طبقاتی جدوجہد The Struggle

طبقاتی جدوجہد  The Struggle ایڈمن

کامریڈ عاصم اختر

[email protected]

انقلاب زندہ باد
10/03/2026

انقلاب زندہ باد

06/11/2025

’ظہران ممدانی 100 فیصد کمیونسٹ پاگل ہے‘، ڈونلڈ ٹرمپ
08/07/2025
التمش تصدق

نیویارک سٹی میئر کے لیے ڈیموکریٹک پرائمری جیتنے والے 33 سالہ نوجوان ڈیموکرٹیک سوشلسٹ امیدوار ظہران ممدانی کی کامیابی نے امریکہ کے محنت کشوں اور نوجوانوں سمیت ساری دنیا کی ترقی پسند قوتوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی ہے۔ پارٹی انتخابات میں جیت نے ثابت کیا ہے کہ سماجی افق پر متبادل کی عدم موجودگی میں اگر کوئی ترقی پسند پروگرام محنت کشوں کے پاس لے جاتا ہے تو ان میں بہتر زندگی کے حصول اور حقیقی انسانی سماج کے قیام کی جدوجہد کی امید جاگتی ہے ،جس کے حصول کیلئے وہ جدوجہد کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ظہران ممدانی نے اپنی انتخابی مہم مہنگائی، بیروزگاری، بے گھری، ٹرانسپورٹ، صحت اور دیگر محنت کشوں کے مسائل کے خلاف چلائی ہے۔ظہران ممدانی کے ہاتھوں مدمقابل ارب پتی سرمایہ دار امیدوار کو ترقی پسند پروگرام کے ذریعے شکست نے امریکی حکمرانوں کو ایک مرتبہ پھر انقلاب، اورسوشلزم و کمیونزم کے انقلابی نظریات سے خوفزدہ کردیا ہے۔ امریکی حکمران ظہران ممدانی کے مسلم اور جنوب ایشیائی خاندانی پس منظر کی وجہ سے ان کے خلاف مذہبی و نسلی تعصب پر مبنی مہم چلانے کے ساتھ ساتھ ان کے ڈیموکریٹک سوشلسٹ نظریات کو سخت گیر کمیونسٹ نظریات قرار دے کر پروپیگنڈہ کر رہے ہے۔

ظہران ممدانی کی جیت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں، 100 فیصد کمیونسٹ پاگل کہا اور دھمکی دی اگر ممدانی مئیر بنے اور صحیح کام نہ کیا تو وفاقی فنڈنگ روک دی جائے گی۔اس کے بعد بھی ٹرمپ کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ظہران ممدانی نے مئیر منتخب ہونے کے بعد غیر قانونی مقیم مہاجرین کی گرفتاریاں نہ کرنے کا اعلان کیا تو ٹرمپ نے ممدانی کو گرفتار کروانے کی دھمکی دی اور ان کی شہریت پر بھی سوال اٹھایا۔ٹرمپ کی دھمکیاں ان کے خوف کی غمازی کرتی ہیں۔ ٹرمپ کا کمیونسٹوں کو پاگل قرار دینا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔تاریخی طور پر ہر حکمران طبقے نے انقلابات اور انقلابی نظریات کو پاگل پن قرار دیا۔اطاعت گزار اجرتی غلام جب سرکشی پر اترتے ہیں تو وہ عمل حکمرانوں کو پاگل پن ہی محسوس ہوتا ہے۔انقلاب اکثریتی محنت کشوں کا اقلیتی سرمایہ داروں کے خلاف ایک پاگل پن ہی ہوتا ہے، جو ان حکمران طبقات کے پاگل پن کو لگام دیتا ہے جو محنت کشوں کی زندگیوں کو تاراج کر رہے ہوتے ہیں۔ٹرمپ کے بیانات اور دھمکیاں ،حکمران طبقات کا کمیونزم کی ناکامی کا واویلا اور ان نظریات سے نفرت کا اظہار جس شدت سے ظاہر کیا جاتا ہے، یہ لوگ اتنے ہی کمیونزم کے نظریات سے خوفزدہ ہیں۔حکمران طبقات کی نفرت اور خوف بلاوجہ نہیں ہے ۔ کمیونزم کی صورت میں انہیں اپنے اس نظام کی موت نظر آتی ہے ، جس کی بنیاد مٹھی بھر سرمایہ داروں کے ہاتھوں اربوں اجرتی مزدوروں کی محنت کے استحصال پر قائم ہے۔

ٹرمپ نے محض ظہران ممدانی کو ہی نہیں ان ہی حمایت کرنے والوں کو بھی پاگل قرار دیا۔پاگل پن کیا ہے؟
معروضی حالات، مادی حقائق اور خطرات کو ماننے سے انکار کرنا۔ اس اعتباد سے ٹرمپ اور اس رحجان کے دیگر رہنماؤں سمیت سرمایہ دار حکمران طبقہ سب سے زیادہ پاگل پن کا شکار ہے۔ ٹرمپ ماحولیاتی تبدیلیوں جیسی مادی حقیقت سے انکاری ہیں، جو نسل انسانی سمیت ہر قسم کی زندگی کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ نسل پرستی ہو یا جنگی جنون، فلسطین میں معصوم بچوں کے قتل عام اور سمندر میں ڈوبتے انسانوں کا تماشہ دیکھنا پاگل پن نہیں ہے تو اور کیا ہے؟
کامریڈ لال خان نے کہا تھا’’ یہ حکمران طبقات پاگل نہیں ہوتے نظام کا بحران انہیں پاگل کر دیتا ہے۔‘‘پہلی اور دوسری عالمی جنگ سے لے کر موجودہ جنگوں اور خانہ جنگیوں کی صورت میں سرمایہ دارانہ نظام اپنے پاگل پن کا اظہار کر رہا ہے۔بحرانی ادوار میں سرمایہ دارانہ نظام کے نمائندوں کی شخصیات کی صورت میں بھی اس پاگل پن کی جھلک نظر آتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی کوئی سنجیدہ انسان نہیں تھے لیکن دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے کے بعد ان کی غیر سنجیدگی، بدتمیزی، مسخرے پن میں پہلے کی نسبت کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت میں ایک زوال پذیر امریکی سامراج ہی نہیں بلکہ زوال پذیر سرمایہ دارانہ نظام اپنا اظہار کر رہا ہے، جس کی نمائندگی ٹرمپ اور اس قبیل کے دیگر سیاست دان کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا سرمایہ دارانہ نظام میں دنیا کی سب سے طاقتور سامراجی ریاست کا دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونا امریکی سماج، بالخصوص وہاں کے درمیانی طبقے اور محنت کشوں کی کچھ پرتوں میں پائی جانے والی بے چینی اور اضطراب کا اظہارِ ہے ،جو ٹرمپ کے ذریعے امریکہ کو پھر سے عظیم بنانا چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کے نتیجے میں امریکی عوام کے معیار زندگی میں گراوٹ، صنعت کی بندش اور دیگر ملکوں میں منتقلی کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافے جیسے مسائل کا قوم پرستانہ اور نسل پرستانہ حل پیش کیا۔ٹرمپ نے بیروزگاری کی وجہ سرمایہ داری کی بجائے مہاجرین کو قرار دیا اور ان کی بے دخلی کی مہم چلائی، اور تحفظاتی پالیسوں کے ذریعے صنعت کو واپس امریکہ لانے کے وعدے کیے۔بائیں بازو کی متبادل قوتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ٹرمپ نے خود کو اسٹیبلشمنٹ مخالف متبادل کے طور پر پیش کیا۔سرمایہ دارانہ بحران نے امریکہ سمیت ساری دنیا میں دائیں اور بائیں بازو کے روایتی نمائندوں کی گنجائش ختم کر دی ہے، جس کی جگہ سخت گیر رحجانات لے رہے ہیں۔

امریکہ میں ترقی پسند پروگرام پر برنی سینڈر کی بڑے پیمانے پر مقبولیت اور حمایت کے بعد ظہران ممدانی کی حمایت اس بات کا اظہار ہے کہ اصلاح پسند بائیں بازو کی ناکامی کے نتیجے میں جنم لینے والی یاس و نا امیدی ہی ٹرمپ جیسے نیم فسطائی رحجانات کے ابھار کی وجہ بنتی ہے۔ ٹرمپ جیسے رحجانات کو شکست بھی روایتی دائیں بازو کے ذریعے نہیں بلکہ بائیں بازو کے انقلابی رحجانات ہی دے سکتے ہیں۔ 2008 کے بحران کے بعد پہلا ابھار بائیں بازوں کے اصلاح پسند رحجانات ہوا جنہیں انتخابی میدان میں غیر معمولی کامیابی بھی ملی، لیکن یہ رحجان حکومتوں میں آنے کے بعد اپنے وعدوں اور پروگرام پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔ بائیں بازوں کے اصلاح پسند رحجانات کی ناکامی نے فسطائی طاقتوں کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔ بائیں بازوں کے اصلاح پسند رحجانات کی ناکامی کی وجہ سرمایہ دارانہ نظام میں اصلاحات کی گنجائش کا بھی خاتمہ ہے۔آج کے عہد میں سرمایہ داری کے ڈھانچے میں رہتے ہوئے آپ محنت کشوں کے حق میں بڑے پیمانے پر اصلاحات نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ ظہران ممدانی کے حوالے سے بھی بہت اہم سوال ہے کہ اگر وہ مئیر کا انتخاب جیتتے ہیں تو کیا وہ اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرپائیں گے جو انہوں نے انتخابی مہم کے دوران محنت کشوں سے کیے ہیں؟ کیا وہ سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے محنت کشوں کی زندگی کو قابل برداشت بنا سکتے ہیں ؟ سب کے بڑھ کر اہم سوال یہ ہے کہ وہ انتخابی میدان کے علاوہ امریکی سڑکوں، فیکٹریوں، اور دفتروں میں سرمایہ داروں اور ان کی نمائندہ ریاست کے خلاف محنت کشوں، مہاجرین اور خواتین کی لڑائی میں ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں؟ امریکی سرمایہ دار حکمرانوں کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ نہیں 100 فیصد کمیونسٹ شکست دے سکتا ہے ،اوروہ شکست انتخاب کے ذریعے نہیں انقلاب کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔

30/04/2025

طبقاتی جدوجہد پاکستان

17/04/2025
07/01/2025

جموں و کشمیر میں جاری حالیہ عوامی تحریک میں اس خطے کے نوجوانوں نے اپنی تاریخ دوہرائی ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں سے اس دنیا کے بلند ترین ادرشوں کا ادراک بھی دنیا کو مہیا کیا جا رہا ہے۔ آپ جموں و کشمیر کے معروض کو ابھی بہت سی بلندیوں پر چھوتا دیکھیں گے۔ برصغیر کی ہر تقسیم بالآخر اپنے اختتام کو پہنچے گی۔ کشمیر تو اس کو مطالعہ پاکستان نے بنا رکھا ہے، کشمیر کے مزدور جس شعور کا مظاہرہ 1832 میں کر رہے تھے وہ شعور شکاگو کے مزدوروں کو 1886 میں ملتے دکھائی دیتا ہے۔ کشمیر برصغیر بدل سکتا ہے اور برصغیر دنیا بدل سکتا ہے۔ دنیا پیداواری رشتوں سے استوار شدہ ہے اس کے پیداواری رشتے بدل کر دنیا بدلی جا سکتی ہے۔
آج عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے آزاد تجارتی منڈیوں کے رشتوں نے انسانیت کو جہاں چھلنی کر رکھا ہے وہاں ترقی یافتہ یا پسماندہ سے بالاتر ہر خطے کے مزدور کو جدید ترین طریقہ پیداوار کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے ہر خطے کا مزدور نئی نئی ایجادات کو استعمال کرتا یہ مشینیں مزدور کی محتاج ہیں مزدور اگر دنیا بنا سکتا ہے تو دنیا بدلنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ کشمیر میں حالیہ جاری عوامی تحریک اپنی تمام تر کوتاہیوں خامیوں کے باوجود حکمران طبقے کے لئے سر درد بن چکی ہے ایک پرامن تحریک کے ذریعے خطے بھر کے محنت کش ہندوستان اور پاکستان کے محنت کشوں کو آواز دے رہے ہیں آؤ کہ دنیا بدلی جا سکتی ہے۔

21/10/2024

عوامی ایکشن کمیٹی پختونخوا کے صدر اور مالاکنڈ بار ایسوسیشن کے سابق صدر غفران احد نے کل بٹ خیلہ کے اندر پختون قومی جرگہ کے احتجاج میں خطاب کرتے ہوئے پشتون تحفظ موومنٹ کے لیڈر اور سابق ممبر قومی اسمبلی، کامریڈ علی وزیر کی گرفتاری کی پُرزور الفاظ میں مذمّت کی۔ احتجاج میں علی وزیر سمیت تمام سیاسی کارکنان پر تمام مقدمات کو فی الفور ختم کرتے ہوئے رہائی کے لیے قراداد منظور کی گئی۔

09/10/2024

درحقیقت وہ سوشلسٹ انقلاب کا سب سے طاقتور، پر اثر اور مشہور نشان بن گیا تھا۔

02/10/2024

سانحہ امر کوٹـ: عوام کی جرات، حکمرانوں کی منافقت

قمرالزماں خاں

امیر علی شاہ تھرپارکر سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے قومی اسمبلی کا رکن ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے بے گناہ ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے پولیس حراست میں بہیمانہ قتل کے بعد ڈی آئی جی جاوید جسکانی و دیگر کو مبارک باد پیش کی اور پھولوں کے ہار پہنائے۔ اس موقع پر موجود ایک مقامی صحافی نے امیر علی شاہ سے استفسار کیا کہ کیا اس حرکت سے سندھ مذہبی شدت پسندی کا شکار نہیں ہو جائے گا؟ آپ کے نزدیک وہ کیا عوامل ہیں جن کی وجہ سے مذہبی انتہا پسندی پیدا ہو رہی ہے اور بطور رکن قومی اسمبلی آپ ایسا کیا کہیں گے جس سے لوگ انتہا پسندی سے دور رہیں؟ ایسی کوئی بات کہیں جس سے لوگوں کو ترغیب ملے کہ وہ انتہا پسندی سے بچ سکیں۔ یہ بات پولیس ڈی آئی جی کا رنگ اڑا گئی جبکہ امیر علی شاہ کے پاس کوئی خاطر خواہ جواب نہیں تھا۔ چنانچہ وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا اور تصدیق کے بغیر ہی وہ الزامات دہرانے لگا جو بنیاد پرست جنونی بلوائی لگا رہے تھے۔ یاد رہے کہ اب تک بھی مقتول کو گناہ گار قرار دینے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آ سکا اور پیپلز پارٹی کا ایک رکن قومی اسمبلی پورے یقین کے ساتھ بنیاد پرست جنونیوں کی آواز میں آواز ملانے اور سستی شہرت حاصل کرنے نکل پڑا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس سنگین حرکت پر ابھی تک امیر علی شاہ سے کوئی جواب طلبی نہیں کی۔

قبل ازیں عمر کوٹ میں بلوائیوں کا سرغنہ پیر عمر جان سرہندی سرعام کہہ رہا تھا کہ ہم (سلمان تاثیر کے قاتل) ممتاز قادری کی بندوق استعمال کریں گے۔ عمرجان سرہندی نے بلوچستان میں ہونے والے اس واقعے کا ذکر بھی کیا جہاں ایسے ہی الزام میں ایک شخص کو جنونی ہجوم نے پولیس اسٹیشن سے نکال کر تشدد کے ذریعے قتل کر دیا تھا۔ آخر کار بنیاد پرست فسادیوں اور سندھ حکومت کی مشینری نے مل جل کر وہ بندوق استعمال کر ہی لی اور گورنمنٹ کے گریڈ 18 کے میڈیکل افسر ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کو پولیس تحویل میں قتل کر کے ’پولیس مقابلے‘ کی ایک جعلی کہانی گھڑ لی گئی۔

مقتول کے لواحقین کی طرف سے دس رکنی وکلا ٹیم نے مقدمہ درج کرنے کی درخواست میں ڈی آئی جی جاوید جسکانی، ایس ایس پی اسد چوہدری، ایس ایس پی آصف رضا بلوچ، عمر جان سرہندی، ڈی آئی بی انچارج دانش بھٹی، سب انسپکٹر ہدایت اللہ ناریج و دیگر پولیس اہلکاروں کو نامزد کیا۔ بعد ازاں متعدد دفعات کے تحت نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا۔ لیکن عوام کے شدید دباؤ اور احتجاج کے بغیر شاید یہ بھی نہ ہو پاتا۔

سندھ تاریخی طور پر امن، مذہبی رواداری، برداشت اور سیکولر سماجی اقدار کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ اس دھرتی کے لوگ بالعموم مذہبی بنیاد پرستی، منافرت اور فساد کے رویوں کو مسترد کرتے ہیں۔ لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے عمومی سماجی، سیاسی اور معاشی زوال پذیری اور رجعتی عناصر کی ریاستی پشت پناہی کی وجہ سے یہاں بھی مذہبی تشدد اور بلووں کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ بہرحال ایسے واقعات پر سندھ کے ترقی پسند عوام اور سیاسی کارکنان ہمیشہ متحرک کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ اس خوفناک اور سنگین نوعیت کے واقعے کے بعد اگرچہ ابتدائی ایک دو دنوں میں بالخصوص امر کوٹ (جو پہلے سے زیر عتاب ہندو آبادی کا علاقہ ہے) میں شدید خوف و ہراس اور وحشت کی فضا طاری تھی۔ لیکن کچھ دردِ دل اور زندہ ضمیر رکھنے والے لوگوں نے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ وغیرہ پر انتہائی دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاجی آوازیں بلند کیں اور وحشی بنیاد پرستوں کو للکارا۔ جس کے بعد بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی حوصلہ ملا۔ ان حالات میں یہ بھی واضح ہوا کہ اس خطے میں انسانیت کی تکریم اور ترقی پسند اقدار کے محافظ اور ہیرو یہاں کے منافق اور رجعتی حکمران طبقات کے لوگ نہیں بلکہ پریم کوہلی جیسے انتہائی غریب اور کچلے ہوئے پس منظر سے تعلق رکھنے والے محنت کش ہیں۔ جس نے ہندو ہوتے ہوئے جنونی بنیاد پرستوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کی جلی ہوئی لاش کو باعزت طریقے سے دھرتی کے سپرد کیا۔ پھر پورے سندھ سے انسانیت کا درد رکھنے والے سیاسی کارکنان اور عام لوگ‘ جنونی ملائیت کے خوف کو پیروں تلے روندتے ہوئے امر کوٹ پہنچنے لگے گئے۔ ڈاکٹر شاہنواز کی قبر پر امن کے گیت گائے گئے اور احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔ جو بتدریج حیدرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی پھیل گیا۔ امر کوٹ میں پریس کلب، مرکزی چوراہے اور ڈاکٹرشاہنواز کی قبر پر احتجاجی جلسے ہوئے۔ یوں عوام کے بڑے حصے نے تھر سمیت ملک بھر میں مذہبی انتہا پسندی کو مسترد کیا اور مطالبہ کیا کہ اس شدت پسندی اور قتل و غارت گری کی پشت پناہی کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے ۔

اسی دوران سندھ اسمبلی میں ایک طرف ’’توہین ‘‘ کی آڑ میں ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کو درپردہ جواز فراہم کیا گیا۔ دوسری طرف اسی علاقے کے ایک رکن صوبائی اسمبلی (صوبائی وزیر تعلیم) نے اس سارے واقعے پر تشویش اور خود اپنے خوف اور ڈر کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ایک پورا دن اور پوری رات سو نہیں سکا کہ اگر مجھ پر ایسا الزام لگ جائے تو (جنونی مشتعل ہجوم سے بچنے کے لئے) میں پولیس کے پاس بھی نہیں جا سکتا کہ وہاں تحفظ کا کوئی امکان باقی نہیں رہا ہے۔ یہاں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آج حکمران طبقے کے اپنے لوگ خود اپنے پالے ہوئے عفریت سے کس قدر خوفزدہ اور بے بس ہو چکے ہیں۔

سندھ سمیت پورے ملک کا ہر ذی شعور انسان اس وقت ڈاکٹر شاہنواز کے قتل ناحق پر افسردہ اور پریشان ہے۔ لیکن اس صورتحال میں دو مختلف کیفیات دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ ایک متعلقہ وزیر کے علاوہ سندھ سمیت پیپلز پارٹی کی ساری مرکزی قیادت خاموش ہے۔ اسے ایک مجرمانہ خاموشی ہی کہا جا سکتا ہے۔ بالخصوص بلاول بھٹو زرداری (جنہیں کچھ کاسہ لیس بڑا ترقی پسند اور ’’بائیں بازو‘‘ کا علمبردار بنا کے پیش کرتے ہیں) اور انسانی حقوق کی مبینہ علمبردارآصفہ بھٹو کی خاموشی معنی خیز ہے۔ صدر مملکت آصف زرداری صاحب، جن پر ان حالات میں دہری تہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، بھی شاید ’کومے‘ میں چلے گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت کے کسی قابل ذکر آدمی نے متاثرہ خاندان سے اظہار یکجہتی کے لئے جانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ یہ لوگ، جو ان نازک حالات میں ایک مذمتی بیان بھی جاری نہیں کر سکے، تب بھی ’کومے‘ میں چلے گئے تھے جب ایسے ہی جھوٹے اور بے بنیاد الزام کے تحت پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن و رہنما سلمان تاثیر کو قتل کیا گیا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری بہت بولتے ہیں۔ خاص طور پر 26ویں ترمیم پر تو موصوف بولتے چلے جا رہے ہیں کہ ریاست کی خوشنودی کو مزید پختہ کر کے اپنے ’’خوابوں‘‘ کی تعبیرکی طرف بڑھنا ہے۔ جبکہ ڈاکٹر شاہنواز کے واقعے میں عوام دباؤ کے تحت کاٹی جانے والی ایف آئی آر کو بڑا احسان اور کارنامہ بنا کے پیش کیا جا رہا ہے۔ ایسی ایف آئی آرز پہلے بھی ملک کے طول و عرض میں کٹتی رہی ہیں۔ جن کا انجام سب جانتے ہیں۔

ملک کے اندر پے درپے مذہبی انتہا پسندی اور لنچنگ کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ باچا خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کی بہیمانہ لنچنگ کے بعد بھی مقدمات درج ہوئے تھے۔ خصوصی تفتیشی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ ملزمان کا تعین، گرفتاریاں اور سزائیں تک ہوئی تھیں۔ اس واقعے نے پورے ملک کو تڑپا کے رکھ دیا تھا۔ لیکن آخر کار بیشتر مرکزی کرداروں کو بچاؤ کی راہداری مہیا کر دی گئی۔ پھر سانحہ سیالکوٹ پیش آ گیا۔ ایسے واقعات یہاں بھی نہیں رکے۔ جڑانوالہ میں مسیحی آبادی کے گھروں کو جلا دیا گیا۔ مذہبی اقلیتوں کے لوگ قتل کیے جاتے رہے۔ بلوے جاری رہے۔ ابھی حال ہی میں سوات کے علاقے بحرین میں ایک سیاح کو ہوٹل مالکان سے تکرار کے بعد ’’توہین‘‘ کے الزام کا نشانہ بنایا گیا۔ بلوائی پولیس کی تحویل سے یورپ پلٹ شہری کو چھین کے لے گئے اور پھر اس کو پورے ہجوم نے اپنی وحشت کا نشانہ بنایا اور جلا دیا۔ تلمبہ (جہاں سے ایک مشہور سرکاری ملا کا تعلق بھی ہے) میں میونسپل کمیٹی کے وصولی پر معمور ایک مسیحی اہلکار پر’’ توہین‘‘ کا الزام لگا کر ہراساں کیا گیا۔ ایک اور واقعے میں کراچی میں ایک سرکاری ادارے کی غیر مسلم خاتون کو محض مذہب کی بنیاد پر دھمکایا گیا۔ غرضیکہ ایک طویل فہرست اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ جس کا آغاز پھر ضیاالحق کے دور میں ہوا تھا جب برطانوی دور کے بلاسفیمی قوانین میں ترامیم کر کے انہیں ریاست اور بنیاد پرست عناصر کے ہاتھوں میں ایک اوزار کے طور پر تھمایا گیا تھا۔ 2021ء تک پاکستان میں 89 لوگوں کو ’’توہین‘‘ کے الزام میں ماورائے عدالت قتل کیا جا چکا ہے جن میں سے 60 سے زائد واقعات 1990ء کے بعد ہوئے ہیں۔ 1987ء سے 2021ء تک 1885 افراد پر بلاسفیمی کے الزام میں فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ 2011ء میں گورنرپنجاب سلمان تاثیر کے بعد وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کو بھی انہی الزامات کے تحت قتل کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل ہائی کورٹ کے جسٹس عارف اقبال بھٹی کو ان کے چیمبر میں قتل کر دیا گیا تھا۔ کیونکہ انہوں نے دو مسیحی بھائیوں کو بلاسفیمی کے الزامات سے بری کیا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ ان کے قاتل کو گواہوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے بری کر دیا گیا تھا۔

’ڈان‘ کے مطابق اس وقت پاکستان میں 215 افراد بلاسفیمی کے الزامات کے تحت ہراست میں ہیں جن میں سب سے زیادہ کا تعلق پھر سندھ سے ہے۔ بیشتر افراد کو موت کی سزا یا عمر قید کا سامنا ہے۔ حالیہ عرصے میں ایک نیا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے کہ اچھی خاصی شہرت اور اثر و رسوخ رکھنے والے مولوی حضرات بھی ان الزامات کی زد میں آ رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعے میں کچھ دن پہلے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور مولانا کو کینیڈا بھاگنا پڑ گیا ہے۔

توہین مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والے بہت سے لوگوں کو ان کے مقدمے کی سماعت ختم ہونے سے پہلے ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔ جج اور وکلا ایسے مقدمات سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں ڈر رہتا ہے کہ ایڈووکیٹ راشد رحمان کی طرح انہیں دن دہاڑے قتل کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ ان قوانین کی مخالفت یا ان پر معمولی تنقید کرنے والی کئی معروف شخصیات کو بھی قتل کیا جا چکا ہے۔ یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ایسے زیادہ تر الزامات کے پیچھے سیاسی دشمنی، مالی تنازعات یا ذاتی چپقلش اور رنجش وغیرہ کارفرما ہوتی ہے۔

اگر ہم تاریخی پس منظر کو نظر انداز کر دیں تو اس سنگین مسئلے کی سمجھ نہیں آ سکتی۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک کو تقسیم اور منتشر کرنے کے لئے مذہبی منافرت کو استعمال کرنے کی روش برطانوی سامراج نے اپنائی تھی۔ جو آخر کار 1947ء کے بٹوارے پر منتج ہوئی۔ پہلے دن سے ہی ریاستی طاقت کے ایوانوں نے مذہب کو پاکستان میں ایک سیاسی حربے اور اقتدار کے ستون کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یہ یہاں کے حکمران طبقات کی تاریخی کمزوری بھی تھی اور ضرورت بھی۔ جہاں اس اوزار کو فوجی حکمرانوں، آمروں اور کہنہ پالیسی سازوں نے استعمال کیا وہیں نام نہاد جمہوری سیاسی قیادتیں بھی اس جرم میں شریک رہیں۔ حتیٰ کہ بعض صورتوں میں آمروں سے بھی آگے بڑھ گئیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی جن معروضی حالات میں تشکیل دی جا رہی تھی وہاں محض جماعت اسلامی کو مدنظر رکھتے ہوئے سوشلسٹ نظریات کے پروگرام میں ایک مورچہ مذہبی بھی بنا لیا گیا۔ مگر یہ صرف آغاز تھا۔ آئین بناتے ہوئے بھی ملائیت کے سامنے بہت زیادہ مصالحت اور پسپائی کا مظاہرہ کیا گیا۔ ملک کے سرکاری نام کو بھی مذہبی بنا دیا گیا۔ پھر اس آئین میں ’’قراردادِ مقاصد‘‘ (جو پاکستان بننے کے بعد رجعتی مذہبی حلقوں کی تخلیق تھی) کو بھی شامل کر دیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی پر 70ء کے الیکشن میں تمام مذہبی جماعتوں نے مل کر کفر کے فتوے لگائے تھے۔ جن کو عوام نے مسترد کر کے مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا تھا۔ خود بنیاد پرست مذہبی سیاسی قوتیں اس الیکشن میں یکسر مسترد ہو چکی تھیں۔ اس سب کے باوجود بھٹو صاحب کے تحت نظریاتی انحراف اور طبقاتی مفاہمت و مصالحت کی روش کے تحت ملاؤں کو خوش کرنے کا عمل آگے بڑھایا گیا۔ یہ ایک خطرناک ٹرننگ پوائنٹ تھا جس کے بعد انہی ملاؤں کا کام پیپلز پارٹی نے خود سنبھال لیا جنہوں نے بھٹو اور پیپلز پارٹی کے خلاف کفر کے فتوے دئیے تھے۔ بھٹو صاحب کے دورِ حکومت میں پھر رجعتی اقدامات اور قوانین کے نفاذ کا ایک طویل سلسلہ نظر آتا ہے۔ عوام سے کیے گئے وعدوں اور پارٹی کے بنیادی پروگرام سے انحراف اور پھر ملاؤں کی خوشنودی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات نے ہی آخر کار بھٹو حکومت کے خلاف ملائیت کو زور آور اور بے لگام کیا۔ بھٹو مخالف نام نہاد ’’نظام مصطفیٰ تحریک‘‘ کا سارا نظریاتی مواد اور دلائل وغیرہ 73ء کے آئین اور اس کے دیباچے سے ہی اخذ کیے گئے تھے۔ جس کے پیچھے ظاہر ہے کہ مقامی حکمران طبقات اور امریکی سامراج کے مفادات اور ڈالر کارفرما تھے۔ ضیاالحق نے بعد ازاں اسی سارے سلسلے کو زیادہ شدت اور وحشت سے آگے بڑھایا۔ لیکن پیپلز پارٹی کی بعد کی قیادتوں نے ماضی سے کچھ نہ سیکھا۔ بے نظیر بھٹو نے اپنی سیاست، وضع قطع، بات چیت اور نشست و برخاست میں ضیاالحق کی ریاکارانہ اخلاقیات کو ہی اپنایا۔ صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ریاست کے مقتدر حلقوں اور امریکی سامراج کو افغانستان میں ثور انقلاب کے خاتمے اور بنیاد پرستی کی وحشت کو رائج کرنے کے لئے ہر قسم کی مدد فراہم کی۔ افغانستان میں نام نہاد جہاد اور ردِ انقلاب کے اثرات پلٹ کر پھر پاکستان میں بھی آئے۔ مذہبی پراکسیوں کے آپریشن افغانستان میں ہوتے تھے تو ٹریننگ پاکستان کے شہر شہر ہوتی تھی۔ سیاہ ڈالر، اسلحے اور منشیات کے سیلاب نے پاکستان کے سماج پر بدترین معاشی، معاشرتی، سیاسی اور نفسیاتی اثرات مرتب کیے۔ کالے دھن کی سرایت سے معیشت کا رنگ ڈھنگ بدل گیا اور اس کالی معیشت کو کنٹرول کرنے والوں نے سماج کے کلیدی شعبوں کو اپنا مطیع بنا لیا۔ مدرسوں میں پڑھنے والے غریب، لاوارث طلبہ کو وسیع پیمانے پر اس مکروہ کھلواڑ کا ایندھن بنایا گیا۔ پھر جہاد کشمیر کا سلسلہ شروع کروا دیا گیا۔ ماضی میں بھڑکائی گئی اس آگ میں یہ پورا خطہ آج تک جل کر رہا ہے۔ سامراجی و ریاستی پشت پناہی رکھنے والے بنیاد پرستوں اور جہادیوں کے جاہ و جلال، دہشت، شان و شوکت، مہنگی گاڑیوں اور جدید ترین اسلحے کے ساتھ دندنانے والے کاروانوں نے غربت اور بے روزگاری کی شکار اور دھتکاری ہوئی نوجوان نسل کے ذہنوں پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے۔

یوں ضیاالحق مر کر بھی پیپلز پارٹی کو کنٹرول کرتا رہا۔ خود پیپلز پارٹی کالی دولت کے دھنوانوں کی جھولی میں گرتی چلی گئی۔ نظریات کو پس پشت ڈال کر ’’عملیت پسند‘‘ بن جانے کے بعد یہ سب ناگزیر تھا۔ اگرچہ بلاول بھٹو کی لانچنگ کے مراحل میں اس کو مختلف قسم کے ترقی پسند اور بعض اوقات ’’انقلابی‘‘ گیٹ اپ اور لفاظی میں پیش کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی لیکن پارٹی قیادت کی نظریاتی اساس مزید زوال پذیری کا شکار ہی رہی۔ ضمنی الیکشن ہوں یا نئی سیاسی صف بندی اور گٹھ جوڑ‘ آج پیپلز پارٹی کو ’’لبیک‘‘ کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ بے سبب نہیں ہے کہ امر کوٹ سانحہ میں ایک طرف ٹی ایل پی کے لوگ ملوث تھے تو دوسری طرف پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی ملاؤں کے ساتھ مل کے قاتلوں کو ہار پہنا رہے تھے۔ جبکہ سندھ کا سیاسی حاکم اور پارٹی کا اکلوتا وارث بلاول بھٹو زرداری اب تک چپ سادھے ہوئے ہے۔ ان سارے حالات نے سندھ حکومت کی ’’ترقی پسندی‘‘ کی حقیقت کو عوام کے سامنے عیاں کر کے رکھ دیا ہے۔ ان حقائق کے تناظر میں ڈاکٹر شاہنواز کے قاتلوں کے خلاف ایک ایف آئی آر کٹنے پر’’سرکاری سندھ‘‘ کو ’’سیکولر‘‘ کہا جانا کتنا مضحکہ خیز ہے۔ یہ گہری سیاسی و نظریاتی گراوٹ بلکہ دیوالیہ پن ہے جس نے ایک بار پھر عوام کے سامنے متبادل کا سوال لا کھڑا کیا ہے۔

ملائیت اور بنیاد پرستی پاکستانی سرمایہ داری کے اندر اس قدر رچ بس چکی ہے کہ اس پورے نظام کو چیلنج کیے بغیر سیکولرازم اور ترقی پسندی کی باتیں ایک ڈھونگ بن کے رہ جاتی ہیں۔ پاکستان ہو یا ہندوستان‘ اس بوسیدہ، رجعتی اور متروک سرمایہ داری کی حدود و قیود میں مقید کوئی سیاست بنیاد پرستی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ لیکن سندھ کے عام لوگوں نے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف بلند آہنگ آواز اٹھائی ہے۔ یہ آواز ایک شہر یا گاؤں سے نہیں پورے سندھ سے اٹھ رہی ہے۔ جس کی بازگشت پورے ملک میں سنی جا سکتی ہے۔ ظلم، استحصال اور بنیاد پرستانہ تشدد کے خلاف اٹھنے والی یہ بے باک آوازیں جلد یا بدیر اس وحشت کے پشت بانوں اور سرپرستوں کو بھی للکار کے نہ صرف سندھ بلکہ پورے خطے کے وسیع تر عوام کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھائیں گی۔

24/07/2024

پگھلتا سیارہ

بابر پطرس

پاکستان اپنی جیوگرافیکل لوکیشن کے حوالے سے ایسا خطہ ہے جہاں موسم شدید رہتا ہے۔ موسم گرما میں مغرب اور جنوب مغرب سے چلنے والی خشک اور گرم ہواؤں کی وجہ سے گرمی کی حدت بہت بڑھ جاتی ہے۔ لیکن رواں برس کی حدت کا موازنہ گزشتہ برسوں کی گرمی سے کیا جائے تو اس سال گرمی کی حدت نے ماضی کے تمام ریکارڈوں کو توڑ دیا ہے۔ عالم یہ ہے کہ درجہ حرارت 52 ڈگری کی حد کو پار کر چکا ہے (ہندوستان اور مشرق وسطیٰ کے بہت سے علاقوں میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے)۔ 52 ڈگری سنٹی گریڈ‘ 125 فارن ہائٹ کے برابر ہے۔ جبکہ 104 فارن ہائٹ کا درجہ حرارت (بخار) کسی بھی شخص کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانی جسم اپنی ساخت کے حوالے سے 37 ڈگری سنٹی گریڈ یا 98 فارن ہائٹ کے درجہ حرارت کے لیے بنا ہے اور اسی درجہ حرارت پر اپنی تمام سرگرمیوں کو نارمل انداز میں سرانجام دے سکتا ہے۔ جبکہ اس کے اوپر کا درجہ حرارت انسانی جسم کو منفی انداز میں متاثر کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ماحول کا درجہ حرارت اس حد سے جوں جوں بڑھنے لگتا ہے‘ انسانی جسم کو خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اسی قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دوسرے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ گرمی نقطہ ابال کے نصف سے زیادہ ہے۔ 100 ڈگری سنٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر پانی گرم ہو کر نہ صرف کھولنے لگتا ہے بلکہ اپنی ہیت کو بدل کر بھاپ بن جاتا ہے۔ حالت اس قدر سنگین ہوتی جا رہی ہے کہ انسان اس صورت حال میں جینے پر مجبور ہے۔ بند کمروں اور دفاتر کی زندگی دوسری بات ہے۔ لیکن آبادی کی وسیع پرتیں‘ قریباً 70 فی صد سے زیادہ لوگ کھلے آسمان تلے مشقت کرتے ہیں۔ آگ برساتی دھوپ میں سڑکوں پر روڑی کوٹنا، تارکول بچھانا، ڈیلیوری وغیرہ کے امور سرانجام دینا، تعمیرات اور آگ اگلتی مشینوں پر آٹھ سے بارہ گھنٹے کام کرنا آسان نہیں ہے۔ سورج کی تیز دھوپ اور مشین کی گرمی لہو کو پسینا بنا کر بہا دیتے ہیں۔ یہ غیر انسانی حالات کار ہیں۔ لیکن جسم اور روح کے رشتے کو قائم رکھنے کے لیے محنت کشوں کے پاس ان کٹھن حالات سے سمجھوتا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ کیونکہ پاکستان میں ایک فیصد سے کم محنت کش ٹریڈ یونین میں منظم ہیں۔ لہٰذا ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

ہر سال بڑھتا ہوا درجہ حرارت کسی ایک ملک یا خطے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ اس سیارے پر موجود انسانی نسل کی بقا کو لاحق بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ موسم اور موسی واقعات شدید ہوتے جا رہے ہیں۔حالیہ دنوں میں جنوبی امریکہ میں شدید بارشوں کی وجہ سے 90 لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ دبئی اور اس کے ہمسایہ ممالک میں شدید بارشوں سے سیلاب آ گئے۔ موسمی حالات کی وجہ سے صرف برازیل میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ جنوبی افریقہ کو شدید خشک سالی کا سامنا ہے۔ لوگ اپنی روزمرہ زندگی کے لیے پانی کو ترس گئے ہیں۔ سعودی عرب اور عمان جیسے گرم علاقوں سے زیادہ گرمی جنوب ایشیا کے ملکوں میں پڑ رہی ہے۔ دہلی کا درجہ حرارت دبئی سے بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب نام نہاد بورژوا عالمی قیادت وقت بہ وقت اپنے حلیفوں اور ماہرین کے ساتھ مل کر اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کا نفرنسوں کا اہتمام کرتی ہے۔ لیکن ان کانفرنسوں کے طویل بحث مباحثوں سے برآمد ہونے والے نتائج صفر ہیں۔ ہر سال گرمی کا اونچا ہوتا پارہ اور غیرمعمولی موسمی حالات (شدید بارشیں، سیلاب، خشک سالی، جنگلوں کی آگ، شدید گرمی لہریں، اَن دیکھی برف باریاں وغیرہ) ثابت کرتے ہیں کہ گلوبل وارمنگ اور کلائمیٹ چینج پر قابو پانا سرمایہ دارانہ ریاستوں کے لیے ناممکن ہے۔ کیونکہ سرمائے کی حاکمیت میں منافع حاصل کرنے اور شرح منافع بڑھانے کی نفسیات کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنا حماقت سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

منافعوں کے پاگل پن نے اس ارضی جنت کو دوزخ بنا دیا ہے۔ لہلاتی، سر سبز و شاداب فصلوں والی زرخیز زمین‘ کنکریٹ کے جنگلوں کا روپ دھار گئی ہے۔ ہرے بھرے جنگلات کی تیز رفتار کٹائی اور بے لگام آباد کاری نے باغ عدن کو گرم گولا بنا کر زمین کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان ایشیا میں سب سے زیادہ درخت کاٹنے والا ملک ہے جو قریباً پچاس سالوں میں اپنے ایک تہائی جنگلات کو کاٹ چکا ہے اور یہ سلسلہ کہیں رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ کیونکہ منافعوں کے حصول کی ہوس کے آگے ہر رشتہ، ناطہ اور تعلق بے وقعت ہے۔

آمد و رفت کے انفرادی یا نجی ذرائع اور ان میں استعمال ہونے والے ایندھن نے آب و ہوا کو زہر آلود کر دیا ہے۔ فضائی آلودگی کا 52 فیصد ٹریفک کی وجہ سے ہے۔ فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلنے والا دھواں اور ’دوسرے جہانوں‘ کی تلاش و تحقیق پر روانہ ہونے والے سپیس جہازوں میں جلنے والے ایندھن سمیت تمام قسم کے فوسل فیول کے استعمال سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری مضر گیسیں خارج ہوتی ہیں۔ جو کرۂ ارض کو دہکتا ہوا تندور بناتی جا رہی ہیں۔ خلابازی کے شعبے میں اب نجی کمپنیاں داخل ہو رہی ہیں جو اس ساری ٹیکنالوجی کو تسخیر کائنات کی بجائے منافعوں کے لیے امیروں کی سیر و تفریح اور مستقبل بعید میں خلائی اجسام کے معدنی استحصال کا ذریعہ بنانا چاہتی ہیں۔ لیکن ان سرگرمیوں سے جو ماحولیاتی آلودگی پیدا ہو گی اس کا خمیازہ ایک بار پھر اس دنیا کے غریب اور عام لوگ ہی بھگتیں گے۔

شدید سردی میں اچانک گرمی کا احساس کوئی اچنبھے کی بات نہیں رہی۔ یا گرمی کی حدت میں یخ بستہ ہوائیں چلنا اب کوئی انوکھی داستان نہیں ہے۔ دراصل گلوبل وارمنگ نے اس کرّے کے موسموں کی فطری ترتیب کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ سردی اور گرمی کا درمیانی موسم گئے وقتوں کا قصہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ سرمایہ دارانہ معیشت نے اجتماعی ترقی کے بجائے انفرادی بقا اور فائدے کی نفسیات کو پروان چڑھایا ہے۔ اس نفسیات کے تحت یہ سیارہ زندگی کے لیے ناسازگار بنتا جا رہا ہے۔ ہوا میں کاربن کی مقدر اس تواتر سے بڑھ رہی ہے کہ سانس لینا دشوار ہوتا جا رہا ہے اور سموگ جیسے مظاہر جنم لے رہے ہیں۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ چین اور بھارت جیسے ملکوں میں تازہ ہوا سیلنڈروں میں فروخت کی جا رہی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالت کس قدر تشویشناک ہے۔

یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہیے کہ گلوبل وارمنگ کا مطلب محض گرمی میں اضافہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق آب و ہوا میں ڈرامائی تبدیلی سے ہے۔ گلوبل وارمنگ جہاں بحیثیت مجموعی گرمی کی حدت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے وہاں مختلف خطوں میں طوفانی بارشوں سمیت سیلابی صورت حال کی ذمہ دار بھی ہے۔ اس سے خشک سالی اور قحط بھی جنم لے رہے ہیں۔ میٹھے پانیوں کے ذخائر پگھل کر کھارے پانیوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس سے میٹھے پانی کا بحران شدید ہو جائے گا اور آبادی کی اکثریت کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہو گا۔ پاکستان میں سندھ سے بلوچستان اور جنوبی پنجاب تک کے بیشتر علاقے پانی کے حوالے سے پہلے ہی شدید عدم تحفظ شکار ہیں۔

گلیشیرز کے پگھلاؤ سے جہاں دنیا کا دو فیصدی پینے کے پانی کا ذخیرہ سمندروں میں مل جائے گا وہاں سطح سمندر بلند ہو کر سینکڑوں ساحلی علاقوں کو ڈبو کر صفحہ ہستی سے مٹا دے گی۔ جنگلات میں لگنے والی آگ ایک معمول بن گیا ہے۔ جنگلی حیات کی کئی نسلیں معدوم ہو جاتی جا رہی ہیں۔ سمندروں کی تیزابیت بڑھ رہی ہے جس سے بہت سی آبی حیاب بھی مٹ رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس کرّے پر موجود منافع کے پجاری زمین کے پھیپھڑے کہلانے والے ایمازون کے جنگلات کو کاٹ کر آباد کاری اور صنعتکاری کرنے کے نعرے لگا چکے ہیں تاکہ وہاں منافع بخش فصلوں (کیش کراپس) کو اگایا جا سکے۔

گرم ہوتے سیارے کے مختلف خطوں پر ان سب عوامل کے اثرات مختلف ہیں۔ تاہم تمام براعظموں کے لیے یہ ایک مشترک آفت ہے۔ میانمار (برما)، لاؤس، ویت نام، کینیا، جنوبی سوڈان، پاکستان، بھارت اور کمبوڈیا جسے ایشیائی اور براعظم افریقہ کے ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ جبکہ امریکہ کے ساحلی شہر‘ نیو یارک، میامی اور سان فرانسسکو طوفانی بارشوں اور سیلابوں کی زد میں ہیں۔ کیلی فورنیا، ایروزونا اور مغربی ریاستیں خشک سالی کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق خشک سالی 2030ء تک ستر کروڑ افراد کو بے گھر کر دے گی۔ اسی طرح یورپ کا جنوبی حصہ‘ اٹلی، سپین اور یونان بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی زد میں ہے۔ جرمنی اور فرانس بھی سیلابی صورت حال سے دوچار ہیں۔ برطانیہ اور آئر لینڈ خشک سالی سے متاثر ہیں۔ بیلجیم اور نیدر لینڈز جیسے ممالک بھی طوفانوں کی آفت سے نہیں بچ پائیں گے۔

جنوب ایشیا میں بھارت پہلے ہی اس کیفیت میں گرفتار ہے۔ اس کی 42 فیصد زمین خشک سالی کا شکار ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی اس کے وسیع حصے کو ریگستان بنا دے گی۔ اگر منصوبہ بند معیشت کے تحت اس آفت کو حل نہ کیا گیا تو اس کے تباہ کن معاشی، سماجی اور سیاسی اثرات ہوں گے۔ تمام سماجی ڈھانچہ ڈھیر ہو جائے گا۔ زراعت برباد ہو جائے گی۔ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرتیں عمل میں آئیں گی اور تہذیب کا تانا بانا منتشر ہو جائے گا۔

منڈی کی آزاد معیشت نے محض استحصال کو ہی جنم نہیں دیا بلکہ پورے ایکو سسٹم کو تہس نہس کر دیا ہے۔ آٹھ ارب لوگوں کی ثقافت اور نسل انسان کی بقا کو ایک سنجیدہ خطرہ درپیش ہے۔ ریاستیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے آگاہی مہمات چلا کر عوام پر زور دے رہی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں تاکہ گرمی کی حدت میں اضافے کو روکا جا سکے۔ بڑی ہوشیاری سے اپنی ذمہ داری کو عوام کے کندھوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف یہی ریاستیں زرخیز زمینوں کو برباد کر کے نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو این او سی جاری کرتی جا رہی ہیں۔ ہر دس فٹ کے فاصلے پر بلند و بالا عمارتوں کے نقشے پاس کیے جا رہے ہیں۔ منصوبہ بندی سے عاری انہی بے ہنگم تعمیرات میں گرم ہوا پھنس کر رہ جاتی ہے۔ پھر ان پر ہزاروں مربع فٹ لگا شیشہ اور کنکریٹ سورج کی حرارت کو دگنا کرنے کا کام انجام دیتا ہے۔ سڑک پر چنگھاڑتی ہوئی گاڑیوں میں جلنے والے تیل اور بجلی گھروں میں کوئلے کا بے دریغ استعمال کاربن پیدا کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔

اس صورت حال میں گلوبل وارمنگ کے متعلق ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدات کے نتائج کیا ہیں؟ سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج والا کون سا ملک اس اخراج کو کم کر پایا ہے؟ کون سا ایسا ملک ہے جو گلوبل وارمنگ کا باعث بننے والی گیسوں کے اخراج پر پابندی لگا کر ملکی انڈسٹری کو متاثر کر سکتا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے پاس اس کرّے کو بچانے کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔ ایک سوشلسٹ منصوبہ بند معیشت ہی توانائی، پیداوار اور کھپت کے ماحول دوست ذرائع تلاش کر سکتی ہے اور انہیں بروئے کار لا سکتی ہے۔ ایک ایسی معیشت جس کا مقصد نہ منافعوں کا حصول ہے‘ نہ انفرادی بقا کے گھٹیا نظریے کی حمایت۔ بلکہ اس کا مقصد انسان کی اجتماعی ترقی اور فلاح ہے۔ اب سوال محض وسائل کی از سر نو تقسیم کا نہیں بلکہ اب سوال اس سیارے کی بقا اور اس پر موجود زندگی کے تحفظ کا ہے۔ آخری تجزئیے میں آزاد منڈی کی معیشت خود اپنے تضادات میں پھنس چکی ہے۔ اس کو کسی یوٹوپیائی نظرئیے یا اخلاقی قوانین کی دوہائی دے کر نہیں توڑا جا سکتا۔ سوشلسٹ انقلاب کا آہنی ہتھوڑا ہی یہ تاریخی فریضہ انجام دے سکتا ہے جو وقت اور حالات کی ناگزیر ضرورت ہے۔

Address

Rawala Kot
0487

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when طبقاتی جدوجہد The Struggle posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to طبقاتی جدوجہد The Struggle:

Share