26/07/2025
"اخلاص کا مسافر، علم و عمل کا راہی: حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی"
از قلم : ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم (چئیرمین گلوبل ہینڈز پاکستان )
جب نسبتیں فقط نام نہ رہیں بلکہ سانسوں میں اتر کر مزاج کا حصہ بن جائیں، جب خدمت، عبادت کا روپ دھار لے، جب دعوتِ دین فقط وعظ نہیں بلکہ سلوکِ عمل بن جائے، اور جب علم فقط صفحات پر نہیں، چہرے پر چمکتا نور بن جائے—تو ایسی شخصیت ایک فرد نہیں، ایک فکر، ایک پیغام بن جاتی ہے۔حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی صاحب کا وجود ایسی ہی ایک خوشبو ہے جو وقت کی وسعتوں میں پھیلتی جا رہی ہے۔ ان کا ہر قدم، ہر حرف اور ہر نعرہ نسبتِ مصطفیٰ ﷺ اور تربیتِ شیخ کی ترجمانی کرتا ہے۔ ان کے لبوں پر گونجنے والا نعرہ "مصطفائی، مصطفائی" محض آواز نہیں، ایک روحانی پہچان ہے جو دلوں کو جھنجھوڑتی اور ذہنوں کو بیدار کرتی ہے۔
ان کا سادہ سا تعارفی جملہ، "فقیر مصطفائی مقصودی" گویا ایک جامعہ ہے، جس میں عشقِ رسول ﷺ کی مہک، اطاعتِ شیخ کا رنگ، خدمتِ دین کی روشنی، اور اصلاحِ باطن کی گرمی یکجا ہو گئی ہے۔مختصر کہوں تو اگر کسی شخصیت کی شناخت محبتِ رسول ﷺ، نسبتِ شیخ، خدمتِ خلق اور دعوتِ دین ہو تو وہ زمانے میں مقبول بھی ہوتی ہے اور مقبولِ خدا بھی۔ حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی کا شمار انہی منتخب ہستیوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنی نسبتوں کو اپنی شناخت بنا لیا، اور جن کا ہر عمل، ہر سفر اور ہر نعرہ، "مصطفائی" اور "مقصودی" نسبت کا آئینہ دار ہے۔
🔹 ذاتی معلومات
حضرت محمد فیاض صاحب کا پورا نام محمد فیاض ہے، اور انگریزی میں انہیں Muhammad Fayyaz کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا تعلق ضلع سرگودھا کی خوبصورت تحصیل ساہیوال کے ایک روح پرور گاؤں نہنگ سے ہے، جو علم و عرفان کے چراغوں سے جگمگاتا رہتا ہے۔ ایک عام مگر باکردار فرد سے لے کر روحانی راستوں کے ایک راہی بننے تک، ان کا سفر نہایت سادگی، استقامت اور عقیدت سے مزین رہا ہے۔
🔹 روحانی نسبت
فیاض صاحب کا دل نسبتِ مصطفائی سے روشن ہے اور وہ اپنے شیخِ کامل حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مقصود الٰہی نقشبندی کے روحانی فیضان سے منور ہیں، جو کہ اسلامی روحانی مشن کے سرپرستِ اعلیٰ بھی ہیں۔ اسی نسبت سے انہیں "مصطفائی مقصودی" کہا جاتا ہے، جو ان کی شناخت اور پہچان بن چکی ہے۔ یہ صرف ایک نسبت نہیں بلکہ ایک مسلسل روحانی تربیت، فکری سرفرازی اور سلوک کا راستہ ہے، جس میں انہوں نے اپنے شیخ کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلتے ہوئے خود کو سنوارا۔
🔹 یادگار لمحہ – 1996
حضرت فیاض صاحب کی روحانی زندگی کا ایک اہم اور یادگار لمحہ 1996 میں آیا، جب انہوں نے جھمٹانوالہ، ضلع سرگودھا میں ایک تاریخی موقع پر حضرت ضیاءالامت کی زیارت کی۔ یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ انجمن طلباء اسلام کے تحت منعقدہ ریلی میں شریک تھے۔ اسی ریلی میں انہوں نے پرجوش انداز میں نعرہ لگایا:
"انجمن کا ہر سپاہی، مصطفائی مصطفائی!"
یہ نعرہ نہ صرف ان کی جذباتی وابستگی کا اظہار تھا، بلکہ بعد ازاں یہی نعرہ ان کی مستقل شناخت بن گیا۔ ان کے لہجے میں اخلاص تھا، لہجے میں عقیدت تھی، اور دل میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا خلوص موجزن تھا۔ یوں یہ نعرہ صرف الفاظ نہ رہا بلکہ ان کی شخصیت کا ترجمان بن گیا۔
خاندانی پس منظر: خدمتِ قرآن کی خوشبو سے مہکتا ایک گھرانہ
کسی بھی شخصیت کے کردار، رجحانات اور روحانی میلان میں اس کے خاندانی ماحول اور تربیت کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی صاحب کا خاندانی پس منظر ایک ایسے روشن چراغ کی مانند ہے، جس کی لو قرآنِ کریم کی خدمت، روحانی اقدار اور سادگی کے تیل سے فروزاں ہے۔
🔹 والدِ گرامی:
روحِ قرآن کے امین: قاری منظور احمدؒ
حضرت محمد فیاض مصطفائی صاحب کے والدِ گرامی، قاری منظور احمد (رحمہ اللہ)، ایک باعمل عالمِ دین، استاذ الحفاظ، اور روحِ قرآن کے سچے امین تھے۔ ان کی پوری زندگی تعلیمِ قرآن، تجوید کی باریکیوں، اور اخلاقِ نبوی ﷺ کے فروغ میں بسر ہوئی۔ وہ نہ صرف قرآن پڑھاتے تھے بلکہ اپنے شاگردوں کو قرآن کے ساتھ جینے کا سلیقہ بھی سکھاتے۔ ان کی درسگاہ صرف حروف کی ادائیگی کا مرکز نہ تھی، بلکہ وہ ایک ایسی روحانی نکہت تھی جہاں ہر لفظ، ہر آیت، دلوں کو جگاتی، فکر کو سنوارتی اور کردار کو نکھارتی۔
سادگی، توکل، تقویٰ اور عاجزی ان کی شخصیت کا ایسا روشن چراغ تھی، جس سے روشنی لے کر سینکڑوں دل منور ہوئے۔ وہ جس محفل میں بیٹھتے، وہاں سکون اتر آتا، اور جس بچے کو قرآن سے جوڑتے، اس کے مقدر میں علم اور ادب لکھ دیا جاتا۔
یہی روحانی جمال، قرآنی نسبت اور اخلاقی میراث، ان کے فرزند محمد فیاض صاحب کی شخصیت میں بھی در آئی — وہی شفقت، وہی وقار، وہی اخلاص اور وہی قرآن سے انس کی مہک آج بھی ان کے مزاج و اطوار میں دکھائی دیتی ہے۔ والدِ محترم کی دعائیں، تربیت اور روحانی اثرات حضرت محمد فیاض صاحب کے لیے ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتے ہیں، جس سے وہ خود بھی منور ہیں اور دوسروں کو بھی منور کر رہے ہیں۔
🔹 والدہ محترمہ:
آپ کی والدہ محترمہ زینت بی بی ایک سادہ مگر روحانی اقدار کی حامل خاتون ہیں۔ زینت بی بی، ایک ایسی عظیم ماں، جنہوں نے ظاہری تعلیم کی دنیا میں شاید زیادہ سفر نہ کیا ہو، لیکن باطنی بصیرت، دینی شعور اور روحانی اقدار کی دولت سے مالامال تھیں۔ ان کی زندگی سادگی کا آئینہ، صبر کا نمونہ، ایثار کی تصویر اور غیرتِ دینی کا روشن مینار تھی۔ ان کی پرورش کا محور دین، دعا اور خدمت تھا۔ وہ نہ صرف ماں تھیں، بلکہ ایک خاموش معلم، ایک بیدار دعاگو اور ایک نرم دل مصلح تھیں۔
ان کے اندازِ زندگی میں ریاکاری کا شائبہ تک نہ تھا۔ گھر کی فضا کو عبادت کی خوشبو سے معطر رکھنے والی یہ عظیم ماں فجر کے سجدوں سے لے کر رات کے آنسوؤں تک، ہر لمحہ اپنے بچوں کے لیے دعاگو رہتیں۔ ان کا دل ایک ایسا چراغ تھا، جو دوسروں کو روشنی دینے میں خود پگھلتا رہا۔انہوں نے اپنے بچوں کو صرف جسمانی غذا نہیں دی بلکہ روحانی غذا بھی فراہم کی۔ ان کے ہاتھوں سے تیار کی گئی روٹی میں محبت، ان کی دعا میں حفاظت، اور ان کی تربیت میں خیر کا جوہر ہوتا۔ حلال و طیب رزق ان کے گھر کی بنیاد تھا، اور وہ کبھی اپنے بچوں کو ایسی لقمہ عطا نہ کرتیں جس میں ذرا سی بھی شکایتِ ضمیر ہو۔
زینت بی بی کی شخصیت میں موجود سلیقہ مندی ان کے معمولاتِ زندگی میں جھلکتی۔ وہ سلیقے سے جینا، سلیقے سے بولنا، اور سلیقے سے دین پر قائم رہنا سکھاتی تھیں۔ ان کی زبان پر اکثر قرآن و حدیث کی باتیں ہوتیں اور دل میں نبی کریم ﷺ سے والہانہ محبت۔ ان کی تربیت کا یہ اثر تھا کہ ان کے بچے علم، ادب، اخلاق اور دین کے مختلف میدانوں میں کامیابی کے چراغ بن کر چمکے۔زینت بی بی کا اصل کمال یہ نہ تھا کہ وہ دنیا کو جانتی تھیں، بلکہ یہ تھا کہ وہ اپنی دنیا کو اللہ کے رنگ میں رنگ چکی تھیں۔ ان کی دعاؤں، نصیحتوں اور تربیتی انداز نے اُن کے گھر کو ایک ایسا گلزار بنا دیا، جہاں سے دین، محبت اور خدمت کی خوشبو آج بھی مہک رہی ہے۔
🔹 خاندانی روایت: خدمتِ قرآن
فیاض صاحب کا پورا خاندان خدمتِ قرآن کو فخر اور سعادت سمجھتا ہے۔ ان کے آبا و اجداد کی زندگی کا محور تعلیمِ قرآن، اس کی تلاوت، اور اس پر عمل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن ان کے گھر کا مرکزی چراغ رہا ہے، جو ہر نسل کو علم، ہدایت اور نور عطا کرتا رہا۔
🔹 ازدواجی و عائلی زندگی
حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی صاحب کی ازدواجی زندگی پُرامن، باوقار اور بااعتماد ہے۔ آپ شادی شدہ ہیں اور آپ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے دو بیٹے اور ایک بیٹی کی نعمت عطا فرمائی ہے۔ وہ اپنی اولاد کی تربیت اسی روحانی ماحول میں کر رہے ہیں، جس میں انہیں خود پروان چڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔
ان کی گھریلو زندگی محبت، اخلاص، اور دینی اقدار پر قائم ہے۔ وہ والد کی حیثیت سے نہ صرف راہنمائی کرتے ہیں بلکہ اولاد کے دلوں میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ، محبتِ قرآن، اور شیخ سے تعلق کی بنیاد مضبوط کر رہے ہیں۔
حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی کا خاندانی پس منظر ایک روحانی پودا ہے، جس کی جڑیں قرآنِ کریم، اخلاص، اور نسبتِ شیخ کی زمین میں پیوست ہیں۔ ان کے والد کی قرآنی خدمت، والدہ کی روحانی تربیت، اور اپنے خاندان کی روایت نے مل کر انہیں ایک ایسی شخصیت میں ڈھالا ہے جو آج نہ صرف خود رشد و ہدایت کی راہوں پر گامزن ہے، بلکہ دوسروں کے لیے بھی چراغِ راہ بن چکی ہے۔
تعلیمی سفر: علم و عرفان کے سنگھاسن پر بیٹھا ہوا ایک خادمِ دین
علم وہ روشنی ہے جو انسان کو نہ صرف راستہ دکھاتی ہے بلکہ منزل کا پتہ بھی دیتی ہے۔ حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی صاحب کا تعلیمی سفر علم کے اسی نور سے عبارت ہے جس میں دینی استقامت، روحانی تربیت اور عصری شعور یکجا ہو کر ان کی شخصیت کو وقار عطا کرتے ہیں۔
🌿 (الف) دینی تعلیم: قرآن و سنت کا فیضان
📖 حفظِ قرآن کریم
ان کا علمی سفر قرآنِ مجید سے آغاز پذیر ہوا، جو علم و حکمت کا سرچشمہ اور ہدایت کا سب سے پہلا زینہ ہے۔ انہوں نے جامعہ رحمانیہ رضویہ، سوہاوہ میں قرآنِ حکیم حفظ کیا۔ وہی نورِ قرآن ان کے قلب و باطن میں سما گیا، جس نے نہ صرف ان کے حافظے کو جلا بخشی بلکہ ان کے دل کو بھی منور کر دیا۔
📚 درسِ نظامی
قرآنی تعلیم کے بعد انہوں نے علومِ دینیہ کی باقاعدہ تحصیل کا آغاز کیا۔ درسِ نظامی کا یہ عظیم سفر انہوں نے کراچی کے معروف ادارے المقصود انسٹیٹیوٹ، سرجانی ٹاؤن سے طے کیا، جہاں انہوں نے عربی زبان، تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، منطق اور دیگر دینی علوم میں گہرائی سے تعلیم حاصل کی۔
🎓 سندِ فراغت (2011)
انہیں 2011 میں درسِ نظامی کی باقاعدہ سندِ فراغت عطا ہوئی۔ اس مقام پر پہنچنا ان کے لیے صرف تعلیمی سنگِ میل نہ تھا بلکہ روحانی بلندی کا در بھی کھل گیا۔
🌺 روحانی تعلیم و تربیت
دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی روحانی تربیت اور باطنی اصلاح کا سفر شیخ المشائخ حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مقصود الٰہی نقشبندی کی زیرِ نگرانی جاری رہا۔ یہ تعلق محض رسمی نہ تھا، بلکہ ارادت، اطاعت، اور تربیت کی خوبصورت مثلث پر قائم تھا۔ انہوں نے اپنے مرشدِ کامل سے نہ صرف باطنی نور حاصل کیا بلکہ مصطفائی نسبت کے تمام تقاضے سیکھے۔
🌿 (ب) عصری تعلیم: خدمتِ خلق کا شعور
💠 ڈگری: DHMS (Diploma in Homeopathic Medical Science)
حضرت فیاض صاحب نے دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم میں بھی دلچسپی لی۔ انہوں نے فاران ہومیوپیتھک کالج، سرگودھا سے DHMS (ڈپلومہ اِن ہومیوپیتھک میڈیکل سائنس) مکمل کیا۔
🏥 علم برائے خدمت
یہ تعلیم ان کے اندر خدمتِ خلق کا جذبہ اجاگر کرنے کا ذریعہ بنی۔ انہوں نے طب کے اس شعبے میں قدم رکھ کر انسانوں کے درد کا مداوا اور جسمانی راحت کے ساتھ ساتھ روحانی رہنمائی کا عمل بھی جاری رکھا۔
حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی صاحب کا تعلیمی سفر ایک جامع اور متوازن نقشہ پیش کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف وہ حافظِ قرآن اور فاضلِ درسِ نظامی ہیں، وہیں دوسری طرف عصری طب کے میدان میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی علمی بصیرت، روحانی تربیت، اور دینی جذبہ، تینوں مل کر ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کا پیکر بناتے ہیں جو علم و عمل کا حسین امتزاج ہے۔
تدریسی و دعوتی خدمات: علم کے چراغ، ہدایت کے قافلہ سالار
علم وہ نعمت ہے جو بانٹنے سے بڑھتی ہے، اور تعلیم وہ صدقہ جاریہ ہے جو نسلوں کی تعمیر کرتا ہے۔ حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی صاحب نے نہ صرف خود علمِ دین حاصل کیا بلکہ اسے عام کرنے کی بھرپور سعی بھی کی۔ ان کی تدریسی و دعوتی زندگی، اخلاص، ایثار اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے مزین ہے۔
🖋 تدریس کا آغاز – 2012
حضرت محمد فیاض صاحب نے 2012 میں تدریس کا باقاعدہ آغاز کیا۔ ان کے اندر علم کی روشنی کو دوسروں تک پہنچانے کا بے پناہ جذبہ تھا۔ وہ محض معلم نہیں بلکہ مربی بھی ہیں — جو نصاب کے ساتھ ساتھ کردار سازی، روحانی تربیت اور اخلاقی تعلیم کو بھی اپنی تدریس کا لازمی جزو سمجھتے ہیں۔
🏫 جامعہ مقصودیہ، فتح والا – علم کا قافلہ
ان کے اخلاص اور علمی بصیرت کا نتیجہ جامعہ مقصودیہ کی بنیاد کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ ادارہ فتح والا (تحصیل ساہیوال) میں قائم کیا گیا، جو دینی تعلیم، تربیت، اور اخلاقی تعمیر کا روشن مرکز بن چکا ہے۔
جامعہ مقصودیہ کا مقصد محض علم دین کی فراہمی نہیں، بلکہ ایسے باعمل علماء، مبلغین، اور خدامِ دین کی تیاری ہے جو معاشرے میں فکری رہنمائی اور روحانی تبدیلی کا ذریعہ بن سکیں۔
🕌 جامعہ زہرا مقصودالبنین والبنات – علم و ادب کا گہوارہ
حضرت فیاض صاحب کی دعوتی فکر صرف مردوں تک محدود نہیں رہی بلکہ خواتین و طالبات کے لیے بھی دینی و روحانی تعلیم کے دروازے کھول دیے۔ اسی مقصد کے تحت جامعہ زہرا مقصودالبنین والبنات کا قیام عمل میں آیا، جو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے دینی علوم، حفظ و ناظرہ، اور اخلاقی تربیت کی خدمات انجام دے رہا ہے۔
یہ ادارہ مصطفائی رنگ میں ڈھلی ہوئی علمی بستی ہے، جہاں ہر سبق کے ساتھ ادبِ مصطفیٰ ﷺ، نسبتِ شیخ، اور فکری بالیدگی کا پیغام دیا جاتا ہے۔
📣 دعوتی خدمات – پیغامِ مصطفیٰ ﷺ کا فروغ
حضرت محمد فیاض صاحب صرف درس و تدریس تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے دعوتی میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ خطابات، دروس، روحانی نشستیں اور تربیتی مجالس کے ذریعے وہ مسلسل پیغامِ مصطفیٰ ﷺ کو عام کر رہے ہیں۔ ان کی دعوت میں سادگی، خلوص، دل سوزی اور روحانیت کی تاثیر نمایاں نظر آتی ہے۔
ان کا اندازِ بیان دل کو چھو لینے والا، اور ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر جملہ نسبتِ مصطفیٰ ﷺ کا عطر لیے ہوتا ہے۔
حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی صاحب ایک ایسے استاد، داعی اور روحانی رہنما ہیں جنہوں نے قلم سے بھی خدمت کی، تقریر سے بھی، اور ادارہ سازی سے بھی۔ ان کے قائم کردہ ادارے آج دینِ اسلام کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔ ان کا مشن صرف علم دین کا فروغ نہیں بلکہ معاشرے کی روحانی اصلاح اور سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی عملی تصویر بنانا ہے۔
دعوت و خطابت: پیغامِ مصطفیٰ ﷺ کا متحرک ترجمان
اللہ تعالیٰ جس دل کو اپنی محبت سے منور کر دیتا ہے، وہ دل پھر خلقِ خدا تک اسی محبت کا پیغام پہنچانے کے لیے بے قرار رہتا ہے۔ حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی صاحب کا شمار ایسے ہی خوش نصیب داعیانِ دین میں ہوتا ہے، جن کے لہجے میں خلوص، الفاظ میں حکمت، اور انداز میں دردِ امت کی جھلک ملتی ہے۔
🗓 دعوت و خطابت کا آغاز – 2006
حضرت محمد فیاض صاحب نے 2006 میں دعوت و خطابت کے میدان میں قدم رکھا۔ ان کا اندازِ گفتگو سادہ، پُرتاثیر اور دل میں اتر جانے والا ہوتا ہے۔ وہ عوام و خواص دونوں کی زبان میں بات کرتے ہیں اور دلوں کو خدا و رسول ﷺ کی طرف موڑنے کا فن جانتے ہیں۔
ہر خطبہ، ہر بیان، اور ہر نشست میں ان کی زبان پر محبتِ رسول ﷺ، عشقِ اہل بیت، ادبِ اولیاء، اور اصلاحِ باطن کا پیغام ہوتا ہے۔ ان کی خطابت میں فکری گہرائی، روحانی تاثیر اور اخلاقی توازن نمایاں ہوتا ہے۔
🧣 خلعتِ خلافت – 2016
دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ روحانی میدان میں بھی حضرت فیاض صاحب نے اپنے مرشدِ کامل حضرت شیخ المشائخ پروفیسر ڈاکٹر محمد مقصود الٰہی نقشبندی کی زیر تربیت تربیتی منازل طے کیں۔ بالآخر 2016 میں انہیں خلعتِ خلافت سے نوازا گیا۔
یہ خرقۂ خلافت صرف ایک رسمی عطا نہ تھی بلکہ ایک روحانی ذمہ داری کا اظہار تھا — کہ اب وہ نہ صرف نسبتِ شیخ کے وارث بنے بلکہ اس نسبت کو دنیا بھر میں پہنچانے کے مجاز اور مکلف بھی قرار پائے۔
🌍 تبلیغی خدمات – پیغامِ ہدایت کا سفیر
حضرت محمد فیاض صاحب کی تبلیغی سرگرمیاں صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے ملک بھر میں تبلیغی دورے کیے۔ شہروں، دیہاتوں، مدارس، خانقاہوں، مساجد، اور تعلیمی اداروں میں انہوں نے عشقِ مصطفیٰ ﷺ، تزکیۂ نفس، سیرت النبی ﷺ، اور روحانی اصلاح کے موضوعات پر بصیرت افروز بیانات کیے۔
🏛 یونیورسٹی سطح پر اظہارِ خیال:
حضرت فیاض صاحب نے مختلف جامعات میں نوجوانوں کے سامنے دعوتی اور فکری موضوعات پر خطابات کیے، جن میں نمایاں ادارے یہ ہیں:
• جامعہ کراچی
• یونیورسٹی آف سرگودھا
• زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد
• نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی
ان درسگاہوں میں انہوں نے نوجوان نسل کو دین کی محبت، روحانیت، سیرتِ طیبہ ﷺ، اور جدید چیلنجز کے دینی حل کے بارے میں بصیرت عطا کی۔ ان کا خطاب نوجوان دلوں میں امید، بصیرت اور تعلقِ مصطفیٰ ﷺ کو جگا دیتا ہے۔
حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی صاحب ایک باوقار داعی، کامیاب خطیب، اور سچے مصطفائی سپاہی ہیں، جنہوں نے علم و روحانیت کو دعوت کے ساتھ جوڑ کر معاشرے میں فکری اور قلبی بیداری پیدا کی۔ ان کا مشن صرف تقریر کرنا نہیں بلکہ دلوں کو جگانا، روحوں کو سنوارنا، اور امت کو نسبتِ مصطفیٰ ﷺ کے رنگ میں رنگنا ہے۔
تصنیفی و تحریری خدمات
اگرچہ حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی صاحب کی تصنیف کردہ کتب کی کوئی باضابطہ فہرست فی الحال موجود نہیں، تاہم ان کی علمی و فکری مصروفیات، تحریکی وابستگی، اور روحانی رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بجا ہو گا کہ وہ وقتاً فوقتاً دینی رسائل، اصلاحی جرائد اور فکری مجلّات میں اپنے مضامین اور تحریروں کے ذریعے علم و عرفان بانٹتے رہے ہیں۔
ان کی تحریروں کا دائرہ کار محدود نہیں، بلکہ ان کے قلم کی روانی نے تصوف، اصلاحِ نفس، روحانیت، اور فکری یکجہتی جیسے اہم موضوعات کو چھوا ہے۔ ان کا اندازِ تحریر سادہ، مگر اثر انگیز ہوتا ہے، جو قاری کو فکر کی گہرائی اور عمل کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
یہ امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں ان کے قلم سے مزید تحقیقی اور روحانی کتب منظرِ عام پر آئیں گی جو نسبتِ مصطفیٰ ﷺ اور اصلاحِ امت کا فریضہ انجام دیں گی۔
اصلاحی اثرات و ہمہ جہت خدمات
حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی صاحب کی زندگی کا مرکزی میدان تصوف اور دعوت ہے، جہاں وہ خلوص، اخلاص اور بے لوث خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر کام کر رہے ہیں۔ ان کی اصلاحی کوششوں سے عوام الناس کی ایک بڑی تعداد نے فکری و روحانی رہنمائی حاصل کی۔
ان کی پہچان بین المسالک ہم آہنگی کا ایک مؤثر نمونہ بن چکی ہے۔ فقیر کی پہچان ہی یہی بن گئی ہے کہ وہ ہر مکتبِ فکر کو عزت دیتا ہے، اختلاف کو وسعتِ ظرف سے سنبھالتا ہے، اور امت کے بکھرے ہوئے دھاگوں کو جوڑنے کی سعی کرتا ہے۔
💠 دیگر نمایاں خدمات:
• اسکاؤٹنگ: قومی سطح پر نوجوانوں کی تربیت کے لیے سرگرم۔ بحیثیت GSL (گروپ اسکاؤٹس لیڈر) کئی کیمپس، ٹریننگز اور عملی سرگرمیوں میں نمایاں کردار۔
• روحانی و متبادل علاج:
ملک گیر سطح پر ہومیوپیتھک، یونانی، اور روحانی علاج فری مہیا کرتے ہیں۔ ان کی یہ خدمت صرف علاج نہیں بلکہ ایک روحانی تعاون ہے، جس کا مقصد دکھی انسانیت کے دکھوں کو کم کرنا ہے۔
اعزازات و کامیابیاں
حضرت فیاض صاحب کو زندگی کے مختلف مراحل میں علمی، تقریری، اور تنظیمی میدانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں:
• مختلف تقریری مقابلوں میں صوبائی اور قومی سطح پر اول پوزیشن حاصل کی۔
• پنجاب اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے مختلف مواقع پر بیسٹ پرفارمنس ایوارڈز سے نوازا گیا۔
یاد گار لمحات :
یادگار لمحہ اول: خرقۂ خلافت کی سرفرازیت
یہ لمحہ ان کی زندگی کا وہ روحانی موڑ ہے جب انہیں ایک مستند روحانی سلسلے سے خرقۂ خلافت سے نوازا گیا۔ یہ صرف لباس کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ ایک روحانی ذمے داری، باطنی تربیت، اور اصلاحی قیادت کا اعلان تھا۔ اس خرقہ نے انہیں تصوف کی روایت، روحانیت کی گہرائی اور عوامی رہنمائی کی طرف مزید پختگی کے ساتھ بڑھنے کی توفیق دی۔
اس لمحے کو وہ نہ صرف اپنے شیخ کے اعتماد کی علامت سمجھتے ہیں بلکہ اسے اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایک منصب کا مقام جانتے ہیں، جس نے ان کی زندگی میں تزکیہ، دعوت اور خدمتِ خلق کو مزید وسعت بخشی۔ وہ اکثر اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے فرمایا کرتے ہیں:
"یہ خرقہ میرے لیے محض ایک چادر نہیں، بلکہ امت کے دکھ درد میں شریک ہونے کا عہد ہے۔"
🕌 یادگار لمحہ دوم: انجمن طلباء اسلام کی ریلی میں نعرۂ حق
طلبہ تنظیم "انجمن طلباء اسلام" کی ریلی میں جب انہوں نے پورے جوش و جذبے کے ساتھ نعرہ بلند کیا:
"انجمن کا ہر سپاہی، مصطفائی مصطفائی"
تو یہ نعرہ صرف ایک آواز نہ رہا، بلکہ تحریک بن گیا۔ یہ الفاظ اُن کی پہچان کا استعارہ اور اُن کے عقیدے کا پرچم بن گئے۔ ان کا یہ نعرہ ریلی کے ہر کارکن، ہر مرحلے، ہر بینر اور ہر جذبے میں سرایت کر گیا۔ بعد ازاں، اس نعرے نے انہیں "مصطفائی مقصودی" کے لقب سے معروف و مقبول بنا دیا۔
یہ نعرہ اُن کے نظریاتی استقامت، عشقِ مصطفیٰ ﷺ، اور تحریکی شعور کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔ ان کے قریبی احباب گواہی دیتے ہیں کہ اس ایک نعرے نے سینکڑوں دلوں میں تحریک کی آگ بھڑکائی، اور نوجوانوں کو عشقِ رسول ﷺ کے قافلے میں شامل کیا۔
موجودہ ذمہ داریاں و منصب
جامعہ مقصودیہ، فتح والا (ضلع سرگودھا) کے علمی اُفق پر روشنی بکھیرتی ایک معتبر اور متحرک شخصیت، حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی اس وقت پرنسپل کی حیثیت سے منصبی فرائض انجام دے رہے ہیں۔
علم و عرفان کے یہ سفیر نہ صرف درس و تدریس میں مصروف ہیں، بلکہ منبر و محراب سے لے کر عوامی اجتماعات تک ان کی آواز اصلاح، محبت اور سچائی کا پیغام بن کر گونجتی ہے۔
روحانی تربیت اور متبادل طبی خدمات کے ذریعے وہ جسم و جاں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔ نوجوانوں میں دعوتی شعور اجاگر کرنا اور باطن کی بیداری کے چراغ روشن کرنا ان کے سفر کا مستقل عنوان ہے۔
ذاتی اوصاف، مطالعہ و مشاغل
حضرت محمد فیاض مصطفائی مقصودی کی شخصیت ایک ایسے چراغ کی مانند ہے جو سادگی، اخلاص اور انکساری کی روشنی سے ماحول کو منور کرتا ہے۔ ان کی گفتگو میں وقار، اور رویّے میں شفقت کی چمک نمایاں ہے۔ وہ دین کو محض رسمی عبادات تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ اسے سراپا عمل، خدمت، اور دل کی گہرائیوں سے جُڑی بندگی کا نام دیتے ہیں۔
کتاب ان کی ہمراز ہے، اور مطالعہ ان کا محبوب مشغلہ۔ ان کے مطالعہ کا دائرہ صرف علم کے صفحات تک محدود نہیں، بلکہ وہ روح کی تہہ تک اترنے والے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں۔ تصوف میں انہیں باطن کی روشنی کی جستجو ہے، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ میں کردار کی معراج کا ادراک، اور دعوت و اصلاحِ معاشرہ میں معاشرتی ارتقا کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔
یہی رجحانات ان کے افکار کو گہرائی، اور پیغام کو وسعت عطا کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف علم کو پڑھتے ہیں بلکہ اسے جیتے ہیں، اور دوسروں میں بانٹنے کا ہنر جانتے ہیں۔