11/04/2026
ایک لمحہ وہ تھا جب دنیا، خاص کر بھارتی میڈیا، یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا ہے۔ مگر وقت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ قوموں کی اصل پہچان مشکل حالات میں ان کے کردار سے ہوتی ہے، نہ کہ دوسروں کے تبصروں سے۔
اسی دوران دنیا ایک خطرناک موڑ پر کھڑی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ ماہرین اسے ممکنہ تیسری عالمی جنگ کی ابتدا قرار دے رہے تھے۔ ایران اور دیگر طاقتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا تھا بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے قریب تھے۔ ایسے میں ہر قدم، ہر فیصلہ، پوری دنیا کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا تھا۔
یہی وہ وقت تھا جب پاکستان نے خاموشی توڑ کر ایک ذمہ دار اور جرات مندانہ کردار ادا کیا۔ پسِ پردہ سفارتکاری، مسلسل رابطے، اور ایک متوازن پالیسی کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی کی راہ ہموار کی بلکہ ایک ایسی صورتحال کو بھی ٹالنے میں مدد دی جو عالمی سطح پر تباہی کا سبب بن سکتی تھی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس بروقت کردار نے دنیا کو ایک بڑے تصادم، حتیٰ کہ ممکنہ تیسری عالمی جنگ کے خطرے سے بچانے میں اہم حصہ ڈالا۔
جب جنگ بندی کا اعلان ہوا تو یہ صرف ایک معاہدہ نہیں تھا بلکہ ایک عالمی سکون کا سانس تھا۔ دنیا نے وقتی طور پر ہی سہی، مگر ایک بڑی تباہی کے سائے سے نکلنے کا موقع پایا۔ اور اس سب کے پیچھے پاکستان کا وہ کردار تھا جسے پہلے نظر انداز کیا جا رہا تھا۔
اس کامیابی کے ساتھ ساتھ ایک اور حقیقت بھی سامنے آئی۔ کچھ اندرونی اور بیرونی حلقے، خاص طور پر بھارتی لابی کے بعض عناصر، اس پیش رفت سے ناخوش دکھائی دیے۔ ان کی کوشش رہی کہ اس کردار کو کم تر ثابت کیا جائے، اس پر شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں، اور یہ تاثر دیا جائے کہ پاکستان کا کوئی حقیقی اثر نہیں۔ مگر ان کی یہی بے چینی دراصل اس بات کا ثبوت تھی کہ پاکستان نے ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔
اندرونِ ملک بھی کچھ آوازیں ایسی تھیں جو ہر مثبت قدم کو شک کی نظر سے دیکھتی ہیں، مگر وقت یہ سکھاتا ہے کہ قومیں تب آگے بڑھتی ہیں جب وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتی ہیں۔ اگر ہم خود اپنے کردار کو تسلیم نہیں کریں گے تو دنیا بھی ہمیں سنجیدگی سے نہیں لے گی۔
اب جب باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہونے جا رہا ہے تو امید کی ایک نئی فضا قائم ہو چکی ہے۔ تمام فریقین جنگ کے نقصانات کو دیکھ چکے ہیں اور اب حل کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کا کردار، اس کا توازن، اور اس کی سفارتی حکمت عملی اس بات کی امید دلاتی ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔
یہ سارا منظر ہمیں ایک بڑی حقیقت کی طرف لے جاتا ہے کہ “Let’s Make Pakistan Great Again” صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی راستہ ہے۔ عظمت اس میں ہے کہ ہم نہ صرف اپنے مسائل کا حل تلاش کریں بلکہ دنیا کے لیے بھی امن اور استحکام کا ذریعہ بنیں۔ اور اگر ایک لمحے کے لیے بھی پاکستان نے دنیا کو ایک بڑی جنگ کے دہانے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ملک صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے بھی اہم ہے۔