Multan Khurd

Multan Khurd Multan Khurd is a village and union council, an administrative subdivision, of Chakwal District in the Punjab Province , it is part of Talagang Tehsil.

17/08/2026

شکر الحمدللہ بچی مل گئ ھے

16/08/2026
15/08/2026
15/08/2026

"جسم بھی تھکتا ہے، اسے بھی آرام چاہیے"

تحریر: ڈاکٹر عامر اعجاز اعوان

ہم تھک جائیں تو بستر تلاش کرتے ہیں، آنکھیں بوجھل ہوں تو نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں، کام زیادہ ہو جائے تو چند لمحوں کے لیے رک جاتے ہیں، مگر کبھی ہم نے یہ سوچنے کی زحمت کی ہے کہ ہمارے اندر مسلسل کام کرنے والے اعضا بھی شاید ہم سے کچھ دیر سکون مانگ رہے ہوں؟
انسان عجیب مخلوق ہے۔ اسے اپنی تھکن تو محسوس ہوتی ہے، مگر اپنے جسم کی خاموش فریاد سنائی نہیں دیتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آرام صرف انسان کو چاہیے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے جسم کا ہر نظام ایک خاص ترتیب اور توازن کے ساتھ کام کرتا ہے اور اسے بحالی کے لیے مناسب وقفے درکار ہوتے ہیں۔
دل کو دیکھیے، پیدائش سے موت تک دھڑکتا رہتا ہے۔ اسے ہماری چھٹی کا انتظار نہیں ہوتا۔ سانس کا نظام ہر لمحہ اپنا فرض ادا کرتا ہے۔ دماغ دن بھر سوچتا، سمجھتا، یاد رکھتا اور فیصلے کرتا ہے۔ معدہ خوراک کو ہضم کرنے میں مصروف رہتا ہے، جگر اور گردے جسم کے اندر صفائی اور توازن کے پیچیدہ کام انجام دیتے رہتے ہیں۔ ہمارے پٹھے بھی دن بھر کی حرکت کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
مگر ہم ان سب سے مسلسل کام لیتے رہتے ہیں۔
ہم دیر رات تک جاگتے ہیں، صبح نیند پوری کیے بغیر اٹھتے ہیں، وقت بے وقت کھاتے ہیں، مسلسل موبائل کی اسکرین دیکھتے ہیں، ذہنی دباؤ کو معمول سمجھ لیتے ہیں اور پھر جب جسم کسی بیماری کی صورت میں احتجاج کرتا ہے تو حیران ہوتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟
اصل میں جسم اچانک نہیں ٹوٹتا، وہ طویل عرصے تک ہماری بے اعتنائی برداشت کرنے کے بعد ایک دن اپنی زبان میں جواب دیتا ہے۔
تھکن صرف آنکھوں کی بوجھل پن یا جسم میں درد کا نام نہیں۔ کبھی چڑچڑاپن تھکن کا پیغام ہوتا ہے، کبھی توجہ کی کمی، کبھی مسلسل سستی اور کبھی نیند کے باوجود تازگی محسوس نہ ہونا۔ جسم کئی طریقوں سے ہمیں متوجہ کرتا ہے، مگر ہم اکثر اس کی آواز کو مصروف زندگی کے شور میں دبا دیتے ہیں۔
خاص طور پر ہمارا دماغ۔ اسے ہم نے شاید سب سے زیادہ بے آرام کر رکھا ہے۔ جسم بستر پر ہوتا ہے مگر دماغ دفتر، کاروبار، موبائل، پیغامات، پریشانیوں اور مستقبل کے اندیشوں میں بھٹکتا رہتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ انسان سو کر بھی پوری طرح آرام نہیں کر پاتا۔
اسی طرح معدہ بھی ہماری بے ترتیبی کا خاموش گواہ ہے۔ کبھی بہت زیادہ کھانا، کبھی دیر سے کھانا، کبھی مسلسل چائے، کبھی فاسٹ فوڈ اور پھر فوراً سونا—ہم معدے سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہماری ہر زیادتی کو خاموشی سے برداشت کرتا رہے۔
مگر جسم کوئی مشین نہیں جسے ہر وقت چلایا جائے اور صرف خرابی کی صورت میں یاد کیا جائے۔
جسم ایک امانت ہے۔
اسے آرام دینا سستی نہیں، ذمہ داری ہے۔
یہ بھی ضروری نہیں کہ آرام کا مطلب ہر وقت لیٹے رہنا ہو۔ آرام کا مطلب جسم کو اس کی ضرورت کے مطابق نیند دینا، مناسب غذا دینا، ذہنی دباؤ سے وقفہ دینا، جسمانی مشقت کے بعد بحالی کا وقت دینا اور اپنی روزمرہ زندگی میں ایک متوازن ترتیب پیدا کرنا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر درد کو صرف تھکن کا نام دے کر نظرانداز کرنا درست نہیں۔ مسلسل یا غیر معمولی علامات جسم کے کسی مسئلے کی نشاندہی بھی کر سکتی ہیں، ایسی صورت میں مناسب طبی مشورہ ضروری ہے۔
زندگی کی دوڑ میں ہم نے رفتار کو کامیابی سمجھ لیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ جو شخص زیادہ کام کرے، کم سوئے اور ہر وقت مصروف رہے، وہی کامیاب ہے۔ مگر شاید ہم یہ بھول گئے ہیں کہ زندگی ایک دوڑ ضرور ہے، مگر ایسی دوڑ نہیں جس میں انسان راستے ہی میں خود کو کھو دے۔
کبھی اپنے جسم کی طرف بھی توجہ دیجیے۔
اس کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھیں۔ اس کی تھکن کو ضد نہ سمجھیں۔ اس کے آرام کو وقت کا ضیاع نہ سمجھیں۔
کیونکہ انسان اگر دنیا کی ہر ذمہ داری پوری کر لے، مگر اپنے جسم کو ہی تھکا کر بے حال کر دے تو آخر اس کامیابی کا فائدہ کیا؟
جسم جب تک ساتھ ہے، زندگی کی ہر مصروفیت خوبصورت ہے۔ اس لیے کبھی کبھی رک جانا، سانس لینا اور اپنے جسم کو آرام دینا بھی زندگی کا حصہ ہے۔
شاید جسم ہم سے صرف اتنا ہی کہتا ہے:
"مجھے مسلسل کام کرنے والی مشین نہ سمجھو، میں بھی تھکتا ہوں… مجھے بھی آرام چاہیے۔"

15/08/2026

رات کا کھانا، معدہ اور ہماری بے ترتیب زندگی

تحریر: ڈاکٹر عامر اعجاز اعوان

رات کے بارہ بج چکے ہیں۔ شہر کی سڑکوں پر دن بھر کی گہماگہمی ماند پڑ چکی ہے، گھروں میں بیشتر چراغ بجھنے لگے ہیں اور جسم دن بھر کی تھکن کے بعد آرام کا طلب گار ہے۔ مگر ہمارے ہاں ایک اور سرگرمی اپنے عروج پر ہے؛ دسترخوان سج رہے ہیں، کھانے گرم کیے جا رہے ہیں اور موبائل کی اسکرینوں کی روشنی میں رات کا کھانا تناول کیا جا رہا ہے۔ ہم نے زندگی کی رفتار تو تیز کر لی، مگر شاید اپنی صحت کی گھڑی کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ جس وقت جسم آرام مانگتا ہے، ہم معدے کو کام پر لگا دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ رات گئے کھایا جانے والا یہ آخری نوالہ صرف ہماری بھوک مٹاتا ہے یا ہماری صحت سے بھی کوئی قیمت وصول کرتا ہے؟ کھانا انسان کی بنیادی ضرورت ہے، مگر صحت مند زندگی میں صرف یہ اہم نہیں کہ ہم کیا کھاتے ہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ کب کھاتے ہیں، کتنا کھاتے ہیں اور کھانے کے بعد کیا کرتے ہیں۔ خاص طور پر رات کو سونے کے بالکل قریب کھانا بعض افراد کے لیے بدہضمی، پیٹ کی بے آرامی اور سینے کی جلن کا سبب بن سکتا ہے۔ ہماری مصروف زندگی نے کھانے کے اوقات بھی بدل دیے ہیں۔ دن بھر کام، ٹریفک، موبائل فون، کاروباری مصروفیات اور رات گئے تک جاگنے کی عادت نے ہمارے معمولات کو اس قدر بے ترتیب کر دیا ہے کہ اب رات کا کھانا بھی گھڑی کے بجائے سہولت کے مطابق کھایا جاتا ہے۔
پھر مسئلہ صرف دیر سے کھانے کا نہیں رہتا؛ رات کے وقت عموماً کھانے کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے۔ دن بھر کی تھکن کے بعد انسان بھوک سے زیادہ خواہش کے تحت کھاتا ہے۔ تلی ہوئی اشیا، چکنائی والی غذائیں، میٹھے مشروبات اور مصالحے دار کھانے دسترخوان کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد چند ہی لمحوں میں بستر کی طرف روانگی ہوتی ہے۔ معدہ مگر انسان کی مصروفیات سے واقف نہیں۔ اسے اپنا کام بہرحال کرنا ہے۔ سونے کے فوراً پہلے بھاری کھانا بعض لوگوں میں تیزابیت اور ریفلوکس کی شکایت بڑھا سکتا ہے، جبکہ پیٹ کا بھاری پن نیند کے سکون کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
یہاں یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ رات کا کھانا بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں اور نہ ہی ہر شخص کے لیے دیر سے کھانا لازماً نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اصل اہمیت کھانے کے وقت، مقدار، غذا کی نوعیت اور سونے کے درمیان وقفے کی ہے۔ اگر ممکن ہو تو رات کا کھانا سونے سے تقریباً دو سے تین گھنٹے پہلے کھا لینا ایک بہتر معمول ہو سکتا ہے۔
ہمیں اپنے بزرگوں کی زندگی میں ایک سادگی نظر آتی تھی۔ کھانے کا وقت نسبتاً مقرر، کام کا وقت الگ اور آرام کا وقت الگ۔ آج ہمارے پاس سہولتیں پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، مگر معمولات پہلے سے کہیں زیادہ بے ترتیب ہیں۔ شاید یہی ہماری جدید زندگی کا ایک عجیب تضاد ہے کہ ہم وقت بچانے کے لیے مشینیں بناتے رہے اور پھر وہی وقت بے مقصد مصروفیات میں ضائع کرنے لگے۔ صحت کسی ایک دن کی محنت کا نام نہیں۔ یہ روزانہ کے چھوٹے چھوٹے فیصلوں کا مجموعہ ہے۔ وقت پر کھانا، مناسب مقدار میں کھانا، کھانے کے بعد کچھ دیر چلنا پھرنا اور سونے سے پہلے جسم کو ہاضمے کا موقع دینا بظاہر معمولی باتیں ہیں، مگر یہی معمولی عادتیں طویل عرصے میں ہماری زندگی کے معیار پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
آخرکار سوال صرف یہ نہیں کہ ہم رات کو کیا کھاتے ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں؟ رات کا آخری نوالہ اگر ضرورت کے بجائے صرف عادت بن جائے تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے۔ کیونکہ صحت اکثر کسی بڑے فیصلے سے نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کے انہی چھوٹے فیصلوں سے بنتی اور بگڑتی ہے۔ ہمیں شاید اپنی زندگی میں بڑی تبدیلیوں سے پہلے صرف اتنا سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر بھوک فوراً مٹانا ضروری نہیں، اور ہر نوالے کا ایک مناسب وقت بھی ہوتا ہے۔

15/08/2026

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
احمد ندیم قاسمی

Address

Talagang

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Multan Khurd posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Multan Khurd:

Shortcuts

Share