02/05/2023
*خدا کی نافرمان قومیں ترقی یافتہ اور پاکستان کی مسلمان سیاست دانوں کیلیے لڑنے مرنے اور بحث و مباحثے کرنے والی قوم محرومیوں کا شکار کیوں۔۔۔۔؟؟؟۔۔*
آئیے اپنا محاسبہ بطورِ قوم کریں۔
سب سے پہلے ایک بات اور ایک اصول ہمیشہ یاد رکھیں کہ قدرت نے قدرتی اصول سب کیلیے یکساں رکھیں ہیں۔۔ان اصولوں پر عمل کرنے سے مسلمان ہو یا کافر سب کو فائدہ ملے گا۔۔۔جیسا کہ سمندر میں چھلانگ لگانے والا ڈوب جائے گا۔۔لیکن بچے گا وہ جسے تیرنا آتا ہو گا۔۔۔
بلکل اسی طرح کوئی بھی سیاست دان خواہ وہ کتنا ہی بہترین مقرر کیوں نا ہو۔۔جب تک وہ حکمت عملی اور عمل کے خالی خیالی باتیں بنائے گا تو نا صرف وہ خود بلکہ پوری قوم کو کمزور لاغر اور باتونی بنا دے گا اور اپنی قوم کو اور ملک کو تباہ کر دے گا۔جیسا کہ پاکستان میں آپ دیکھ رہے ہیں۔
آج پاکستانی حکمران پاکستانی قوم کے نفسیات کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس قوم کو کیسے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔۔مثال کے طور اگر *پپلز پارٹی نے دیکھا کہ بھوک مکان اور روٹی لوگوں کی بنیادی ضروریات ہیں* تو اس نے عوام کو اس کا لالچ دیا اور دہائیوں سے سندھ پر حکومت کی۔لیکن کبھی کسی جیالے نے ان سے یہ نہیں کہا کہ وعدے کے مطابق مجھے ان بنیادی ضروریات سے محروم کیوں رکھا جا رہا ہے۔جبکہ اس پورے صوبے پر آپ براجمان ہیں۔۔یا مجھے یہ بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں یا پھر آپ سیاست سے بری الزمہ ہو جائیں اور جو اہل ہیں انہیں موقع دیں۔۔۔
ایسے ہی نواز شریف نے دیکھا کہ یہ قوم مادیت پرستی میں ثانی نہیں رکھتی لہزا اس کی جہالت کو پورا پورا فائدہ اٹھایا جائے۔۔موصوف نے پے در پے قرضے اٹھائے اور صرف سڑکیں اور پل بنانے پر توجہ دی۔۔اس قوم کے غریبوں کیلیے کوئی بہترین روزگار کے مواقع فراہم نا کیے ۔آپ بغور جائزہ لیں یا پھر دیہاتوں کا وزٹ کریں تو نواز شریف کے دور میں بننے والی تمام سڑکیں در حقیقت اس کے MNA سے لیکر مقامی پٹواری کے گھر یا ڈیرے کے نزدیک سے گزرتی ہی محسوس ہو گی۔۔۔۔ملک سے اقتدار کیلیے کھلواڑ کرتے کرتے اور قرضوں کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے ملکی مالی حالات خراب ہونے لگے۔۔۔دہائیوں سے سیات دانوں کا دفاع کرتی قوم اپنے کیے کا پھل اب اٹھانے والی تھی۔مہنگائی اور بے روزگاری کا جن بوتل سے باہر آیا اور اس قوم کو اس کی نالائیقی کی سزا دینے شروع ہو گیا
ایسے ہی عمران خاں نے جو 22 سال سے مختلف سیاسی جماعتوں سے اتحاد کرتا اور مخالفین کو چور ڈاکو کہتا تھا وہ بھی اب سمجھ گیا کہ عوام کا نوجوان طبقہ نا صرف بے روزگار ہو چکا ہے۔ بلکہ اس کی فکر بھی مر چکی یے اور معاشرہ بے حیائی کی طرف گامزن ہو چکا ہے۔اگر ایک بار قوم جس کو لیڈر مان لے تو اس کی اندھی تقلید شروع کر دیتی یے دین و دنیا میں بھی اس کی کہی بات تسلیم کرنے لگتی کے ۔مزید قوم سست ہو چکی ہے اور فقط باتیں بنا کر دل بہلا سکتی اور عمل سے شدید عاری یے اور صرف میڈیا ہی سے علم معلوم کرتی یے اور تحقیق سے کوسوں دور ہے اسلام کو فقط ٹچ کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے اور اپنی مرضی کی زندگی گزارنا چاہتی ہے ۔۔عمراں خاں نے قوم کی اس بے عملی اور فکری یتیمی کا بھر پور فائدہ اٹھایا اور 22 سال اے جن کو چور اور ڈاکو کہہ رہا تھا ۔۔ان کو ساتھ ملایا اور حکومت کھڑی کر لی اور قوم کی نفسیات کے مطابق آیت سے خطاب شروع کر کے اسلامی ٹچ دیا جاتا اور پھر گانے باجے اور خواتین کے ذریعے قوم کی بگڑی ہوئی ذینیت کو تسکین دی جاتی۔۔۔۔عمران خاں نے بھی قرضے لینے میں کوئی کنجوسی نا کی۔ اس نے چار سال فقط تقریروں سے قوم کا پیٹ بھرا اور وہ جانتا تھا کہ یہ قوم اپنے حقوق مانگنے کے بجائے فقط اپنے سیاسی آقاؤں کے دفاع میں پوری زندگی سرف کر سکتی ہے۔۔۔لہزا جو جی میں آئے کیجیے جتنے مرضی یوٹرن لیجیے ۔۔۔۔اور فقط ایک تقریر کر کے قوم کو مطمئن کر لیجیے ۔۔
بھائیوں یہی کھیل اب نئے سرے سے دوبارہ شروع ہونے والا ہے ۔لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اس سب سے کیسے بچا جائے اور بطورِ قوم ہم خود کو ترقی یافتہ ملک کیسے بنائیں؟؟؟۔۔آئیے اب حل کی طرف
سب سے ہہلے ہمیں یہ طے کرنا ہو گا کہ ہمارے آئیڈیل کون ہیں؟؟۔۔۔ان کے نظریات کیا ہیں؟؟۔۔۔۔جن لوگوں نے پاکستان بنایا کیا ان کے نظریات اور ہمارے سیاست دانوں کے نظریات ایک ہیں؟؟ ۔۔۔اگر ایسا نہیں ہے تو جان جائیے کہ آپ کا سیاسی لیڈر فقط اقتدار اور کرسی کی نفسیاتی ہوس میں زندہ یے ۔۔ بھائیوں خدا کیلیے اپنی آنکھوں سے اندھی عقیدت کی پٹی اتاریے وگرنہ ہھر ہمیں بھی شام عراق بنتے دیر نہیں لگنی اور ہماری نسلیں اغیار کی غلام ہو جائیں گیں۔
دوسرا یہ دیکھیے کہ آپ کا لیڈر جب بھی آپ کو احتجاج کی کال دیتا ہے تو اس میں مفاد کس کا چھپا ہوتا یے؟؟۔۔۔ہمارے ملک میں ہر حکمران نے فقط کرسی اور اقتدار سے اتارے جانے پر احتجاج کی دھمکیاں دیں یا پھر الیکشن الیکشن کا شور ڈالا تا کہ پھر سے کرسی پر بیٹھ کر قوم کو خون چوسا جائے۔۔۔۔لیکن مجال ہے کوئی عوام یا اسلام کیلیے کوئی لبرل سیاسی جماعت کا لیڈر سڑکوں پر آئے۔۔۔۔*یہ لوگ آٹا چینی اور پیٹرول کیلیے کبھی باہر نہیں نکلیں گے جو کہ عوام کا بنیادی حق ہے*۔۔۔۔صرف اپنے حق کیلیے عوام کو باہر نکالتے ہیں۔اور عوام پاگلوں کی طرح ان کے پیچھے بھاگ نکلتی ہے۔۔۔۔
*اب حالیہ دنوں ایک معروف اسلامی سیاسی جماعت کی طرف سے 11 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان سننے میں آیا ہے ۔جس کا مطالبہ ہے 11 مئی سے قبل پیٹرول کی سابقہ قیمتیں بحال نا کی گئیں تو دما دم مست قلندر ہو گا۔۔۔۔۔اس پر دیگر سیاسی جماعتیں بوکھلاہت کا شکار ہیں جو قوم کو ان کے حق کے بجائے صرف اپنے اقتدار کیلیے نکلنے پر مجبور کر رہی ہیں۔۔۔ایسے میں اس قوم کے پاس ایک سنہری موقع ہے کہ سب کا بائیکاٹ کر کے اپنے حق اور اپنی بنیادی ضرورت کیلیے ایک بار میدان لگا کر دیکھیے۔۔ حکومتوں کے گلے میں ہاتھ ڈال کر اپنا حق وصول کرے۔۔۔۔یقین جابیے جس قوم کا اپنا حق وصول کرنا آتا ہو۔۔۔۔۔وہ اکیلی بھی کھڑی ہو جائے تو نیٹو سے لیکر امریکہ یورپ کو بھی ناکوں چنے چبوا دیتی ہے۔۔۔۔۔افغانستان کی مثال دیکھیے۔۔۔جو دنوں میں ترقی کر چکا۔۔۔ان کا ایک روپیہ آپ کے تین روپے کے برابر ہو گیا۔۔۔۔خدارا جاگ جاؤ ۔۔۔سیاسی آلہ کاروں کے بجائے اپنے حق کیلیے نکلو۔۔۔۔۔۔وگرنہ اسی طرح ذلیل ہوتے رہو گے اور ہماری نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گیں*