RK Farm

RK Farm Milk and Meat are avialable.

یہ نپل بکری کہ بچوں کو دودھ پلانے کیلیے استعمال ہوتی ہے۔پاکستان بھر میں ڈلیوری کی سہولت موجود ہے۔مفت ڈلیوری کیلیے کم از ...
20/01/2025

یہ نپل بکری کہ بچوں کو دودھ پلانے کیلیے استعمال ہوتی ہے۔
پاکستان بھر میں ڈلیوری کی سہولت موجود ہے۔
مفت ڈلیوری کیلیے کم از کم دس نپل خریدنا ضروری ہے۔
120/Nipple
#بکرے #قربانی

14/11/2024

برائے فروخت
دوسرا سوا
سونے میں سات آٹھ دن لیتی ہے۔
رابطہ نمبر: 03478678725

05/10/2024




#اصیل

01/09/2024


11/11/2023
           #بکرے    #قربانی
19/05/2023

#بکرے #قربانی

25/01/2023

🌼🌼🌼بسم اللّٰہِ الرّحمٰن الرَّحیم🌼🌼🌼
گوٹ فارمنگ : سلسلہ نمبر 12
موضوع ::
****** بکریوں کی فیڈ اور فیڈنگ سسٹم ******(حصہ سوم) _______3C_________
====================================
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گوٹ فارمنگ کیلئے چراگاہ بنانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ***** شجرکاری اور درختوں کی کاشت***
بکریاں ایسے ذرعی رقبہ جات پر پالی جاتی ہیں۔ جہاں دوسرے جانوروں کی افزائش اقتصادی لحاظ سے سود مند نہ ہو۔ ایسے جھاڑی دار رقبے جو گائیوں بھینسوں کیلئے ناکارہ ہوں۔بکریاں چراگاہوں سے زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں۔بکریاں عام چارے مثلاً برسیم ۔ جنتر ۔ مکئی جوار ۔ باجرہ کے علاوہ جڑی بوٹیاں ۔ گھاس پھوس ۔ درختوں کے پتے اور درختوں کی خشک پھلیاں کھا کر پیٹ بھر لیتی ہیں۔اپنی اسی خوبی کی بدولت بکریاں کو پہاڑی اور بارانی علاقوں باآسانی پالی جا سکتی ہیں۔ اسکے علاوہ بکری ایسا جانور ہے جو کہ بچی کھچی سبزیوں۔ گرے پڑے پتوں اور پھلوں کے چھلکوں سے بھی پالی جا سکتی ہیں
#
------------------------------------------
چراگاہ ::
چراگاہ سے مرا د ایک ایسی جگہ کا انتخاب ہے جہاں پر گوٹ دن کا کچھ حصہ چل پھر گذار سکیں۔
کیونکہ روایتی انداز کی نسبت جدید انداز میں کی گئی گوٹ فارمنگ زیادہ نفع کا باعث بنتی ہے۔ اور کم وقت، کم محنت اور کم سرمایہ سے منافع کمایا جاسکتا ہے۔
#
------------------------------------------
وطن عزیز پاکستان میں دن بدن کھلی جگہوں کی کمی ہورہی ہے، اور گوٹ فارمنگ جو کبھی فری آف کاسٹ چرائی کا نظام تھا وہ ختم ہورہا ہے۔ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ گوشت کی طلب میں بھی دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ روایتی طریقےسے گوشت کی پیداوار خاطر خواہ نہیں بڑھائی جاسکتی ۔
ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان گوشت برآمد کرنے والے ممالک میں 19 نمبر پر آتے ہیں۔ لیکن بکریوں کی تعداد کے حوالے سے چین، انڈیا کے بعد تیسرے نمبر پر آتا ہے۔
وطن عزیز پاکستان میں بھیڑ بکری کے گوشت کی بہت زیادہ طلب ہے، جس کو پورا کرنے میں گوٹ فارمنگ بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے
#
====================================
عموماً گاؤں دیہات میں ایسے رقبہ جات ہوتے ہیں جو کہ جانوروں کی چرائی کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ اور 300 روپے فی جانور ماہانہ لیبر کو ادائیگی سے چرائی کرائی جاتی ہے۔ گزشتہ پوسٹس میں چرائی کے نظام کا تعارف اور طریقۂ کا کیساتھ اضافی خوراک کے ونڈہ جات کے آٹھ فارمولے بھی دیے گئے ہیں۔
اگر چرائی کیلئے رقبہ جات شہری آبادی کے قریب ہوں تو بانس کے پودے لگا کر باؤنڈری وال (باڑ) لگائی جا سکتے ہے۔
اسکے علاوہ دیسی لیموں کے پودے لگا کر بھی باڑ کے طور پر استعمال کیساتھ ساتھ اضافی فوائد بھی جاصل کیے جا سکتے ہیں۔
باؤنڈری وال یا باڑ ایسے ہو کہ جسے دیگر جانور عبور نہ کر سکیں۔ اور بکریاں بھی باہر نہ جا سکیں۔
چراگاہ کیساتھ ساتھ کچھ زرعی زمین بھی ضروری ہے جو کہ جانوروں کی تعداد کیمطابق ہو۔ تاکہ جن دنوں میں چراگاہ میں چرائی کیلئے گھاس میسر نہ ہو یا شدید سردی اور بارش جیسی صورتحال میں جانوروں کو سستا اور وافر مقدار میں چارہ مہیا کیا جا سکے۔
اسکے علاوہ سائیلج اور دیگر مقاصد کیلئے بھی چارہ حاصل کیا جا سکتے جو کہ بوقتِ ضرورت استعمال میں لایا جا سکے۔ ایسے رقبے میں لوسن لگایا جائے کیوں لوسن کاشت کے بعد چار سے پانچ سال تک اگتا رہتا ہے۔ یہ سدا بہار قسم کا چارہ ہے۔
#
====================================
:: چراگاہ میں شجرکاری اور درختوں کی کاشت سے اضافی مالی فوائد ::
چراگاہ میں ایسے درخت جن کے پتے بکریاں شوق سے کھاتی ہیں اور سدا بہار قسم کے ہوں انکی شجرکاری کی جائے۔
درختوں سے حاصل ہونے والے فوائد ::
(1) غذائیت سے بھرپور سبزچارہ
(2)کمرشل مقاصد کیلئے لکڑی
(3)درختوں کی سالانہ کانٹ چھانٹ سے بالن اور ایندھن کیلئے لکڑی مثلاً شہتوت کے درخت کے پتے بطور چارہ۔ اسکے درخت کی لکڑی اور سالانہ کانٹ چھانٹ سے ایندھن کیلئے لکڑی کساتھ ساتھ ٹوکری بنانے کیلئے شاخیں۔ جن کی مارکیٹ ویلیو بھی ہے
(4)صاف ستھرا ماحول : درختوں سے ماحولیات آلودگی اور دیگر مسائل پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
(5)سایہ اور چھاؤں
اور اسکے علاوہ بے شمار فوائد

=====================================
درخت اور ان سے حاصل ہونے والی خوراک کے خواص/ اجزاء:-

1. پھلاہی:-
سارا سقل سبز رہتا ہے البتہ موسم بہار میں نئے پتے نکلتے ہیں.پھل اور پھلیاں موسم خزاں میں پک جاتی ہیں. اس کے پتوں میں 11 فیصد تک اجزائے لحمیہ ہوتے ہیں. جانوروں کے لیے زود ہضم خوراک ہے.

2. کیکر:-
مارچ سے اپریل تک اس پر نئے پتے لگتے ہیں. مسلسل چھنگائی کرنے سے بکریوں کے لیے مفید چارہ ملتا ہے. جن میں 14 فیصد لحمیاتی اجزاء پائے جاتے ہیں. ایک درخت سے 18 کلوگرام تک خشک پھلیاں حاصل ہوتی ہیں.

3.کاہو:-
اس درخت کے پتے خاص طور پر دورھ دینے والی بکریوں کے لیے بطور چارہ استعمال ہوتے ہیں اور دودھ بڑھاتے ہیں.

4. بیر:-
پنجاب اور سرحد میں کثرت سے پایا جاتا ہے. اس کے پتوں میں 15 فیصد تک لحمیاتی اجزاء پائے جاتے ہیں.

5. سرس/ سریں:-
اس سے پھلی دار چارہ حاصل ہوتا ہے. پتے غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں جن میں 21 فیصد تک اجزائے لحمیہ پائے جاتے ہیں.

6. لسوڑا:-
اس کی عموماً شاخ تراشی کی جاتی ہے. اس میں 14 فیصد تک لحمیاتی اجزاء پائے جاتے ہیں.

7.کچنار:-
اس سے پتے دار چارہ حاصل ہوتا ہے جن میں 13 فیصد تک لحمیاتی اجزاء پائے جاتے ہیں اس کے بیج میں 14 فیصد تک زائد روغن اجزاء پائے جاتے ہیں.

8. بکائیں:-
غذائی اعتبار سے اس کے پتے بہت زود ہضم ہوتے ہیں. جو چارے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں.

9.شہتوت:-
مارچ اپریل میں نئے پتے نکلتے ہیں جن کا چارہ معیاری ہوتا ہے. پتوں میں 21 فیصد سے زائد لمحیاتی اجزاء ہوتے ہیں جبکہ لحمیات کی مقدار فروری اور مارچ کے مہینوں میں ہوتی ہے.

10. سوہانجناں:-
اس کے پتے اور نرم شاخیں بہترین چارہ فراہم کرتی ہیں.اس کے پتوں میں 18 فیصد تک لحمیاتی اجزاء پائے جاتے ہیں.

11. عین الاصل:-
اس کے پتے ذود ہضم ہوتے ہیں اور سبز چارے کی قلت کے زمانے میں اس کی پھلیاں اور نرم شاخیں بھی چارے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں...تاہم اس کی کونپلوں میں زہریلا مادہ پایا جاتا ہے.

12. اپل اپل:-
اس سے سارا سال پتے بطور چارہ حاصل ہوتے ہیں.اس کے پتے اور پھلیاں غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں. اس میں 24 فیصد سے زائد لحمیاتی اجزاء پائے جاتے ہیں....تاہم اس میں ایک کیمیائی مادہ موجود ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسے اکیلے چارے کے طور پر جانوروں کو زیادہ لمبے عرصے
تک نہیں کھلانا چاہیے۔ #
=====================================

14/11/2022

سردیوں کے چارہ جات کی تمام پوسٹیں

ایک بار وقت نکال کر سب پوسٹوں کو ضرور پڑھ لیں

سردیوں کے چارہ جات لوسن اور برسیم میں پروٹین زیادہ مقدار ہوتی ہے اور اگر آپ اپنے جانوروں کو خشک کم پروٹین والے چارہ جات کھلا رہے ہیں تو ایک دم سے یہ زیادہ پروٹین والے چارہ جات شروع نہیں کرنے، اس کا بہت نقصان ہوتا ہے

تفصیل نیچے لنک میں

https://www.facebook.com/AyeshaZahoorAgri/posts/1873055583033827



سردیوں کے چارہ جات میں آپ نے فاسفورسی کھاد ضرور استعمال کرنی ہے, اگر بجائی کے وقت نہیں دی تو بعد میں دے دیں, لیکن فاسفورسی کھاد دینی ضروری ہے, اس سے جانوروں کے پیداوار بھی بڑھے گی اور چارہ کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا

تفصیل نیچے لنک میں

https://www.facebook.com/AyeshaZahoorAgri/posts/1838544406484945


چارہ جات میں آپ نے زنک کھاد بھی ضرور دینی ہے, اس کا بھی ڈبل فائدہ ہے، جانوروں کی صحت اور پیداوار بھی اچھی رہے گی اور ساتھ ساتھ چارہ جات کی بڑھوتری بھی اچھی رہے جئی

تفصیل نیچے لنک میں

https://www.facebook.com/AyeshaZahoorAgri/posts/1764471367225583

Address

Samundri

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when RK Farm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category