Subah-e-Nau Pakistan

Subah-e-Nau Pakistan we are peace full nation

صبحِ نو پاکستان – ایک نیا سورج، ایک نیا سچ
یہ ہے پاکستان کا Facebook اخبار – عوام کی آواز، سچ کی پہچان۔
📰 خبریں | 🗣️ تجزیے | ✍️ اداریے | 🌍 عالمی منظرنامہ
ہماری تحریریں بولتی ہیں – پاکستان کے لیے، پاکستان کے ساتھ

A complete recap of how we defeated India last year! 😎 It was the day the whole world was impressed by Pakistan! 🇵🇰 Watc...
08/05/2026

A complete recap of how we defeated India last year! 😎 It was the day the whole world was impressed by Pakistan! 🇵🇰 Watch till the end. Pakistan Hamesha Zindabad! 🙌🏻

29/04/2026
ایک لمحہ وہ تھا جب دنیا، خاص کر بھارتی میڈیا، یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا ہے۔ مگر وقت ن...
11/04/2026

ایک لمحہ وہ تھا جب دنیا، خاص کر بھارتی میڈیا، یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا ہے۔ مگر وقت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ قوموں کی اصل پہچان مشکل حالات میں ان کے کردار سے ہوتی ہے، نہ کہ دوسروں کے تبصروں سے۔
اسی دوران دنیا ایک خطرناک موڑ پر کھڑی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ ماہرین اسے ممکنہ تیسری عالمی جنگ کی ابتدا قرار دے رہے تھے۔ ایران اور دیگر طاقتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا تھا بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے قریب تھے۔ ایسے میں ہر قدم، ہر فیصلہ، پوری دنیا کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا تھا۔
یہی وہ وقت تھا جب پاکستان نے خاموشی توڑ کر ایک ذمہ دار اور جرات مندانہ کردار ادا کیا۔ پسِ پردہ سفارتکاری، مسلسل رابطے، اور ایک متوازن پالیسی کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی کی راہ ہموار کی بلکہ ایک ایسی صورتحال کو بھی ٹالنے میں مدد دی جو عالمی سطح پر تباہی کا سبب بن سکتی تھی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس بروقت کردار نے دنیا کو ایک بڑے تصادم، حتیٰ کہ ممکنہ تیسری عالمی جنگ کے خطرے سے بچانے میں اہم حصہ ڈالا۔
جب جنگ بندی کا اعلان ہوا تو یہ صرف ایک معاہدہ نہیں تھا بلکہ ایک عالمی سکون کا سانس تھا۔ دنیا نے وقتی طور پر ہی سہی، مگر ایک بڑی تباہی کے سائے سے نکلنے کا موقع پایا۔ اور اس سب کے پیچھے پاکستان کا وہ کردار تھا جسے پہلے نظر انداز کیا جا رہا تھا۔
اس کامیابی کے ساتھ ساتھ ایک اور حقیقت بھی سامنے آئی۔ کچھ اندرونی اور بیرونی حلقے، خاص طور پر بھارتی لابی کے بعض عناصر، اس پیش رفت سے ناخوش دکھائی دیے۔ ان کی کوشش رہی کہ اس کردار کو کم تر ثابت کیا جائے، اس پر شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں، اور یہ تاثر دیا جائے کہ پاکستان کا کوئی حقیقی اثر نہیں۔ مگر ان کی یہی بے چینی دراصل اس بات کا ثبوت تھی کہ پاکستان نے ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔
اندرونِ ملک بھی کچھ آوازیں ایسی تھیں جو ہر مثبت قدم کو شک کی نظر سے دیکھتی ہیں، مگر وقت یہ سکھاتا ہے کہ قومیں تب آگے بڑھتی ہیں جب وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتی ہیں۔ اگر ہم خود اپنے کردار کو تسلیم نہیں کریں گے تو دنیا بھی ہمیں سنجیدگی سے نہیں لے گی۔
اب جب باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہونے جا رہا ہے تو امید کی ایک نئی فضا قائم ہو چکی ہے۔ تمام فریقین جنگ کے نقصانات کو دیکھ چکے ہیں اور اب حل کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کا کردار، اس کا توازن، اور اس کی سفارتی حکمت عملی اس بات کی امید دلاتی ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔
یہ سارا منظر ہمیں ایک بڑی حقیقت کی طرف لے جاتا ہے کہ “Let’s Make Pakistan Great Again” صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی راستہ ہے۔ عظمت اس میں ہے کہ ہم نہ صرف اپنے مسائل کا حل تلاش کریں بلکہ دنیا کے لیے بھی امن اور استحکام کا ذریعہ بنیں۔ اور اگر ایک لمحے کے لیے بھی پاکستان نے دنیا کو ایک بڑی جنگ کے دہانے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ملک صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے بھی اہم ہے۔

19/02/2026

daal

19/02/2026

emotional bayan

19/02/2026

happy Ramadan

Ayatal kursi
19/02/2026

Ayatal kursi

Aj k din ki baat
19/02/2026

Aj k din ki baat

Ramzan mubark to All
19/02/2026

Ramzan mubark to All

وفاقی حکومت نے "آنکھ" کے معاملے کو غیر متوقع طور پر خاصی مہارت سے سنبھال لیا۔ غیر ضروری پریس کانفرنسوں، بیانات اور سیاسی...
17/02/2026

وفاقی حکومت نے "آنکھ" کے معاملے کو غیر متوقع طور پر خاصی مہارت سے سنبھال لیا۔ غیر ضروری پریس کانفرنسوں، بیانات اور سیاسی اچھل کود سے مکمل گریز کیا گیا۔ دوسری طرف آصف زرداری اور پوری پیپلز پارٹی کو مہارت سے "آنکھ والے" کے پیچھے لگا دیا گیا، یوں سیاسی دباؤ کا رخ تبدیل کر دیا گیا۔
پنجاب میں صورتحال یہ رہی کہ کسی کسان کی کھیت کو جانے والی پگڈنڈی تک بند نہیں ہوئی، جبکہ خیبر پختونخوا میں درجنوں مقامات پر موٹر ویز بند کر کے احتجاج کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ وہاں کی حکومت عملاً کہاں کھڑی ہے؟
ادھر خیبر ہاؤس اسلام آباد میں کابینہ کے ہمراہ تقاریب اور پروگرام جاری ہیں، اور دوسری جانب گنڈاپور کی جانب سے "یا محسن نقوی مدد" کے نعرے لگوائے جا رہے ہیں۔ سیاست اپنے عروج پر ہے مگر حکمرانی کہیں پس منظر میں دکھائی دیتی ہے۔
مزید دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مبینہ طور پر نواز شریف اور عمران خان کی مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت لگائے گئے اپوزیشن لیڈر نے عمران خان کی نظر کو "اے ون ٹنا ٹن" قرار دے دیا۔ بیانیے اس تیزی سے بدل رہے ہیں کہ عوام کے لیے سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ اصل مؤقف کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پیجز پر نظر ڈالیں تو موضوع "آنکھ" سے نکل کر ذاتی حملوں اور اندرونی درجہ بندیوں تک جا پہنچا ہے۔ فلاں کمپرومائزڈ ہے، فلاں کسی اور کا بندہ ہے — الزامات اور صف بندیاں اپنے عروج پر ہیں۔
سب سے زیادہ افسوس اُن کارکنوں پر ہوتا ہے جنہیں چودہ برس تک مخصوص نعروں پر تیار کیا گیا اور اب انہی سے کہا جا رہا ہے کہ اپنے ہی صوبے کو بند کرو۔
اور اسی دوران، ایک وسیع و عریض لان میں گالف شاٹ کھیلتے ہوئے دو افراد کا مکالمہ سنائی دیتا ہے:
"کیسا دیا؟"

Address

Online
Rawalpindi
47040

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Subah-e-Nau Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share