13/08/2026
سولرائزیشن شانگلہ — حقائق واضح کریں
سولرائزیشن کے حوالے سے مختلف سوشل میڈیا ورکرز کی جانب سے غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، اس لیے حقائق عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہیں۔
تقریباً 1 کروڑ روپے کے فنڈز شوکت علی یوسفزئی کی جانب سے سولرائزیشن کے لیے ہیں، جبکہ 50 لاکھ روپے کے فنڈز سید فرین خاندان کے ہیں، جن میں سے صرف 30 سولر مساجد کو حوالے کیے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی IDP کی کاپی 2021ء کی ہے۔ اُس وقت صوبے میں وزیرِاعلیٰ محمود خان تھے اور یہ منصوبہ ایک این جی او اور P**O کے ذریعے تھا۔ اُس وقت شانگلہ کی مختلف یونین کونسلز کی مساجد میں 6 کے وی کے سولر سسٹم نصب کیے گئے تھے، جن میں پیرآباد اور پاگوڑئ کی مساجد بھی شامل تھیں۔
نوٹ: اُس وقت فواد علی نور پاکستان پیپلز پارٹی میں تھے، اس لیے 2021ء کے اس منصوبے کو موجودہ سولرائزیشن کے ساتھ جوڑنا درست نہیں۔
جہاں تک موجودہ اور باقی سولرائزیشن کا تعلق ہے، فواد علی نور اپنی جیب سے اور بیرونِ ملک مختلف مکتبۂ فکر کی تنظیموں سے تعاون حاصل کرکے مساجد کو سولر سسٹم فراہم کر رہے ہیں۔
ہم کھلی وضاحت اور مناظرے کے لیے تیار ہیں۔ اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ موجودہ سولرائزیشن صوبائی حکومت کے فنڈز سے ہو رہی ہے تو ہم سیاست اور ٹھیکیداری چھوڑ دیں گے۔ لیکن اگر یہ ثابت نہ کر سکے تو جو لوگ مسلسل الزام تراشی کر رہے ہیں اور خود کو عوامی لیڈر سمجھتے ہیں، انہیں بھی اپنے سیاسی دعووں پر غور کرنا چاہیے۔
اور اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ جھوٹے الزامات سے شانگلہ کی مساجد کی سولرائزیشن یا واٹر ٹینک کا کام رک جائے گا تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔
کل یونین کونسل میرہ میں واٹر ٹینک دیا، اور آج دندئی کی مساجد کے لیے صاف پانی کی فراہمی کی خاطر واٹر ٹینک دیے جائیں گے۔ خدمت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
جو لوگ 20 سال سے شانگلہ میں سیاست کر رہے ہیں، انہیں صرف 20 سولر سسٹم ملے، مگر افسوس کہ عوام کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کن مساجد کو دیے گئے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ان میں سے کچھ اپنے یونین کونسل اور بعض دوستوں کے ڈیروں تک محدود رہے۔
سوال یہ ہے کہ جو لوگ گزشتہ 20 سال سے خود کو شانگلہ میں سیاسی حریف سمجھتے ہیں، انہوں نے خود مساجد کے لیے یہ کام کیوں نہیں کیا؟ کیا عوام ان کی بات نہیں سنتے؟
مساجد اللہ کے گھر ہیں۔ ان کی خدمت کو سیاسی مخالفت اور ذاتی حسد کی نذر نہ کریں۔
اختلاف کریں، مگر حقائق اور ثبوت کے ساتھ۔
ہم خدمت