01/04/2026
*جب تعداد پر توکل بھاری پڑ گیا*
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شجاعت اور عسکری مہارت کا یہ حیرت انگیز واقعہ جنگِ یرموک (634ء) کے دوران پیش آیا تھا۔ رومیوں کے ایک عظیم الشان لشکر کے مقابلے میں یہ معرکہ اسلامی تاریخ کے فیصلہ کن ترین معرکوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔
اس مخصوص واقعے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
تاریخی پس منظر
جنگِ یرموک کے موقع پر رومی فوج کی تعداد لاکھوں میں تھی (مختلف روایات کے مطابق 1 لاکھ سے 2 لاکھ کے درمیان)، جبکہ اسلامی لشکر تقریباً 30 سے 40 ہزار کے قریب تھا۔ رومیوں کی جانب سے جب حملوں میں شدت آئی تو انہوں نے اپنے بہترین دستوں کو آگے کیا۔
ساٹھ (60) بمقابلہ ساٹھ ہزار (60,000)
مورخین (جیسے علامہ ابن کثیر اور الواقدی) بیان کرتے ہیں کہ جب رومیوں کا ایک ہراول دستہ، جس کی تعداد تقریباً 60,000 تھی، مسلمانوں کے قریب پہنچا، تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے ہمراہ صرف 60 جانبازوں کو لیا۔
حیرت انگیز مکالمہ: حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ خالد بن ولید اتنے تھوڑے ساتھیوں کے ساتھ اتنے بڑے لشکر کی طرف جا رہے ہیں، تو انہوں نے پوچھا: "اے خالد! کیا تم صرف 60 آدمیوں کے ساتھ ساٹھ ہزار کا مقابلہ کرو گے؟"
خالد بن ولید کا جواب: آپ رضی اللہ عنہ نے تاریخی جواب دیا: "ہاں! اگر میرے ساتھ میرے یہ 60 ساتھی ہوں، تو مجھے اللہ کی نصرت پر پورا یقین ہے کہ ہم ان پر غالب آئیں گے۔"
معرکے کی تفصیل
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان 60 شہسواروں کے ساتھ رومیوں کے اس عظیم لشکر پر اس قدر تیزی اور دلیری سے حملہ کیا کہ رومی فوج میں بھگدڑ مچ گئی۔
آپ نے اپنے دستے کو مختلف سمتوں سے حملے کا حکم دیا تاکہ دشمن کو لگے کہ پیچھے سے مزید مدد آ رہی ہے۔
اس مختصر سے دستے نے رومیوں کی صفوں کو الٹ کر رکھ دیا اور دشمن یہ سمجھنے پر مجبور ہو گیا کہ ان کا سامنا شاید انسانوں سے نہیں بلکہ کسی غیبی قوت سے ہے۔
اس حملے کا مقصد دشمن کے حوصلے پست کرنا تھا، جس میں حضرت خالد بن ولید مکمل طور پر کامیاب رہے۔
جنگ کا نتیجہ
یہ محض ایک جھڑپ نہیں تھی بلکہ اس نے پوری جنگِ یرموک کا پانسہ پلٹ دیا۔ رومیوں کے دلوں میں مسلمانوں کی ہیبت بیٹھ گئی اور بالاخر مسلمانوں نے اس جنگ میں ایک عظیم فتح حاصل کی، جس کے بعد شام (Syria) ہمیشہ کے لیے رومی قبضے سے نکل کر اسلامی ریاست کا حصہ بن گیا۔
یہ واقعہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے اس لقب کی عملی تصویر ہے جو انہیں بارگاہِ رسالت ﷺ سے ملا تھا: "سیف اللہ" (اللہ کی تلوار)۔