27/09/2026
تعلیمی و خانقاہی ادارے اور انقلابی پارٹی
ابومیکال اے۔ ڈی حداد
1857ء کی جنگ آزادی ہندوستان کی ساری اقوام نے مل کر لڑی اور محدود وسائل میں جہاں تک ممکن ھو سکا، بلا تفریق مذہب، رنگ، نسل اور جنس کے اپنا تن، من، دھن وار دیا مگر باوجود اس کے ساڑھے آٹھ سو سالہ فقیدالمثال مسلم عہد حکومت کو نہ بچایا جا سکا۔
اس تاریخ ساز قومی مزاحمت کے دوران حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، مولانا محمد قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی نے بھی اپنے دیگر رفقاء کے ساتھ سیاسی کردار ادا کرنے کے علاوہ میدان کارزار میں بھی سرگرم حصہ لیا مگر اجتماعی زوال کو مزید ٹالنا ممکن نہ رہا۔
جب ایک طویل اور خوش کن موسم بہار کے بعد خزاں کی رت چھا جائے تو کچھ دیر کو سستانے سے ہی ہوش ٹھکانے آتے ہیں تاوقتیکہ اچھی طرح غور و فکر اور سوچ بچار کے بعد اولوالعزم افراد پھر سے کمر ہمت کس لیتے ہیں۔
قریباً ایک عشرہ بعد ولی اللہی تحریک نے دیوبندی جماعت کا جامہ زیب تن کرتے ہوئے دارالعلوم کا سنگِ بنیاد رکھا اور روز اول ہی سے بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی نے یہ واضح کر دیا کہ برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت جاری رہے گی چاہے اس جدوجہد آزادی میں دارالعلوم کی اینٹ سے اینٹ ہی کیوں نہ بج جائے۔
بعد ازاں دارالعلوم کے اولین اور مایہ ناز طالب علم شیخ الہند مولانا محمود حسن نے بھی ایک موقع پر بعض صاحبان رخصت کی اطلاع کے لئے دو ٹوک پالیسی بیان جاری فرمایا تھا کہ میرے استاد امام قاسم نانوتوی نے 1857ء کی شکست کے ازالہ کیلئے یہ چھاؤنی قائم کی تھی جس پر درس و تدریس اور علوم و افکار کی چادر تان دی گئی تاکہ برطانوی سامراج سے آزادی کے لیے رجال کار تیار کرنے کے مواقع میسر آ سکیں۔
تاریخ شاھد ہے کہ آگے چل کر ایک طبقہ صرف دارالعلوم کی چار دیواری میں ہی بند ہو کے رہ گیا جس نے صرف درس و تدریس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا اور بعض نے تزکیہ نفس اور اصلاح فرد کی آڑ لے کر گوشہ نشینی میں عافیت ڈھونڈ نکالی۔
واضح رہے کہ بقول حضرت سندھی کے دارالعلوم دیوبند کا ابتدائی 50 سالہ مجاھدانہ و مزاحمتی عہد اور اس کے علاوہ خانقاہ تھانہ بھون، خانقاہ گنگوہ اور خانقاہ رائے پور کا جدوجہد آزادی میں تاریخ ساز کردار تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جس سے انکار کرنا چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے۔
لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک تاریخی صداقت ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے اندر ہی حضرت شیخ الہند اور امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کے ناقدین اور مخالفین کی بھی کوئی کمی نہ تھی جس کا بنیادی سبب حضرت شیخ الہند اور امام انقلاب کا استعمار شکن نظریہ آزادی تھا۔ بدخواہوں کے لیے تو شیخ الہند کا وجود بھی دیوبند کے اندر ناقابل قبول تھا لیکن وہ حضرت شیخ الہند کے خلاف کچھ کر گزرنے سے قاصر تھے جس کا تمام تر غضب امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی پر ڈھایا گیا۔
ایک علمی اختلاف کی آڑ میں مولانا عبید اللہ سندھی پر دارالعلوم دیوبند کا احاطہ تنگ کر دیا گیا لہٰذا حضرت شیخ الہند نے حالات کو بھانپتے ہوئے مولانا سندھی کو دلی بھیج دیا اور فرمایا کہ وہاں جا کر آزادی و انقلاب کے لیے گریجویٹ نوجوانوں کو قرآن کے انقلابی فکر سے متعارف کراؤ جس کے لیے 1913ء میں نظارۃ المعارف القرآنیہ کا پلیٹ فارم قائم ہوا۔
سردست یہاں پر یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ جب نظریات اور تعلیمی و خانقاہی اداروں میں تصادم واقع ہو جائے تو اکابرین کا اسوہ یہی ہے کہ نظریات پر تعلیمی و خانقاہی اداروں اور دیگر تمام ذاتی و گروہی مفادات کو قربان کر کے آگے بڑھا جائے۔
پاکستان میں ایک وقت وہ بھی تھا کہ جب جمعیت علماء اسلام کے تحت نوجوانوں کی سیاسی تربیت اور مستقبل کی لیڈرشپ تیار کرنے کے لیے جمعیت طلباء اسلام کا پلیٹ فارم معرض وجود میں آیا جس کے قیام و انتظام میں بنیادی کردار حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری نے ادا کیا تھا۔ دینی مدارس کے فضلاء اور گریجویٹ نوجوانوں میں نظریاتی و سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنے کے علاوہ مختلف سیاسی تحریکات میں جمعیت طلباء اسلام کا فعال کردار تاریخ کا ایک اہم ترین اور روشن باب ہے لیکن بدقسمتی سے جب ایک دفعہ پھر ایسے حالات پیدا کر دیے گئے کہ جمعیت طلباء اسلام کو روایتی و موروثی لیڈرشپ کی خواہشات برآری کیلئے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ امام انقلاب عبید اللہ سندھی کی ترقی پسند انقلابی افکار پر نوجوانوں کی تربیت میں روڑے اٹکانے کے حیلے تراشے گئے تو حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے جرات مند انقلابی رفقاء کے ساتھ مل کر تنظیم فکر ولی اللہی کے قیام کا فیصلہ کیا۔ گویا جب کبھی تنظیم، اداروں، مدارس اور خانقاہوں کے جسم و قالب سے نظریہ انقلاب اور حریت پسندانہ افکار کی روح نکلی تو ہمارے اکابرین نے ہمیشہ سہل پسندی، آرام کیشی اور پاپولرٹی پر مشتمل طرزِ زندگی کو قربان کرتے ہوئے نظریہ انقلاب، عزیمت، جدوجہد اور سچائی کی مشکل ترین راہوں کا انتخاب کیا۔
بقول امام عبید اللہ سندھی جب کسی عمل سے حقیقت کی روح فوت ہو جائے تو اصل روح کے بغیر رسم سے چمٹے رہنا رسم پرستی اور اپنے دور کا شرک بن جاتا ہے۔
امام شاہ ولی اللہ کے فکر و فلسفہ اور امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کے انقلابی نظریات پر قائم تنظیم فکر ولی اللہی کی سیاسی و شعوری اور تربیتی و تنظیمی خدمات پاکستان میں تحریک عزیمت اور انقلابی تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔
اس پر بھی تاریخ شاھد ہے کہ تنظیم فکر ولی اللہی اور حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائپوری رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف سامراج کے منظور نظر مذہبی طبقات نے منفی پروپیگنڈوں اور بہتان طرازیوں کے وہ پہاڑ کھڑے کیے کہ جن کی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملتی مگر مادر وطن پاکستان میں امام شاہ ولی اللہ کے انقلابی فکر و فلسفہ اور امام عبید اللہ سندھی کے ترقی پسند نظریات کی راہیں کھوٹی نہ کی جا سکیں۔
مزید دو عشروں پر مشتمل دعوتی، نظریاتی اور تربیتی جدوجہد کے نتیجے میں جب اجتماعی تنظیمی قوت اس سطح پر پہنچ چکی تھی کہ قومی جماعت کی تشکیل کر کے عوامی دور کا آغاز کیا جا سکے تو وہ کام جو بیرونی دشمن نہ کر سکا تھا، اب کی بار تنظیم کے اندر سے ملائیت کے ترچھے و تیکھے اور اوچھے واروں سے قومی انقلاب کے ترقی پسند پروگرام کو ایک دفعہ پھر ٹارگٹ کیا گیا۔
حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کے پیرانہ سالی اور ضعیف العمری کے آخری دور میں جماعت کے اندر موجود بعض بااثر ملاؤں کی اشرافیہ نے گریجویٹ انقلابیوں کو ثانوی حیثیت دیتے ہوئے ایک طرف کرنا شروع کر دیا تھا اور پھر جماعت کے اندر متوازی طور پر درس نظامی کا نصاب بھی شروع کیا گیا جو کہ بظاہر اختیاری حیثیت کا حامل تھا مگر یوں درون خانہ جماعت کے گریجویٹس کو جبراً جماعتی ملاؤں کے آگے سرنڈر کرنے اور سرتسلیم خم کر دینے کی روایت اور رجعت پسندانہ ریت کا آغاز ھوا۔
تنظیمی و انقلابی کام کو تیزتر اور مستحکم کرنے کی بجائے درس نظامی کے اجرا، مدارس کے قیام، خانقاہی اذکار و اشغال اور مختلف مراکز کے انتظام و اہتمام کو انقلابی نوجوانوں کی تمام تر جدوجہد کا مقصود بنا دیا گیا۔
خالص عربی و فارسی اصطلاحات کے استعمال اور الفاظ کے گورکھ دھندوں کی آڑ میں اساسی و انقلابی نظریات میں ابہام پیدا کر کے پہلے پہل جماعت کے اندر انتشار کو ہوا دی گئی اور بعد ازاں بنیادی نظریات پر مباحث اور ڈسکشن پر پابندی لگا کر مختلف قسم کے سوالات اٹھانے والے انقلابی نوجوانوں کے پارٹی سے از خود اخراج کا واحد در کھولا گیا یعنی نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔
اب کی بار بھی نظریاتی، باشعور، بیدار مغز اور انقلاب کو اپنا مقصود بنانے والے تربیت یافتہ نوجوان کیڈر نے "روح و رسم کی باہمی کشاکش اور کشمکش" کے باب میں اکابرین کی حقیقت پسندانہ روش پر عمل کرتے ہوئے ایک دفعہ پھر تنظیمی قالب، عالی شان اداروں، اندھی تقلید اور شخصیت پرستی کو یکلخت ترک کرتے ہوئے خالص انقلابی و نظریاتی جدوجہد کی خاردار راہوں پر چلنا پسند کیا۔
یہاں پر ایک اہم ترین نکتہ کی وضاحت اور جانکاری انتہائی ضروری ہے کہ اس جماعتی و نظریاتی سانحہ پر حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری رحمہ اللہ جو اس وقت بقید حیات تھے، آخر ان کا طرز فکر و عمل اور ردعمل کیا رہا ؟
واضح رہے کہ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ کے سفر حج سے واپسی کے بعد تنظیمی ڈسپلن کی سخت پابندیوں کو بہانہ بنا کر گریجویٹ انقلابی طبقہ اور ان کے نمائندوں کی حضرت اقدس تک براہ راست رسائی کو ناممکن بنا دیا گیا تھا اور باوجود غیرمطمئن جماعتی احباب کے اصرار اور مطالبہ کے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری سے ان کی ملاقات نہ کروائی گئی اور مزید برآں جماعت کے تمام بالائی اور ذیلی اداروں میں نظریاتی مباحث اور ڈسکشن پر بھی پابندیاں عائد ھو چکی تھیں۔ ان واقعات کے تقریباً ایک سال بعد حضرت اقدس کا وصال ہوا اور اس ایک سالہ دورانیہ میں نہ حضرت سے ملاقات کی اجازت دی گئی اور نہ ہی انہیں تمام تر حقیقت احوال سے باخبر رکھتے ہوئے ان کا تحریری موقف یا نکتہ نظر لیا گیا۔
بعض ذرائع کے مطابق جس قدر حالات سے حضرت اقدس کو آگاہی تھی، اس تناظر میں حضرت رائپوری کو تنظیم سے علیحدگی کی راہ اختیار کرنے والے گریجویٹ نوجوانوں اور نظریاتی طبقہ پر بوجوہ کوئی غم و غصہ یا ناراضگی نہ تھی۔ ظاہر ہے کہ اس میں سب سے بڑی وجہ تنظیم کے اندر موجود بااثر مذہبی طبقہ کا نظریاتی انحراف اور ہٹ دھرمی کا شدید رویہ ہی ھو سکتا ہے۔
حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری نے اپنی تمام زندگی فقر اختیاری کے ساتھ امام شاہ ولی اللہ اور امام عبید اللہ سندھی کے انقلابی نظریات کی اشاعت و تنظیم میں بسر کی اور انہوں نے ہمیشہ نوجوانوں کو بھی یہی سمجھایا کہ وہ باشعور رہتے ہوئے ہمیشہ اپنی تمام تر وابستگی اور کمٹمنٹ ولی اللہی نظریات کے ساتھ مربوط رکھیں۔
اب یہاں پر ایک بنیادی اور منطقی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ علیحدہ ہو جانے والے نوجوان طبقہ سے ناراض تھے یا انہیں ان پر شدید غم و غصہ تھا تو کیا بعد از تقسیم حضرت اقدس کی کوئی ایک تقریر یا تحریر اس ضمن میں موجود ہے کہ جسے بنیاد اور شہادت بنا کر امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی فکر کو حرزِ جاں بنا کر علیحدہ ھو جانے والے نوجوانوں کو نظریات و واقعات کے عدالتی کٹہرے میں لاکھڑا کیا جا سکے؟
اگر امر واقعی ایسا ہوتا تو یقینا گزشتہ پندرہ 15 سالوں میں ایسی شہادت کو ضرور بنیاد اور حجت بنایا جاتا مگر درحقیقت ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
لہٰذا آج سے تقریباً 15 برس قبل ایک دفعہ پھر جب انقلابی نظریہ پر مشتمل روح اور تنظیمی و ادارہ جاتی ڈھانچے کے درمیان معرکہ آرائی کا جاں گسل مرحلہ درپیش تھا تو اولوالعزم انقلابیوں نے نظریاتی، انقلابی، قومی، اجتماعی اور انسانی مفاد کا مشکل ترین راستہ اختیار کیا۔
آج بھی ہمارا یہ حسن ظن ہی نہیں بلکہ یقین کامل ہے کہ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ امام شاہ ولی اللہ دہلوی کے انقلابی فکر و فلسفہ اور امام عبید اللہ سندھی کے انقلابی نظریات پر تا دم آخر قائم رہے اور اسی پر ان کا قابلِ رشک خاتمہ باالخیر ہوا، اللہ رب العالمین انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور ان پر اپنے ابرکرم کی خاص بارش کا نزول فرمائے آمین!
آخر میں یہ بھی واضح رہے کہ ہمیں سیکولرازم، سوشلزم، نیشنلزم، جمہوریت اور نیشنل ڈیموکریسی کی جدید ترین اصطلاحات سے کبھی کوئی مسئلہ رہا، نہ کبھی ہوگا اس لیے کہ ان اصطلاحات کو بےدریغ استعمال کرنے کی سند بھی ہمیں اپنے خوش گفتار، باکردار اور قابلِ فخر انقلابی اکابرین سے میسر آئی ہے۔
ہم نے حضرت رائے پوری کی زیر سرپرستی اور زیر نگرانی ولی اللہی فکروفلسفہ سے جو کچھ پڑھا، سمجھا، سیکھا اور اخذ کیا اس کے عین مطابق اسلام کے آفاقی اصولوں پر اور عدل و احسان کی روح پر مشتمل نظام کا قیام- اصل کرنے کا کام اور بنیادی فریضہ ہے لیکن کل (total) کو ترک کرکے جزئیات اور فروعات کی اسلامائزیشن اور اسلام کے نام اور لیبل کو نظام کے اوپر چسپاں کرنا ضروری ہے نہ دین اسلام کی کوئی خدمت۔
ولی اللہی فکر و فلسفہ کے تناظر میں اسلام کے اصولوں پر اقتصادی و معاشی عدل کے اجتماعی سسٹم کیلئے سوشلزم کی اصطلاح کا استعمال کافی حد تک مولانا عبید اللہ سندھی کا امتیاز اور کریڈٹ ہے لیکن دوسری طرف اسی دور میں سیاست کے اندر جمہوریت اور سماج میں سیکولرازم کا نفاذ اور اصطلاحوں کا استعمال ولی اللہی جماعت کے دیگر اکابرین کا بھی شیوہ رہا ہے۔
کیا سیکولرازم اور جمہوریت کو اپنانے سے مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، شاہ عبدالقادر رائے پوری اور جمعیت علماء ہند کے دیگر اکابرین کے اسلام اور ایمان کو کوئی گزند پہنچا ہے یا اس تاریخی روایت پر کوئی علمی و نظریاتی سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں؟
اگر نہیں تو پھر اسلام کے معاشی عدل اجتماعی کو امام شاہ ولی اللہ کے سوشلزم سے تعبیر کرنے پر کون سی قیامت آن ٹوٹ پڑی ہے؟
محنت کی اساس پر قائم اسلام کے معاشی عدل کو روح عصر کے مطابق امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی نے سوشلزم سے موسوم کیا ہے جو کہ پروفیسر محمد سرور مرحوم کی تصانیف و تالیفات میں جا بجا موجود ہے اور جہاں تک پروفیسر محمد سرور کا تعلق ہے تو بقول حضرت مولانا عبید اللہ انور رحمۃ اللہ علیہ کے "پروفیسر محمد سرور نے ہمارے لیے مولانا عبید اللہ سندھی کو دریافت کیا ہے اور مولانا عبید اللہ سندھی نے ہمارے لیے امام شاہ ولی اللہ دہلوی کو دریافت کیا ہے"۔
آخر میں لاکھ باتوں کی ایک بات کہ اگر کوئی اپنے عقائد و اعمال کی ترویج و اشاعت کے لیے مدرسہ یا خانقاہی ادارے بنانا اور چلانا چاہتا ہے تو ست بسم اللہ، لیکن ایک قومی انقلاب اور مکمل آزادی کے خالص سیاسی پروگرام کو مدرسہ و خانقاہ کی بقا کے لیے قربانی کی بھینٹ چڑھانا حضرت شیخ الہند اور امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کا مشن نہیں ہو سکتا اور یہی وجہ تھی کہ حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری نے اپنی تمام زندگی خانقاہ رائے پور کے وظائف اور معمولات کے لیے تنظیم فکر ولی اللہی کی انقلابی تنظیم میں چلنے والے نوجوانوں کو کبھی مجبور نہیں کیا بلکہ خانقاہ رائے پور کے سجادہ نشین ہونے کے ناتے تصوف کی بیعت کو الگ سے جاری رکھا۔
دوسری طرف ہمارے خدشات و تحفظات کے بالکل عین مطابق حضرت شاہ سعید احمد رائے پوری کے فعال دور نگرانی کے بعد ادارہ رحیمیہ میں پہلے انقلابی سیاسی کام پر خانقاہی امور کو ترجیح دینے کا رواج عام ھوا اور اب تو لگتا ہے کہ خانقاہ پر بھی مدرسہ و مکتب، روایتی مولوی اور مفتیان حاوی ہونے لگے ہیں۔
ہماری بلا سے جس کی جو مرضی کرتا پھرے مگر ہم تو امام شاہ ولی اللہ دہلوی کے انقلابی فکر و فلسفہ اور امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کے انقلابی نظریات پر ایک قومی و سیاسی اور جمہوری انقلاب کے دعویدار اور علمبردار ہیں۔
آج کا دور سائنٹیفک اپروچ کا زمانہ ہے اور سوشل سائنسز کے اصولوں کے تحت یہ عظیم الشان کام ایک خالص انقلابی و سیاسی اور قومی و عوامی جماعت کے بغیر کبھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔
خدا نے چاہا تو امام شاہ ولی اللہ کے فکر و فلسفہ اور امام عبید اللہ سندھی کے نظریات کی حامل یونائیٹڈ پاکستان تمام تر مشکلات کے باوجود انسانی تاریخ کے اس جدید ترین اور عظیم الشان انقلاب کے بار امانت سے عہدہ بر آ ہو کر رہے گی۔
منجانب شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشنز یونائیٹڈ پاکستان
#انقلاب