Zahid Mehmood

Zahid Mehmood Pakistan Tehreek e Insaf

آزادی کا مطلب مرضی کرنا نہیں، بلکہ صحیح راستہ خود چننے کی طاقت رکھنا ہے۔"بہت سے لوگ آزادی کو یہ سمجھتے ہیں کہ جو دل چاہے...
18/06/2026

آزادی کا مطلب مرضی کرنا نہیں، بلکہ صحیح راستہ خود چننے کی طاقت رکھنا ہے۔"

بہت سے لوگ آزادی کو یہ سمجھتے ہیں کہ جو دل چاہے کر لیا جائے، کسی کی بات نہ سنی جائے اور ہر خواہش کے پیچھے چل پڑا جائے۔

مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔

اگر انسان اپنی خواہشات، غصے، لالچ، خوف یا دوسروں کی رائے کا غلام ہو، تو وہ بظاہر آزاد ہو کر بھی قیدی ہوتا ہے۔

اصل آزادی یہ ہے کہ تمہارے فیصلے تمہاری عقل، تمہارے ضمیر اور تمہاری اقدار سے پیدا ہوں، نہ کہ ہجوم کے دباؤ سے۔

جب پوری دنیا ایک طرف جا رہی ہو اور تم حق کا راستہ پہچان کر اس پر چلنے کی ہمت رکھو، تو یہی آزادی ہے۔

جب تم غلط کو صرف اس لیے قبول نہ کرو کہ سب کر رہے ہیں، تو یہی آزادی ہے۔

جب تم اپنی عزت، اپنے کردار اور اپنے اصولوں کو وقتی فائدے پر قربان نہ کرو، تو یہی آزادی ہے۔

پرندہ صرف اس لیے آزاد نہیں کہ وہ آسمان میں اڑتا ہے…

وہ اس لیے آزاد ہے کہ اس کی پرواز اس کی اپنی ہوتی ہے۔

اسی طرح انسان بھی اس وقت آزاد ہوتا ہے جب وہ اپنی زندگی دوسروں کی توقعات کے مطابق نہیں، بلکہ سچ، شعور اور اپنے رب کی رضا کو سامنے رکھ کر جیتا ہے۔

جو انسان اپنے نفس پر قابو پا لے، وہ دنیا کی ہر زنجیر توڑ سکتا ہے۔ اور جو اپنے نفس کا غلام بن جائے، وہ کھلے آسمان کے نیچے بھی قیدی رہتا ہے۔

عاقب احمد

26/01/2026
تجربہ۔۔۔۔۔ زندگی کے لیے ضروری یا شخصیت کے بگاڑ کی اہم وجہ عموما لوگوں کا ماننا ہوتا ہے کہ تجربہ اچھا ہو یا برا کچھ نہ کچ...
22/01/2026

تجربہ۔۔۔۔۔ زندگی کے لیے ضروری یا شخصیت کے بگاڑ کی اہم وجہ

عموما لوگوں کا ماننا ہوتا ہے کہ تجربہ اچھا ہو یا برا کچھ نہ کچھ ضرور سکھاتا ہے کچھ کا ماننا ہوتا ہے کہ برے تجربے ہمیں مضبوط بناتے ہیں۔ چلیں ہم ارلی چائلڈ ہڈ ایکسپیرئینسز یا ابتدائی بچپن کے تجربات سے شروع کرتے ہیں. یعنی اوائلی بچپن کے تجربات۔ نفسیات دانوں کا ماننا ہے اور اس ماننے کی وجہ "تجربات" سے حاصل شدہ نتائج ہیں کہ بچے رحم مادر میں ہی بہت سے تجربات سے سیکھنا شروع کر دیتے ہیں پرسکون ماحول میں پرسکون رہنے والی ماں کے جسم میں پرورش پانے والے بچے زیادہ صحت مند اور پرسکون شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ اسی لیے ماں کی جسمانی اور ذہنی صحت دونوں پہ توجہ دی جاتی ہے۔ یعنی ہمارے اس دنیا سے متعلق سب سے پہلے تجربے کا مثبت ہونا ضروری ہے۔ جیسے جیسے بچہ/بچی بڑا ہوتا جاتا ہے وہ وہی سب کچھ سیکھتا جاتا ہے جو اس کے اردگرد ہو رہا ہو۔ یعنی تجربہ کار ہوتا جاتا ہے۔ مگر یہ تجربے اس کی شخصیت پہ کیا اثر ڈال رہے ہیں؟ نئی تحقیق کی بنیاد پہ یہ مانا جاتا ہے کہ اگر بچے/بچی کو شدید ذہنی دباو والے ماحول میں رکھا جائے یعنی اصولوں پہ پابندی کی سختی ہو اس کو بار بار تنقیدکا نشانہ بنایا جائے یا مضحکہ اڑایا جائے تو بچہ/بچی کو وہی ذہنی صدمہ ہوگا جو جنگ زدہ افراد کا ہوتا ہے اور اس صدمے کو ذہنی ٹرامہ میں سب سے بدترین صدمے کا درجہ حاصل ہے۔ یعنی یہ غلط فہمی اب درست کر لینی چاہیئے کہ تجربہ اچھا ہو یا برا ہمیں کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے اور برا تجربہ ہمیں مضبوط کرتا ہے۔
ہم نے تجربے سے کیا مثبت سیکھا اس کا دارومدار اس مشکل وقت سے صرف گزر آنے پہ نہیں ہوتا۔ بلکہ اس تجربے کے بعد ہماری شخصیت میں کیا تبدیلی آئی اس پہ ہے۔ اگر ہم اس تجربے کی بنیاد پہ یہ سیکھتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے سہا وہ کسی اور کو نہ سہنا پڑے یہ تجربے کا مثبت اثر ہے۔ مگر جب ہم یہ سیکھ لیں کہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا یہ کسی اور کہ ساتھ ہو تو کیا ہوا ہم بھی تو تکلیف سے گزرے ہماری بھی تو کسی نے مدد نہیں کی اور جب ہم پہ گزری تو دوسروں پہ بھی گزرنی چاہیئے یہ تجربے کا منفی اثر ہے۔
سوال یہ آتا ہے کہ کیا یہ مثبت اور منفی اثر مثبت اور منفی شخصیت کی وجہ سے ہے یعنی جو اچھا ہے وہ اچھی بات سیکھے گا اور جو برا ہے وہ بری بات سیکھے گا جی نہیں اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ آپ کی زندگی میں کتنے خوشگوار اور کتنے ناگوار تجربات گزرے۔ خوشگوار تجربات سے زیادہ تر گزرنے والے افراد ناگوار تجربات کو ہنس کر جھیلنے کی ہمت رکھتے ہیں یہ چلتے چلتے ٹھوکر لگنے جیسا ہے۔ کہ آپ کو تھوڑا برا لگے گا مگر آپ کپڑے جھاڑ کر دوبارہ چل دیں گے۔ مگر تلخ تجربات کا زیادہ سامنا کرنے والوں میں آہستہ آہستہ ان تجربات کو ہنس کر جھیلنے کی سکت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ خاص کر اگر یہ تلخ تجربات بچپن کا حصہ ہوں اور جذباتی نوعیت کے ہوں۔ اس کی صورتحال ایسی ہوگی جیسے آپ گرے سنبھلنے کی کوشش میں پھر گرے پھر اٹھے اور گرنے کا نا رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ آخر کار آپ کی ہمت جواب دے جائے گی۔ ایک دو تلخ تجربات میں اپ کپڑے جھاڑ کے خود ہی کھڑے ہوجاتے ہیں مگر اگر کوئی ہاتھ پکڑ کر سنبھالنے والا ہو تو جلد سفر شروع کر سکتے ہیں حد یہ کہ کئی بار گرنے والا بھی مشکل سے سہی مگر سہارے سے دوبارہ اپنا سفر شروع کر سکتا ہے۔ یہی کچھ تلخ تجربات کے ساتھ بھی ہے آپ کے گرد حوصلہ دینے والے لوگ زیادہ ہوں تو تلخ تجربات آپ کی شخصیت پہ منفی اور دیرپا اثر نہیں چھوڑتے جبکہ اکیلے مشکلات سے گزرنے والے افراد کے منفی شخصیت کے حامل ہونے کے امکان بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
ہم معاشرتی حیوان ہیں اکیلا رہنا ہماری جبلت ہی نہیں تو اچھی زندگی کے لیے اصول بنا لیں کہ ایک دوسرے کو سہارا دینا ہے تاکہ کپڑے جھاڑ کر دوبارہ سفر شروع کرنا دوسروں کے لیے بھی آسان ہو ہمارے لیے بھی۔

ملٹی ٹاسکنگ دیکھنے میں تو نتیجہ خیز لگتی ہے، مگر اصل نتیجہ توجہ سے ہی ملتا ہے۔ focus یعنی
12/11/2025

ملٹی ٹاسکنگ دیکھنے میں تو نتیجہ خیز
لگتی ہے، مگر اصل نتیجہ توجہ
سے ہی ملتا ہے۔ focus یعنی

کسی دانش ور نے کہا تھا ناکام معاشروں میں ہر کمزور ذہن کے لیے ہزار احمق موجود ہوتے ہیں، اور ہر شعوری بات کے لیے ہزار بوسی...
11/11/2025

کسی دانش ور نے کہا تھا ناکام معاشروں میں ہر کمزور ذہن کے لیے ہزار احمق موجود ہوتے ہیں، اور ہر شعوری بات کے لیے ہزار بوسیدہ الفاظ۔ وہاں سطحی خیالات کی بھرمار ہوتی ہے، سنجیدہ گفتگو ناپید ہوتی ہے، اور عام فہم سوچ کو پست کر دیا جاتا ہے۔ ایسے معاشروں میں ذہانت اور شعور دب جاتے ہیں، جبکہ بے مقصد تفریح اور سطحی موضوعات کو فوقیت دی جاتی ہے۔

آج کل ٹی وی اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہمارے ذہنوں میں جو مصالحہ بھرا جا رہا ہے، وہ نہ صرف ہماری فکری صلاحیتوں کو مفلوج کر رہا ہے بلکہ ہمیں حقیقی زندگی کے اہم مسائل سے بھی غافل کر رہا ہے۔ بے ہودہ گانے، غیر معیاری ڈرامے، جھوٹے تنازعات، اور بے مقصد گپ شپ ہماری سوچ کو محدود کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ تفریح ہی سب کچھ ہے، جبکہ علم، تحقیق، اور سنجیدہ مکالمہ بوجھ بن چکے ہیں۔

یہ زہریلا مواد ہمارے ذہنوں کو مسخ کر کے ہمیں غیر سنجیدہ اور غیر حقیقی دنیا میں قید کر رہا ہے۔ یہ ہمیں ایسے موضوعات میں الجھاتا ہے جو ہماری عملی زندگی میں کوئی بہتری نہیں لاتے، بلکہ ہماری توجہ کو بکھیر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے لگتے ہیں، بغیر کسی تحقیق کے ہر چیز پر رائے دینے لگتے ہیں، اور دانشوروں کی بات سننے کے بجائے ان پر طنز کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ہمیں اس جال سے نکلنے کے لیے اپنے انتخاب کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں ان چیزوں کا انتخاب کرنا ہوگا جو ہماری سوچ کو بہتر کریں، ہمیں شعور دیں، اور ہمیں حقیقت پسند بنائیں۔ معیاری کتابیں پڑھنا، حقیقی علمی مکالمے میں حصہ لینا، اور ایسے افراد سے سیکھنا جو تجربہ اور علم رکھتے ہیں، یہ سب ہمیں اس ذہنی زوال سے نکال سکتے ہیں۔ ہمیں تفریح کو بھی سوچ سمجھ کر منتخب کرنا ہوگا، تاکہ وہ ہماری ذہنی بالیدگی میں رکاوٹ بننے کے بجائے اسے بہتر کرے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ ہمیں کیا دیکھنا، سننا اور پڑھنا چاہئے، اور کیا رد کر دینا چاہئے۔ ورنہ، اگر ہم نے خود کو ان بے مقصد چیزوں کے حوالے کر دیا، تو ہم بھی اس ہجوم کا حصہ بن جائیں گے جو محض وقت گزارتا ہے، مگر شعور اور آگہی سے محروم رہتا ہے۔

Address

Taxila
Rawalpindi

Telephone

+923468075065

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zahid Mehmood posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Zahid Mehmood:

Shortcuts

Share

Category