10/08/2026
5 مئی 2026 کو CTU پولیس اسٹیشن گلگت میں درج FIR نمبر 26/2026 کے حوالے سے ایک نہایت اہم سوال سامنے آیا ہے۔
اگر وائرل ہونے والی FIR کی کاپی درست ہے اور اس میں مرحوم یاور عباس کا نام بطور ملزم شامل ہے، جبکہ وہ اس سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے، تو پھر سوال یہ ہے:
یہ نام FIR میں کیسے شامل ہوا ؟ نامزد ملزمان کی شناخت کس نے اور کیسے تصدیق کی؟اور اس سنگین غلطی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
یہ FIR مبینہ طور پر کامریڈ احسن علی ایڈووکیٹ کی رہائی کے مطالبے میں ہونے والے احتجاج کے شرکاء کے خلاف درج کی گئی۔
اگر یہ معاملہ درست ہے تو یہ صرف ایک FIR کا مسئلہ نہیں بلکہ قانونی طریقۂ کار، شہری آزادیوں اور پولیس کی ذمہ داری کا اہم سوال ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ FIR نمبر 26/2026 کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ مرحوم یاور عباس کے نام کی شمولیت کی حقیقت واضح کی جائے۔ ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کیا جائے۔ احتجاج کرنے والے شہریوں کے قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔پوری حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے۔
قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔پولیس بھی قانون سے بالاتر نہیں۔اور انصاف خاموشی کا نام نہیں..