novels NDia Zahra Novels Dia Zahra Novels

  💥💥💕💕"میں ی۔یہ بہودہ لباس پہن کر ہرگز نہیں جاؤں گی کہی"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!   اس کی گرم سانسوں کی تپش اور نظروں کی حرارت سے اس ...
01/09/2023

💥💥💕💕

"میں ی۔یہ بہودہ لباس پہن کر ہرگز نہیں جاؤں گی کہی"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
اس کی گرم سانسوں کی تپش اور نظروں کی حرارت سے اس کا دل ہتھیلیوں میں دھڑکا وہ تیزی سے بولتی پیچھے کو قدم لیتی پلٹ گئی اس شخص کے ماتھے پر یکدم ہی بل پڑ گے چمکتی آنکھوں کی چمک ماند پڑ گئی ۔۔۔۔۔۔۔

"کیوں نہیں پہنو گی "۔۔۔۔۔؟؟
تیزی سے قدم اس کی جانب بڑھاتے اس نے پیچھے سے اس کی کہنی پکڑتے جھٹکے سے اسے اپنی جانب موڑتے ڈریسنگ مرر کے ساتھ لگاتے درشت لفظوں میں کہا اور اس کی جانب جھکا ۔۔۔۔

" تم پہنو گی اور میرے ساتھ جاؤ گی شوہر ہوں تمھارا بات ماننا فرض ہے تم پر "۔۔۔۔۔!
قدم مزید آگے لیتے اس نے قدم بلکل اس کے قدموں کے ساتھ جوڑے وہ اس کی جانب مزید جھک گیا ایک گہری سانس اس کے چہرے پر چھوڑی اور دھیرے سے مسکرایا ۔۔۔۔۔

وہ آنکھیں میچ گئی زور سے ۔۔۔۔! اس کے جسم سے اٹھتی دلفریب خوشبو حواسوں پر سوار ہوتی پاگل کرنے کو کافی تھی ۔۔۔۔!!

"وہاں کوئی میرا محرم نہیں ہو گا "۔۔۔۔۔!
وہ آنکھیں میچے ہی بولی اُس شخص کی نظریں اس کے ہلتے لبوں پر جمی تھی چہرے پر سختی منٹوں میں زائل ہوئی اب وہاں ایک طلسم زدہ چمک تھی جذبات کے ساغر میں لپٹی چمک ۔۔۔۔۔

" ایسا کیا ۔۔۔۔؟! میں کون ہوں "۔۔۔۔؟؟
اس نے نچلے لب پر زبان پھیری اور آئی آبرو اچکاتے ایک ہاتھ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا جبکہ دوسرا ہاتھ اٹھاتے اس کی بند بھاری لرزتی پلکوں پر دھیرے سے پھیرا اور گہرا سانس بھرا ۔۔۔۔۔۔۔۔

" ا۔ آپ محرم ہے "۔۔۔۔۔!
وہ سانس روک گئی اس کی سرد انگلیوں کا سرد سا لمس جان نکال رہا تھا سانسوں کو سینے میں اٹکا رہا تھا وہ دھیرے سے جھکا اس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی ۔۔۔۔

" جلاد کالا تِل کالا جادو کرتا ہے "۔۔۔۔۔۔۔
اس کا ہاتھ اُس کی لرزتی پلکوں سے ہٹتے لبوں کے کنارے بنے تل پر گیا ۔۔۔۔! اس نے شہد رنگ چمکتی نظریں اس تل پر ٹکاتے اسے دھیرے سے سہلایا تو وہ لڑکی گہرا سانس بھر گئی اس کی باتیں عجیب تھی ۔۔۔۔۔

" تم خوبصورت ہو ۔۔۔۔! تمھاری خوبصورت کو نظرِ بد سے بچانے کو یہ جلاد سالا کمبخت تل کڑے پہرے ڈالے بیٹھا ہے "

اس نے گھمبیر لہجے میں کہا اس کی نظریں اس کے چہرے پر سے ہوتی اس کے کالے تل پر جمی وہ بری طرح بے چین ہوا تھا ۔۔۔۔۔!

" اس بار میں کیوں گئی تھی ۔۔۔؟
اس نے اِس کے تل پر انگلی سے دباؤ ڈالا ایک درد کی لہر اس کے جسم میں اٹھی وہ لب بھینچ گئی آنکھیں بے ساختہ کھول کر اسے دیکھا جس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔

"ا۔ آپ کو کیا کرنا ہے م۔مار دے گے کیا انہیں "۔۔۔۔؟
اپنے لبوں کے کنارے اس کی انگلی کے بڑھتے دباؤ پر وہ سسک کر اٹکتے لفظوں میں بولی اس نے اس شخص کے سلکی بکھرے بال دیکھے ۔۔۔۔۔

"مار دیا "۔۔۔۔۔!!
اس نے انگلی اس کے لبوں پر جماتے اس کا لب سہلاتے عجیب سے لہجے میں آنکھیں اس کی سبز آنکھوں میں گاڑھتے تیز لہجے میں کہتے اس لڑکی کے لفظوں کی توصیح کی۔۔۔۔

اس کی بات اور لہجے کی پر اسراریت پر وہ ساکت سی اسے دیکھتی رہی جب اس نے آئی برو آچکایا ۔۔۔۔۔

" مجھے اپنی نا پسندیدہ چیزوں کو بانٹنا بھی پسند نہیں ہرگز پسند نہیں ۔۔۔۔۔!! سو برباد ، خلاص "۔۔۔۔۔

اس نے ہاتھ ڈریسنگ مرر سے اٹھاتے ہوا میں اوپر اٹھاتے پانچوں انگلیاں ساتھ ملاتے واپس کھولیں ۔۔۔۔! پر جوشی سے جیسے تباہ و برباد کا سائن ہو ۔۔۔۔۔۔۔!!

اس کی بات پر فجر رضوان کا سانس بند ہو گیا وہ اس کی اس قدر سفاکیت پر لرز کر رہ گئی ۔۔۔۔۔۔

" اب بتاؤ کیوں گئی تھی بار "۔۔۔۔؟
وہ واپس اسی بات پر آ گیا اس کے لہجے میں سنجیدگی کے ساتھ سرد پن تھا اور اس کی سنجیدگی ہمیشہ خطرناک ہوتی تھی ۔۔۔۔۔!

"م۔میں نہیں جانتی "۔۔۔۔۔!!
وہ ڈر گئی تھی اسے ڈرنا چاہیے تھا وہ اسے سفاکیت سے دیکھ رہا تھا بلکل پاس جھکے۔۔۔۔۔۔!! گردن جھکائے اس کی سبز آنکھوں میں وحشی پن سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔!! اسے ڈرنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔۔۔

" مجھے جواب پسند نہیں آیا میں معلوم کر لوں گا ۔۔۔۔!! اور تب ۔۔۔۔!! تب میں ایک ایک کو کاٹ ڈالوں گا "
" اور اگر اس میں ذرا رتی برابر بھی تمھاری غلطی ہوئی فجر رضوان یاد رکھنا میں تمھیں بھی موت دوں گا ۔۔۔۔! اپنے انہی ہاتھوں سے دوں گا "۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ایک ایک لفظ کو درشتگی سے ادا کیا لفظوں پر دباؤ دیتے اس نے اس کی تھوڑی ہاتھ سے پکڑتے اوپر اٹھائی اور اس کے اٹھے چہرے پر پھنکارا ۔۔۔۔۔۔

" محرم سے موت تو وصول کر لو گی نا "۔۔۔۔۔۔؟
اس کی آنکھوں میں آگ سی بھری تھی اور لفظوں میں گہری کاٹ وہ لب بھینچ گئی اسے لگا وہ یہی گر جائے گی۔۔۔۔! اس کا لہجہ آگ لگاتا تھا ۔۔۔۔

" نا محرم ہونے پر تم نے مجھے تین تھپڑ مارے تھے فجر رضوان ۔۔۔۔۔!! اگر مجھے پتہ چلا کہ تم وہاں خود کی وجہ سے تھی تو بخدا محرم ہونے پر اب تم میری سزا کی حق دار بنو گی"۔۔۔۔۔۔!!

اس نے جھٹکے سے اس کی تھوڑی چھوڑی اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی جبکہ لفظوں میں نجانے کس قدر وحشی سے جذبات تھے کہ وہ اس سے خوف کھا گئی تھی ۔۔۔۔۔

" یاد رکھنا کایان سکندر حساب بے باک کرنے میں مشہور ہے"۔۔۔۔۔۔!!

اس نے سخت لہجے میں کہا اور سلگتا لمس جھک کر اس کے جلاد تل پر چھوڑا وہ وہی ساکت ہو گئی وہ کئی پل مسمرائز ہوا تھا وہ دھیرے سے اٹھا اور گہری مسکراہٹ سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔!!

جو نظریں جھکائے کھڑی تھی اس کی ٹانگیں بری طرح کانپ اٹھی تھی دل کانوں میں دھڑک رہا تھا وہ اس سے خوف زدہ ہو گئی تھی اس کی باتوں سے ۔۔۔۔۔! وہ ایسی باتیں کیوں کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔!!

چار سال پہلے کا واقعہ وہ آج تک کیوں یاد رکھے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔؟ کیا اس نے واقعی میں ان لوگوں کو مار دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟

💕💕💕💕

Novel name : Mr Possesive's love by Dia Zahra

ناول پڑھنے کے لیے پیج وزٹ کرے ❤️

https://www.facebook.com/profile.php?id=100089573474614&mibextid=2JQ9ohttps://www.facebook.com/profile.php?id=100089573474614&mibextid=2JQ9oc



https://www.facebook.com/profile.php?id=100089573474614

Address

Toba Tek Singh
Toba Tek Singh
36070

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Areeba Afzal : Novelist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category