23/01/2026
ہمارے ملک میں پچیس برس سے خونریزی ہو رہی ہے، جس کی ایک طویل اور دردناک تاریخ ہے۔ یہ معاملہ محض کسی ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ ہمارے پورے اضلاع اس کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ بات نہ صرف آپ کے نوٹس میں ہونی چاہیے بلکہ اس معزز ایوان کے بھی نوٹس میں آنی چاہیے۔
فیصل آباد میں امن ہے، لاہور میں امن ہے، ساہیوال میں امن ہے—وہاں کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن چونکہ وہاں امن ہے، اس لیے انہیں یہ احساس نہیں کہ ہم کن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ میرے اضلاع اس وقت مسلح گروہوں کے حوالے ہیں۔ وہ کھلے عام ٹیکس وصول کر رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ کہیں نظر نہیں آتی۔
ہماری فوج امن کے قیام کے لیے قربانیاں دے رہی ہے، لیکن بعض مقامات پر اپنی پوسٹیں خالی کر کے یہ علاقے مسلح گروہوں کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ جس ضلع میں میں رہتا ہوں، اسی ڈویژن میں ٹانک، لکی مروت اور بنوں جیسے علاقے شامل ہیں، جہاں عملاً حکومت کی کوئی موجودگی نہیں ہے۔ میں یہ بات کسی خطابت یا تقریر کے طور پر نہیں کر رہا، بلکہ ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے زمینی حقائق بیان کر رہا ہوں۔
میں جس علاقے میں رہتا ہوں، اس کے دونوں اطراف پہاڑ ہیں، اور ان پہاڑوں پر مسلح گروہوں کا قبضہ ہے۔ وہ رات کو آتے ہیں، دکانوں سے سامان لیتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ کوئی ٹھیکیدار یا کنسٹرکشن کمپنی وہاں اس وقت تک کام نہیں کر سکتی جب تک ان کو ٹیکس ادا نہ کیا جائے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قومی اسمبلی میں خطاب