31/03/2017
گلگت ہی کیوں پاکستان کا صوبہ بنانے کی بات ہو رہی ہے باقی کشمیر کیوں نہیں
کچھ مفاد پرست جو پاکستان کے لیے بہتر نہیں سوچ سکتے وہ کشمیر کے بارے میں کیا سوچیں گے
کشمیر میں ظلم کیوں ہو رہا ہے کبھی سوچا
کیوں کے وہاں کشمیری پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہیں اور اس جھنڈے کے لیے نیچے اپنی جان قربان کرتے ہیں اس کے بعد بھی کوئی ثبوت رہا جاتا ہے کے کشمیری پاکستان سے کیتنا پیار کرتے ہیں
مگر ان بزنس مینوں اور مفاد پرستوں کو سمجھ کیوں نہیں آتی وہ گلگت کو کشمیر سے الگ کر کے صوبہ بنانے کی بات کرتے ہیں کیوں کے وہ چین تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کو یہاں کی عوام سے کوئی مطلب نہیں ان پاکستان دشمنوں اور کشمیر دشمنوں نے یہاں کی عوام کی مخبت کو داو پر لگا لیا ہے وہ اب ان دونوں کے دلوں میں نفرتوں کو پروان چھڑانا چاہتے ہیں
اوچھے ہاتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں گلگت میڈیا پر پابندی وہاں کے لوگوں پر پابندی مظفر آباد اور گلگت روڈ پر پابندی کیوں یہاں کے عوام ایک دوسرے سے دور کیے تا کہ آپس میں نفرت پیدا کی جاے اور ڈھنڈے کے زور پر گلگت کو پاکستان کا صوبہ بنا کر چین سے تجارت کے راست ہموار کیے جاہیں
اس کا فاہدہ نہ تو پاکستان کو ہو گا نہ کشمیر کو نہ گلگت کو اس کا فاہدہ اس لابی کو ہو گا جس کے زہین میں لاشوں پر سیاست کر کے اپنا فاہدہ دیکھنا ہے
اس میں اگر کشمیری آڑے آے گا تو مار دیا جاے گا اس میں اگر پاکستانی بولے گا تو مار دیا جاے گا اس میں گلگتی بولے گا مار دیا جاے گا
کیوں کے اس مفاد پرست لابی نے کشمیر سے پاکستان سے اور گلگت سے کچھ غدار اپنے ساتھ شامل کر لیے ہیں
جو ان کے آپس کے پیار کو نفرت میں تبدیل کر دیں گے کل پاکستانی کشمیری کا دشمن ہو گا کل گلگتی کشمیری کا دشمن ہو گا
کیوں کے وہ مفاد پرست جانتے ہیں کشمیری پاکستانی گلگتی ایک ہی ہیں ان میں نفرت پیدا کر کے اپنے مفادت حاصل کرنے کے لیے وہ ان تینوں کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنانے کی کوہشش میں لگے ہیں
ہمارا ہمدرد وہی ہو سکتا ہے جو لداح جموں کشمیر گلگت کی عوام کی بات کرے ان کو ایک دوسرے سے ملانے کی بات کرے
ان کو ایک دوسرے سے الگ اور جدا کرنے والے کیسے ہمارے ہمدرد ہو سکتے ہیں
پاکستانیوں کو سوچنا ہو گا کشمیریوں کو سوچنا ہو گا گلگتیوں کو سوچنا ہو گا ہمیں آپس میں لڑا کر ہماری مخبتوں میں نفرتوں کے بیج بو کر ہمیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بناے جانے کی پلانگ ہو رہی ہے
ان مفاد پرستوں کو یہ سمجھ نہیں کے وہ پاکستان نہیں ہیں ان کی کہی اور بنائی گئی پالیسی پاکستان کی نہیں ہے وہ اپنی مفاد کی پالسی کو کیسے پاکستان کا نام دے سکتے ہیں
پاکستان یہاں کی عوام سے ہے اور اس کے فیصلے بھی یہاں کی عوام سے ہونے چاہیں کوئی بھی حقیقی پاکستانی کبھی کشمیری کے لیے غلظ نہیں سوچ سکتا کوئی بھی کشمیری کبھی پاکستانی کے لیے غلط نہیں سوچ سکتا
تو پھر یہ کون لوگ ہیں
یہ پاکستان کے دشمن ہیں یہ کشمیر کے دشمن ہیں یہ گلگت کے دشمن ہیں یہاں کی عوام کے دشمن ہیں
اور ان دشمنوں نے کشمیر اور گلگت کو الگ کرنے کی بات کی ہے