Alchori Youth Parliament Shigar - AYP Shigar

Alchori Youth Parliament Shigar - AYP Shigar Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Alchori Youth Parliament Shigar - AYP Shigar, Social service, Skardu.

Alchori Youth Parliament (AYP), is a social organization, comprising of the rebellious minds of Alchori, to combat all the social and political problems facing by Alchori populace .

07/09/2026

ایک دو کام چور ملازمین کے آگے پورا محکمہ، انتظامیہ اور منتخب نمائندے بے بس!
چھقپو بجلی گھر کو بند ہوئے تقریباً دو ماہ گزر گئے، مگر ہزاروں گھرانے آج بھی اندھیرے میں ہیں۔ ہر بار ایک نیا بہانہ، ایک نئی خرابی اور ایک نئی کہانی۔۔۔
کبھی کول خراب، کبھی بیرنگ خراب، کبھی کولر خراب، کبھی لائن شارٹ اور اب پانی کی کمی کا نیا جواز!
حیرت تو اس بات پر ہے کہ ایک دو ملازمین کی نااہلی اور کام چوری کے سامنے پورا محکمہ برقیات بے بس ہے، ضلعی انتظامیہ بے بس ہے اور منتخب نمائندے بھی بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔۔تو پھر سوال یہ ہے کہ عوام جائے تو جائے کہاں؟اس وقت چکی پیسنے کا سیزن ہے۔ یہی چند ہفتے عوام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر یہ مہینہ بھی اسی طرح اندھیرے میں گزر گیا تو اگلے ماہ یہی کہا جائے گا کہ اب پانی کم ہے، بجلی کیسے پیدا کریں؟
یعنی عوام کے لیے ہر موسم میں نیا بہانہ تیار ہے، مگر بجلی بحال کرنے کے لیے کوئی مستقل حل نہیں!
Deputy Commissioner Shigar, GB
ڈی سی صاحب! آپ کو بارہا آگاہ کیا گیا، وفود کے ذریعے بھی مسئلہ آپ کے علم میں لایا گیا۔ آخر کب تک عوام کو صرف تسلیاں دی جاتی رہیں گی؟ اگر ایک بنیادی عوامی مسئلہ دو ماہ میں حل نہیں ہوسکتا تو پھر انتظامیہ کی جوابدہی کس بات کی ہے؟
Imran Nadeem
آپ عوام کی آواز ہیں یا صرف انتخابات کے دنوں کے نمائندے؟جب ہزاروں گھرانے اندھیرے میں ہوں، لوگ اپنی فصل اور روزمرہ کی ضروریات کے لیے پریشان ہوں، تو آپ کی خاموشی کس کے مفاد میں ہے؟
عوام کو اب مزید بہانے نہیں چاہئیں۔
بجلی چاہیے، فوری چاہیے، اور مستقل بنیادوں پر چاہیے۔اب مزید وقت ضائع کیۓ بغیر تمھاری مردہ ضمیروں کو جھنجھوڑنے کیلیۓ کل صبح سے شاہراہ کے ٹو بلاک کرکے سخت ترین احتجاج کیا جاۓ گا یہ ہمارا اٹل فیصلہ ہے بعد میں کوئی انتظامیہ،مجسٹریٹ یا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لوگ آکر ہمیں نہیں روک سکے گا اور ہمارا یہ احتجاج فوری بجلی کی فراہمی اور ایک ماہ سے زائد عوام کو جان بوجھ کر اندھیرے میں رکھنے والے حرامخور ملازمین کے خلاف قانونی کاروائی تک جاری رہے گا محکمہ برقیات Water and Power Division Shigar Shigar Police شگر پولیس ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندے سن لیں ہمارا آخری اور حتمی فیصلہ ہے ۔۔۔۔۔

04/09/2026

Chief Minister Gilgit-Baltistan
Office of the Chief Secretary, Gilgit Baltistan
Imran Nadeem
Water and Power Division Shigar
Deputy Commissioner Shigar, GB
Assistant Commissioner /SDM Shigar Official
الچوڑی سے برالدو تک بجلی بحران عوام اندھیرے میں، محکمۂ برقیات کے نااہل اہلکار بے فکری میں!
پورا سال بجلی کا عذاب، ایک ماہ کوہل کے نام پر بندش، پھر لیکیج، شارٹ سرکٹ، ٹینکی کی صفائی اور اب پانی کی کمی—ہر خرابی کا نیا بہانہ، مگر محکمۂ برقیات کے غفلت شعار، کام چور، نااہل اور فرض سے بھاگنے والے اہلکاروں کے پاس مستقل حل نہیں۔ اگر یہ لوگ اپنی ذمہ داری نبھانے کے بجائے ہر مسئلے پر نیۓ جواز تلاش کرتے رہے تو پھر سرکاری عہدوں اور تنخواہوں کا جواز کیا ہے؟؟؟
وزیرِ اعلیٰ، چیف سیکرٹری، اسپیکر اسمبلی عمران ندیم صاحب،سیکرٹری پاور، کمشنر بلتستان، ڈپٹی کمشنر شگر، چیف انجینئر صاحب محکمہ برقیات شگر کے نااہل افسران اور ملازمین کا اس غفلت، سستی اور ناقص کارکردگی کا فوری حساب لیں۔۔۔
سرکاری کرسی خدمت کے لیے ہے، عیاشی اور غفلت کے لیے نہیں۔ عوام کو اندھیرے میں رکھ کر تنخواہیں لینے والے اہلکار اب جواب دیں—الچوڑی کو بہانے نہیں، بجلی اور عملی حل چاہیے!

Chief Minister Gilgit-Baltistan Imran Nadeem Office of the Chief Secretary, Gilgit Baltistan Directorate of Education Gi...
29/08/2026

Chief Minister Gilgit-Baltistan
Imran Nadeem
Office of the Chief Secretary, Gilgit Baltistan
Directorate of Education Gilgit-Baltistan
Deputy Commissioner Shigar, GB
اٹیچمنٹ کلچر کا خاتمہ—اب اساتذہ اپنے اصل اسٹیشنز پر واپس آئیں!
چیف منسٹر گلگت بلتستان کی جانب سے دوسرے اسٹیشنوں پر اٹیچ اساتذہ کو ان کے اصل تعیناتی اسٹیشنز پر واپس بھیجنے کے احکامات ایک قابلِ تحسین اور دیرینہ مسئلے کے حل کی جانب اہم قدم ہے۔ ہم اس فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس پر بلاامتیاز، فوری اور عملی طور پر عملدرآمد ہوگا۔
مگر الچوڑی کے عوام کا مسئلہ ذرا زیادہ سنگین ہے۔
الچوڑی کے سرکاری سکول گزشتہ کئی سالوں سے اساتذہ کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ طلبہ کی تعداد اور تعلیمی ضروریات کے مقابلے میں پہلے ہی اساتذہ کم ہیں، اوپر سے ہمارے سکولوں کے LPC پر موجود 9 اساتذہ گزشتہ کئی سالوں سے الچوڑی سے باہر مختلف جگہوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔.کسی کو دس سال ہوچکے ہیں، کسی کو سات سال اور کسی کو پانچ سال یا اس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے کہ وہ اپنے اصل تعیناتی اسٹیشن سے باہر بیٹھے ہیں۔
یہ صورتحال انتہائی سنجیدہ سوال پیدا کرتی ہے:
اگر کسی استاد کی سرکاری تعیناتی الچوڑی کے سکول میں ہے تو پھر وہ برسوں سے کسی دوسرے مقام پر کیوں ہے؟
اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس استاد کی جگہ الچوڑی کے بچوں کو کون پڑھائے؟
آج صورتحال یہ ہے کہ ہمارے والدین اپنی مدد آپ کے تحت Community Teachers ہائر کرنے پر مجبور ہیں، اپنی جیب سے اخراجات برداشت کر رہے ہیں، صرف اس لیے کہ ان کے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہ سکے۔
دوسری جانب سرکاری طور پر ہمارے سکولوں کے LPC پر موجود Qualified & Professional Teachers اپنی اصل جائے تعیناتی سے باہر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یہ صرف ایک سکول کا مسئلہ نہیں؛ یہ ہمارے بچوں کے تعلیمی حق کا مسئلہ ہے۔
الچوڑی کے سکولوں پر پہلے ہی طلبہ کا بوجھ زیادہ ہے۔ محدود تعداد میں موجود اساتذہ پر اضافی کلاسز، اضافی طلبہ اور اضافی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال کر معیارِ تعلیم برقرار رکھنا آسان نہیں۔ جب دستیاب سرکاری اساتذہ بھی اپنے اصل اسٹیشن پر موجود نہ ہوں تو اس کا براہِ راست نقصان الچوڑی کے بچوں کو ہوتا ہے۔
ہم کسی استاد کے خلاف ذاتی مہم نہیں چلا رہے۔
ہم صرف نظام میں موجود ایک غیرمنصفانہ صورتحال کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سرکاری ملازمت صرف ماہانہ تنخواہ لینے کا نام نہیں، یہ ایک امانت اور ذمہ داری ہے۔ حکومت جس جگہ تعینات کرے، وہاں ڈیوٹی دینا ہی اصل فرض ہے۔
ہم اپنے تمام معزز اساتذہ سے بھی انتہائی احترام کے ساتھ مگر دوٹوک گزارش کرتے ہیں:
خدارا! اپنے اصل اسٹیشن پر واپس آئیں۔
جن بچوں کے نام پر آپ کی پوسٹنگ ہوئی ہے، انہیں بھی آپ کی ضرورت ہے۔
جس سکول کے لیے آپ کی آسامی منظور ہوئی ہے، اس سکول کا بھی آپ پر حق ہے۔
آپ کو جہاں حکومت نے تعینات کیا ہے، وہیں ڈیوٹی دینا چاہیے—تاکہ آپ کی محنت بھی بامقصد ہو اور آپ کی تنخواہ بھی حقیقی معنوں میں حلال ہو۔
ہم متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں:
الچوڑی کے سکولوں کے LPC پر موجود تمام 9 اساتذہ کو فوری طور پر اپنے اصل تعیناتی اسٹیشن پر واپس بھیجا جائے، ان کی حاضری یقینی بنائی جائے اور الچوڑی کے سکولوں کو ان کا جائز تدریسی حق واپس دیا جائے۔۔۔۔

23/08/2026

Imran Nadeem
Deputy Commissioner Shigar, GB
Assistant Commissioner /SDM Shigar Official

چھقپو کی بجلی: اب عوام کے صبر کا امتحان مت لو!
برالدو سے الچوڑی تک ہزاروں عوام گزشتہ ایک ماہ پانچ دن سے اندھیرے میں ہیں، اور اس پورے عرصے میں جس اذیت، بے بسی اور کرب سے لوگ گزرے ہیں، اسے چند سرکاری بیانات اور دفتری وضاحتوں سے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ تقریباً 200 فٹ کوہل کی دیوار کی تعمیر کے لیے پینتیس دن تک ایک پوری آبادی کو بجلی سے محروم رکھا گیا۔ عوام نے یہ سوچ کر صبر کیا کہ کوہل مکمل ہوگا تو 20 تاریخ سے بجلی بحال ہوجائے گی اور شاید گھروں کے اندھیرے ختم ہوں گے۔ مگر کوہل مکمل ہونے اور پانی چھوڑنے کے بعد کولر کی لیکیج سامنے آگئی اور مزید دو دن بجلی کا انتظار کرنا پڑا۔ اس کے بعد جب بجلی آئی تو اتنی کمزور تھی کہ موبائل تک چارج کرنا مشکل تھا۔ پوچھا گیا تو بتایا گیا کہ کہیں لائن شارٹ ہے، مگر شارٹ کا سراغ نہیں مل رہا۔ آج دن میں شارٹ بحال ہونے کے باوجود بجلی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو ایک اور وجہ سامنے آگئی کہ کوہل میں پانی کم ہے۔ پھر گھنٹہ گھنٹہ بجلی بند ہوتی رہی اور آج شام سے دوبارہ مکمل اندھیرا ہے۔
آخر یہ سلسلہ کب ختم ہوگا؟
دل اس بات پر خون کے آنسو روتا ہے کہ ایک طرف عوام پینتیس دن سے بنیادی سہولت کے لیے ترس رہے ہیں اور دوسری طرف ذمہ دار اداروں کے پاس ہر دن ایک نیا جواز موجود ہے۔ کبھی کولر، کبھی لائن، کبھی پانی؛ مگر کسی کے پاس یہ جواب نہیں کہ آخر چھقپو کے ہزاروں عوام کو مستقل بجلی کب ملے گی؟
محکمہ برقیات کے افسران اور اہلکاروں سے صرف اتنا کہنا ہے کہ کبھی اپنی سرکاری کرسی سے باہر نکل کر ان گھروں کا حال بھی دیکھیں جہاں بچے اندھیرے میں پڑھنے پر مجبور ہیں، جہاں بزرگ رات کو روشنی کے محتاج ہیں، جہاں بیماروں کے لیے بجلی ایک بنیادی ضرورت ہے اور جہاں عام آدمی موبائل چارج کرنے کے لیے بھی پریشان ہے۔ آپ کے لیے یہ ایک تکنیکی خرابی یا ایک معمولی فالٹ ہوسکتا ہے، مگر عوام کے لیے یہ ہر گھنٹے کی اذیت، ہر رات کی بے بسی اور ہر دن کی مشکلات ہے۔
سرکاری عہدہ عوام پر احسان نہیں، ایک امانت ہے۔ عوام کے پیسوں سے تنخواہ لینے والے افسران اور اہلکار عوام کی بنیادی ضروریات کے ذمہ دار ہیں۔ اگر ایک چھوٹے سے بجلی کے نظام کو چلانے کے لیے ہر روز نیا بہانہ درکار ہو تو پھر سوال صرف خرابی کا نہیں، انتظامی نااہلی، غفلت اور جواب دہی کا ہے۔
ڈی سی شگر، اے سی شگر، محکمہ برقیات کے ایکسیئن، ایس ڈی او، متعلقہ لائن اسٹاف اور تمام ذمہ دار افسران سے ہمارا واضح مطالبہ ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے، ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور عوام کو مزید بہانوں کے بجائے مستقل بجلی فراہم کی جائے۔
اور اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی محترم عمران ندیم صاحب سے خصوصی اپیل ہے کہ خدارا چھقپو کے اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں۔ متعلقہ حکام سے جواب طلب کریں اور اپنی مداخلت سے اس بحران کا مستقل حل یقینی بنائیں۔ ہزاروں عوام اس وقت آپ کی طرف امید سے دیکھ رہے ہیں۔
ہم نے بہت صبر کیا، بہت انتظار کیا، بہت سے وعدے سنے اور بہت سے بہانے برداشت کیے۔ اب عوام کو مزید تسلیاں نہیں چاہئیں۔ بجلی چاہیے، مستقل چاہیے اور ذمہ دار اداروں کی جواب دہی کے ساتھ چاہیے۔
عوام کا صبر ان کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ یہ وہی عوام ہیں جو مشکل وقت میں ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، مگر ان کے اپنے مشکل وقت میں اگر ادارے انہیں تنہا چھوڑ دیں تو یہ صرف بجلی کا بحران نہیں رہتا، بلکہ عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کا بحران بن جاتا ہے۔
خدارا، اس سے پہلے کہ لوگوں کا صبر جواب دے، ذمہ داران جاگ جائیں۔ ہمیں اندھیرے سے نکالیں، بہانوں سے نہیں بلکہ عملی اقدام سے۔۔۔۔

دارالرحمہ الچوڑی — ایک روشن مستقبل کی بنیاددارالرحمہ الچوڑی کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔بابُ العلم فاؤنڈیشن UK کی جانب ...
23/08/2026

دارالرحمہ الچوڑی — ایک روشن مستقبل کی بنیاد
دارالرحمہ الچوڑی کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔
بابُ العلم فاؤنڈیشن UK کی جانب سے، پاکستان میں محترم شیخ عابدین صاحب کی زیرِ نگرانی، یہ منفرد منصوبہ سنگِ بنیاد سے تکمیل تک صرف تین ماہ میں مکمل ہوا۔
یہ شفقتِ پدری سے محروم بچوں کے لیے ایک جدید ادارہ ہے، جہاں تعلیم، رہائش، طعام، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی۔
افتتاحی تقریب میں قائدِ بلتستان شیخ جعفری صاحب، آغا باقر صاحب، اسپیکر جی بی اسمبلی عمران ندیم صاحب سمیت علماء، سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام نے بھرپور شرکت کی۔
دارالرحمہ صرف ایک ادارہ نہیں، ایک روشن مستقبل کی امید ہے۔
بابُ العلم فاؤنڈیشن اور تمام معاونین کو خراجِ تحسین۔
امید ہے یہ خوبصورت سفر بلتستان میں مزید ایسے فلاحی منصوبوں کا آغاز بنے گا۔ ❤️

15/08/2026

Office of the Chief Secretary, Gilgit Baltistan
Chief Minister Gilgit-Baltistan House Gilgit
Imran Nadeem
Gilgit-Baltistan Public Works Department Gilgit - GB PWD
Deputy Commissioner Shigar, GB
Assistant Commissioner /SDM Shigar Official
الچوڑی سے برالدو تک ہزاروں نفوس۔۔۔۔ایک ماہ کا اندھیرا، حکام کی بے حسی!
ضلعی انتظامیہ اور محکمہ برقیات! آخر اس عوام نے آپ کا کیا بگاڑا ہے؟
پورا ایک ماہ گزر گیا۔ ہزاروں لوگ بجلی کے بغیر ہیں۔ گھروں میں اندھیرا ہے، بچوں کی تعلیم متاثر ہے، کاروبار تباہ ہیں، مریض اور بزرگ اذیت میں ہیں، موبائل رابطہ تک بجلی کا محتاج ہو کر بیٹھا ہے اور دوسری طرف متعلقہ ادارے ایسے خاموش ہیں جیسے یہاں کے عوام انسان ہی نہ ہوں!
بجلی گھر کے کوہل کی خرابی کوئی ایسا آسمانی مسئلہ نہیں جسے حل کرنے میں مہینے لگ جائیں۔ یہ بحالی کا کام تھا، اور اگر نیت، سنجیدگی اور مناسب وسائل موجود ہوں تو اسے بہت پہلے مکمل کیا جا سکتا تھا۔
مگر یہاں مسئلہ شاید کوہل کا نہیں، محکمے کی سستی، غفلت، لاپرواہی اور انتظامیہ کی بے حسی کا ہے۔
کئی دنوں سے کام جاری ہونے کے دعوے سن رہے ہیں، لیکن کام کی رفتار دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عوام کو بجلی نہیں، صبر کا امتحان دیا جا رہا ہے۔۔۔۔
اگر ایک علاقے کے ہزاروں لوگ ایک ماہ تک اندھیرے میں رہیں اور ضلعی انتظامیہ کے کسی افسر کی نیند خراب نہ ہو، تو پھر سوال بجلی کا نہیں، حکومتی ترجیحات کا ہے۔
اگر چند دنوں میں مکمل ہونے والا کام ایک ماہ بعد بھی مکمل نہیں ہوا تو متعلقہ افسران عوام کو بتائیں:
کس کی غفلت ہے؟کس کی نااہلی ہے؟کام کی رفتار جان بوجھ کر سست ہے یا انتظامی صلاحیت ہی ختم ہو چکی ہے؟ضروری مشینری اور افرادی قوت کیوں نہیں لگائی گئی؟
اور عوام کو اس اذیت میں مزید کتنے دن رکھا جائے گا؟
ہمیں وہی روایتی جواب نہیں چاہیے کہ "کام جاری ہے"۔
عوام ایک ماہ سے دیکھ رہے ہیں کہ کام کتنا جاری ہے!
سرکاری دفاتر میں بیٹھ کر فائلوں پر "کام جاری ہے" لکھ دینا آسان ہے، مگر ایک ماہ تک اندھیرے میں بیٹھے خاندانوں سے پوچھیں کہ ان پر کیا گزر رہی ہے۔
اور ذرا یہ بھی یاد رکھا جائے کہ الچوڑی کوئی ویران پہاڑ نہیں جہاں چند لوگ رہتے ہوں۔ یہاں ہزاروں انسان آباد ہیں، بچے ہیں، طالب علم ہیں، مریض ہیں، بزرگ ہیں، کاروبار ہیں اور گھر ہیں۔۔۔اگر حکام کو عوام کی تکلیف نظر نہیں آتی تو کم از کم اپنی ذمہ داری ضرور نظر آنی چاہیے۔
الچوڑی یوتھ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ برقیات کو واضح الفاظ میں متنبہ کرتی ہے کہ اب مزید سستی، غفلت، بہانے اور طفل تسلیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔۔کوہل کی بحالی کیلئے جو ڈیڈ لائن دیا ہے اگر ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرکے بجلی بحال نہیں ہوتا ہے تو پھر عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔اس سے پہلے بجلی فوری بحال کرو۔۔کام میں تاخیر کی وجہ عوام کو بتاؤ۔۔۔اور اگر کسی کی غفلت سے یہ بحران طول پکڑ رہا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کرو۔
عوام کسی افسر یا محکمے سے احسان نہیں مانگ رہے۔ بجلی ان کا بنیادی حق ہے۔کل تک عوام ووٹ دینے کے لیے ضروری تھے، آج بنیادی سہولت مانگ رہے ہیں تو اتنے غیر اہم کیوں ہو گئے؟ ہزاروں عوام کو ایک ماہ اندھیرے میں رکھنا صرف غفلت نہیں؛ یہ عوامی مسائل سے بدترین بے حسی کی مثال ہے۔۔۔۔

02/08/2026


Deputy Commissioner Shigar, GB
Gilgit-Baltistan Public Works Department Gilgit - GB PWD
کیا الچوڑی سے برالدو تک کے لوگ انسان نہیں؟
آخر ہمارا جرم کیا ہے؟
کیا ہم اس ریاست کے شہری نہیں؟ کیا ہمارے بچوں کو روشنی میں پڑھنے کا حق نہیں؟ کیا ہمارے بیماروں کو بروقت علاج، ہمارے بزرگوں کو سکون، اور ہمارے کاروبار کو چلنے کا حق نہیں؟
دس دن سے زائد گزر چکے ہیں، مگر الچوڑی سے برالدو تک ہزاروں گھرانے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
یہ صرف بجلی کی بندش نہیں، بلکہ ہزاروں انسانوں کی زندگی مفلوج ہو چکی ہے۔
بیمار مریض اذیت میں ہیں، طلبہ کا تعلیمی نقصان ہو رہا ہے، دکانیں بند ہیں، کاروبار تباہ ہو رہے ہیں، پانی کی فراہمی متاثر ہے، اور سب سے بڑھ کر بجلی بند ہوتے ہی الچوڑی کی ایس سی او بی ٹی ایس بھی بند ہو جاتی ہے۔ پورا علاقہ موبائل سگنل سے محروم ہو جاتا ہے۔ اگر خدانخواستہ رات کے اندھیرے میں کسی مریض کی جان خطرے میں پڑ جائے یا کوئی حادثہ پیش آ جائے تو ذمہ دار کون ہوگا؟
قدرتی آفت پر کسی کا اختیار نہیں، لیکن سستی، ناقص منصوبہ بندی اور بحران سے نمٹنے میں تاخیر پر ضرور سوال اٹھتے ہیں۔
عوام میں شدید تشویش ہے کہ مرمتی کام کی رفتار اس ہنگامی صورتحال کے مطابق نہیں۔ اگر واقعی افرادی قوت اور مشینری ناکافی ہے تو یہ ناقابلِ قبول ہے۔ ایسے کام دن رات، اضافی عملے اور بھاری مشینری کے ساتھ جنگی بنیادوں پر کیے جاتے ہیں، نہ کہ محدود وسائل کے سہارے ہزاروں لوگوں کو ہفتوں تک اندھیرے میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ہم ڈپٹی کمشنر شگر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر متعلقہ ٹھیکیدار، انجینئرز اور ذمہ دار افسران کو طلب کریں، کام کی رفتار اور معیار کا خود جائزہ لیں، افرادی قوت اور مشینری میں فوری اضافہ کرائیں، اور اگر کسی قسم کی غفلت یا معاہدے کی خلاف ورزی سامنے آئے تو قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
ہم اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی جناب عمران ندیم صاحب سے بھی پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری نوٹس لیں۔ ہزاروں لوگ مسلسل تکلیف میں ہیں۔ عوام کو یقین ہے کہ آپ اس مسئلے کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو متحرک کریں گے تاکہ بجلی جلد از جلد بحال ہو۔
ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے۔
اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے، مرمتی کام میں تیزی نہ لائی گئی، اور عوام کو واضح ٹائم لائن نہ دی گئی، تو الچوڑی سے برالدو تک کے عوام اپنے آئینی اور پرامن حق کے تحت سخت عوامی احتجاج پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں اور ذمہ دار حکام پر عائد ہوگی۔
اب فیصلے کا وقت ہے... یا عوام کو روشنی دیں، یا پھر عوام کے سوالوں اور احتجاج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔

10/06/2026
02/06/2026

Chief Minister Gilgit-Baltistan

Deputy Commissioner Shigar, GB
Water and Power Division Shigar
عوام اندھیرے میں، محکمہ پاور سیاسی مصروفیات میں۔۔۔۔

بہا سے لے کر الچوڑی، حیدرآباد اور برالدو تک ہزاروں لوگ روزانہ ایک ایسے عذاب سے گزر رہے ہیں جس کا شاید ان لوگوں کو احساس ہی نہیں جن کے سپرد عوام کو بجلی فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے۔ یہاں بجلی کی فراہمی ایک بنیادی حق نہیں بلکہ ایک غیر یقینی سہولت بن چکی ہے۔ جب دل چاہے بجلی آ جائے، جب دل چاہے غائب ہو جائے، اور اس کے بعد بہانوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے۔
کبھی کراس کٹ گیا، کبھی پول گر گیا، کبھی فیوز خراب ہوگیا، کبھی کوہل میں پانی کم ہوگیا، کبھی بارش ہوگئی۔ گویا پورا نظام چند تاروں اور لکڑی کے کھمبوں کے سہارے کھڑا ہے۔ حیرت یہ ہے کہ سالہا سال گزرنے کے باوجود خرابیاں وہی ہیں، مسائل وہی ہیں، بہانے وہی ہیں اور عوام کی محرومیاں بھی وہی ہیں۔
مگر اس سے بھی زیادہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب پورا علاقہ اندھیروں میں ڈوبا ہوتا ہے تو متعلقہ عملے کے ایک بڑے حصے کی ترجیحات کہیں اور نظر آتی ہیں۔ عوام بجلی کی بحالی کے انتظار میں بیٹھی ہوتی ہے جبکہ بعض ملازمین اور متعلقہ اہلکار سیاسی سرگرمیوں، سیاسی بیٹھکوں اور انتخابی ماحول میں زیادہ متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ سرکاری ملازم اگر اپنی ذمہ داریوں سے زیادہ سیاسی سرگرمیوں میں دلچسپی لینے لگیں تو پھر عوامی مسائل کا یہی حال ہونا تھا۔
عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ کیا سب انجینئر، آر ای اور ایکسین صاحبان کی ذمہ داری صرف دفتری حاضری لگانا ہے یا عوام کو بنیادی سہولت فراہم کرنا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے؟ اگر ہزاروں لوگ کئی کئی دن اندھیرے میں رہیں، طلبہ کی تعلیم متاثر ہو، بیمار مشکلات کا شکار ہوں، کاروبار تباہ ہوں اور لوگوں کو معمولی خرابی ٹھیک کروانے کے لیے میلوں سفر کرنا پڑے تو پھر ان عہدوں اور اختیارات کی افادیت کیا رہ جاتی ہے؟
الچوڑی کے عوام کو آج بھی معلوم ہے کہ کئی بار ایک پول کھڑا کروانے، ایک لائن بحال کروانے یا معمولی خرابی دور کروانے کے لیے گھنٹوں اور بعض اوقات پورا دن ضائع کرنا پڑتا ہے۔ عوام گاڑیاں کرے، سفر کرے، منتیں کرے، درخواستیں دے، تب جا کر کہیں کوئی حرکت ہوتی ہے۔ یہ خدمت نہیں، عوام کی توہین ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک خطرناک سوچ پروان چڑھ چکی ہے کہ عوام خاموش ہے تو سب ٹھیک ہے۔ حالانکہ خاموشی رضامندی نہیں ہوتی، اکثر خاموشی بے بسی ہوتی ہے۔ لوگ اس لیے نہیں بولتے کہ ان کے پاس وقت نہیں، وسائل نہیں، یا انہیں یقین نہیں کہ کوئی سنے گا۔
اگر محکمہ پاور کے ملازمین، لائن مین، سب انجینئر، آر ای اور ایکسین صاحبان اپنی تمام تر توجہ عوامی خدمت اور نظام کی بہتری پر مرکوز کرتے تو شاید آج بہا سے برالدو تک لوگ روز روز اندھیروں کا شکار نہ ہوتے۔ مگر جب جوابدہی کمزور ہو جائے، فرائض ثانوی اور ذاتی و سیاسی مصروفیات ترجیح بن جائیں تو پھر نقصان ہمیشہ عوام کا ہی ہوتا ہے۔
عوام کو ترقی کے دعوے نہیں چاہییں، عوام کو رپورٹس اور وضاحتیں نہیں چاہییں، عوام کو صرف وہ بجلی چاہیے جو ان کا بنیادی حق ہے۔ اور اگر ایک محکمہ اپنے بنیادی مقصد یعنی بجلی کی مسلسل فراہمی میں ناکام ہو جائے تو عوام کو سوال اٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔
آج بہا، الچوڑی، حیدرآباد اور برالدو کے لوگ صرف بجلی کی کمی کا شکار نہیں، بلکہ ایک ایسے رویے کا شکار ہیں جس میں عوام کی تکلیف کو اہمیت دینا چھوڑ دیا گیا ہے۔ اور جب کسی نظام میں عوام کی تکلیف غیر اہم ہو جائے تو پھر خرابی تاروں میں نہیں، سوچ میں ہوتی ہے۔۔۔ ہم چیف الیکشن کمشنر، چیف سیکرٹری، سیکرٹری پاور، چیف انجنیئر، ڈی سی شگر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان تمام بے حس، غافل، حرام خوروں سے جواب طلبی کریں کہ آیا انکو سرکار نے عوام کو سہولیات دینے کیلیے بھرتی کیا ہے یا انکو آرام سے اپنے دفاتر، گھروں اور نجی مصروفیات میں گزارنے کیلئے۔۔۔۔

01/06/2026

Deputy Commissioner Shigar, GB
Water and Power Division Shigar
کچھ ملازم سیاسی جلسے میں کچھ سکردو میں آج دوپہر سے داسو سے نیچے بجلی بند جمپر لگانے والا کوئی نہیں۔۔۔

Address

Skardu

Telephone

+923115520944

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Alchori Youth Parliament Shigar - AYP Shigar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category