جموں کشمیر لبریشن لیگ یوتھ بورڈ

جموں کشمیر لبریشن لیگ یوتھ بورڈ یہ جموں کشمیر لبریشن لیگ یوتھ بورڈ کا آفیشل پیج ہے

14/06/2026
13/06/2026

صدر جموں کشمیر لبریشن لیگ کا آل پارٹیز کانفرنس میں دو ٹوک موقف۔

پریس ریلیز جموں کشمیر لبریشن لیگ  11 جون، 2026ءپرامن مظاہروں پر تشدد اور فورسز کا استعمال کشمیری عوام اور ریاستِ پاکستان...
11/06/2026

پریس ریلیز
جموں کشمیر لبریشن لیگ
11 جون، 2026ء

پرامن مظاہروں پر تشدد اور فورسز کا استعمال کشمیری عوام اور ریاستِ پاکستان میں دوریاں بڑھانے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا. خواجہ منظور قادر ایڈوکیٹ

مظفرآباد (پریس ریلیز):
جموں کشمیر لبریشن لیگ کے صدر خواجہ منظور قادر ایڈوکیٹ نے آزاد جموں و کشمیر کی حالیہ تشویشناک صورتحال پر گہرے دکھ اور شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک ہنگامی بیان میں انہوں نے حکومتِ وقت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری پرامن عوامی مظاہروں کو طاقت کے بل بوتے پر کچلنا اور فورسز کا بے جا استعمال کسی صورت بھی ریاستِ پاکستان کے حق اور مفاد میں نہیں ہے۔ یہ جبر کشمیری عوام اور پاکستان کے مابین تاریخی و قلبی رشتوں کو کمزور کرنے اور دوریوں کو مزید بڑھانے کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

صدر جموں کشمیر لبریشن لیگ نے حکومتِ آزاد کشمیر اور حکومتِ پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھا جائے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو فوری طور پر مذاکرات کی میز پر بٹھا کر تمام تصفیہ طلب معاملات کو آئینی و سیاسی دائرہ کار میں حل کیا جائے۔ انہوں تکبیرِ مسلسل کرتے ہوئے کہا کہ اپنے جائز حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کرنے والی عوامی ایکشن کمیٹی کو "پاکستان مخالف" یا "کالعدم" قرار دینے کی کوششیں انتہائی احمکانہ اقدام اور زمینی حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہیں۔

خواجہ منظور قادر ایڈوکیٹ نے انکشاف کیا کہ آزاد کشمیر کے موجودہ انتشار کو تدبر اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے بجائے، پسِ پردہ یہاں کے حکومتی و سیاسی ڈھانچے کو ہی لپیٹنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جو کہ خطے کی شناخت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جموں کشمیر لبریشن لیگ نے پہلے روز سے ہی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبران اور آزاد کشمیر کے تمام سیاست دانوں کو یہ بات بارہا باور کرائی ہے کہ اگر اس سنجیدہ معاملے کو عقل، دانش اور دوراندیشی کے ساتھ حل نہ کیا گیا تو آزاد کشمیر کی ریاستی شناخت اور بقا کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے سخت الفاظ میں تنبیہ کی کہ وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے، اب بھی اگر عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبران اور آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ارکان نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور ضد و انا کو چھوڑ کر مخلصانہ حکمتِ عملی نہ اپنائی، تو خطے کو ایسا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا جس کا خمیازہ صدیوں تک بھگتنا پڑے گا۔

جاری کردہ:

مرکزی شعبہ اطلاعات و میڈیا سیل

جموں کشمیر لبریشن لیگ

جموں و کشمیر لبریشن لیگ کے صدر خواجہ منظور قادر نے راولاکوٹ میں پرامن عوام پر ریاستی فائرنگ اور سی ایم ایچ کے باہر پیش آ...
09/06/2026

جموں و کشمیر لبریشن لیگ کے صدر خواجہ منظور قادر نے راولاکوٹ میں پرامن عوام پر ریاستی فائرنگ اور سی ایم ایچ کے باہر پیش آنے والے افسوسناک واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کشمیر محض ایک خطہ نہیں بلکہ ایک حساس بین الاقوامی تنازعہ ہے اور ایسے حالات میں عوام کے خلاف طاقت کا استعمال نہ صرف ایک انسانی المیہ ہے، بلکہ یہ دشمن کے پروپیگنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت ہمیشہ ایسے حالات کی تاک میں رہتا ہے تاکہ عالمی سطح پر کشمیر کی تحریک کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
​خواجہ منظور قادر نے نہ صرف آل پارٹیز کانفرنس (APC) میں اس اقدام کی بھرپور مذمت کی، بلکہ اس معاملے پر شاہ غلام قادر اور میاں وحید کے ساتھ ان کی شدید تلخ کلامی بھی ریکارڈ پر موجود ہے، جو اس معاملے پر ان کے اصولی موقف کی عکاس ہے۔ لبریشن لیگ کا واضح اور دو ٹوک موقف ہے کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی صورت غیر ریاستی فورسز یا طاقت کا بے دریغ استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
​خواجہ منظور قادر نے مطالبہ کیا ہے کہ عوام پر گولیاں چلانے کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے، کیونکہ طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں بلکہ جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ راولاکوٹ سانحے کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے ایک غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات جائز ہیں اور انہیں بندوق کی نال سے نہیں بلکہ ٹیبل پر بیٹھ کر بامقصد مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ریاست کا بنیادی فریضہ اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے، نہ کہ ان کے خلاف صف آرا ہونا۔ جموں و کشمیر لبریشن لیگ اس مشکل گھڑی میں کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ جب تک عوام کا ریاست پر اعتماد بحال نہیں ہوتا، خطے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

09/06/2026

صدر جموں کشمیر لبریشن لیگ خواجہ منظور قادر ایڈوکیٹ کا دو ٹوک موقف۔
اگر آپ لا اینڈ آرڈر کو بحال رکھنے کی اہلیت نہیں رکھتے تو اقتدار چھوڑ دیں لیکن عوام کو زیر بار نہ کریں اور نہ ہی پاکستان کی فورسز کو استعمال کریں۔

جموں کشمیر لبریشن لیگ کی 14 ستمبر 2025 کی تاریخی قرارداد دراصل وہ فکری مشعل تھی جس نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو اندھیر...
04/06/2026

جموں کشمیر لبریشن لیگ کی 14 ستمبر 2025 کی تاریخی قرارداد دراصل وہ فکری مشعل تھی جس نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو اندھیروں میں منزل کا سراغ دیا۔ لبریشن لیگ نے راولاکوٹ کے اجلاس میں جن سیاسی، آئینی اور قانونی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ایک جامع روڈ میپ پیش کیا تھا، ایکشن کمیٹی نے اسی بصیرت سے فیض پا کر حکومت کے سامنے اپنے مطالبات کا مقدمہ لڑا۔ لبریشن لیگ نے جب مہاجرینِ مقیم پاکستان کے باشندہ ریاست سرٹیفیکیٹس کی دوبارہ جانچ پڑتال اور جعلی دستاویزات کی منسوخی کا جرات مندانہ مؤقف اختیار کیا، تو اسی اصولی رہنمائی نے ایکشن کمیٹی کو یہ فہم عطا کی کہ وہ اسٹیٹ سبجیکٹس کو جعل سازی سے پاک کرنے اور حقیقی مہاجرین کے تحفظ کے لیے ڈومیسائل کی شرط کو لازم قرار دینے کا مطالبہ دہرائے۔ یہی نہیں، بلکہ لبریشن لیگ نے انتخابی حلقوں کی شفافیت اور ووٹر فہرستوں کی درستی کا جو نقارہ بجایا تھا، اسی کی بازگشت ایکشن کمیٹی کی ان تجاویز میں بھی صاف سنائی دیتی ہے جہاں وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر مہاجرین کی سیاسی اور آئینی حیثیت کے نئے خد و خال وضع کر رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایکشن کمیٹی کی یہ فکری دستاویزی شکل کوئی اتفاقیہ پیش رفت نہیں، بلکہ جموں کشمیر لبریشن لیگ کی درست رہنمائی اور سیاسی شعور کا وہ جیتا جاگتا ثبوت ہے جس نے ایکشن کمیٹی کے ہاتھ میں دلیل کا سلیقہ تھما کر اسے حکومت کے سامنے مضبوطی سے کھڑا ہونے کا حوصلہ بخشا۔

جموں کشمیر لبریشن لیگ کی مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہ مورخہ 14 ستمبر 2025 بمقام راولاکوٹ آزاد جموں کشمیر میں درج ذیل قرارد...
03/06/2026

جموں کشمیر لبریشن لیگ کی مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہ مورخہ 14 ستمبر 2025 بمقام راولاکوٹ آزاد جموں کشمیر میں درج ذیل قرارداد پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔

جموں کشمیر لبریشن لیگ اس قرارداد کے ذریعہ مہاجرینِ جموں کشمیر مقیم پاکستان کی بابت ہائیکورٹ آف آزاد جموں کشمیر کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کرتی ہے اور مجوزہ کمیشن کی تشکیل کے TORs طے کرنے کیلئے درج ذیل نکات اور تجاویز پیش کرتی ہے۔

الف- پاکستان میں مقیم تمام مہاجرینِ جموں کشمیر کو جاری شدہ باشندہ ریاست سرٹیفیکیٹ کی دوبارہ مکمل جانچ پڑتال کی جائے، جعلی طور پر جاری شدہ باشندہ ریاست سرٹیفیکیٹ منسوخ کیے جائیں جبکہ تحت ضابطہ حقیقی بنیادوں پر حقیقی مہاجرین جموں کشمیر کو جاری شدہ سرٹیفیکیٹ کی صحت و حیثیت کو برقرار رکھا جائے اور جو باشندگان ریاست جموں کشمیر یعنی مہاجرین مقیم پاکستان تاحال باشندہ ریاست سرٹیفیکیٹ حاصل نہیں کر پائے ان کی تفصیلات کے حصول کے بعد تحت ضابطہ سرٹیفیکیٹ جاری کیے جائیں اور تمام مہاجرین کا ریکارڈ از سرِ نو مرتب کیا جائے۔

ب- مجوزہ کمیشن اپنی نگرانی میں الیکشن کمیشن کے ذریعے مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کے 12 انتخابی حلقوں کی ووٹر فہرستوں کا ازسرِ نو جائزہ لے اور وہ مہاجرین جموں کشمیر جن کے نام جعلی طور پر درج کیے گئے ان غیر ریاستی باشندگان/افراد یا وہ باشندگان ریاست جو کہ 14 اگست 1947 سے قبل ان علاقوں میں آباد ہیں ان ہر دو کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج کرتے ہوئے حقیقی اور اصلی مہاجرین مقیم پاکستان کے اندراج کے بعد کی نئی فہرستیں جاری کی جائیں۔

ج- مجوزہ کمیشن آزاد جموں کشمیر کے حکومتی خزانے سے مہاجرین مقیم پاکستان کی آبادکاری، ترقیاتی منصوبہ جات، بورنگ، گلیوں کی پختگی یا دیگر مد میں جاری شدہ فنڈز اور گرانٹس کا آڈٹ کروائے، مکمل غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کے عمل کے تحت خورد برد کا جائزہ لے کر خودربرد کی گئی رقم ان ذمہ داران سے واپس لے کر ریاستی خزانے میں جمع کروائی جائے اور خوردبرد کرنے والے ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لاتے میں 20 سال تک کیلئے ان کے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی جائے۔

د- مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی آبادکاری، بنیادی سہولیات کی فراہمی، روزمرہ کے مسائل کے تدارک اور ممکنہ حل کیلئے منتخب ممبران کو پابند کیا جائے کہ وہ پاکستان کی وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں سے روابط استوار کر کے مسائل کے تدارک کیلئے عملی اقدام کریں۔


جاری کردہ
شعبہ نشرواشاعت
جموں کشمیر لبریشن لیگ

جموں کشمیر لبریشن لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہ 23 مئی 2026 بمقام راولپنڈی میں درج ذیل قرارداد پیش کی گئی جسے ...
24/05/2026

جموں کشمیر لبریشن لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہ 23 مئی 2026 بمقام راولپنڈی میں درج ذیل قرارداد پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔

1۔ آج کا یہ اجلاس حکومت آزاد جموں کشمیر اور فیصلہ ساز قوتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات آئین و قانون کے مطابق بروقت اور بلاتاخیر، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدار طریقہ سے کروائے جائیں۔ اس سے قبل صدرِ ریاست کا انتخابی عمل روک کر آئین و قانون شکنی کی گئی ہے، لہٰذا صدارتی انتخاب کا عمل فی الفور مکمل کیا جائے۔

2۔ جموں کشمیر لبریشن لیگ کا یہ اجلاس اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ آزاد جموں کشمیر، گلگت بلتستان اور آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کو کمزور کرنے، اس کی جغرافیائی حدود تبدیل کرنے اور اس کی خصوصی حیثیت ختم کرنے، ضم کرنے یا صوبہ بنانے کی کوششوں اور اقدام کے خلاف ہر سطح پر سخت مزاحمت کی جائے گی۔ اور ایسا ہر اقدام اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی، آئینِ پاکستان سے روگردانی، پاکستان کے بین الاقوامی معاہدات بشمول سائنو پاک ٹریٹی اور ٹروس ایگریمنٹ کی خلاف ورزی اور عہد شکنی کے ساتھ ساتھ قائداعظم کی کشمیر پالیسی کے مغائر تصور ہو گا۔ پوری ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی اور رائے شماری کے منطقی اور حتمی انجام تک کسی بھی ریاستی حصے میں ریاستی عوام کے حق خود حکمرانی اور حق ترجمانی کے منافی ہر قسم کے اقدام کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ یہ اجلاس اپنے مسلسل مطالبہ کا اعادہ کرتا ہے کہ آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر بشمول گلگت بلتستان کو پوری ریاست جموں کشمیر کی جمہوری نمائندہ اور مہاراجہ ہری سنگھ کی جانشین حکومت تسلیم کیا جائے اور اسے باوقار و بااختیار بنایا جائے۔

3۔ آج کا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت پاکستان، آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کے ساتھ معاہدات کے ذریعہ نظام حکومت اور عوامی مفادات کے کام میں بہتری لانے کیلئے ایک بہترین معاون کا کردار ادا کرے، آزاد جموں کشمیر کے قدرتی وسائل، زرِ مبادلہ، انکم ٹیکس اور دیگر وسائل بمشول ہائیڈرل پراجیکٹ کی آمدن واحد اکاؤنٹ آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کے ذریعہ سے حاصل کی جائے۔ اس کے ساتھ اس عزم کا اظہار کیا جاتا ہے کہ حکومت پاکستان اور اس کے ذیلی اداروں کے آزاد جموں کشمیر میں ڈائریکٹ دائرہ کار بڑھانے کی اقدام کی بھی بھرپور مزاحمت اور مخالفت کی جائے گی۔

4۔ آج کا یہ اجلاس حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہائیڈرل پاور، کشمیر پراپرٹی، زرِ مبادلہ اور قدرتی وسائل کی آمدن، انتظام اور تصرف کو آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کے حوالہ کیا جائے۔

5۔ آج کا یہ اجلاس بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی جبر و استبداد اور وحشیانہ مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام حریت راہنماؤں کی ناجائز حراست کے خاتمہ اور آزادی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آزادی پسند اقوام عالم اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے موثر و فیصلہ کن کردار ادا کیا جائے۔ حکومت پاکستان، آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کو تسلیم کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر آزاد حکومت کے ذریعہ جدوجہد آزادی کو سفارتی محاذ پر منظم اور مؤثر بنائے۔

6۔ آج کا یہ اجلاس بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام کی دلیرانہ جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے اور تحریک آزادی کے شہداء کی بلندیِ درجات کیلئے دعاگو ہے۔

7۔ آج کا یہ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی آزاد جموں کشمیر کے انتخابات میں سیاسی اور انتخابی مداخلت روکے۔

8۔ آج کا یہ اجلاس مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کے حوالہ سے جموں کشمیر لبریشن لیگ کے راولاکوٹ میں منعقدہ مجلسِ عاملہ کے اجلاس مورخہ 14 ستمبر 2025 میں منظور شدہ قراردادوں کی آج کے اجلاس میں دوبارہ توثیق و تائید کرتے ہوئے ان قرادادوں کو آج کی اس قرارداد کا حصہ قرار دیتا ہے۔

9۔ آج کا یہ اجلاس ڈاکٹر سید نذیر گیلانی کی جانب سے سوشل میڈیا پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے آزاد کشمیر میں وجود کے متعلقہ جاری پوسٹ اور موقف کی مکمل تائید اور حمایت کرتا ہےاور انکی مسئلہ جموں کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ، آئین و قانون اور تاریخ کے پس منظر میں اختیار کیے گئے مؤقف اور توضیح و تشریح پر خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

جموں کشمیر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (JKSO) انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے صدر حشام مظفر نے لبریشن لیگ کے وفد سے ملاقات کی۔ اس ...
13/05/2026

جموں کشمیر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (JKSO) انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے صدر حشام مظفر نے لبریشن لیگ کے وفد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر یوتھ بورڈ لبریشن لیگ کے چیئرمین احسن لیاقت اور مرکزی جوائنٹ سیکرٹری پونچھ ڈویژن سید عقیل الثقلین بخاری کو 14 مئی 2026 کو ہونے والی "کشمیر کانفرنس" میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی۔
پروگرام کے چیدہ نکات:
تاریخ و وقت: 14 مئی 2026، دوپہر 1 بجے تا رات 8 بجے۔
مقام: پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز، اسلام آباد۔
مقصد: مسئلہ کشمیر کے حوالے سے نوجوانوں میں فکری بیداری اور تحریکِ آزادی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنا۔
سرگرمیاں: پینل ڈسکشن، مشاعرہ، ثقافتی اسٹالز اور کتب میلہ۔

Address

Rawalpindi 6th Road
Rawalpindi
0066

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when جموں کشمیر لبریشن لیگ یوتھ بورڈ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share