United Pakistan

Call Directions Website Contact the organization

United Pakistan پاکستان میں امام شاہ ولی اللّٰه کے فلسفہ و فکر کی بنیاد پر سوشلسٹ اور سیکولر انقلاب کی نقیب پارٹی۔

تعلیمی و خانقاہی ادارے اور انقلابی پارٹیابومیکال اے۔ ڈی حداد 1857ء کی جنگ آزادی ہندوستان کی ساری اقوام نے مل کر لڑی اور ...
27/09/2026

تعلیمی و خانقاہی ادارے اور انقلابی پارٹی
ابومیکال اے۔ ڈی حداد

1857ء کی جنگ آزادی ہندوستان کی ساری اقوام نے مل کر لڑی اور محدود وسائل میں جہاں تک ممکن ھو سکا، بلا تفریق مذہب، رنگ، نسل اور جنس کے اپنا تن، من، دھن وار دیا مگر باوجود اس کے ساڑھے آٹھ سو سالہ فقیدالمثال مسلم عہد حکومت کو نہ بچایا جا سکا۔
اس تاریخ ساز قومی مزاحمت کے دوران حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، مولانا محمد قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی نے بھی اپنے دیگر رفقاء کے ساتھ سیاسی کردار ادا کرنے کے علاوہ میدان کارزار میں بھی سرگرم حصہ لیا مگر اجتماعی زوال کو مزید ٹالنا ممکن نہ رہا۔
جب ایک طویل اور خوش کن موسم بہار کے بعد خزاں کی رت چھا جائے تو کچھ دیر کو سستانے سے ہی ہوش ٹھکانے آتے ہیں تاوقتیکہ اچھی طرح غور و فکر اور سوچ بچار کے بعد اولوالعزم افراد پھر سے کمر ہمت کس لیتے ہیں۔
قریباً ایک عشرہ بعد ولی اللہی تحریک نے دیوبندی جماعت کا جامہ زیب تن کرتے ہوئے دارالعلوم کا سنگِ بنیاد رکھا اور روز اول ہی سے بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی نے یہ واضح کر دیا کہ برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت جاری رہے گی چاہے اس جدوجہد آزادی میں دارالعلوم کی اینٹ سے اینٹ ہی کیوں نہ بج جائے۔
بعد ازاں دارالعلوم کے اولین اور مایہ ناز طالب علم شیخ الہند مولانا محمود حسن نے بھی ایک موقع پر بعض صاحبان رخصت کی اطلاع کے لئے دو ٹوک پالیسی بیان جاری فرمایا تھا کہ میرے استاد امام قاسم نانوتوی نے 1857ء کی شکست کے ازالہ کیلئے یہ چھاؤنی قائم کی تھی جس پر درس و تدریس اور علوم و افکار کی چادر تان دی گئی تاکہ برطانوی سامراج سے آزادی کے لیے رجال کار تیار کرنے کے مواقع میسر آ سکیں۔
تاریخ شاھد ہے کہ آگے چل کر ایک طبقہ صرف دارالعلوم کی چار دیواری میں ہی بند ہو کے رہ گیا جس نے صرف درس و تدریس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا اور بعض نے تزکیہ نفس اور اصلاح فرد کی آڑ لے کر گوشہ نشینی میں عافیت ڈھونڈ نکالی۔
واضح رہے کہ بقول حضرت سندھی کے دارالعلوم دیوبند کا ابتدائی 50 سالہ مجاھدانہ و مزاحمتی عہد اور اس کے علاوہ خانقاہ تھانہ بھون، خانقاہ گنگوہ اور خانقاہ رائے پور کا جدوجہد آزادی میں تاریخ ساز کردار تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جس سے انکار کرنا چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے۔
لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک تاریخی صداقت ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے اندر ہی حضرت شیخ الہند اور امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کے ناقدین اور مخالفین کی بھی کوئی کمی نہ تھی جس کا بنیادی سبب حضرت شیخ الہند اور امام انقلاب کا استعمار شکن نظریہ آزادی تھا۔ بدخواہوں کے لیے تو شیخ الہند کا وجود بھی دیوبند کے اندر ناقابل قبول تھا لیکن وہ حضرت شیخ الہند کے خلاف کچھ کر گزرنے سے قاصر تھے جس کا تمام تر غضب امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی پر ڈھایا گیا۔
ایک علمی اختلاف کی آڑ میں مولانا عبید اللہ سندھی پر دارالعلوم دیوبند کا احاطہ تنگ کر دیا گیا لہٰذا حضرت شیخ الہند نے حالات کو بھانپتے ہوئے مولانا سندھی کو دلی بھیج دیا اور فرمایا کہ وہاں جا کر آزادی و انقلاب کے لیے گریجویٹ نوجوانوں کو قرآن کے انقلابی فکر سے متعارف کراؤ جس کے لیے 1913ء میں نظارۃ المعارف القرآنیہ کا پلیٹ فارم قائم ہوا۔
سردست یہاں پر یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ جب نظریات اور تعلیمی و خانقاہی اداروں میں تصادم واقع ہو جائے تو اکابرین کا اسوہ یہی ہے کہ نظریات پر تعلیمی و خانقاہی اداروں اور دیگر تمام ذاتی و گروہی مفادات کو قربان کر کے آگے بڑھا جائے۔
پاکستان میں ایک وقت وہ بھی تھا کہ جب جمعیت علماء اسلام کے تحت نوجوانوں کی سیاسی تربیت اور مستقبل کی لیڈرشپ تیار کرنے کے لیے جمعیت طلباء اسلام کا پلیٹ فارم معرض وجود میں آیا جس کے قیام و انتظام میں بنیادی کردار حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری نے ادا کیا تھا۔ دینی مدارس کے فضلاء اور گریجویٹ نوجوانوں میں نظریاتی و سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنے کے علاوہ مختلف سیاسی تحریکات میں جمعیت طلباء اسلام کا فعال کردار تاریخ کا ایک اہم ترین اور روشن باب ہے لیکن بدقسمتی سے جب ایک دفعہ پھر ایسے حالات پیدا کر دیے گئے کہ جمعیت طلباء اسلام کو روایتی و موروثی لیڈرشپ کی خواہشات برآری کیلئے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ امام انقلاب عبید اللہ سندھی کی ترقی پسند انقلابی افکار پر نوجوانوں کی تربیت میں روڑے اٹکانے کے حیلے تراشے گئے تو حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے جرات مند انقلابی رفقاء کے ساتھ مل کر تنظیم فکر ولی اللہی کے قیام کا فیصلہ کیا۔ گویا جب کبھی تنظیم، اداروں، مدارس اور خانقاہوں کے جسم و قالب سے نظریہ انقلاب اور حریت پسندانہ افکار کی روح نکلی تو ہمارے اکابرین نے ہمیشہ سہل پسندی، آرام کیشی اور پاپولرٹی پر مشتمل طرزِ زندگی کو قربان کرتے ہوئے نظریہ انقلاب، عزیمت، جدوجہد اور سچائی کی مشکل ترین راہوں کا انتخاب کیا۔
بقول امام عبید اللہ سندھی جب کسی عمل سے حقیقت کی روح فوت ہو جائے تو اصل روح کے بغیر رسم سے چمٹے رہنا رسم پرستی اور اپنے دور کا شرک بن جاتا ہے۔
امام شاہ ولی اللہ کے فکر و فلسفہ اور امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کے انقلابی نظریات پر قائم تنظیم فکر ولی اللہی کی سیاسی و شعوری اور تربیتی و تنظیمی خدمات پاکستان میں تحریک عزیمت اور انقلابی تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔
اس پر بھی تاریخ شاھد ہے کہ تنظیم فکر ولی اللہی اور حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائپوری رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف سامراج کے منظور نظر مذہبی طبقات نے منفی پروپیگنڈوں اور بہتان طرازیوں کے وہ پہاڑ کھڑے کیے کہ جن کی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملتی مگر مادر وطن پاکستان میں امام شاہ ولی اللہ کے انقلابی فکر و فلسفہ اور امام عبید اللہ سندھی کے ترقی پسند نظریات کی راہیں کھوٹی نہ کی جا سکیں۔
مزید دو عشروں پر مشتمل دعوتی، نظریاتی اور تربیتی جدوجہد کے نتیجے میں جب اجتماعی تنظیمی قوت اس سطح پر پہنچ چکی تھی کہ قومی جماعت کی تشکیل کر کے عوامی دور کا آغاز کیا جا سکے تو وہ کام جو بیرونی دشمن نہ کر سکا تھا، اب کی بار تنظیم کے اندر سے ملائیت کے ترچھے و تیکھے اور اوچھے واروں سے قومی انقلاب کے ترقی پسند پروگرام کو ایک دفعہ پھر ٹارگٹ کیا گیا۔
حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کے پیرانہ سالی اور ضعیف العمری کے آخری دور میں جماعت کے اندر موجود بعض بااثر ملاؤں کی اشرافیہ نے گریجویٹ انقلابیوں کو ثانوی حیثیت دیتے ہوئے ایک طرف کرنا شروع کر دیا تھا اور پھر جماعت کے اندر متوازی طور پر درس نظامی کا نصاب بھی شروع کیا گیا جو کہ بظاہر اختیاری حیثیت کا حامل تھا مگر یوں درون خانہ جماعت کے گریجویٹس کو جبراً جماعتی ملاؤں کے آگے سرنڈر کرنے اور سرتسلیم خم کر دینے کی روایت اور رجعت پسندانہ ریت کا آغاز ھوا۔
تنظیمی و انقلابی کام کو تیزتر اور مستحکم کرنے کی بجائے درس نظامی کے اجرا، مدارس کے قیام، خانقاہی اذکار و اشغال اور مختلف مراکز کے انتظام و اہتمام کو انقلابی نوجوانوں کی تمام تر جدوجہد کا مقصود بنا دیا گیا۔
خالص عربی و فارسی اصطلاحات کے استعمال اور الفاظ کے گورکھ دھندوں کی آڑ میں اساسی و انقلابی نظریات میں ابہام پیدا کر کے پہلے پہل جماعت کے اندر انتشار کو ہوا دی گئی اور بعد ازاں بنیادی نظریات پر مباحث اور ڈسکشن پر پابندی لگا کر مختلف قسم کے سوالات اٹھانے والے انقلابی نوجوانوں کے پارٹی سے از خود اخراج کا واحد در کھولا گیا یعنی نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔
اب کی بار بھی نظریاتی، باشعور، بیدار مغز اور انقلاب کو اپنا مقصود بنانے والے تربیت یافتہ نوجوان کیڈر نے "روح و رسم کی باہمی کشاکش اور کشمکش" کے باب میں اکابرین کی حقیقت پسندانہ روش پر عمل کرتے ہوئے ایک دفعہ پھر تنظیمی قالب، عالی شان اداروں، اندھی تقلید اور شخصیت پرستی کو یکلخت ترک کرتے ہوئے خالص انقلابی و نظریاتی جدوجہد کی خاردار راہوں پر چلنا پسند کیا۔
یہاں پر ایک اہم ترین نکتہ کی وضاحت اور جانکاری انتہائی ضروری ہے کہ اس جماعتی و نظریاتی سانحہ پر حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری رحمہ اللہ جو اس وقت بقید حیات تھے، آخر ان کا طرز فکر و عمل اور ردعمل کیا رہا ؟
واضح رہے کہ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ کے سفر حج سے واپسی کے بعد تنظیمی ڈسپلن کی سخت پابندیوں کو بہانہ بنا کر گریجویٹ انقلابی طبقہ اور ان کے نمائندوں کی حضرت اقدس تک براہ راست رسائی کو ناممکن بنا دیا گیا تھا اور باوجود غیرمطمئن جماعتی احباب کے اصرار اور مطالبہ کے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری سے ان کی ملاقات نہ کروائی گئی اور مزید برآں جماعت کے تمام بالائی اور ذیلی اداروں میں نظریاتی مباحث اور ڈسکشن پر بھی پابندیاں عائد ھو چکی تھیں۔ ان واقعات کے تقریباً ایک سال بعد حضرت اقدس کا وصال ہوا اور اس ایک سالہ دورانیہ میں نہ حضرت سے ملاقات کی اجازت دی گئی اور نہ ہی انہیں تمام تر حقیقت احوال سے باخبر رکھتے ہوئے ان کا تحریری موقف یا نکتہ نظر لیا گیا۔
بعض ذرائع کے مطابق جس قدر حالات سے حضرت اقدس کو آگاہی تھی، اس تناظر میں حضرت رائپوری کو تنظیم سے علیحدگی کی راہ اختیار کرنے والے گریجویٹ نوجوانوں اور نظریاتی طبقہ پر بوجوہ کوئی غم و غصہ یا ناراضگی نہ تھی۔ ظاہر ہے کہ اس میں سب سے بڑی وجہ تنظیم کے اندر موجود بااثر مذہبی طبقہ کا نظریاتی انحراف اور ہٹ دھرمی کا شدید رویہ ہی ھو سکتا ہے۔
حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری نے اپنی تمام زندگی فقر اختیاری کے ساتھ امام شاہ ولی اللہ اور امام عبید اللہ سندھی کے انقلابی نظریات کی اشاعت و تنظیم میں بسر کی اور انہوں نے ہمیشہ نوجوانوں کو بھی یہی سمجھایا کہ وہ باشعور رہتے ہوئے ہمیشہ اپنی تمام تر وابستگی اور کمٹمنٹ ولی اللہی نظریات کے ساتھ مربوط رکھیں۔
اب یہاں پر ایک بنیادی اور منطقی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ علیحدہ ہو جانے والے نوجوان طبقہ سے ناراض تھے یا انہیں ان پر شدید غم و غصہ تھا تو کیا بعد از تقسیم حضرت اقدس کی کوئی ایک تقریر یا تحریر اس ضمن میں موجود ہے کہ جسے بنیاد اور شہادت بنا کر امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی فکر کو حرزِ جاں بنا کر علیحدہ ھو جانے والے نوجوانوں کو نظریات و واقعات کے عدالتی کٹہرے میں لاکھڑا کیا جا سکے؟
اگر امر واقعی ایسا ہوتا تو یقینا گزشتہ پندرہ 15 سالوں میں ایسی شہادت کو ضرور بنیاد اور حجت بنایا جاتا مگر درحقیقت ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
لہٰذا آج سے تقریباً 15 برس قبل ایک دفعہ پھر جب انقلابی نظریہ پر مشتمل روح اور تنظیمی و ادارہ جاتی ڈھانچے کے درمیان معرکہ آرائی کا جاں گسل مرحلہ درپیش تھا تو اولوالعزم انقلابیوں نے نظریاتی، انقلابی، قومی، اجتماعی اور انسانی مفاد کا مشکل ترین راستہ اختیار کیا۔
آج بھی ہمارا یہ حسن ظن ہی نہیں بلکہ یقین کامل ہے کہ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ امام شاہ ولی اللہ دہلوی کے انقلابی فکر و فلسفہ اور امام عبید اللہ سندھی کے انقلابی نظریات پر تا دم آخر قائم رہے اور اسی پر ان کا قابلِ رشک خاتمہ باالخیر ہوا، اللہ رب العالمین انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور ان پر اپنے ابرکرم کی خاص بارش کا نزول فرمائے آمین!
آخر میں یہ بھی واضح رہے کہ ہمیں سیکولرازم، سوشلزم، نیشنلزم، جمہوریت اور نیشنل ڈیموکریسی کی جدید ترین اصطلاحات سے کبھی کوئی مسئلہ رہا، نہ کبھی ہوگا اس لیے کہ ان اصطلاحات کو بےدریغ استعمال کرنے کی سند بھی ہمیں اپنے خوش گفتار، باکردار اور قابلِ فخر انقلابی اکابرین سے میسر آئی ہے۔
ہم نے حضرت رائے پوری کی زیر سرپرستی اور زیر نگرانی ولی اللہی فکروفلسفہ سے جو کچھ پڑھا، سمجھا، سیکھا اور اخذ کیا اس کے عین مطابق اسلام کے آفاقی اصولوں پر اور عدل و احسان کی روح پر مشتمل نظام کا قیام- اصل کرنے کا کام اور بنیادی فریضہ ہے لیکن کل (total) کو ترک کرکے جزئیات اور فروعات کی اسلامائزیشن اور اسلام کے نام اور لیبل کو نظام کے اوپر چسپاں کرنا ضروری ہے نہ دین اسلام کی کوئی خدمت۔
ولی اللہی فکر و فلسفہ کے تناظر میں اسلام کے اصولوں پر اقتصادی و معاشی عدل کے اجتماعی سسٹم کیلئے سوشلزم کی اصطلاح کا استعمال کافی حد تک مولانا عبید اللہ سندھی کا امتیاز اور کریڈٹ ہے لیکن دوسری طرف اسی دور میں سیاست کے اندر جمہوریت اور سماج میں سیکولرازم کا نفاذ اور اصطلاحوں کا استعمال ولی اللہی جماعت کے دیگر اکابرین کا بھی شیوہ رہا ہے۔
کیا سیکولرازم اور جمہوریت کو اپنانے سے مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، شاہ عبدالقادر رائے پوری اور جمعیت علماء ہند کے دیگر اکابرین کے اسلام اور ایمان کو کوئی گزند پہنچا ہے یا اس تاریخی روایت پر کوئی علمی و نظریاتی سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں؟
اگر نہیں تو پھر اسلام کے معاشی عدل اجتماعی کو امام شاہ ولی اللہ کے سوشلزم سے تعبیر کرنے پر کون سی قیامت آن ٹوٹ پڑی ہے؟
محنت کی اساس پر قائم اسلام کے معاشی عدل کو روح عصر کے مطابق امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی نے سوشلزم سے موسوم کیا ہے جو کہ پروفیسر محمد سرور مرحوم کی تصانیف و تالیفات میں جا بجا موجود ہے اور جہاں تک پروفیسر محمد سرور کا تعلق ہے تو بقول حضرت مولانا عبید اللہ انور رحمۃ اللہ علیہ کے "پروفیسر محمد سرور نے ہمارے لیے مولانا عبید اللہ سندھی کو دریافت کیا ہے اور مولانا عبید اللہ سندھی نے ہمارے لیے امام شاہ ولی اللہ دہلوی کو دریافت کیا ہے"۔
آخر میں لاکھ باتوں کی ایک بات کہ اگر کوئی اپنے عقائد و اعمال کی ترویج و اشاعت کے لیے مدرسہ یا خانقاہی ادارے بنانا اور چلانا چاہتا ہے تو ست بسم اللہ، لیکن ایک قومی انقلاب اور مکمل آزادی کے خالص سیاسی پروگرام کو مدرسہ و خانقاہ کی بقا کے لیے قربانی کی بھینٹ چڑھانا حضرت شیخ الہند اور امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کا مشن نہیں ہو سکتا اور یہی وجہ تھی کہ حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری نے اپنی تمام زندگی خانقاہ رائے پور کے وظائف اور معمولات کے لیے تنظیم فکر ولی اللہی کی انقلابی تنظیم میں چلنے والے نوجوانوں کو کبھی مجبور نہیں کیا بلکہ خانقاہ رائے پور کے سجادہ نشین ہونے کے ناتے تصوف کی بیعت کو الگ سے جاری رکھا۔
دوسری طرف ہمارے خدشات و تحفظات کے بالکل عین مطابق حضرت شاہ سعید احمد رائے پوری کے فعال دور نگرانی کے بعد ادارہ رحیمیہ میں پہلے انقلابی سیاسی کام پر خانقاہی امور کو ترجیح دینے کا رواج عام ھوا اور اب تو لگتا ہے کہ خانقاہ پر بھی مدرسہ و مکتب، روایتی مولوی اور مفتیان حاوی ہونے لگے ہیں۔
ہماری بلا سے جس کی جو مرضی کرتا پھرے مگر ہم تو امام شاہ ولی اللہ دہلوی کے انقلابی فکر و فلسفہ اور امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کے انقلابی نظریات پر ایک قومی و سیاسی اور جمہوری انقلاب کے دعویدار اور علمبردار ہیں۔
آج کا دور سائنٹیفک اپروچ کا زمانہ ہے اور سوشل سائنسز کے اصولوں کے تحت یہ عظیم الشان کام ایک خالص انقلابی و سیاسی اور قومی و عوامی جماعت کے بغیر کبھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔
خدا نے چاہا تو امام شاہ ولی اللہ کے فکر و فلسفہ اور امام عبید اللہ سندھی کے نظریات کی حامل یونائیٹڈ پاکستان تمام تر مشکلات کے باوجود انسانی تاریخ کے اس جدید ترین اور عظیم الشان انقلاب کے بار امانت سے عہدہ بر آ ہو کر رہے گی۔

منجانب شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشنز یونائیٹڈ پاکستان
#انقلاب

meet.google.com/nto-oxzu-cfq
26/09/2026

meet.google.com/nto-oxzu-cfq

روس اور گرم پانیوں کا افسانہ (عدنان خان کاکڑ)ہمارے ہاں ضیاءالحق کے دور میں یہ تاثر شدت سے دیا گیا کہ سوویت یونین کی افغا...
24/09/2026

روس اور گرم پانیوں کا افسانہ

(عدنان خان کاکڑ)

ہمارے ہاں ضیاءالحق کے دور میں یہ تاثر شدت سے دیا گیا کہ سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی مداخلت کا مقصد یہ تھا کہ وہ بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک پہنچ سکے، اور افغانستان کے بعد سوویت یونین کے حملے کا اگلا نشانہ پاکستان ہوتا۔ کارٹر دور کے مشیر برائے قومی سلامتی، برزنسکی اپنے انٹرویو میں، اور رابرٹ گیٹس اپنی کتاب میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ سوویت یونین کا افغانستان میں فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور اسے امریکہ نے افغانستان میں کھینچا تھا۔ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے واشنگٹن میں 1962 سے لے کر 1986 تک سفیر رہنے والے اور چھے امریکی صدور کے ساتھ کام کرنے والے اناطولی دوبرینن بھی 1995 میں امریکہ سے شائع ہونے والی اپنی کتاب میں بھی یہی بات کہہ چکے ہیں۔

لیکن ہم ابھی تک اسی گمان میں ہیں کہ یہ سارے سوویت اور امریکی جھوٹے ہیں اور سوویت یونین نے گرم پانیوں کی چاہ میں افغانستان پر حملہ کیا تھا اور اس کا اگلا نشانہ پاکستان ہونا تھا۔

ڈی کلاسیفائیڈ فائلیں محققین کے لیے تاریخ کو درست کرنے کا ایک ذریعہ ہوتی ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں سوویت یونین کی پولٹ بیورو کی چند ڈی کلاسیفائیڈ فائلیں اور ان معاملات کی حقیقت کو جاننے کی ایک کوشش کرتے ہیں۔

پولٹ بیور کی ڈی کلاسیفائیڈ فائلوں کے مطابق سترہ مارچ 1979 کو سوویت پولٹ بیورو کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں افغانستان کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ کوسیجن نے پولٹ بیورو کو بتایا کہ سوویت مشیر کے مطابق ہرات کے صوبے میں سرکاری فوج ٹوٹ کر باغیوں سے مل رہی ہے۔ لیکن میری ترکئی کے نائب حفیظ اللہ امین سے بات ہوئی ہے تو وہ یقین دہانی کرا رہا ہے کہ صورت حال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ لیکن آدھے گھنٹے بعد ہی ترکئی نے سوویت نمائندوں کو بلا کر کہا ہے کہ صورت حال بری ہے اور اسے اسلحہ اور امداد چاہئے.

اس صورت حال پر پولٹ بیورو میں ایک طویل بحث ہوئی۔ سوویت یونین اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں وہ ایک دوست افغانستان سے محروم نہ ہو جائے اور یہ ملک امریکی کیمپ میں نہ چلا جائے۔ کوسیجن کو افغان صدر نور محمد ترکئی سے ملاقات کا حکم دیا گیا اور تین دن بعد بیس مارچ کو ترکئی ماسکو پہنچے۔

ابتدائی جملوں کے بعد کچھ ایسی بات چیت ہوئی۔

کوسیجن: سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ سوویت یونین اور افغانستان کی دوستی کوئی موسمی شے نہیں ہے۔ یہ مشروط، یا عارضی نہیں ہے بلکہ مدت دراز سے قائم و دائم ہے۔ ہم آپ سے لڑنے والے دشمنوں کے خلاف پہلے بھی مدد دیتے رہے ہیں، اور مستقبل کے دشمنوں کے خلاف بھی یہی کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

ہم نے آپ کے ملک میں ابھرنے والی صورت حال پر سنجیدگی سے بحث کی ہے۔ ان مسائل کو سلجھانے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں، لیکن سب سے بہتر وہی طریقہ ہو گا جو کہ عوام کی نظر میں آپ کی حکومت کی بالادستی کو قائم کرے۔

ہم یہ نہیں چاہتے ہیں کہ ایسا تاثر ابھرے کہ آپ اپنے ملکی مسائل پر قابو پانے کے قابل نہیں تھے اور آپ نے غیر ملکی فوجوں کو اپنی مدد کے لیے بلایا ہے۔ میں ویت نام کی مثال دینا پسند کروں گا۔ ویت نامی عوام کو امریکہ کے خلاف ایک مشکل جنگ سے نبرد آزما ہونا پڑا، اور اب وہ چینی جارحیت کا مقابلہ کر رہے ہیں، لیکن کوئی بھی ویت نامیوں پر غیر ملکی فوجی دستے استعمال کرنے کا الزام نہیں لگا سکتا ہے۔ ویت نامی اپنے زور بازو سے جارحین کے خلاف اپنے وطن کا دفاع کر رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ کے پاس اتنی افواج ہیں جو کہ انقلاب دشمنوں کے حملوں کا توڑ کر سکیں۔ آپ کو صرف اتحاد اور نئی فوجی ترتیب قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم آپ کو تمام دستیاب وسائل سے مدد فراہم کریں گے۔ ہم آپ کو اسلحہ اور گولہ بارود بھیجیں گے، آپ کے فوجی اور داخلی معاملات کے انتظام میں مدد دینے کے لیے آپ کو مشیروں کی خدمات فراہم کریں گے اور جدید فوجی اسلحے کے استعمال کے لیے ماہرین دیں گے۔

لیکن ہماری فوجوں کی افغانستان میں تعیناتی پر بین الاقوامی کمیونٹی فوری طور پر حرکت میں آئے گی اور اس کے خلاف کئی ناسازگار کثیر الجہتی عواقب پیدا ہوں گے۔ حقیقت میں یہ امر نہ صرف کہ سامراجی ممالک سے ایک تنازع ہو گا، بلکہ یہ اپنے عوام کے خلاف تصادم بھی ہو گا۔

ہمارے مشترکہ دشمن اس وقت کے شدت سے منتظر ہیں جب کہ سوویت افواج افغان علاقے میں نمودار ہوں گی۔ یہ امر ان کو اپنی افواج افغانستان میں بھیجنے کا جواز فراہم کر دے گا جو کہ آپ کے خلاف جارحیت پر آمادہ ہوں گی۔ میں اس چیز پر دوبارہ زور دیتا ہوں کہ ہم نے سوویت افواج کی افغانستان میں تعیناتی کے سوال کا ہر پہلو سے جائزہ لیا ہے۔ ہم نے بہت احتیاط سے اس قدم کی ہر جہت کا تجزیہ کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر ہمارے فوجی دستے متعارف کرائے گئے تو آپ کے ملک کی صورت حال بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہو جائے گی۔ ہم اس امر کو مسترد نہیں کر سکتے ہیں کہ ہمارے دستوں کو نہ صرف غیر ملکی جارحین سے نبرد آزما ہونا ہو گا، بلکہ آپ کے عوام کی ایک خاص تعداد سے بھی لڑنا پڑے گا۔

اور عوام کبھی بھی ایسی چیز نہیں بھولتے ہیں۔

الیکسی کوسیجن
ہم آپ کی مدد کی خاطر آپ کے ہمسایہ ممالک پر اپنا سیاسی اثر و رسوخ اور کثیر الجہتی معاونت استعمال کریں گے۔ یہ طریقہ فوجی دستوں کی تعیناتی سے کہیں زیادہ فائدہ حاصل کرنے کا باعث ہو گا۔

ترکئی: ہمارے انقلاب کے نتجے میں ہمارے سامراجی دشمنوں کا کینہ پرور ردعمل پیدا ہوا ہے۔ ہماری زرعی اصلاحات اور دوسرے اقدامات کے باعث پاکستان اور ایران کے عوام پر ایک اچھا تاثر قائم ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان ممالک کی رجعت پسند قوتوں کے دل خوف سے بھر گئے ہیں، اور ردعمل میں انہوں نے تخریب کاری میں اضافہ کر دیا ہے اور دہشت گرد بھیجنے شروع کر دیے ہیں۔ انہوں نے ہمارے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے اور ہمیں مرتد قرار دے دیا ہے۔ پاکستان کے حکمران مظاہروں میں گونجنے والے “افغانستان زندہ باد” اور “ترکئی زندہ باد” کے نعروں سے بے انتہا خوفزدہ ہو گئے ہیں۔

ہمارے ملک میں نہ صرف اخوان المسلین کے اراکین چھپ چھپ کر آ رہے ہیں، بلکہ افغان فوج کے یونیفارم میں پوری کی پوری سب ڈویژنیں آ رہی ہیں جو کہ تخریب کاری اور توڑ پھوڑ میں ملوث ہیں۔

کوسیجن: ضیا الحق کی طرف سے ایک بیان موصول ہوا ہے، اور وہ کہتا ہے کہ پاکستان، افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرے گا، اور صرف افغان مہاجرین کو محض اسی صورت میں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد دے گا اگر ان کی سرگرمیاں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں خرابی کا موجب نہیں بنتی ہیں۔

ترکئی: وہ صرف انسانی ہمدردی کی بات کرتے ہیں، لیکن وہ خود ہی ہمارے خلاف کمانڈوز کی تربیت کر رہے ہیں۔

کوسیجن: ہم اتنے بھولے نہیں ہیں کہ ضیا کے ہر لفظ پر یقین کر لیں، لیکن ایک بیان دیا گیا ہے اور وہ بیان ایک بندھن میں باندھتا ہے۔ ایک اور خبر ہے۔ ایرانی حکومت نے تمام غیر ملکی کارکنوں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا ہے۔

ترکئی: یہ حکم امریکیوں کے خلاف اٹھایا گیا ایک قدم لگتا ہے۔

کوسیجن: یہ امکان ہے کہ ایران میں ہمارے ماہرین کی تعداد امریکی ماہرین سے زیادہ ہو۔ ایران میں کتنے افغان کام کر رہے ہیں؟

ترکئی: دو لاکھ سے کم تو نہیں ہوں گے۔ اگر ان کو ملک بدر کیا گیا تو ان افغان کارکنوں کے بھیس میں گوریلے بھی افغانستان میں آئیں گے، کیونکہ محض حلیے سے یہ پتہ لگانا ناممکن ہے کہ کون افغان ہے اور کون ایرانی۔ یہاں میں افغان فوج کی ضروریات کا سوال اٹھانا چاہتا ہوں۔ ہم بکتر بند ہیلی کاپٹر، مزید بکتر بند گاڑیاں اور انفینٹری گاڑیاں، اور جدید ذرائع مواصلات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

دمیتری استینوف
استینوف: یہ لگ رہا ہے کہ ہم بلٹ پروف ایم آئی 24 ہیلی کاپٹروں کی بات کر رہے ہیں۔ ہم آپ کو چھے ایسے ہیلی کاپٹر جون جولائی میں دے دیں گے، اور مزید چھے آپ کو اس سال کی چوتھی سہ ماہی میں دے دیے جائیں گے۔

ترکئی: ہمیں ان ہیلی کاپٹروں کی اشد ضرورت ہے، اور یہ بہت ہی اچھا ہو گا اگر وہ پائلٹوں کے ساتھ مل جائیں۔

کوسیجن: ہم آپ کو مرمت کے لیے ماہرین دے سکتے ہیں، جو کہ ان ہیلی کاپٹروں کی ائیرپورٹ پر سروس کریں گے، لیکن جنگی عملہ دینے سے قاصر ہیں۔ ہم اس معاملے پر پہلے ہی بات کر چکے ہیں۔

استینوف: آپ کو اپنے پائلٹ تیار کرنے چاہئیں۔ ہم آپ کے افسران کی تربیت میں تیزی لا سکتے ہیں۔

ترکئی: شاید ہم یہ ہیلی کاپٹر پائلٹ ویت نام یا کسی دوسرے ملک سے حاصل کر پائیں، مثلاً کیوبا سے۔

کوسیجن: جیسا کہ میں پہلے ہی کہ چکا ہوں، ہم ویت نام کی بہت زیادہ مدد کر چکے ہیں، اور ابھی بھی کر رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے کبھی بھی یہ فرمائش نہیں کی ہے کہ ہم اپنے پائلٹ بھیجیں۔ انہوں نے صرف تکنیکی ماہرین کا مطالبہ کیا تھا۔ ہم چار سو افغان افسران کی تربیت کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کا انتخاب کریں جو آپ کی ضرورت ہیں، اور ہم ان کی تربیت میں تیزی لے آئیں گے۔

ترکئی: ہم ہیلی کاپٹروں کی فراہمی میں تیزی کے شدت سے خواہش مند ہیں۔ ہمیں ان کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

استینوف: لیکن آپ کو ان ہیلی کاپٹروں کے پائلٹوں کے بارے میں بھی کچھ سوچنا چاہیے۔

ترکئی: ظاہر ہے کہ ہم یہی کریں گے۔ اگر ہم ان کو اپنے ملک میں نہیں ڈھونڈ پائیں گے تو ہم ان کو کہیں اور تلاش کریں گے۔ دنیا بہت بڑی ہے۔ اگر آپ اس سے متفق نہیں ہیں تو ہم ان پائلٹوں کو ان افغانوں میں تلاش کریں گے جو کہ آپ کے ملک میں پڑھ رہے ہیں۔ لیکن ہمیں قابل اعتماد افراد کی ضرورت ہے۔ اور ان افغان افسران میں جنہیں ہم نے پڑھنے کے لیے سوویت یونین بھیجا تھا، بہت سوں کا تعلق اخوان المسلمین اور چینی ہمدردوں سے ہے۔

کوسیجن: ہم اخوان المسلمین کو واپس بھیج سکتے ہیں، اور آپ کے قابل اعتماد افراد کی تربیت تیز تر کر سکتے ہیں۔ ہم آپ کو بڑی تعداد میں ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور میزائیل گاڑیاں مفت میں فراہم کریں گے۔

ترکئی: آپ کا بہت بہت شکریہ۔ اس وقت میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایک لاکھ ٹن گندم ہمارے لیے کافی نہیں ہے۔ جن مالکان کی زمینیں ہم نے ضبط کر لی تھیں، انہوں نے زمینیں کاشت نہیں کی ہیں۔ اور چند مقامات پر فصلیں تباہ بھی کی گئی تھیں۔

کوسیجن: آپ کو ایک لاکھ ٹن گندم محض اس قیمت پر ملے گی جو کہ آپ کو سرحد سے ملک کے اندر ٹرانسپورٹ کرنے کے لیے چاہیے۔

ترکئی: پہلے پاکستان نے ہمیں دو لاکھ ٹن گندم بیچنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ اپنے وعدے سے پھر گئے ہیں۔ ہمیں کم از کم تین لاکھ ٹن گندم کی ضرورت ہے۔

کوسیجن: کیونکہ آپ پاکستان کو پیسے دینے کے لیے تیار تھے، تو آپ کے پاس پیسے ضرور ہوں گے۔ ہم ان پیسوں سے امریکہ سے گندم خرید کر افغانستان منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مثال کے طور پر، دو لاکھ ٹن گندم کی قیمت چالیس ملین ڈالر ہو گی۔

ترکئی: اتنی رقم کا بندوبست کرنا ہمارے لیے مشکل ہو گا۔

کوسیجن: آپ کے لیے جتنے پیسوں کا بندوبست ممکن ہے کر دیں، اور ان کی ہم آپ کو گندم خرید دیں گے۔

ترکئی: اگر ہم ذرائع تلاش کرنے سے قاصر ہوئے تو ہم آپ سے گندم کی مدد کی درخواست کریں گے۔ ہمارا فوجی بجٹ بھی اس امید کے ساتھ پلان کیا گیا ہے کہ قرضے اور سود کی مد میں تاخیر کی سہولت دی جائے گی۔

کوسیجن: مفت کی فوجی امداد کی صورت میں ہم آپ کو ملٹری بجٹ کی مد میں خاطر خواہ مدد دے چکے ہیں۔ ہم ادائیگی میں مزید تاخیر کے بارے میں سوچ بچار کریں گے۔

ترکئی: ہمیں ایک طاقتور ریڈیو سٹیشن کی ضرورت ہے جو کہ ہمیں ساری دنیا میں پروپیگنڈا نشر کرنے کے قابل بنائے گا۔

کوسیجن: ہم اس پر سوچ بچار کریں گے۔

استینوف: مزید ملٹری مشینری کی سپلائی کے ضمن میں، مزید فوجی ماہرین اور مشیروں کی ضرورت ہو گی۔

ترکئی: اگر آپ کا خیال ہے کہ ایسی ضرورت ہو گی، تو ظاہر ہے کہ ہم اسے قبول کریں گے۔ لیکن کیا آپ ہمیں سوشلسٹ ملکوں کے پائلٹوں اور ٹینک آپریٹروں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے؟

کوسیجن: جب ہم فوجی ماہرین کی بات کرتے ہیں تو ان سے ہمارا مطلب ہوتا ہے وہ مکینک جو کہ فوجی مشینری کی سروس کرتے ہیں۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بار بار پائلٹوں اور ٹینک آپریٹروں کا سوال کیوں اٹھتا ہے؟ یہ ہمارے لیے ایک قطعی غیر متوقع سوال ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ سوشلسٹ ممالک اس بات پر راضی نہیں ہوں گے۔ ایسے لوگوں کو بھیجنے کا سوال، جو کہ آپ کے ٹینکوں میں بیٹھ کر آپ کے لوگوں پر گولہ باری کریں گے، ایک ناخوشگوار سیاسی سوال ہے۔

ترکئی: ہم یہ دیکھیں گے کہ ہم ان افغان فوجیوں کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں جو کہ آپ کے ہاں تربیت کے لیے پہلے ہی بھیجے جا چکے ہیں۔ شاید ہم ان لوگوں کی تربیت کرنے کا مطالبہ قبول کرنے کی درخواست کریں گے جن کا انتخاب ہم خود کریں گے۔

استینوف: بالکل بالکل، ہم انہیں تربیت کے لیے قبول کریں گے۔

کوسیجن: اس گفتگو کا حاصل کلام یہ ہے کہ ایک طاقتور ریڈیو سٹیشن کی تعمیر کا سوال ابھی باقی رہتا ہے، فوجی امداد کی تیزی سے فراہمی کی جائے گی، اور آپ ہمارے ہاں تربیت پانے والے افغان افراد میں سے ہیلی کاپٹر پائلٹوں کا انتخاب کریں گے۔ اگر آپ کی مزید درخواستیں یا خواہشات ہوں، تو آپ ہمیں سوویت سفیر یا چیف ملٹری ایڈوائزر کے ذریعے مطلع کر سکتے ہیں۔ ہم ان کا نہایت سنجیدگی سے مطالعہ کریں گے، اور موزوں طریقے سے ردعمل دیں گے۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ اہم ہے کہ اپنے ملک میں آپ اپنی سوشل سپورٹ کو بڑھانے کے لیے کام کریں، لوگوں کو اپنی سمت کھینچیں، اور یہ بات یقینی بنائیں کہ کچھ بھی لوگوں کو آپ کی حکومت سے دور نہ کرے.

قارئین اس میٹنگ کے چھے مہینے بعد 14 ستمبر 1979 کو حفیظ اللہ امین نے نور محمد ترکئی کو قتل کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ 24 دسمبر کو سوویت یونین کی افواج نے افغان بارڈر کراس کر لیا۔ 27 دسمبر کو حفیظ اللہ امین کو قتل کر دیا گیا اور ببرک کارمل صدر کے منصب پر فائز ہو گئے۔ سوویت یونین کو شبہ تھا کہ حفیظ اللہ امین کا جھکاؤ امریکہ کی طرف ہے اور افغانستان ایک امریکی اتحادی کی حیثیت سے سوویت یونین کے خلاف کھڑا ہو سکتا ہے۔

اس دستاویز سے، اور دوسری امریکی اور سوویت دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان حکومت ایک طویل عرسے سے سوویت یونین سے درخواست کر رہی تھی کہ وہ اپنے فوجی افغان حکومت کی طرف سے لڑنے کے لیے بھیجے، لیکن سوویت یونین اس کی مخالفت کر رہا تھا۔ لیکن حفیظ اللہ امین کی بغاوت، اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوئی اور سوویت یونین کو بادلِ ناخواستہ فوجی دستے افغانستان میں بھیجنے کا قدم اٹھانا پڑ گیا۔

http://www.humsub.com.pk/25646/adnan-khan-kakar-213/

منجانب شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشنز یونائیٹڈ پاکستان

ایگزیکٹو بیورو یونائیٹڈ پاکستان کا اجلاس 19 ستمبر 2026 کو سنٹرل سیکرٹریٹ راولپنڈی میں منعقد ہوا جس کی صدارت سنٹرل پریذیڈ...
23/09/2026

ایگزیکٹو بیورو یونائیٹڈ پاکستان کا اجلاس 19 ستمبر 2026 کو سنٹرل سیکرٹریٹ راولپنڈی میں منعقد ہوا جس کی صدارت سنٹرل پریذیڈنٹ سردار عبدالرؤف صاحب نے کی۔ اجلاس میں اہم پارٹی امور زیر بحث لائے گئے اور ضروری فیصلہ جات کئے گئے جن پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے سرکلر کے ذریعہ متعلقہ ذمہ داران تک پہنچا دیا جائے گا۔

اجلاس کی تصویری جھلکیاں۔

منجانب: شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشنز یونائیٹڈ پاکستان

یونائیٹڈ پاکستان کی سنٹرل جنرل کونسل کا اجلاس 19 ستمبر  2026 کو سنٹرل سیکرٹریٹ راولپنڈی میں منعقد ہوا جس کی صدارت سنٹرل ...
20/09/2026

یونائیٹڈ پاکستان کی سنٹرل جنرل کونسل کا اجلاس 19 ستمبر 2026 کو سنٹرل سیکرٹریٹ راولپنڈی میں منعقد ہوا جس کی صدارت سنٹرل پریذیڈنٹ سردار عبدالرؤف صاحب نے کی۔
اجلاس میں ورکنگ بیورو کی جانب سے سال گزشتہ کی کارکردگی پیش کی گئی اور آمدہ سال کے اہداف پیش کئے گئے۔اجلاس میں اہم پارٹی امور زیر بحث لائے گئے اور ضروری فیصلہ جات کئے گئے جن پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے سرکلر کے ذریعہ متعلقہ ذمہ داران تک پہنچا دیا جائے گا۔

منجانب: شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشنز یونائیٹڈ پاکستان

meet.google.com/wvh-chra-uzz
12/09/2026

meet.google.com/wvh-chra-uzz

امام شاہ ولی اللّٰه کے تصور سوشلزم کے مطابق:بنیادی عامل پیدائش دولت صرف اور صرف ایک ہی ہے اور وہ محنت ہے۔ سرمایہ محنت ہی...
11/09/2026

امام شاہ ولی اللّٰه کے تصور سوشلزم کے مطابق:

بنیادی عامل پیدائش دولت صرف اور صرف ایک ہی ہے اور وہ محنت ہے۔ سرمایہ محنت ہی کی تجسیم ہونے کی وجہ سے محنت کر کے اسے(سرمایہ کو) پیدا کرنے والے محنت کشوں کے لئے بطورِ آلہ(Tool) بروئے کار آئے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ محنت کے ٹول کے طور پر محنت کش عوام کی بنیادی ضروریات زندگی کی بطریق احسن تکمیل، فلاح و بہبود اور ان کے محنت کے عمل کو آسان سے آسان تر بنانے کا کردار ادا کرے گا اور یہی سرمایہ کا تعاونی کردار ہو گا۔ کیونکہ امام شاہ ولی اللّٰه کے معاشی افکار کے مطابق: "دولت کی اصل بنیاد محنت ہے، مزدور اور کاشت کار قوت کاسبہ ہیں، باہمی تعاون شہریت کی روح رواں ہے، (لہٰذا)ضرورت مند مزدور کی رضا مندی قابل اعتبار نہیں جب تک اس کی محنت کی وہ قیمت ادا نہ کی جائے جو امدادِ باہمی کے اصول پر لازم ہوتی ہے، (نیز)جو پیداوار یا آمدنی تعاون باہمی کے اصول پر نہ ہو وہ خلافِ قانون ہے۔"

پس تعاون باہمی کی آڑ میں سرمایہ کو محنت کے مقابل کسی بھی درجے کی کوئی بھی حیثیت دینا در حقیقت سرمایہ داری نظام ہی کو قبول کرنا ہے جو امام شاہ ولی اللّٰه کے تصور سوشلزم کے خلاف مکارانہ لفاظی کی آڑ میں دجل اور سرمایہ داری نظام کی ہی حیلہ سازی اور آلہ کاری ہے۔

منجانب شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشنز یونائیٹڈ پاکستان

10/09/2026

سیکولرازم: امام شاہ ولی اللہؒ کے فلسفہ و فکر کی روشنی میں

سیکولرازم کیا ہے؟ اور امام شاہ ولی اللہؒ کے فلسفہ و فکر کی روشنی میں اسے کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟

اس دو منٹ کی ویڈیو میں سیکولرازم کے تصور کو عدل، مساوات، سماجی ہم آہنگی اور تمام شہریوں کی فلاح کے تناظر میں مختصر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

یونائیٹڈ پاکستان کی سیاسی فکر میں سیکولرازم کا مطلب ہے کہ ریاست کے تمام شہریوں کو مذہب، عقیدے، ذات پات یا رنگ سے قطع نظر برابر کے حقوق اور یکساں مواقع حاصل ہوں۔ کسی شہری کے ساتھ اس کی مذہبی شناخت یا عقیدے کی بنیاد پر امتیاز نہ ہو۔

یہ ویڈیو سیکولرازم کے بارے میں پائی جانے والی عام غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ ایک منصفانہ معاشرے کے لیے انسانی وقار، سماجی برابری، مذہبی رواداری اور پُرامن بقائے باہمی ضروری ہیں۔

یونائیٹڈ پاکستان امام شاہ ولی اللہؒ کے فلسفہ و فکر سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ایک ایسے معاشرے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے جہاں عدل، مساوات اور اجتماعی فلاح کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔

اگر آپ سیکولرازم، سماجی انصاف اور ایک انقلابی متبادل کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو یہ مختصر ویڈیو ضرور دیکھیں۔

سوچیے، سوال اٹھائیے اور ایک منصفانہ معاشرے کی جدوجہد کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔

09/09/2026

یونائیٹڈ پاکستان کا نظریہ جمہوریت
عامر علی شاہ سنٹرل وائس پریذیڈنٹ برائے تربیت

منجانب شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشنز یونائیٹڈ پاکستان

Address

Rawalpindi
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when United Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to United Pakistan:

Shortcuts

Share