25/05/2026
راولاکوٹ (پی آئی ڈی)
جموں و کشمیر لبریشن سیل اور ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام "مقبوضہ کشمیر اور انسانی حقوق کے علمبردار" کے عنوان سے ضلعی سطح کے تقریری مقابلہ میں ضلع راولاکوٹ کی سطح پر گورنمنٹ بوائز ایلیمنٹری کالج کھڑک راولاکوٹ میں مقابلہ کا انعقاد ہوا جس میں ضلع پونچھ کی مختلف تحصیلوں کے بوائز سکولوں کے پوزیشن ہولڈر طلبا وطالبات نے حصہ لیا۔
تقریب میں ڈایریکٹر جموں و کشمیر لبریشن سیل قومی آگاہی ونگ سردار ساجد محمود، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بابر ایاز ، ڈپٹی ڈی ای او ایاز شیراز، ڈپٹی ڈائریکٹر کشمیر کاز آرٹس فرحان قیوم عباسی ، اے ای او طاہر اسلم ، اور انچارج کشمیر سنٹر راولاکوٹ منیر کیانی و دیگر نے خصوصی شرکت فرمائی۔ تقریب کی صدارت ڈی ای او بابر ایاز نے کی جبکہ مہمان خصوصی سردار ساجد محمود ڈائریکٹر جموں وکشمیر لبریشن سیل تھے۔ نظامت کے فرائض عرفان حمید نے ادا کیے۔اس موقع پر ڈاکٹر فیاض نقی ، پروفیسر عائشہ یوسف، پروفیسر ایاز کیانی نے مقابلے کے ججز کے فرائض سرانجام دیے ۔ اداروں کے سربراہان اور اساتذہ کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔مقابلہ کے دوران طلبا وطالبات نے ولولہ انگیز تقاریر کیں ۔ تقریب کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سردار ساجد محمود نے کہا کہ پونچھ کی مردم خیز دھرتی سے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اور انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں کے خلاف آواز بلند کرنے اور عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے آج کی سرگرمی کا انعقاد کیا گیا ہے ۔محکمہ تعلیم اور جموں وکشمیر لبریشن سیل کے باہمی اشتراک سے مقابلہ جات اور لیکچرز کا مقصد نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر، مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی سے آگاہ کرنا ہے اس کو ہار اور جیت کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ و طالبات موبائل فون کو ہتھیار کے طور استعمال کرتے ہوے
سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے حق خودارادیت کی آواز اور بھارتی مظالم کو دنیا تک پہنچانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ڈی ای او بابر ایاز نے کہا کہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کو بھارتی مظالم پر خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے، بین الااقوامی برادری کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں رائے شماری کے عمل میں لیت ولعل سے کام نہ لے ورنہ یہ خطہ کسی بڑے المیہ سے دو چار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباوطالبات نے اپنی تقاریر کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے کردار کا خوبصورتی سے احاطہ کیا جو خوش آئند اور اساتذہ کرام کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں طلبہ کی شخصیت سازی اور قومی شعور کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ محکمہ تعلیم اور جموں وکشمیر لبریشن سیل کی یہ کاوش دور رس اثرات کی حامل ہوگی۔جج صاحبان اور دیگر مقررین نے کہا کہ اساتذہ طلباء کو بہترین تعلیم کے ساتھ ساتھ انکی اخلاقی تربیت پر بھی بھرپور توجہ دے رہے ہیں ۔ انہوں نے اساتذہ کی محنت اور لگن پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوے کہا کہ تقریری مقابلے طلبہ میں اظہار خیال کی صلاحیت نکھارنے اور قومی مسائل سے آگاہی پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اپنے پیدائشی حق ،حق خودارادیت کے لیے کوشاں ہیں اور اس پاداش میں مقبوضہ کشمیر کے عوام بد ترین انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہیں جسے اجاگر کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ہم طلبا وطالبات اور نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کا حصہ بنا کر اس عمل کو تقویت دینے میں کامیابی حاصل کر سکتے۔
تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی اور مہمانان گرامی نے مقابلہ میں حصہ لینے والے تمام طلبہ و طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے پوزیشن ہولڈرز میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے اور ان کے اساتذہ کی محنت اور لگن کو زبردست الفاظ میں سراہا۔