Govt Boys Primary School 405/gb Kamyana Tandlianwala

Govt Boys Primary School 405/gb Kamyana Tandlianwala Quality Education

20/11/2025
جب امریکہ نے ویت نامی انقلابیوں کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تو اس نے انہیں کہا کہ پیرس میں اپنا ایک وفد بھیجیں تاکہ جنگ...
22/09/2025

جب امریکہ نے ویت نامی انقلابیوں کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تو اس نے انہیں کہا کہ پیرس میں اپنا ایک وفد بھیجیں تاکہ جنگ بندی پر بات چیت ہوسکے۔ اُس وقت ویت نامی سپاہی امریکی فوجیوں پر کاری ضربیں لگا چکے تھے اور ان کے ساتھ سخت سلوک بھی کیا تھا۔
چنانچہ ویت نامی انقلابیوں نے چار افراد پر مشتمل ایک وفد بھیجا—دو خواتین اور دو مرد۔ امریکی خفیہ اداروں نے اس وفد کے لیے پیرس کے اعلیٰ ترین ہوٹلوں میں قیام و طعام کا بندوبست کیا، ہر طرح کی آسائشیں، راحتیں اور نعمتیں مہیا کر دیں۔
لیکن جب وفد پیرس کے ہوائی اڈے پر اُترا تو وہاں موجود امریکی کاریں انہیں ہوٹل لے جانے کے لیے تیار کھڑی تھیں، مگر ویت نامی وفد نے ان میں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنی مرضی سے قیام کریں گے اور وقت پر اجلاس میں پہنچ جائیں گے۔
امریکی وفد کو یہ سن کر حیرت ہوئی۔ انہوں نے پوچھا: "آپ کہاں قیام کریں گے؟"
وفد کے سربراہ نے جواب دیا: "ہم پیرس کے ایک مضافاتی علاقے میں مقیم ایک ویت نامی طالب علم کے گھر میں رہیں گے۔"
امریکی نمائندہ مزید حیران ہوا اور کہا: "ہم نے تو آپ کے لیے ایک شاندار اور آرام دہ ہوٹل کا بندوبست کیا ہے۔"
اس پر ویت نامی نے کہا:
"ہم تو آپ سے لڑائی کے دوران پہاڑوں میں رہتے تھے، چٹانوں پر سوتے اور گھاس پھوس کھا کر گزارا کرتے تھے۔ اگر اب ہماری زندگی بدل گئی تو ڈرتے ہیں کہ کہیں ہمارے ضمیر بھی نہ بدل جائیں۔ اس لیے ہمیں ہماری حالت پر رہنے دیں۔"
چنانچہ وفد نے اس طالب علم کے گھر میں قیام کیا، اور بعد ازاں یہی مذاکرات امریکی قبضے کے مکمل خاتمے کا سبب بنے۔
جب دونوں وفود ہوائی اڈے پر ملاقات کے لیے آئے تو امریکی نمائندہ مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھا مگر ویت نامیوں نے ہاتھ بڑھانے سے انکار کر دیا اور ان کے سربراہ نے کہا:
"ہم اب بھی دشمن ہیں، ہمارے عوام نے ہمیں آپ سے مصافحہ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔
جو اپنا ضمیر بیچ دے، وہ اپنا وطن بھی بیچ دیتا ہے۔"
🥺 ایک دن جنرل "جیاب"—جو ویت نامی انقلابی رہنماؤں میں سے تھے—نے ستر کی دہائی میں ایک عربی دارالحکومت کا دورہ کیا، جہاں فلسطینی "انقلابی" تنظیمیں موجود تھیں۔
وہاں جا کر اُس نے دیکھا کہ ان کے قائدین پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں: جرمن گاڑیاں، کوبائی سگری، اطالوی مہنگے سوٹ، اور فرانسیسی قیمتی خوشبوئیں۔ جب اس نے یہ سب اپنی ویت کانگ کے جنگلوں کی زندگی سے موازنہ کیا تو بے ساختہ ان سے کہا: 😡
"آپ کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوگی!"

انہوں نے پوچھا: "کیوں؟"
جنرل جیاب نے جواب دیا:
"کیونکہ انقلاب اور دولت اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
وہ بغاوت جو شعور کے بغیر ہو دہشت گردی میں بدل جاتی ہے، اور وہ بغاوت جس پر مال و دولت برسائی جائے اس کے قائدین چور بن جاتے ہیں۔
اگر کوئی شخص انقلاب کا دعویٰ کرے مگر خود محلوں اور کوٹھیوں میں رہے، لذیذ کھانے کھائے، اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرے، جبکہ باقی عوام کیمپوں میں رہیں اور زندہ رہنے کے لیے بین الاقوامی امداد کے محتاج ہوں… تو سمجھ لو کہ وہ قیادت حقیقتاً انقلاب لانا ہی نہیں چاہتی۔
اور جس قیادت کو انقلاب کی کامیابی مطلوب ہی نہ ہو، اس کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔"

14/09/2025
وہ تاریخی "فن پارہ" جس نے ریل گاڑی میں واش روم بنوا دیے۔ ملاحظہ کیجیے۔ 🙃😬ریل مسافر اوکھیل چندر سین نے 1909 میں ریلوے آفی...
20/06/2025

وہ تاریخی "فن پارہ" جس نے ریل گاڑی میں واش روم بنوا دیے۔ ملاحظہ کیجیے۔ 🙃😬

ریل مسافر اوکھیل چندر سین نے 1909 میں ریلوے آفیسر کو شکایتی مراسلہ لکھا۔

جناب ڈویژنل ریلوے آفیسر!
"میں ریل پہ سفر کر رہا تھا۔ بسیار خوراکی کے سبب میرے پیٹ میں شدید مروڑ اٹھنے لگے۔ ریل احمد پور اسٹیشن پر رکی تو میں حاجت کے لیے اُتر گیا۔

ابھی حاجت روائی جاری تھی کہ گارڈ نے سیٹی بجا دی۔ سیٹی سن کر میں سٹپٹا گیا اور اس عالم میں دوڑ لگائی کہ ایک ہاتھ میں لوٹا اور دوسرے ہاتھ سے میں نے لنگوٹ پکڑا ہوا تھا۔
ریل کو جا لینے کی تگ و دو میں دھڑام سے گر پڑا۔

اسٹیشن پر موجود کیا خواتین اور کیا حضرات، سبھی نے میرے نظارے کیے۔ یوں دیکھتے دیکھتے، ہاتھ سے عزت بھی گئی اور ریل بھی گئی۔

محترم!
میرے اس ہمہ جہت نقصان کا ذمہ دار وہ ناہنجار گارڈ ہے جس نے بے وقت سیٹی بجائی۔
میری درخواست ہے کہ اس گارڈ پر تگڑا جرمانہ عائد کریں۔ اگر نہیں، تو پھر میں اخبارات کو واقعے سے متعلق خبریں دینے والا ہوں۔"

فضل الرحمٰن قاضی صاحب اپنی کتاب
"رودادِ ریل کی" میں لکھتے ہیں کہ اوکھیل کا یہ خط دہلی میں ریلوے کے عجائب گھر میں آج بھی محفوظ ہے۔
یہ وہ تاریخی خط ہے جس کے نتیجے میں انگریز سرکار نے ہندوستان میں پہلی بار ریل کے اندر واش روم کی سہولت شروع کرنے کا حکم جاری کیا۔

09/12/2024

میٹرک اور اولیول کی دوڑ کی حقیقت کو سمجھیں

والدین کی ایک بڑی تعداد کو میٹرک اور اولیول کا فرق نہیں معلوم۔ بہت سے والدین فخریہ کہتے ہیں ہمارا بچہ تو اولیول کر رہا ہے۔
آج کل اولیول فیشن بنتا جا رہا ہے، اسی لیے شہر میں ہزاروں ایسے سکول وجود میں آگئے ہیں جو اولیول کے نام پر معصوم والدین کو لوٹ رہے ہیں اور ان سے بھاری بھاری فیسیں وصول کر رہے ہیں۔ لیکن سچ پوچھیے تو انھیں خود یہ بھی نہیں معلوم کہ اولیول سے کیا مراد ہے۔

اولیول سے مراد ordinary level ہے جبکہ اے لیول سے مراد advance level ہے۔
او/اے لیول کا تعلق کیمبرج/آکسفورڈ بورڈ انگلینڈ سے ہے۔ اولیول کرنے کے بعد طالب علم اے لیول کرتے ہیں۔
اس طرح میٹرک اور اولیول برابر ہیں جبکہ اے لیول اور انٹرمیڈیٹ برابر ہیں۔ انٹر یا اے لیول کرنے کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ لیا جا سکتا ہے۔
جن طالب علموں نے مستقبل میں بیرون ملک پڑھنے جانا ہو انھیں اولیول کو فوقیت دینی چاہیے اور جو طالب علم پاکستان کی جامعات میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں انھیں میٹرک بورڈ کے تحت اپنی تعلیم جاری رکھنی چاہیے۔
مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ پاکستانی جامعات میں کالج سے انٹرمیڈیٹ کرنے والے طالب علموں کو ترجیح دی جاتی ہے۔
دونوں طرح کے سسٹم کے کورسز کے معیار میں فرق ہے۔ اولیول کا نصاب جامع اور میٹرک کے نصاب کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔
میٹرک دو سالوں پر مشتمل ہے۔ یعنی سات پرچے نہم جماعت میں اور سات ہی دہم جماعت میں ہوتے ہیں۔ لازمی مضامین میں انگریزی، سندھی/اردو ، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات شامل ہیں۔
اولیول کے لازمی مضامین میں اردو، اسلامیات، سوشل اسٹڈیز اور انگلش شامل ہیں۔
میٹرک کرنے کے لیے تین بار بورڈ کی فیس وصول کی جاتی ہے۔ جس میں نہم جماعت میں رجسٹریشن، پھر نہم کی امتحانی فیس اور اس کے بعد دہم کی امتحانی فیس شامل ہیں۔ کل فیس تقریباً سات سے آٹھ ہزار بنتی ہے۔
دوسری طرف اولیول کے ایک پرچے کی امتحانی فیس تقریباً 20 ہزار روپے ہے۔ دس پرچوں کی صرف امتحانی فیس ہی 2 لاکھ روپے بنتی ہے۔
میٹرک اسکولوں میں طالب علموں کی فیس پندرہ سو روپے سے سات ہزار روپے ماہانہ ہوتی ہے جبکہ اولیول اسکول کی فیس دس ہزار سے تیس ہزار روپے ماہانہ ہوتی ہے۔
میٹرک کے مضامین کے ٹیوٹر 1000 سے 3000 روپے ٹیوشن فیس ماہانہ وصول کرتے ہیں جبکہ اولیول کے ٹیوٹرز کی فیس 10 ہزار سے پچاس ہزار روپے ماہانہ ہوتی ہے۔

(دنوں میں بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے اب تمام اعداد و شمار اس تحریر میں لکھے ہوئے سے دوگنے ہوچکے ہوں گے)
محنتی طالب علموں کو سسٹم سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جنھیں پڑھنا ہوتا ہے وہ میٹرک سسٹم میں بھی پڑھ جاتے ہیں اور جنھیں نہیں پڑھنا ، اولیول سسٹم بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
میں ایسے کئی طالب علموں کو جانتا ہوں جو اولیول سسٹم کے تحت پڑھائی کرنے کے باوجود زندگی میں ناکام ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے کئی طالب علم بھی میری زندگی میں آئے جو میٹرک سسٹم کے تحت تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ایک کامیاب وکامران زندگی گزار رہے ہیں۔

Address

Chak 405/GB Kamyana
Tandlianwala

Telephone

03458972405

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Govt Boys Primary School 405/gb Kamyana Tandlianwala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Govt Boys Primary School 405/gb Kamyana Tandlianwala:

Share

Category