Tehreek-e-Takmeel Jammu Kashmir

Tehreek-e-Takmeel Jammu Kashmir اتحاد جہدوجہد منزل

31/03/2017

گلگت ہی کیوں پاکستان کا صوبہ بنانے کی بات ہو رہی ہے باقی کشمیر کیوں نہیں
کچھ مفاد پرست جو پاکستان کے لیے بہتر نہیں سوچ سکتے وہ کشمیر کے بارے میں کیا سوچیں گے
کشمیر میں ظلم کیوں ہو رہا ہے کبھی سوچا
کیوں کے وہاں کشمیری پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہیں اور اس جھنڈے کے لیے نیچے اپنی جان قربان کرتے ہیں اس کے بعد بھی کوئی ثبوت رہا جاتا ہے کے کشمیری پاکستان سے کیتنا پیار کرتے ہیں
مگر ان بزنس مینوں اور مفاد پرستوں کو سمجھ کیوں نہیں آتی وہ گلگت کو کشمیر سے الگ کر کے صوبہ بنانے کی بات کرتے ہیں کیوں کے وہ چین تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کو یہاں کی عوام سے کوئی مطلب نہیں ان پاکستان دشمنوں اور کشمیر دشمنوں نے یہاں کی عوام کی مخبت کو داو پر لگا لیا ہے وہ اب ان دونوں کے دلوں میں نفرتوں کو پروان چھڑانا چاہتے ہیں
اوچھے ہاتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں گلگت میڈیا پر پابندی وہاں کے لوگوں پر پابندی مظفر آباد اور گلگت روڈ پر پابندی کیوں یہاں کے عوام ایک دوسرے سے دور کیے تا کہ آپس میں نفرت پیدا کی جاے اور ڈھنڈے کے زور پر گلگت کو پاکستان کا صوبہ بنا کر چین سے تجارت کے راست ہموار کیے جاہیں
اس کا فاہدہ نہ تو پاکستان کو ہو گا نہ کشمیر کو نہ گلگت کو اس کا فاہدہ اس لابی کو ہو گا جس کے زہین میں لاشوں پر سیاست کر کے اپنا فاہدہ دیکھنا ہے
اس میں اگر کشمیری آڑے آے گا تو مار دیا جاے گا اس میں اگر پاکستانی بولے گا تو مار دیا جاے گا اس میں گلگتی بولے گا مار دیا جاے گا
کیوں کے اس مفاد پرست لابی نے کشمیر سے پاکستان سے اور گلگت سے کچھ غدار اپنے ساتھ شامل کر لیے ہیں
جو ان کے آپس کے پیار کو نفرت میں تبدیل کر دیں گے کل پاکستانی کشمیری کا دشمن ہو گا کل گلگتی کشمیری کا دشمن ہو گا
کیوں کے وہ مفاد پرست جانتے ہیں کشمیری پاکستانی گلگتی ایک ہی ہیں ان میں نفرت پیدا کر کے اپنے مفادت حاصل کرنے کے لیے وہ ان تینوں کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنانے کی کوہشش میں لگے ہیں
ہمارا ہمدرد وہی ہو سکتا ہے جو لداح جموں کشمیر گلگت کی عوام کی بات کرے ان کو ایک دوسرے سے ملانے کی بات کرے
ان کو ایک دوسرے سے الگ اور جدا کرنے والے کیسے ہمارے ہمدرد ہو سکتے ہیں
پاکستانیوں کو سوچنا ہو گا کشمیریوں کو سوچنا ہو گا گلگتیوں کو سوچنا ہو گا ہمیں آپس میں لڑا کر ہماری مخبتوں میں نفرتوں کے بیج بو کر ہمیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بناے جانے کی پلانگ ہو رہی ہے
ان مفاد پرستوں کو یہ سمجھ نہیں کے وہ پاکستان نہیں ہیں ان کی کہی اور بنائی گئی پالیسی پاکستان کی نہیں ہے وہ اپنی مفاد کی پالسی کو کیسے پاکستان کا نام دے سکتے ہیں
پاکستان یہاں کی عوام سے ہے اور اس کے فیصلے بھی یہاں کی عوام سے ہونے چاہیں کوئی بھی حقیقی پاکستانی کبھی کشمیری کے لیے غلظ نہیں سوچ سکتا کوئی بھی کشمیری کبھی پاکستانی کے لیے غلط نہیں سوچ سکتا
تو پھر یہ کون لوگ ہیں
یہ پاکستان کے دشمن ہیں یہ کشمیر کے دشمن ہیں یہ گلگت کے دشمن ہیں یہاں کی عوام کے دشمن ہیں
اور ان دشمنوں نے کشمیر اور گلگت کو الگ کرنے کی بات کی ہے

27/08/2016

برسوں سے خون کی بہتی ندیاں صدیوں تک کیسے بہائی جاہیں
ہمدر بن کر ایسے درد دیے جسم چھلنی زبان سے دلاسے
برسوں سے کشمیر میں رنگوں کے بجاے خون سے کھیلی جانے والی ہولی کا زمہ دار کھبی تو انڈیا کبھی پاکستان
کبھی امریکہ کی کوئی گنونی سازش کبھی تو چین کی کوئی چال وہ وقت دور نہیں جب لوگ کہنا شروع کر دیں گے سری لنکا بنگادیش تھائی لینڈ شامل ہیں
لکین آج سوچتے ہیں اصل قصور کس کا
تو مجرم ایک کشمیری دوسرے کشمیری کا زمہ دار ایک کشمیری دوسرے کشمیری کے خون کا مان لو تسلم کر لو
وقت سے پہلے کی ہماری محتلیف پیسنگوہیاں ہماری نسلوں کو تباہ کر گئی
ہم نے خود محتاری کا نعرہ لگایا تو انڈیا پاکستان ہمارے دشمن بنے ہم نے الاق پاکستان کا نعرہ لگایا تو انڈیا ہمارا دشمن بنا اور ہم نے الحاق ہندوستان کا نعرہ لگایا تو پاکستان ہمارا دشمن بنا یہ فطری سی بات ہے ایسا ہوتا رہا اور ہوتا رہے گا
وقت سے پہلے کی پسنگوہیاں بھول کر اگر ہم اپنے حق خودرادیت کی بات کریں تو یہی بہتر ہے کیوں کے جب تک ہم حق خودردیت کو چھوڑ کر الحاق یا خود مختاری کی بات کریں کے تو محالف قوتیں ہمیں تباہ کر دیں گی
اس وقت کشمیریوں کا ہمدرد کوئی نہیں ہے اگر ہم وہ بولی بولتے رہے جو دوسرے کی پسند کی ہے تو وہ زبان سے تو ہمارا وقتی ہمدرد بن جاے گا مگر وہ اسی وقت تک جب تک اس کا مطلب حل نہیں ہوتا
بھکرے کشمیریوں کو ایک کرنے کے لیے ایک غیر متنازعہ پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جس پر الحاق کے حامی اور خود محتاری کے حامی ایک ہو کر اپنے حق خوداریت کی آواز اٹھاہیں
عالمی میڈیا اور یو ان او کی نگرانی میں ہمیں اپنے حق کا استعمال کرنے دیا جاے
کشمیر میں موجود عسکری قوتوں کو مہارجہ کے دور کی زمینی حدود سے باہر کیا جاے اور کشمیریوں کو اپنے اپنے نظریات کا پرچار کرنے کی مکمل آزادی ہو جس میں کسی بیرونی طاقت کی مداخلت نہ ہو
اور جدید ٹکنالوجی کا استعمال کر کے کشمیر میں حق خودرادیت کا حق استعمال کیا جاے جس میں کوئی دھوکہ دہی یا فراڈ نہ ہو سکے
کشمیر کی اس حدود کے اندر رہنے والے کو جو مہارجہ کے دور میں تھی کسی دباو کے بغیر مکمل آزادی اور اختیار ہو کے وہ خودمحتار رہنا چاہتا ہے ،پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتا ہے یا ہندوستان کے ساتھ
اور اس فیصلے کو ساری دنیا دیکھے جو کشمیری کی اکثریت نے کیا ہو
چاہے وہ الحاق ہندوستان ہو یا پاکستان یا پھر خودمحتاری
وقت تقاضا کر رہا ہے کے سارے کشمریوں کو ایک ہونا ہو گا وقت سے پہلے کی پشنگوئی چھوڑ کر اس وقت
کے لیے مطالبہ کرنا ہو گا کے ہمیں ہمارا حق خودرادیت دیا جاے

01/07/2016

صراط مستقیم پر ہونے کے باوجود اس پر ثابت قدم رہنا ایک امتحان ہے۔کیونکہ کسی بھی لمحے ہم گمراہ ہوسکتے ہیں۔اس لیے ہر وقت اللہ سے ہدایت طلب کرنی چاہیے۔
(رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ)آل عمران
اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما تو بہت بڑا دینے والا اور عطا کرنے والا ہے.
بے شک جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔ اور ہدایت اسے ہی ملتی ہے جو سچے دل سےاس کا طلبگار ہوتا ہے۔ہدایت کے لیے قرآن و سنت کو تھام کر اللہ سے رجوع کرنا چاہیے....
اللہ پاک ھم سب کو صراط مستقیم پہ کاربند فرمائیں...
آمین...

27/06/2016

منہ پھٹ
خان صاحب نے اپنی جماعت کے ٹکٹ کی تقسیم کچھ عجیب سی کی شیدے ٹلی کو امید وار بنا دیا شیدا اب اپنی کمپین گلی گلی محلہ محلہ چلا رہا تھا اور کہیں بار جیت بھی چکا تھا
پر اس دفعہ تو حد ہو گئی شیدے کو چھوڑ کر ٹکٹ گامے کو دیا شیدا سراپا احتجاج ہوا یہ نا انصافی ہے ٹکٹ کا حق میرا ہے
تب چوھدری صاحب نے کہا شیدے جب تجھے ٹکٹ دیا گیا تھا تو اس وقت اصل حق دار میں تھا پر اس وقت جو گٹھی تیرے پاس تھی وہ تو نے خان صاحب کو پلا دی مگر اب وہی گھٹی گامے کے پاس ہے اور تجھ سے زیادہ مقدار میں ہے
خان صاحب جانتے ہیں تیری شکل عقل علم کچھ نہیں ہے بس وہ والایتی ہیرے رنگ کی گھٹی جس کے پاس جیتنی زیادہ ہے وہی ٹکٹ کا حقدار ہے خان صاحب کی تو مجبوری ہے ان کو تو اس گٹھی کی لت لگ گئی ہے جب تک اس کا نشہ نہ کریں ان کی آنکھیں نہیں کھلتی
اب ان کے پاس دو تین ٹکٹ تھے جو انہوں نے زیادہ گھٹی پلانے والے کو دیے ہیں
شیدے تیرے منہ سے حق سچ کی باتیں آچھی نہیں لگتی جو دوسروں کے حق کی تلفی کرتے کرتے حق کیا ہے بھول گیا ہو اس کو چاہے کے آزاد پنچی بن کر نا کام اڑان لے
حقیقت میں ہم سب شیدے گامے ٹلی اپنی دفع چھوڑ کر باقی وقت انصاف حق کی باتیں کرتے ہیں
اگر ہم نے پہلے دن سے ہی حق سچ کا دامن تھاما ہوتا تو کیا مجال تھی خان صاحب کی کوئی فیصلہ کرتے ان کو پتا ہوتا کے حق جس کا ہے بس اسی کا ہے
اب یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی یہاں سے ابتدا ہو کر اسمبلی میں جاتی ہے وہاں ہماری طرح پورے کشمیر کے شیدے گامے اکھٹے ہوتے ہیں
اور وہ بھی ایسی ایسی گھٹیاں پی اور پلا کر ادھر پنچے ہوتے ہیں کے سارا سال ان کا نشہ اترتا ہی نہیں اور الکشن سے ایک یا دو ماہ قبل جب اس گھٹی کا نشہ ختم ہوتا ہے تو گلی گلی محلہ محلہ کشمیر کو ترقی کی منزلوں پر لے کر جانے کی اتنی جلدی میں ہوتے ہیں جیسے راولاکوٹ سے اسلام آباد کا سفر کوہیں نالہ روڈ سے نہیں بلکہ اتحاد اہیر لاہین سے کریں گے
کچھ ہلکی پھلکی گٹھی عوام کو پلا کر ایسے مست کر دہتے ہیں کے عوام ان کی پرانی کہانی بھول کر ان کے ساتھ ان سے آگے ان کو اپنے سروں پر سوار کرنے کے لیے اتاولی رہتی ہے
اور جب عوام کو اس گٹھی کا نشہ اترتا ہے تب شیدہ گاما اپنا الو سیدھا کر چکے ہوتے ہیں تب عوام حق مانگنے جاتی ہے
اور وہ گھٹی یاد دلاتے ہیں تیری یہ اوقات کے تو مجھ سے سوال کرے یاد کر تو نے ایک چٹکی گٹھی کی حاطر
اپنے ضمیر کا سودا کیا
ہیرے رنگ کی اس گھٹی کی سب سے بڑی حاصیت یہ ہے کے اس کے ایک بار استعمال سے آپ حق سچ کی بات ساری عمر نہیں کر سکتے
تمام گھٹیاں جو ہیرے رنگ کی ہوں عوام کی پنچ سے دور رکھیں مکمہ غیرت حکومت ایمانداری
یہ پیغام آپ تک پچانے کے لیے ہمارے ساتھ تعاون کیا تھا منہ پھٹ نے

منہ پھٹکشمیر کا ایک دور ایسا بھی تھا جب ہندو سکھ مسلم اکھٹے رہتے تھے انسانیت کے ناطے پیار محبت اور امن کا دامن تھامے ہما...
03/06/2016

منہ پھٹ
کشمیر کا ایک دور ایسا بھی تھا جب ہندو سکھ مسلم اکھٹے رہتے تھے انسانیت کے ناطے پیار محبت اور امن کا دامن تھامے ہمارے پرگھوں نے اس دور میں مذہب سے بالا تر ہو کر ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شریک ہوتے ہوے ایک مثال قایم کی تب ایک پر امن نسل کی پروش ہوئی ،امن کے حامیوں نے محبت اور بھائی چارے کی ایک مثال قایم کر رکھی تھی جس کے اثرات آج بھی کشمیری قوم میں موجود ہیں کیوں کے کشمیری امن پسند قوم تھی
مسجد بھی تھی مندر بھی تھے گرجا بھی تھا گردوارہ بھی تھا ،عبادت بھی تھی مخبت بھی تھی چاہت بھی تھی رام بھی تھا بگوان بھی تھااللہ اور قران بھی تھا انسانیت تھی تب انسان بھی تھا گرونانک گردوارہ سب ایک گلستان بھی تھا سب کشمیری تھے اور کشمیر ان کی پچان بھی تھا
عبادت اپنی اپنی ایمان اپنا اپنا سانجا کشمیر ہر ایک کا سپنا سپنا
شام ڈھلے ،وہ منچلے، ندی کنارے، کشمیری سارے ، کھیل کھیلتے پیارے پیارے ،گڑیا گٹھا پٹو گرم آج وہ جیتے تو کل ہارے
بنو کی سہیلی پوجا کی سکیاں حیدر کا دوست چندر جو جسوندر کا بھی تھا یار ادھر بھی ایسا اور ایسا ہی اس پار
کوئی منحوس جو نظر اٹھی کوئی منحوس جونظراس کو لگی
تب سنا میں نے انسانیت کے دشمنوں نے مذہب کے نام کی چادر اوڑھ کر ایک قدیم رسم ہولی کو رنگوں سے نہیں خون سے کھیلا تب ہندوں آمر ہوے تب مسلم شہید ہوے جب کشمیری مارے جب کشمیری مرے
تب کشمیر ہوا جموں بھی وادی بھی آزاد بھی مقبوضہ بھی گلگت بنا بلتستان بھی تب اس طرف راج تمہارا ہوا تب اس طرف راج ہمارا ہوا
اٹھ رہی ہے اب وہی منحوس نظر دیکھ رہی ہے اب وہی منحوس نظر
ایک قدیم رسم ہولی ہو گی جو خون سے کیھلی جاے گی تب لڑے تھے ہندوں سکھ مسلم اب لڑے گی فرقہ واریت
تب خون میں نہایا تھا کشمیر اب خون میں نہاے گا کشمیر
تب دسمن بنا تھا کشمیری کشمیری کا اب بنے گا دشمن کشمیری کشمیری کا
ذرا دیکھ لیا ہے میں نے اب سن لی تماری سرگوشیاں میں بتا رہا ہوں تم سب کو بھی تم سب بھی سن لو کشمیرہیو
بری نظر اب نہ کوئی اٹھے بری نظر اب نہ دیکھے
اب ہم سب کشمیری قوم کو سمجھنا ہو گا اپنی طرف اٹھنے والی ہر بری نظر کو دیکھنا ہو گا ہمیں سمجھنا ہو گا
ہمیں واپس ایک قوم بننا ہو گا
کشمیری کوئی بھی ہو کسی مسلک سے ہو کسی مذہب سے ہو بس کشمیری ہو آپس کی لڑئی کو ختم کر کے ہمیں
اپنے کشمیر کو وہی کشمیر بنا کر اپنی نیو نسل کو دینا ہے جس میں ہندوں سکھ مسلم ایک قوم کی بن کر اپنی اپنی مذہبی آزادی میں رہتے ہوے ایک پر امن کشمیری ہوں گے
ریاست کے بکھرے حصوں کو یکجا کرنے کے لیے ریاست کی بکھری عوام کو یکجا کرنے کے لیے ریاست کے ہر فرد کو کسی ایک جھنڈے تلے جمع ہونا ہے یک زبان ہو کر بولنا ہے ہمیں ہمارا خودرادیت کا حق دیا جاے
تا کہ ہم دنیا کو بتا سکیں ہم کیا چاہتے ہیں

27/05/2016

منہ پھٹ
کاش ایسے گاوں کا دیہاتی ہوتا پھر اس ملک کا میں شہری ہوتا
جہاں ووٹ ملک کے لیے ہوتا کسی جماعت کے لیے نہیں
دیکھ کر حیران ہوں بہت پرپشان ہوں الکشن کا دور دورہ ہے ہر گھر بھر میں ایک ہی بات ہے راولاکوٹ کی کسائی گلی سے لے کر نالہ بازار اور پھر سپلائی بازار تک شہر بھر میں آنے والے الکشن کی بات ہو رہی ہے
باتیں کچھ ایم سی کی ہو رہی ہیں کچھ نون لیگ کی کچھ تحریک انصاف کی کچھ پیپلز پارٹی کی کچھ جموں کشمیر پیپلز پارٹی کی کچھ جماعت اسلامی اور نیب کی
مگر افسوس کشمیر کی بات نہیں ہو رہی
گزشتہ نصف صدی سے ایک عجیب صورت حال ہے جو لوگ شحصیت کے پوجاری بن چکے ان کے علاوہ نہ کسی کی سنے کو ماننے کو تیار نہیں ہیں
ریاست کیا ہے کسی کو پتہ نہیں البتہ جماعت کون سی ہے اس کا سب کو پتا ہے اور یہ دیکھ کر امید وار بھی ایسے میدان میں اترے جن کو خود ریاست کی تعریف نہیں آتی
کاش قوم ووٹ سے پہلے کشمیر کے لاہحہ عمل کو واضع کرنے کے اصولی موقف کا مطالبہ کرے مسلہ کشمیر کا حل اصولی اور عوامی اکثریت کی راہے کے مطابق کرنے کا مطالبہ کرے
مگر شعور کی آگاہی صرف لالچ کی حد تک ہے
سوال یہ بنتا ہے کے کشمیر کا مسلہ اب تک حل کیوں نہ ہوا یا پھر ایک ٹایم فریم کیوں نہ دیا گیا کے اتنے عرصے تک ڈھونک الکشن کا رچایا جاے گا اور اس ٹایم فریم کے بعد کشمیر کا فیصلہ یہاں کی عوام کی مرضی کے مطابق ہو گا
جس طرح گھر گھر آج ووٹ کے لیے لیڈر پھرتے نظر آتے ہیں گلی محلہ کونہ کوچہ پھرتے ہیں کشمیر کے مسلہ کو حل کرنے کے لیے اتنی محنت کیوں نہ کی جا رہی ہے
کشمیر کے باشعور طبقہ کو یہ سمجھنا ہو گا کشمیر ان لوگوں کا نہیں ہے کشمیر تو ان کشمیریوں کا ہے جو کشمیر کا بہتر حل چاہتے ہیں اس لیے کشمیر کا فیصلہ بھی ہم نے کرنا ہے نہ کے ان لوگوں نے جو اس کو کسی حل کی طرف لے جانے میں خود رکاوٹ بنے ہیں

20/02/2016

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیر ہندوستان کا انٹوٹ انگ ہے کشمیری کیا ہیں اس کی سمجھ ابھی تک نہیں آئی
انڈیا جو اس وقت ایک سیکولر سٹیٹ ہے اور انسانیت کی دعوے دار ہے ہمارا اس سے کوئی اختلاف نہیں ہے نہ ہی ہماری کوئی جنگ ہے ہمارے کشمیر میں اینڈین کو پسند کیا جاتا ہے اس کا ثبوت اینڈین مووی کو شوق سے دیکھا جاتا وہاں کے لباس اور فیشن کو اپنایا جاتا ہے ہمارا انڈیا کی عوام سے دلی لگاو ہے
پاکستان جو ایک اسلامی ریاست ہے اور کشمیریوں اور پاکستانیوں میں کوئی فرق نہیں ہے یہاں کی عوام ایک دوسرے سے مذہبی سماجی سیاسی ہر حوالے سے ایک ہیں اور پاکستانی عوام کی مخبت اور اپناہیت کشمیریوں کے لیے سب کچھ ہے
یہ بات اب انڈیا اور پاکستان کے کسی ادارے سے نہیں ان ملکوں کی عوام سے کہنا چاہتا ہوں آپ ہمارے بھائی ہیں آپ کی مخبت اپنایت پر ہمیں کوئی شک نہیں ہے
65 سالوں سے کچھ مفاد پرستوں نے جو نہ تو ہندوستان کے حامی ہیں اور نہ ہی پاکستان کے حامی ہیں وہ کشمیر کو درمیان میں رکھ کر ان تینوں ملکوں کی عوام کو لڑا کر اپنے گنونے کھیل کو کھیل رہے ہیں اور ان علاقوں کی عوام کے دلوں میں نفرت پیدا کر رہے ہیں
میں کشمیری ہوں ہمارا نہ تو بھارت کی عوام سے کوئی جھگڑا ہے اور پاکستانی بھاہیوں سے تو ہم جگھڑ سکتے بھی نہیں
یہ مطالبہ آج انڈیا پاکستان کی عوام کے سامنے لا رہا ہوں
جیتنی مخبت آپ کو کشمیر کی عوام سے ہے اتنی ہی مخبت کشمیر کی عوام کو آپ سے ہے تو ہمیں ہمارے حق خودرادیت کے لیے آپ لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے
کشمیر کا فیصلہ کشمیر کی عوام کے ہاتھ میں دیا جاے کیا کشمیری ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں کیا کشمیری پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں کیا کشمیری اپنا ایک الگ ملک بنانا چاہتے ہیں
یہ فیصلہ کشمیر کی عوام نے کرنا ہے اور جو کشمیر کی عوام فیصلہ کرے گی وہ آپ ہندوستان کی عوام اور پاکستان کی عوام کو منظور ہونا چاہیے
ہمارے دشمن سانجھے ہیں جو ہمیں آپس میں لڑا کر اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں یہ بات ہم کشمیری عوام کے ساتھ ساتھ بھارت اور پاکستان کی عوام کو بھی سمجھنی ہو گی
تینوں خطوں میں پاہیدار امن اور دوستی کی فضا کو قایم کرنے کے لیے فیصلہ تینوں خطوں کی عوام نے کرنا ہے اور ہمارے مشترکہ دشمنوں کو مات دہنے کے لیے اب ہم کو سوچنا ہو گا
آپ دونوں ملکوں کی عوام کو کشمیریوں کے حق خوداریدیت میں ہمارے ساتھ ہراول دستے کا رول ادا کرنا ہو گا
کشمیری مخبت کی مٹی سے بنے ہیں جنگ و جدال خون خرابے سے نفرت کرتے ہیں اور سب سے بڑی بات کشمیری ایک پر امن قوم ہے اس امن کی جنگ کو کامیاب کرنے کے لیے گولہ بارود کی جنگ کو ختم کر کے مخبت کی جنگ کو اپنانا ہو گا
کشمیروں کے حق خودرادیت میں میرے بھاہیو کشمیریوں کا ساتھ دو ہمارا نہ تو ہندوستان سے اختلاف ہے نہ پاکستان سے اختلاف ہے ہمیں آپ لوگوں سے اور ان ملکوں کی عوام سے مخبت ہے
اگر آپ کو کشمیر چاہے کشمیری نہیں اگر آپ کشمیر کو شہ رگ کہتے ہیں اور کشمیریوں کو نہیں اگر آپ کشمیر کو انٹوٹ انگ کہتے ہیں تو کشمیریوں کو نہیں تو ہمیں جواب دو کشمیر کو ایشو بنا کر ہم پر امن اور معصوم لوگوں کو نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے گولی پاکستان کی چلتی ہے مرتا کشمیری ہے گولی بھارت کی چلتی ہے مرتا کشمیری ہے کہاں ہے آپ دونوں ملکوں کی عوام آپ اپنے بھاہیوں کے لیے کچھ بولتے کیوں نہیں آپ کے سامنے ہمیں متنازعہ بنا کر رکھا ہے اگر کشمیر سے زیادہ کشمیریوں سے مخبت ہے تو میرے ہندوستانی بھاہیو کشمیر کی عوام کے حق کے لیے آواز اٹھاو
اگر کشمیر سے زیادہ کشمیریوں سے مخبت ہے تو میرے پاکستانی بھاہیو کشمیروں کے حق کے لیے آواز اٹھاو
ہمارا حق ہے خودرادیت
ہمارا حق ہے ہمیں اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے دیا جاے کشمیر کی عوام کیا چاہتی ہے
آو اس تحریک میں کشمیریوں کا ساتھ دو
ہمارے ساتھ مل کر نعرہ لگاو کشمیر بنے گا جو کشمیری چاہے گا https://www.facebook.com/Tehreek.e.takmeelJammuKashmir/

اتحاد جہدوجہد منزل

13/02/2016

کشمیر کی تقسیم کا اختیار کسی ایک فرقے یا گرو کے پاس ہرگز نہیں ہے کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیر کی اکثریت کی راہے میں پوشیدہ ہے ابھی وقت سے پہلے کسی بھی طرح کی پشنگوئی کے کشمیر کیا بنے گا کسی ایک گرو یا جماعت کے کہنے سے نہیں ہو سکتا
ریاست کی عوام کو آج وہ دن دیکھنے کو ضرور مل رہے ہیں کے کشمیر کی تقسیم کی بات ہو رہی ہے
اب وقت آ گیا ہے ہمیں سمجھنا ہو گا کے ان بانت بانت کے نعروں نے ریاستی عوام کی طاقت کو اتنا کمزور کر دیا ہے کے جس کے منہ میں جو آتا ہے بول دیتا ہے
ریاستی عوام کی سب سے بڑی طاقت ان کا آپس کا اتحاد تھا اور یہ اتحاد اس غیور قوم کا اتحاد تھا جو شجاعت بہادری ورثت میں لے کر پیدا ہوئی ہے ان کشمیر دشمنوں کو خبر ہو گئی کے ماضی میں ان کی کھالیں ادھیڑ کر بھی ان کو اپنے موقف سے نہیں ہٹایا گیا تو وقت کے چال بازوں نے ایک چال چلی اس حطے کے لوگوں کو معاشی مفلوج بنا کر معاشی طور پر اتنا کمزور کیا گیا کے فکر معاش سے یہ قوم آگے کی نہ سوچ سکے اور ایک لمبے عرصے تک مسلہ کشمیر کو الجھانے کا مقصد یہاں کی ایک پیڑی کو ختم کر کے اپنے من چاہے مقاصد کو حاصل کرنا ہے ہماری بزرگ جو جنہوں نے اپنی آنکھوں سے کشمیر کا ماضی دیکھا یہ شاطر چال باز اس انتظار میں بیٹھے ہیں 64 سال گزار دیے اب اگلے دس سالوں میں ان میں سے کوئی نہ ہو گا تب یہ من چاہے سلیبس اپنی مرضی کی ہسٹری بنا کر ہماری نئی پیڑی کو گمراہ کرنے کے مقاصد میں کامیاب ہوں گے
کشمیر کے باسیو اپنی طاقت جو ہمارے پاس ہے اس کو سمجھو وہ ہے ہمارا اتحاد کشمیر بنے گا پاکستان ،کشمیر بنے گا خود مختیار کشمیر بنے گا ہندوستان کا نعرہ چھوڑ کر جو ہمارا اصل نعرہ ہے جو اس وقت کی ضرورت ہے
ہمیں ہمارا حق خودرایت دیا جاے جب ہمیں ہمارا حق مل جاے گا تو تب فیصلہ ہم نے کرنا ہے کشمیر کی اکثریت نے کرنا ہے تب دنیا دیکھ لے گی کشمیر کی اکثریت کیا چاہتی ہے
اگر کشمیر کی اکثریت انٹوٹ انگ بنا چاہتی ہے تو حق خودرادیت میں رکاوٹ کیوں جب آپ کو یقین ہے کے کشمیر کی عوام شہ رگ بنانا چاہتی ہے تو ہمیں ہمارے اصل حق خودرادیت کے لیے ہمارا ساتھ کیوں نہیں دیا جا رہا اگر کشمیر کی عوام خودمختیار رہنا چاہتی ہے تو پھر کشمیری عوام سے مخبت کے داعوے دارو اس کو اپنی شہ رگ اور انٹوٹ انگ کہنے والو اگر اتنی ہی مخبت ہے تو ثبوت دو ہمیں ہمارا حق خودرادیت دو
اگر ایسا نہیں تو سمجھو اپنی طاقت کو جب کشمیری باقی نعرے چھوڑ کر اپنے حق خودرادیت کا نعرہ لگاہیں گے تو اس اتحاد کی طاقت کے سامنے سب کو گھٹنے ٹکینے ہوں گے
اب ایک ہی نعرہ ،،،کشمیر بنے گا جو کشمیری چاہے گا

11/02/2016

گلگت اور بلتستان پاکستان کا صوبہ کیوں نہیں بن سکتا ؟
ریاستِ جموں و کشمیر کی تقسیم کی طرف ایک بڑا متوقع قدم گلگت اور بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی کوشش ہے ، یہ بحث آجکل زرائع ابلاغ میں چھائی ہوئی ہے اس لیے ضروری ہے کہ حقائق عوام کے سامنے لاۓ جائیں۔
1947 میں جب ریاستِ جموں و کشمیر تقسیم ہوئی تو گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا ایک حصہ تھا ، آخری گورنر گھنسارا سنگھ کو مقامی فورسز نے قید کر لیا تھا اور بعد میں قیدیوں کے تبادلے میں وہ واپس کشمیر آیا۔ جب ریاست ِ جموں و کشمیر کا مسلہء اقوامِ متحدہ میں چلا گیا تو ساری ریاست جس میں گلگت بلتستان بھی شامل تھا ایک متنازعہ علاقہ قرار دیا گیا جس کا تصفیہ ہونا باقی ہے۔
معائدہ کراچی کے تحت آزاد حکومت نے دفاع، خارجہ، مواصلات اور گلگت بلتستان کو عا رضی طور پر پاکستان کے حوالے کر دیا تھا، ایک آیئنی ترمیم سے گلگت کو صوبی بنانا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان اپنے آئین میں ترمیم کر کہ کابل کو اپنا صوبہ ڈکلیر کر دے، کیونکہ ریاستِ جموں و کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں ہے اور گلگت بلتستان بھی اسی ریاست میں شامل ہے۔
گلگلت کو صوبہ بنانے کشمیر کاز کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے اور تقسیم کشمیر پر مہر لگانے کے برابر ہے۔ ریاست جموں و کشمیر کا فیصلہ مجموعی طور پر ہونا ہے نا کہ ہر یونٹ کو الگ سے اپنا حصہ بنا کر ریاست کی بندر بانٹ کی جاۓ۔
گلگت بلتستان اور ازاد کشمیر کے راستے کھول کر دونوں طرف کی سیاسی جماعتوں کو دونوں طرف کام کرنے کی اجازت دینا ہو گی ، گلگت بلتستان کو یہ تو ازاد کشمیر کے سیٹ اپ کا حصہ بنایا جاۓ یا ایسا ہی عارضی اسٹیتس دیا جاۓ۔
یہ کہا جاتا ہے کہ گلگت کی زبان مختلف ہے اور وہ ریاست کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے، یاد رہے کہ ریاستِ جموں و کشمیر ایک کثیر القومی ریاست ہے اور اس میں مختلف قومیتیں بستیں ہیں جن کی زبان اور مزہب ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ اسی طرح کسی دوسرے ملک کی فوج کی موجودگی میں یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی علاقے کی لوگ ازادانہ طور پر اپنی راے کا اظہار کر سکیں۔ اس لیے قانونی پوزیشن یہ ہے کہ پوری ریاست کا فیصلہ ایک ساتھ ہو گا، اگر بعد مین کسی یونٹ نے الگ ہونا چاہا تو وہ اس کا حق ہے مگر سنگینوں کے ساۓ تلے جبری تقسیم ہمیں قبول نہیں۔

05/02/2016

یوم یکجتی کشمیر
مسلہ کشمیر کیا ہے کیوں ہے اور کیسے ہے جیتنے منہ اتنی باتیں مختصر یہ کے کشمیر کے لوگ ایک جنگ لڑ رہے تھے جو مہارجہ کے خلاف تھی کشمیریوں کی جنگ کی ابتدہ دو قومی نظریہ سے قبل شروع ہو چکی تھی مہارجہ نے اپنے اقتدار اور ریاست کو کنڑول کرنے کے لیے جو لوگ بغاوت پر اتر آے تھے ان کے خلاف کاروائی کر رہا تھا
اور اس انتقامی کاروائی میں زندہ انسانوں کی کھالیں اتاروئی گئی اور وہ کھالیں نہ تو الحاق انڈیا کے لیے تھی نہ ہی الحاق پاکستان کے لیے تھی یہ جنگ تھی مہارجہ کے اقتدار کو تسلیم نہ کرنے کی کشمیروں کی جنگ اپنی الگ پچان اور شناخت برقرار رکھنے کے لیے مہارجہ کے خلاف تھی
اسی دوران انڈیا اور پاکستان کا وجود میں آنا کشمیر کے لیے ایک الگ موڑ اختیار کر گیا مسلمان اور ہندوں تقسیم سے خوش تھے پاکستان اور ہندوستان کی تقسم میں دونوں ممالک کی عوام خوش تھی لکین اب ان کی جنگ علاقی تقسیم کی تھی کون سے علاقے ہندوستان کے ساتھ ہوں اور کون سے علاقے پاکستان کے ساتھ ہوں زیادہ سے زیادہ علاقے کو اپنے زیر تسلط کرنا ایک عام سی بات ہے اور اسی بات پر خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی جہاں مسلمانوں کو موقع ملتا وہ ہندوں پر ظلم کرتے اور جہاں ہندوں کو موقع ملتا وہ مسلمانوں پر ظلم کرتے اور یہ بھی ایک فطری سی بات تھی
اسی دوران کشمیر کی عوام نے بھی مہاراجہ کے خلاف کاز کو تیز کیا اور مہارجہ کی سینہ کو مار بھاکنے میں کامیاب ہوے اور ایک بڑے علاقے کو آزاد کرایا ابھی یہ مزید پیش رفت جاری تھی کے انڈیا نے الزام تراشی کی کے پاکستان کی حمایت حاصل ہے اور مہارجہ کو کوئی راستہ نطر نہ آیا اس کو وقتی پناہ انڈیا نے دی اور اس نے انڈیا سے مدد کے لیے آرمی طلب کی
اور جب کشمیری عوام نے ایک بڑے علاقے پر اپنا قبصہ قایم کیا اور مہارجہ سے آزاد کریا تو مہارجہ کے پاس کوئی راستہ نہ بچا
تب بھارت مسلہ لے کر سلامتی کونسل میں پیش ہوا اور وقتی جنگ بندی ان شرطوں پر ہوئی کے کشمیر کی عوام
انڈیا کے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا پاکستان کے ساتھ یہ فیصلہ ان کی مرضی سے کیا جاے گا
تیسری کوئی شک شامل نہ تھی اسی دوران وقتی جنگ بندی کے بعد کشمیر کا ایک نوجوان مقبول بٹ ایک نیا نعرہ لگتا ہے کے کشمیری نہ تو انڈیا کے ساتھ رہتے ہیں نہ پاکستان کے ساتھ وہ اپنی الگ ریاست رکھنا چاہتے ہیں جس کے لیے ہمارے باپ دادا جنگ لڑ رہے ہیں
یہ نعرہ کشمیر کے گھر گھر گونجتا ہے اور کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد اس پر لیبک کہتی ہے ادھر انڈیا اور پاکستان کے لیے یہ نعرہ قابل قبول نہ تھا کیوں کے انٹوٹ انگ ٹوتا نظر آ رہا تھا اور ادھر شہ رگ کٹتی نظر آ رہی تھی
وقت گزرا جو ہوا اب کیا ہو گا
انڈیا اور پاکستان دونوں مان چکے کے کشمیر کا فیصلہ یہاں کی عوام کے ہاتھ میں ہے نہ تو ہماری انڈیا سے کوئی اب دشمنی ہے اور نہ پاکستان سے ہمارا دوست وہی ہے جو ہمارے حق خودرادیت کو تسلیم کرے اور اس کے لیے وہ ہمارے ساتھ مل جل کر کوہشش کرے اور ہمارا دشمن وہی ہے جو ہمارے حق خودرادیت کے آڑے آے

28/01/2016

دنیا کی باقی قوموں کے ساتھ اگر کشمیری قوم کا موازنہ کیا جاے تو اس وقت سب سے پر امن قوم کشمیری ہو گی
کشمیر میں اب بھی قانون کی بلادستی سے زیادہ اخلاقی بالا دستی ہے جہاں کرایم اور برائی کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ معاشرتی وقار ہے
اس پڑھی لکھی اور پر امن قوم کو گزشتہ نصف صدی سے بھی زاہد عرصے سے متنازعہ بنایا گیا
دنیا کی باقی اقوام اپنے عقاہد اور پالیسی کی وجہ سے متنازعہ ہوئی جبکہ کشمیری قوم زمینی حدود کی وجہ سے متنازعہ بنائی گئی
دنیا کے سب سے زیادہ پر امن قوم کا مدتوں سے عالمی برادری سے ایک مطالبہ رہا ہمیں ہمارا حق خودرادیت دیا جاے
کشمیری قوم کا نہ تو پاکستان سے کوئی اختلاف رہا اور ذاتی طور پر نہ انڈیا سے اور نہ ہی چین سے نہ ہی افغانستان سے
انڈیا اور پاکستان بڑے وثوق کے ساتھ اس قوم کو شہ رگ اور انٹوٹ انگ کہتے چلے آئے جب کے اس قوم کی کیا مرضی ہے کیا منشا ہے کیا یہ انٹوٹ انگ بنانا چاہتی ہے کیا یہ شہ رگ بنا چاہتی ہے کیا یہ اپنا ایک الگ وجود برقرار رکھنا چاہتی ہے اس پر امن قوم کی مرضی اور منشا کسی نے نہ پوچھی
یہ میرے اور آپ کے کہنے کی بات نہیں ہے کے کشمیر بنے گا ہندوستان کشمیر بنے گا پاکستان کشمیر بنے گا خود مختیار یہ بات ہے جو کشمیر کی اکثریت چاہتی ہے اور کشمیر کی اکثریت کیا چاہتی ہے یہ ہم ہمارا حق خودرادیت ملنے کے بعد ہی بتا سکتے ہیں اپنی اپنی پشنگوئی کر کے کوئی کشمیر کا فیصلہ نہیں کر سکتا
ساری قوم کو کسی ایک غیر متنازعہ پلیٹ فارم پر آنا ہو گا جس میں الحاق اور خود مختاری والے مل کے نعرہ
لگاہیں ،،،،،،کشمیر بنے گا جو کشمیری چاہے گا ،،،،،،،ہمیں ہمارے حق خودرادیت تک ایک ہونا ہو گا جب ہم کو پتہ ہے ہو گا وہی جو پرامن کشمیری قوم کی اکژیت چاہے گی تو پھر ڈر کیسا

28/01/2016

زمینی حدود کی موجودہ تقسیم کے بعد اگر ہم کشمیر کو دیکھیں تو ایک طرف انڈیا ایک طرف پاکستان اور ایک طرف چین کی باڈر لگتی ہیں اور افغانستان کی باڈر کا کچھ حصہ لگتا ہے ،اور یوں کشمیر 4 ممالک کے درمیان ہے
اگر مسلہ کشمیر حل ہو جاے تو یہ ان ممالک کے درمیان تجارت کی ایک منڈی بن سکتی ہے اور اس کے بعد اس کو ہیرے کی چڑیا کہنا بے جا نہ ہو گا

Address

Rawala Kot
46000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tehreek-e-Takmeel Jammu Kashmir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share