17/11/2025
میں بندۂ عاصی ہوں خطا کار ہوں مولا
لیکن تری رحمت کا طلب گار ہوں مولا
وابستہ ہے امید مری تیرے کرم سے
تیرا ہوں فقط تیرا پرستار ہوں مولا
اک سوت کی انٹی مرے سانسوں کا اثاثہ
اور یوسف ہستی کا خریدار ہوں مولا
باہر کے اجالے مجھے کیا راہ سجھائیں
اندر کے اندھیروں میں گرفتار ہوں مولا
تاریخ بھی میری نہیں پہچانتی مجھ کو
کیسا میں یہ جغرافیہ بردار ہوں مولا
جن سے میں گزر جاؤں وہ در کھول دے مجھ میں
خود اپنے ہی رستے کی میں دیوار ہوں مولا
یہ نقطۂ اسود بھی مرے دل سے مٹا دے
سینے میں چھپے چور سے بیزار ہوں مولا
پھر تو مرے ایمان کو توانائی عطا کر
برسوں نہیں صدیوں سے میں بیمار ہوں مولا
پستی سے ابھرنے کی اگر شرط ہے سولی
سولی پہ بھی چڑھنے کو میں تیار ہوں مولا
اتنا ہی ڈبو دے مجھے دریائے عمل میں
جتنا بھی میں اب تشنۂ کردار ہوں مولا
اک تیرا اشارہ ہو اور آسان ہو مشکل
اک لہر اٹھے اور میں اس پار ہوں مولا