ITS jalbai swabi

ITS jalbai  swabi

کل مکتبہ میں وزارت الاعلام والوں نے آکر عبد الفتاح ابو غدہ کی تمام کتابیں ضبط کرلیں،حضرت ابو الحسن علی ندویؒ کی بچوں کے ...
01/08/2026

کل مکتبہ میں وزارت الاعلام والوں نے آکر عبد الفتاح ابو غدہ کی تمام کتابیں ضبط کرلیں،
حضرت ابو الحسن علی ندویؒ کی بچوں کے لیے لکھی گئی شہرۂ آفاق کتابیں "سیرۃ خاتم النبیین"، "قصص الا نبیاء" اور "القراءۃ الراشدۃ"، وغیرہ پر پہلے سے پابندی لگ چکی ہے،
شیخ ابو غدہؒ کی علمی و تربیتی تصانیف، جیسے "قیمۃ الزمن عند العلماء"، "العلماء العزاب الذین آثروا العلم على الزواج" اور "صفحات من صبر العلماء" بھی پابندی کی فہرست میں شامل ہو گئی ہیں
ادہم شرقاوی کے دلوں کو چھو لینے والے رسائل، "رسائل من القرآن" سے لے کر ان کی دیگر تمام تحریریں، اور شیخ یوسف القرضاویؒ کی متعدد علمی کتابیں مملکت میں ناقابل بیع ہے،
باقی شیخ عبد الوہاب کی کتاب التوحید،شیخ ابن عثیمین،شیخ فوازان اور مصر سے مطبوعہ روایات قسم کی کہانیاں باقی رہی ،
اللہ المستعان
Copy

    #امتحانات
01/08/2026



#امتحانات

01/08/2026






01/08/2026

مفتی مبین الرحمٰن ایک جعلساز کردار
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی میدان خالی ہو جائے تو ہر خاص و عام اس میں کود پڑتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا اور چندہ مہم کے دور میں "شہرت" بہت سستا سامان بن چکی ہے۔ ایسے میں کچھ افراد ایسے بھی سامنے آتے ہیں جو مختلف علوم میں مہارت کا دعویٰ تو کرتے ہیں، مگر جب ان کے کام کو میزانِ علم و اصول پرکھا جائے تو کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔
ذیل میں چند اہم علمی اور منہجی نکات پیش ہیں جن پر غور کرنا ہر طالبِ علم اور عوام کے لیے ضروری ہے:
کوئی شخص اگر "تخصص فی الفقہ" کا دعویٰ کرے تو اس سے توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ اصولِ فتویٰ، ترجیح، تعارض اور فتاویٰ کے آداب کا پاس رکھے گا، لیکن جب فتویٰ میں اصولوں کی صریح خلاف ورزی، بغیر تخریج کے حکم لگانا، اور دلائل کے بجائے جذبات کو بنیاد بنایا جائے تو یہ دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے۔ فقہ امانت ہے، اور امانت کا تقاضا یہ ہے کہ جو بات کہی جائے اس کے پیچھے دلیل اور ضابطہ ہو۔
علومِ حدیث میں مداخلت اور تحقیق کا معیار
علمِ حدیث ایک انتہائی دقیق فن ہے جس کے لیے "علم العلل" اور "علم الرجال" کی گہری معرفت شرط ہے۔ اگر کوئی شخص بغیر اس مہارت کے صرف عربی کتب سے ترجمہ لے کر اسے اپنی تحقیق کے نام سے پیش کرے، اور احادیث پر حکم لگانے میں اصولوں کو نظر انداز کرے تو یہ علمی خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔ تحقیق کا مطلب نقل نہیں، بلکہ سند، متن، علت اور رجال کی جانچ ہے۔
علمِ کلام اور عقائد میں بحث
عقائد کا میدان تلوار سے زیادہ نازک ہے۔ یہاں ایک لفظ کا ادھر ادھر ہونا گمراہی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ جب کوئی شخص بغیر ٹھوس علمی بنیاد کے اعتقادی مسائل میں بحث و مباحثہ کرے اور امت کے مسلّمہ اصولوں سے ہٹ کر نئے نظریات پیش کرے تو یہ "بدعتِ اعتقادی" کا دروازہ کھولتا ہے۔
اسلوبِ دعوت: شہرت بمقابلہ اخلاص
دعوت کا مقصد "اشاعتِ توحید" ہونا چاہیے، نہ کہ "اشاعتِ ذات"۔ جب دعوت کا محور شہرت، چندہ اور "حبِ جاہ" بن جائے تو پھر حق و باطل کے فرق کی بجائے ذاتی مخالفت اور فتویٰ بازی شروع ہو جاتی ہے۔
سلف کا منہج یہ تھا کہ وہ بدعت کی تردید دلیل سے کرتے تھے، شور سے نہیں۔ عملی بدعات کی اصلاح نرمی، حکمت اور احسن طریقے سے ہوتی ہے، نہ کہ الزام تراشی سے۔
علمی سرقہ اور امانت
سب سے خطرناک چیز "علمی سرقہ" ہے۔ یعنی دوسروں کی کتب سے مادہ لے کر، صرف ترجمہ کر کے اسے اپنی تحقیق کے نام سے پیش کرنا۔ یہ نہ صرف علمی بددیانتی ہے بلکہ قاری کو دھوکے میں رکھنا بھی ہے۔
*خلاصہ اور نصیحت*
علم ایک مقدس امانت ہے۔ اس میدان میں قدم رکھنے سے پہلے 3 چیزوں کا ہونا ضروری ہے:
1. جس فن میں بات کریں اس کے اصول جانیں۔
2. مقصد اللہ کی رضا اور امت کی اصلاح ہو، شہرت نہیں۔
3. مخالف کی بھی بات سنیں اور دلیل سے رد کریں، ذاتیات پر نہ جائیں۔
علم دین ایک امانت ہے۔ اس امانت میں خیانت سب سے بڑی خیانت ہے۔ جب کوئی شخص مختلف فنون میں مہارت کا دعویٰ کرے تو امت کا حق ہے کہ وہ اس کے کام کو کتاب و سنت اور سلف کے اصولوں کی روشنی میں پرکھے۔
آمدم برسر مطلب
حالیہ عرصے میں مفتی مبین الرحمٰن صاحب سوشل میڈیا اور واٹس گروپس میں مصروف عمل نظر آتے ہیں، لیکن موصوف چند علمی اور تحقیقی کمزوریوں کا شکار ہے جس کی نشان دہی ضروری ہے:
1. دعویٰ تخصص اور اصول فتویٰ سے دوری
موصوف "تخصص فی الفقہ" کے دعویدار ہیں، لیکن ان کے بعض فتاوٰی اور بیانات میں اصول فتویٰ کی صریح خلاف ورزیاں نظر آتی ہیں۔ مختلف دینی جماعتوں اور مقتدر شخصیات کے خلاف موصوف کی فتوی بازی اور ہرزہ سرائی ریکارڈ پر ہے، جس میں تثبت اور اختیاط کا پہلو بالکلیہ ترک کر دی گئی ہے، موصوف خوارج کی طرح صرف فتویٰ کی مشین گن چلاتے رہتے ہیں، یہ عمل فقہ کے مزاج کے خلاف ہے۔ فتویٰ دینا کھیل نہیں، یہ امضاء عن اللہ ہے۔
2. علوم الحدیث میں غیر فنی مداخلت
موصوف کبھی کبھار علوم الحدیث میں بھی رائے دیتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اہلِ فن جانتے ہیں کہ وہ "علم العلل" اور "علم الرجال" کے بنیادی ضوابط سے ناواقف ہیں۔ عربی کتب کی عبارات کا صرف ترجمہ کرکے اسے اپنی تحقیق کے نام سے پیش کرتا ہے یہ علمی امانت و دیانت کے خلاف ہے۔
3. اعتقادی اور عملی بدعات کی طرف میلان
موصوف تخصص فقہ ہے اور علم فقہ سے تجاوز کرکے کبھی علوم الحدیث کبھی علم کلام اور کبھی عقائد میں جاہلانہ فتوی بازی کرتا ہے۔
4. علم کلام اور مناظرانہ اسلوب
موصوف علم کلام میں بحث و مباحثہ کے شوقین ہیں۔ لیکن اسلوب میں بے جا سختی، الزام تراشی اور دوسرے مکاتب فکر کے خلاف فتویٰ بازی کا رجحان پایا جاتا ہے۔ سلف کا طریقہ یہ نہ تھا۔ وہ دلیل سے رد کرتے تھے، شخصیت پر نہیں جاتے تھے۔
5. بعض عملی بدعات کا تردید کرتا ہے اس وجہ سے اتباع سنت کرنے والے بعض مخلص ساتھی اس کے تزویر کا شکار ہو جاتے ہیں، نوٹ کیجئے کہ موصوف بعض عملی بدعات کی تردید کو سادہ لوح متبعین سنت کو شکار کرنے کے لئے بطور آلہ استعمال کرتا ہے جبکہ اعتقادی بدعات میں ملوث ہے۔
6. شہرت، چندہ اور حب جاہ کا عنصر
موصوف کی دعوت، پوسٹس اور بیانات کا محور شہرت، نام و نمود اور چندہ اکٹھا کرنا بن گیا ہے۔ جب دعوت کا مقصد اللہ کی رضا کے بجائے "وائرل" ہونا بن جائے تو پھر اخلاص مجروح ہو جاتا ہے۔
اس لئے تمام ساتھی اس کے واٹس اور فیس بک گروپس سے فوری طور پر لفٹ ہو جائیں اور اس کے خلاف منظم تحریک شروع کریں۔

30/07/2026

#اللہ
#القرآن
#النور
#تلاوت

#مکہ
#مدینہ

30/07/2026


#مدینہ
#حجراسود
#مکہ #بیت
الاشاعت میڈیا پاکستان

29/07/2026

#درورشریف





With میاں غفران عـــــامـــری – I just got recognised as one of their top fans! 🎉
29/07/2026

With میاں غفران عـــــامـــری – I just got recognised as one of their top fans! 🎉

قائد کا پیغام احباب جماعت کے نام #جماعت  #اشاعت  #توحید  #وسنت #قائد  #شیخ  #القرآن  #محمد  #طیب  #طاہری
29/07/2026

قائد کا پیغام احباب جماعت کے نام
#جماعت #اشاعت #توحید #وسنت
#قائد #شیخ #القرآن #محمد #طیب #طاہری

Address

Swabi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ITS jalbai swabi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category