تلہ گنگ تو آخر اپنا ہے

تلہ گنگ تو آخر اپنا ہے Admin
M Sami

01/02/2024

پاکستان ۔زندہ باد

13/12/2022

میرا ایک دوست آسلام آباد سے ملاقات کے لیے ا رہا تھا۔ میں اسکو شہر کے وسط میں انتظار کرنے کو کہا کیونکہ رکشہ والا اسکو چینچی چوک پہ اتار گیا تھا ۔۔۔
اب میں نے اس سے جو اپنی لوکیشن بتائی وہ کما تھی ۔۔۔
یار میں اس چوک میں کھڑا ہوں جہاں کچرے کا ڈبہ پڑا ہے۔۔۔۔ کہتا ہے تلاگنگی بھی واہ لوگ ہیں ، باقی دنیا کے تمام چوکوں کو خوبصورت بنایا جاتا ہے ، کہیں گھوڑا تو کہیں فوارہ ۔۔۔۔
پوری دنیا میں تلاگنگ اللہ کے فضل و کرم سے واحد ضلع ہے جس کے مین چوک میں کچرے کا ڈبہ رکھا گیا تاکہ ہر بندہ مستفیذ ہو سکے۔۔۔
اربابِ اختیار سے گزارش ہے کہ جلد از جلد چوک کو اچھی شکل دی جائے ، اگر یہ نہ بھی دی جا سکے تو کم از کم کچرے کا ڈبہ تو ہٹا دیا جائے ، تاکہ موجب بے عزتی نہ بنے، اگر کسی دوست کے پاس تصویر بھی موجود ہے تو کمنٹ میں لگا دے ، ہم پوسٹ میں ایڈ کر دیں گے ، اور برائے مہربانی اس پوسٹ کو شئیر کیا جائے ۔۔۔

بروز 24 دسمبر 2021 کوشام 4سے 7 بجے کے درمیان چکوال سے میانوالی آتے ہوۓ تلہ گنگ کے ایریا میں نیلے رنگ کا گٹو (توڑا) گاڑی ...
25/12/2021

بروز 24 دسمبر 2021 کوشام 4سے 7 بجے کے درمیان چکوال سے میانوالی آتے ہوۓ تلہ گنگ کے ایریا میں نیلے رنگ کا گٹو (توڑا) گاڑی کے چھت سے گرا ھے جس میں ضروری سامان تھا آگر کسی کو ملے یا کوئی معلومات ہوں تو اس نمبر پر رابطہ کریں03088349419 اس پوسٹ کو share ضرور کریں

18/01/2020
’’ایئر مارشل نور خان‘‘ عظمت کا نشان1965ء میں جب پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہونے کی جدوجہد میں مصروف تھا تو اسے اپنی بقا...
08/09/2019

’’ایئر مارشل نور خان‘‘ عظمت کا نشان

1965ء میں جب پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہونے کی جدوجہد میں مصروف تھا تو اسے اپنی بقا کیلئے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن سے مقابلہ کرنا پڑا کیونکہ جنگ ستمبر میں بھارتی فضائیہ کو عددی اور تکنیکی ہر لحاظ سے برتری حاصل تھی۔ بھارت کے پاس476لڑاکا اور60بمبار طیارے تھے جبکہ پاکستان محض 104 لڑاکا طیارے اور26بمبار طیارے رکھتا تھا۔ اس کے باوجود پاکستانی ہوابازوں کی پیشہ ورانہ مہارت نے دشمن کا غرور خاک میں ملادیا، دنیا آج بھی پاکستانی سپوتوں کی جرأت وبہادری پر حیران ہے۔ تیز و تندہوائوں کے مخالف دشمنوں کے چنگھاڑتے جہازوں پر عقابی نظر رکھنا اور پھر پلک جھپکتے ہی ان کو خاک کا ڈھیر بنادینا ہمارے جوانوں کا وہ کارہائے نمایاں تھا جسے دیکھ کر ہمالیہ کی چوٹی بھی حیران وششدر رہ گئی۔ پاک فضائیہ کی اس بے مثال کارکردگی کے پیچھے ایک ایسا لیڈر تھا جس نے انھیں مقابلہ کرنا اور دشمن کو چِت کرنا سکھایا، وہ شخصیت تھیں ایئر مارشل نور خان!

نور خان22فروری 1923ء کوسابقہ اٹک اور ضلع چکوال کی تحصیل تلہ گنگ کے نواحی علاقے ٹمن میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے جنوری 1941ء میں برٹش انڈین ائیر فورس میں کمیشن حاصل کیا، 23جولائی 1965ء سے 1969ء تک وہ پاکستان ائیر فورس کے کمانڈرانچیف رہے۔1965ءکی جنگ میں نور خان نے انتہائی بہادری کے ساتھ دشمن افواج کا مقابلہ کیا، وہ اگست 1969ء میں مغربی پاکستان کے گورنر بنے۔ انہیں ان کی خدمات کے صلے میں ستارہ جرأت اور ہلال جرأت سے بھی نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہلال شجاعت، ہلال قائداعظم اور ستارہ پاکستان کے اعزازات حاصل کئے۔ وہ ہاکی میں چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے بانی تھے۔ نور خان 1985ء سے 1988ء تک قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ انہوں نے12دسمبر 2011ء کو وفات پائی۔
65ء کی جنگ کے دوران
23جولائی کو قیادت سنبھالنے کے بعد ائیر مارشل نو ر خان اگلے دن اس وقت پاک فوج کے کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ سے ملنے گئے جنہوں نے آپریشن جبرالٹر شروع کرنے کی تصدیق کی۔ آپریشن جبرالٹر کی منصوبہ بندی عجلت میں اور آغاز اس سے کہیں زیادہ عجلت میں کیا گیا۔ جس میں سب سے مشکل کام سی130کے ذریعے دشوار گزار وادی میں محصور جوانوں کو سامان رسد پہنچانا تھا، یہ ایک نہایت خطرناک پرواز تھی۔ اس کی حساسیت کے پیش نظر ائیر مارشل نو ر خان ونگ کمانڈر زاہد بٹ کے ہمراہ سی130پر خود گئے۔ انہوں نے معاون ہواباز کی حیثیت سے پرواز کی تاکہ ایسی دیگر پروازوں میں درپیش خطرات اور مشکلات کا خود مشاہدہ اور اندازہ کر سکیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ کچھ پُر خطر مہمات میں کمانڈر ایئر فورس نور خان نے خود بھی حصہ لیا اور ایسی روشن مثالیں قائم کیں کہ پوری ایئر فورس کے اندر جوش و جذبہ بھر گیا۔
65ء کی جنگ کے دوران ایئر مارشل نور خان نے کشمیر کے افق پر ابھرتے ہوئے طوفان کا اندازہ لگاتے ہوئے اپنے ذاتی تجزیے کے مطابق،ایئر فورس کو ہائی الرٹ کر رکھا تھا تاکہ اچانک جنگ کی صورت میں ایئر فورس اپنا بھر پور کردار ادا کرسکے۔حالات کے پیشِ نظر نور خان نےIکور کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور کمانڈر جنرل رانا سے استفسار کیا کہ کیا ان کے دستوں کو ایئر فورس کے تحفظ کی ضرورت نہیں،کیونکہ وہ دریائے توی کے کنارے کھلے آسمان کے نیچے موجود تھے۔ جنرل نے جواب دیا کہ بھارت جنگ میں تیزی سے بچنےکے لیے اپنی ایئر فورس کا استعمال نہیں کرے گا۔جونہی ایئرمارشل نور خان وہاں سے روانہ ہوئے بھارتی ایئر فورس نے جنرل رانا کے فوجی دستوں پر حملہ کردیا۔ بھارتی ایئر فورس نے پٹھان کوٹ کے اڈے سے پانچ پانچ منٹ کے وقفے سے کل بارہ لڑاکا ویمپائرطیارے اپنے دستوں کی فضائی مدد کے لیے بھیجےلیکن لیفٹیننٹ ہر بخش سنگھ اور جنرل جو گندر سنگھ کی ڈائریوں کے مطابق ان جہازوں نے اپنے ہی فوجیوں پر بمباری کردی، جس نے ان کو کافی نقصان پہنچایا۔

ایئر مارشل نورخان کی قیادت میں پاک فضائیہ کا ردِ عمل فوری اور تیز تھا۔ پی اے ایف کے نمبر ایک لڑاکا پائلٹ سرفراز رفیقی اور امتیاز بھٹی نے چار بھارتی ویمپائر جہازوں کو للکارا۔ اگلے دو تین منٹ کے اندر سرفراز نے دوبھارتی جہازوں کو مار گرایا۔ تیسرے کو امتیاز بھٹی نے شکار کر لیا اور چوتھا گولیاں کھا کر لنگڑاتا ہوا واپس بھاگ گیاجبکہ پانچواں اس سے پہلے اینٹی ایئر کرافٹ گن کا نشانہ بن چکا تھا۔ بریگیڈیئر امجد چودھری نے میدانِ جنگ سے پیغام دیا کہ پی اے ایف کے لڑاکا جہازوں کی شاندار کارکردگی نے ہمارے حوصلے اور ولولے کو جوان کردیا اور ہمیں بھارتی فضائیہ کے حملوں کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں رہی۔ بھارتی ویسٹرن کمانڈ کے کمانڈنگ افسر جنرل جوگندر سنگھ نے پاکستانی فضائیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا،’’آسمان کی فضاؤں میں پاکستان ایئر فورس کی حکومت قائم تھی۔ ‘‘
یہ ایئر مارشل نورخان کی جارحانہ حکمت عملی اور بصیرت ہی تھی جس نے پاک فضائیہ کو پیشگی طور پر الرٹ رکھا ورنہ شاید آج نتائج مختلف ہو تے ۔ان کی زیر قیادت ہمارے ہوابازوں کے کارنامے اس قدر طلسماتی تھے کہ جب ایم ایم عالم نے5طیارے ایک ساتھ مار گرائے تو پہلے نورخان نے ماننے سے انکار کردیا لیکن جب اس کارنامے کی تصدیق ہوئی تو انہوں نے ایم ایم عالم کو شاباش دی۔
ملک نور خان آج ٹمن میں آسودہ خاک ہیں جہاں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ اپنے اس ہیرو کو خراج عقیدت پیش کرنے آتے ہیں - جبکہ پاک فضائیہ کی جانب سے تلہ گنگ شہر کے مرکزی چوک کو ایئر مارشل نور خان کے نام سے منسوب کرکے وہاں ان کے زیر استعمال طیارہ کا ماڈل نصب کرکے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

08/07/2019

سوچیے اج کے دن اسی تاریخ کو کیا ہوا تھا.... پتہ مجھے بھی نھیں تھا مگر فیس بک پہ ایک پوسٹ نظروں تلے گزری.... اج کے دن ہمارا ایک شہزادہ ہم سے رخصت ہوا تھا. . اج کے دن ہی وہ حوروں کی محفل میں پہنچا ہو گا..... رسول اکرم کے قدم مبارک میں بیٹھ کر سلام عرض کیا ہو گا.... حیدر کرار کو سلام دیا ہوا گا.... عمر ر.ض دیکھ کے مسکرائے ہوں گے.... امی عائشہ نے ضرور اپنے دوپٹے کے پلو سے اپنے بیٹے کا خون صاف کیا ہو گا.... حسنین کریمین نے جنت میں اسکے آنے کی خوشی میں محفل سجائی ہو گی.... برھان وانی تم تو داغ مفارقت دے کر چلے گئے....مگر ہم اسی جنہم میں زندہ ہیں....جہاں کشمیر میں ہماری بہنیں اور بیٹاں لہو لہو ہیں.... اج تمھاری شہادت پہ تم سے یہ عہد ہے کہ ہم تمھارے مشن کو بھولیں گے نھیں... اسکو تا دم مرگ یاد رکھیں گے... پاکستان زندہ باد.. اسلام پایندہ باد....
عتیق

https://youtu.be/dL0lW6BpdHoکچھ دن پہلے راولاکوٹ جانا ہوا.... وہاں یہ سکھوں کے زمانے کا گرد وارا دیکھنے کا اتفاق ہوا... ...
07/07/2019

https://youtu.be/dL0lW6BpdHo

کچھ دن پہلے راولاکوٹ جانا ہوا.... وہاں یہ سکھوں کے زمانے کا گرد وارا دیکھنے کا اتفاق ہوا... کافی ویرانہ مگر نہایت پرسکون جگہ تھی..

یہ جگی راولاکوٹ کی سب سے اونچی جگہ تھی.... اس جگہ کا نظارہ سب سے اچھا تھا

 تلہ گنگ تاجران بپھر گئے ، جی پی او چوک بلاک ، ایس ڈی او اور ایکسیئن واپڈا کی بر طرفی کا مطالبہ تاجران کی لوڈ شیڈنگ کےخل...
04/07/2019


تلہ گنگ تاجران بپھر گئے ، جی پی او چوک بلاک ، ایس ڈی او اور ایکسیئن واپڈا کی بر طرفی کا مطالبہ

تاجران کی لوڈ شیڈنگ کےخلاف جی پی او چوک بلاک کر کے عمران خان ، چودھری پرویز الہی اور حافظ عمار یاسرکےخلاف شدید نعرے بازی

میونسپل کمیٹی تلہ گنگ کے بالکل سامنے تلہ گنگ چکوال مین روڈ پر آٹھ روز قبل ٹی ایم اے اہلکار نے سٹریٹ لائٹس ٹھیک کرنے کے ل...
04/07/2019

میونسپل کمیٹی تلہ گنگ کے بالکل سامنے تلہ گنگ چکوال مین روڈ پر آٹھ روز قبل ٹی ایم اے اہلکار نے سٹریٹ لائٹس ٹھیک کرنے کے لیے آہنی سیڑھی لگائی سٹریٹ لائٹس ٹھیک تو نہ ہو سکی البتہ سیڑھی لگا کر فرار ہو گئے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں خلل پڑ رہا ہے شہریوں نے اسسٹنٹ کمشنر و ایڈمنسٹریٹر تلہ گنگ سے اصلاح واحوال کا مطالبہ کیا ہے

Address

Talagang
48100

Telephone

03325912430

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تلہ گنگ تو آخر اپنا ہے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share