31/01/2021
عینی دروازے میں سن سی کھڑی اندھیرے میں دیکھ رہی تھی، دماغ کہیں اور ہی الجھا ہوا تھا۔
"کیا مطلب تھا اس کی بات کا؟"
خالی خالی نظروں سے سامنے دیکھتی وہ بڑبڑائی۔
"کہ میں وہاج کی اس حالت کی زمہ دار ہوں؟ لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟"
وہ بات کی تہہ تک نہیں پہنچ پائی تھی لیکن دل کو دھڑکا سا لگا تھا۔ اگر واقعی ایسا ہوا تو؟ ایک دم اس نے دروازہ بند کیا اور بے چینی کے عالم میں وہاج کے کمرے کی طرف بڑھی۔ اندر جھانک کے دیکھا تو وہ آنکھیں بند کیے لیٹا تھا۔ عینی کو لگا وہ سو گیا ہے۔ وہ بنا آہٹ پیدا کیے اندر آئی اور صوفے پہ جا بیٹھی۔ کتنی ہی دیر وہ آنکھیں چھوٹی کیے کچھ سوچتے ہوئے اسے دیکھے گئی۔ اتنا تو اسے اندازہ ہو ہی گیا تھا کہ ریان اسے پسند نہیں کرتا لیکن یہ سوچ اسے پریشان کیے جا رہی تھی کہ وہ وہاج کی اس حالت کا زمہ دار اسے کیوں ٹھہرا رہا ہے۔
"ساری رات یہیں بیٹھ کے گزارنی ہے کیا؟"
وہاج کی آواز پہ وہ چونکی, اس نے دیکھا اس کی آنکھیں ابھی تک بند تھیں۔ وہ آواز پیدا کیے بغیر آئی تھی پھر بھی وہ اس کی موجودگی محسوس کر چکا تھا۔
"تم یہ سب چھوڑ کیوں نہیں دیتے وہاج؟"
وہ بے اختیار پوچھ بیٹھی پھر زبان دانتوں تلے دبائی۔ بات ایسے تو نہیں شروع کرنی تھی۔
"یہ سب۔۔۔ کیا؟"
وہاج سر اٹھا کے گردن ترچھی کیے اسے دیکھنے لگا۔ وہ جانتا تھا وہ کس بارے میں بات کر رہی ہے پھر بھی پوچھ لیا۔
"یہ غنڈہ گردی، مار پیٹ۔"
وہاج نے سر پھر سے تکیے پہ گرا لیا۔
"کبھی سوچا ہے تمہیں کچھ ہو گیا تو خالہ اور چاچو کا کیا ہو گا؟"
وہ اٹھ کے اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی، ایسے کہ اب وہاج سر اٹھائے اور گردن ترچھی کیے بغیر بھی اسے دیکھ سکتا تھا۔
"چھوڑ دوں گا۔"
بے نیازی سے کہہ کے اس نے آنکھیں موند لیں جیسے بہت سا کرب اپنے اندر چھپایا ہو۔ آنکھوں میں اتنی شدید جلن تھی جیسے کسی نے جلتے ہوئے انگارے آنکھوں پہ رکھ دیے ہوں۔ اس لیے وہ زیادہ وقت کے لیے آنکھیں کھلی نہیں رکھ پا رہا تھا۔ عینی خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔ اس کے ہونٹ بھنچے ہوئے تھے اور چہرے پہ سختی تھی، یقیناً وہ تکلیف میں تھا۔ عینی کو یکدم ہی اپنے لہجے کی سختی پہ غصہ آیا۔ کیا تھا جو وہ یہ بات کل پہ اٹھا رکھتی۔
"تمہیں کچھ چاہیے؟"
محض بات بڑھانے کے لیے اس نے پوچھا ورنہ وہ بھی جانتی تھی کہ وہاج اسے کبھی کوئی کام نہیں کہتا تھا۔ وہ اس کے پاس رکنا چاہتی تھی لیکن وہ یہ بھی چاہتی تھی کہ وہاج اسے رکنے کو کہے اور وہ بظاہر اس پہ احسان عظیم کر کے اس کی دیکھ بھال کے لیے وہاں رک جائے۔ وہاج نے ایک نظر اسے دیکھا پھر ہچکچاتے ہوئے گویا ہوا۔
"مجھے نیند کی گولیاں چاہئیں وہاں الماری میں دوائیوں کا باکس ہے اس میں ہوں گی، اگر تم دے دو تو۔۔۔"
"عادت نہیں ہے، آج سر میں درد ہے تو نیند نہیں آئے گی۔"
عینی نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا تو اس نے جلدی سے وضاحت پیش کی۔ عینی کا دل نرم پڑنے لگا۔
"میں دبا دوں سر؟"
وہ الماری کی طرف جانے کی بجائے بیڈ کی طرف آ گئی۔
"تم واقعی یہاں ہو یا میرے سر پہ کچھ زیادہ ہی گہری چوٹ لگی ہے؟"
وہاج نے بھرپور حیرت سے اسے دیکھا تو وہ خفا خفا سی نظر آنے لگی۔
"تم نے بھی تو میرا اتنا خیال رکھا تھا جب میرے پاؤں میں کانچ چبھا تھا۔ تو مجھے تمہاری فکر نہیں ہو سکتی؟"
"ہو سکتی ہے، فکر تو ہو سکتی ہے بس محبت ہی نہیں ہو سکتی۔"
وہ اچانک اسے بہت اداس لگا، آنکھیں لہو ٹپکانے کے قریب تھیں۔ اس کی آنکھوں سے نظریں چراتے ہوئے وہ دھیرے سے اس کے پاس بیڈ پہ آ بیٹھی۔ وہاج عجیب سی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے یقین ہو کے ابھی اسے چھوتے ہی وہ ہوا میں تحلیل ہو جائے گی۔ عینی نے دھیرے سے اس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھا، وہ گم نہیں ہوئی تھی۔۔۔ وہاج نے پر سکون ہو کے آنکھیں موند لیں۔
"وہاج؟"
اس کے ماتھے پہ ہاتھ الٹ پلٹ کرتے ہوئے عینی نے اسے پکارا۔ اس کا ماتھا توے کی طرح گرم ہو رہا تھا۔
"تمہیں تو بخار ہے۔"
وہاج نے بغیر کچھ کہے اس کا ہاتھ اٹھا کے اپنی آنکھوں پہ رکھا۔
"ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم مجھ سے نفرت نہ کرو۔"
عینی کو شک گزرا کہ وہ اس کی بات نہیں سن رہا ہے۔
"میں نفرت نہیں کرتی تم سے۔"
اس کے لہجے پہ عینی کا دل دہل گیا تھا، اسے اپنے الفاظ پہ سخت شرمندگی ہوئی جن سے وہ وقتاً فوقتاً وہاج سے اپنی نفرت کا اظہار کرتی رہتی تھی۔
"محبت بھی تو نہیں کرتی نا؟"
وہ چپ ہو گئی۔ وہاج ابھی تک اس کا ہاتھ اپنی آنکھوں پہ رکھے ہوئے تھا اور اس کی آنکھوں کی تپش وہ اپنے ہاتھ پہ محسوس کر سکتی تھی۔ وہ اٹھ کے کچن سے ٹھنڈا پانی اور پٹیاں لانا چاہتی تھی تا کہ اس کے ماتھے پہ رکھ کے اس کا بخار کم کر سکے لیکن اس کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اس کی آنکھوں سے اپنا ہاتھ ہٹائے۔ نجانے کب تک وہ ایسے ہی بیٹھی رہی، جب اسے اپنے ہاتھ پہ وہاج کے ہاتھ کی گرفت کم ہوتی محسوس ہوئی تو اس نے دوسرے ہاتھ سے وہاج کا ہاتھ اٹھا کے اس کے پہلو میں رکھا اور بہت دھیرے سے اس کے پاس سے اٹھ گئی۔
ٹھنڈا پانی اور پٹیاں لے کے وہ واپس آئی اور ایک پٹی پانی میں بھگو کے اس کے ماتھے پہ رکھی۔ پھر اس کا سر دبانے لگی۔ پٹی گرم ہونے لگتی تو وہ اسے بدلتی اور پھر سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگتی۔ غنودگی میں وہاج مسلسل کراہ رہا تھا، کچھ بڑبڑا بھی رہا تھا جو عینی سمجھ نہیں سکی۔ اسے پتہ بھی نہیں چلا کہ کب اسے دیکھتے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ کے وہاج کے بالوں میں گم ہونے لگے۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کیوں رو رہی ہے لیکن اس وقت وہاج کی حالت دیکھ کے اس کا دل کرلا رہا تھا۔ وہ تو ہمیشہ بلا جھجک کہا کرتی تھی کہ وہ وہاج سے نفرت کرتی ہے، اس نے ہمیشہ اس کے سامنے اپنی نفرت کا اظہار کیا یہ بھی نہیں سوچا کہ اس کے دل پہ کیا گزرتی ہو گی۔ اسے اگر نفرت تھی یا شادی نہیں کرنا چاہتی تھی تو اسے ہمت کر کے سب کے سامنے انکار کرنا چاہیے تھا، اور اگر شادی کر بھی لی تھی تو ایسے لفظوں کے تیر چلا کے وہاج کے دل کو ٹھیس پہنچانے کا اسے کوئی حق نہیں تھا۔ اسی پل اس نے سوچ لیا کہ بس اب وہاج کے ساتھ اپنا رویہ ٹھیک کرنا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ صحیح کہہ رہا ہو، واقعی غلطی کسی اور کی ہو اور اگر ایسا ہوا تو وہ کیسے خود کو معاف کر پائے گی۔ دل نے وہاج کے حق میں دلیلیں دینا شروع کر دی تھیں اور وہ ہمیشہ سے اپنے دل کی سننے والی کیسے انہیں جھٹلا سکتی تھی۔ اس نے وہاج پہ یقین کر لیا۔ وہ جھوٹا نہیں تھا نہ ہی قابل نفرت۔۔۔ اس سے تو محبت ہونی چاہیے تھی۔
"محبت۔۔۔"
اس نے زیر لب دوہرایا۔
"یقیناً۔۔۔ تم محبت کے ہی قابل ہو وہاج۔"
وہ نم آنکھوں سے مسکرائی۔
**********
اگلی دوپہر وہاج کو تھوڑی دیر کے لیے ہوش آیا۔ ریان صبح سویرے ہی کسی ڈاکٹر کو لے آیا تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کی طبعیت اتنی بگڑ چکی ہو گی۔ وہ اس کی مرہم پٹی کے لیے ڈاکٹر کو ساتھ لایا تھا اور اب اس کی یہ حالت دیکھ کے اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ عینی کے ساتھ کیا کر ڈالے۔ اسے وہی وہاج کی اس حالت کی زمہ دار لگ رہی تھی حالانکہ اس کی آنکھوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ساری رات نہیں سوئی ہے۔
ریان نے ایک نفرت بھری نظر اس پہ ڈالی، وہ چاہتا تھا وہ وہاج کے کمرے سے چلی جائے۔ اس کا بس چلتا تو ایک منٹ بھی عینی کو اس کے آس پاس نہ رہنے دیتا۔
بھائی کی دھمکی ملنے پہ ڈیوڈ صحیح معنوں میں گھبرا گیا تھا اور اس نے رات کو ہی ریان کے سامنے تسلیم کر لیا تھا کہ وہ وہاج کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، ان کا مقصد عینی کو اغواء کرنا تھا۔ وہاج کو جو نقصان پہنچا وہ اس لیے پہنچا کیونکہ وہ ہمیشہ ان کے راستے میں آتا تھا۔ ڈیوڈ یہ نہیں جانتا تھا کہ جن لوگوں نے عینی کو اغواء کرنے کا کہا تھا وہ عینی سے کیا چاہتے ہیں لیکن اس نے بتایا کہ انہیں وہاج کو کوئی نقصان نہ پہنچانے کی سخت تاکید کی گئی تھی۔ ریان یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا تھا کہ عینی جتنی معصوم نظر آتی ہے اتنی ہے نہیں۔ کوئی تو وجہ ہو گی جو اتنے خطرناک لوگ پاکستان میں بھی اس کے پیچھے تھے اور اب لندن تک آ گئے تھے۔ وہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہاج کو اس میں ایسا کیا نظر آتا ہے کہ وہ اس کا قصور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔ اس کی حالت دیکھ کے ریان نے طے کر لیا تھا کہ وہ اس بارے میں وہاج کو کچھ نہیں بتائے گا، عینی کو کچھ ہوتا ہے تو ہو جائے، بس وہاج کو کچھ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ وہاج کو یہ بات بہت پہلے کی معلوم ہو چکی ہے۔
ڈاکٹر نے وہاج کو کچھ انجیکشنز دئیے اور پھر ڈرپ لگا دی۔ اس دوران ریان وہیں رہا۔ ان کی باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ ریان کا جاننے والا ہے اور ان دونوں کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے۔ وہ ریان کا ٹیم ڈاکٹر تھا جو اکثر جھڑپوں میں زخمی ہونے والے اس کے لوگوں کو ابتدائی طبی امداد مہیا کرتا تھا۔ ان دونوں کی موجودگی میں عینی زیادہ دیر باہر ہی رہی لیکن جب وہ کام سے جاتی تو ریان چاہتا وہ جلد از جلد باہر چلی جائے۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہ اندر گئی تو ریان نے صاف لفظوں میں اسے کہہ دیا کہ جب تک وہ وہاج کے پاس ہے اسے وہاں آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ عینی کو غصہ تو آیا لیکن ضبط کر گئی۔ باقی سارا وقت وہ باہر ہی رہی۔
رات کے کسی پہر وہاج کو ہوش آیا تو ریان بے تابی سے آگے آیا۔
"اب کیسا محسوس کر رہے ہو؟"
"ٹھیک ہوں میں۔"
اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو درد کی ایک لہر پورے وجود میں سرایت کر گئی۔
"لیٹے رہو۔"
اسے واپس لٹا کے ریان نے سر دروازے سے نکال کے آواز لگائی۔
"وہاج کو ہوش آ گیا ہے سوپ بنا ہو تو لے آئیں، آپ کی مہربانی ہو گی۔"
آواز دے کے اس نے کھٹاک سے دروازہ بند کیا۔
"میں فرینک کے پاس گیا تھا اس میں عینی کی غلطی نہیں ہے۔"
وہاج کمزور سی آواز میں بولا تو ریان نے اس کی طبعیت کا خیال کرتے ہوئے بمشکل اپنا ہاتھ روکا۔
"وجہ تو وہی ہے نا، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ہر مصیبت کی وجہ وہی ہے۔"
وہ سخت تپا بیٹھا تھا۔
"آواز آہستہ رکھو، سن لے گی وہ۔"
"سن لے نا۔ اسے بھی تو پتہ چلے میرے عزیز بھائی اور دوست کیوں اپنی جان گنوانے پہ تلے ہیں۔"
دروازہ کھلا تو وہ چپ ہوا۔ جملے کا آخری حصہ شاید اس نے کچھ کچھ سنا بھی تھا۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی یا اندر آتی ریان نے اس کے ہاتھ سے ٹرے لی اور دروازہ اس کے منہ پہ بند کر دیا۔ عینی صدمے سے گنگ کھڑی رہ گئی۔
"یہ کیا بد تمیزی ہے ریان؟"
"بالکل چپ ہو جاؤ ورنہ بچی کھچی ہڈیاں میں نے توڑ دینی ہیں۔"
اس کا غصہ دیکھ کے وہاج چپ ہو گیا۔ اسے وہاج کی طرح جلدی غصہ نہیں آتا تھا لیکن جب آتا تھا تو وہ کسی کی نہیں سنتا تھا، ایسے میں وہاج بھی اس کے سامنے خاموش ہو جاتا تھا۔ اسے سوپ پینے کا حکم دے کے وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا لیکن وہاج کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ محسوس کر کے اس نے اس کے ہاتھ سے پیالہ لے لیا اور خود اسے سوپ پلانے لگا۔ وہاج بھی شرافت سے سوپ پیتا رہا اور اس کا غصہ ٹھنڈا ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ عینی لاؤنج میں بیٹھی بے دلی سے وہاج کے کمرے کے دروازے کو تک رہی تھی۔ ریان کے رویے سے وہ کافی حد تک دل برداشتہ ہو گئی تھی۔ کیوں وہ اس سے اتنی نفرت کرتا تھا؟ وہ وہاج کو نقصان تو نہیں پہنچانا چاہتی تھی نہ کبھی ایسی کوشش کی تھی۔ وہ بس چاہ رہی تھی وہاج کا خیال رکھے اس سے اپنے پچھلے رویوں کی معافی مانگے لیکن ریان جانے کہاں سے اس کی کہانی میں ولن بن کے آ گیا تھا۔ پچھلی کئی راتوں کی طرح اس کی وہ رات بھی لاؤنج میں بیٹھے بیٹھے کٹ گئی۔
*************
وہاج کی طبعیت خرابی کی وجہ سے اس ہفتے ان کا پاکستان جانے کا پروگرام ملتوی ہو گیا تھا۔ شام کو ریان کسی کام کی وجہ سے کچھ گھنٹوں کے لیے باہر چلا گیا۔ شاید بہت ہی ضروری کام تھا ورنہ وہ پچھلے دو دنوں سے وہاج کے ساتھ ہی تھا اور اس نے عینی کو وہاج کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا تھا۔ وہ گھر سے نکلا تو عینی اور وہاج دونوں نے سکھ کا سانس لیا۔ اس کے جاتے ہی عینی وہاج کی طرف آئی اور دروازے پہ دستک دی۔
"آ جاؤ قرت۔ تمہیں اجازت لینے کی ضرورت نہیں تمہارے شوہر کا کمرہ ہے۔"
وہ بس مسکرا دی۔
"طبعیت کیسی ہے تمہاری؟"
"ٹھیک ہوں لیکن مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہی۔"
وہ کافی فریش لگ رہا تھا۔
"کیوں مجھے کیا ہوا ہے؟"
"آج تم نے میرے شوہر کہنے پہ "زبردستی کا شوہر" کہہ کے میری تصحیح نہیں کی نا۔"
عینی ہولے سے ہنس دی۔
"میں کہوں یا نہ کہوں، رہو گے تو تم زبردستی کے شوہر ہی۔"
"ولیمہ تو تمہاری مرضی سے ہی ہونا ہے، اس کے بعد نہیں رہوں گا۔"
اس وقت وہ بھول گیا کہ اس نے کیا سوچ رکھا ہے پھر یاد آنے پہ دھیما ہوا۔
"ہونا تھا، اگر تم مان جاتی تو۔۔۔"
عینی نے ایک دم اسے دیکھا۔ وہ اب کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ اسے دکھ ہوا۔ کیا وہاج واقعی اسے چھوڑ دے گا؟
"آئی ایم سوری میں نے کہا تھا ہم تین مہینے سے پہلے واپس چلے جائیں گے لیکن اب لگتا ہے ریان اتنے جلدی ہلنے نہیں دے گا۔"
اس کے لہجے میں ریان کے لیے محبت ہی محبت تھی۔ عینی کا دل چاہا کہ وہ وہاج سے اس کی نا پسندیدگی کی وجہ پوچھے پھر اس نے خود ہی یہ خیال مسترد کر دیا۔ ہو سکتا ہے یہ صرف اس کا وہم ہو۔
"مجھے گھر جانے کی کوئی جلدی نہیں۔"
"واقعی۔۔۔؟"
"تمہارے لیے کچھ کھانے کو لاؤں؟"
عینی نے بات بدلی۔
"ہاں لیکن مریضوں والا کھانا مت لانا۔"
"آج کل گھر میں مریضوں والا کھانا ہی بنتا ہے۔"
"تم بھی یہی کھاتی ہو؟ تمہاری کیا مجبوری ہے؟"
"مجھ سے دو دو کھانے نہیں بنتے نا، اس لیے۔"
اس نے کھسیانی سی ہو کے کہا۔ وہاج کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
"ٹھیک ہے لے آؤ جو بنا ہے لیکن تم اپنے ہاتھوں سے کھلاؤ گی۔"
"اب تم اتنے بھی بیمار نہیں ہو کہ خود نہ کھا سکو۔"
"ہاں لیکن یہ بدمزہ کھانے اپنے ہاتھوں سے کھانے کے لیے جو ہمت چاہیے وہ مجھ میں نہیں ہے۔"
وہ مسکراہٹ دباتی باہر نکل گئی۔
واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں دلیے کا پیالہ تھا۔ وہاج نے برا سا منہ بنایا۔ دلیہ تو اسے سوپ سے بھی زیادہ نا پسند تھا۔ عینی اس کے سامنے بیٹھی اور چمچ بھر بھر کے اسے کھلانے لگی۔ وہاج کچھ دیر خاموشی سے کھاتا رہا پھر گویا ہوا۔
"تمہیں غصہ نہیں آیا؟"
"کس بات پہ؟"
"کہ میں نے تم سے دلیہ کھانے کی فرمائش کیوں کی؟"
"نہیں۔"
"میں بیمار اور زخمی نہ ہوتا تو اس قسم کی بات پہ تم نے یہ دلیہ میرے سر پہ گرا دینا تھا۔"
"یہ ابھی بھی گر سکتا ہے اگر تم نے چپ چاپ یہ ختم نہ کیا تو۔"
وہ ہنس کے خاموش ہو گیا۔ باقی وقت وہ خاموش ہی رہا۔ دلیہ ختم ہوتے ہی وہ بولا۔
"پاکستان جانے کے بعد کیا کرو گی تم؟ مطلب مجھ سے طلاق لینے کے بعد؟"
عینی نے اداسی سے پلکیں جھکائیں۔ حلق میں آنسوؤں کا گولا سا اٹکا تھا۔ اسے سمجھ کیوں نہیں آتا کہ مجھے اب طلاق نہیں چاہیے۔ اس نے بے اختیار سوچا۔ اس طرح کے خیالات پی اب اس نے حیران ہونا چھوڑ دیا تھا۔ اس نے خود سے اقرار کر لیا تھا کہ اسے وہاج سے محبت ہونے لگی ہے۔
"یونیورسٹی جوائن کرنی ہے، جہاں پڑھائی چھوڑی تھی وہیں سے شروع کرنی ہے۔"
"اور؟"
"بس۔"
اس نے پلکیں نہیں اٹھائیں کہ کہیں وہاج اس کی آنکھوں سے اس کے دل کی بات نہ جان لے۔ اس بات کا ادراک ہونے کے بعد کہ وہ وہاج کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، طلاق کی بات پہ اس کا دل بھر آیا۔
وہ برتن اٹھا کے باہر نکل گئی اور سنک پہ جھک کے کتنی ہی دیر روتی رہی یہاں تک کہ اس کی آنکھیں سوجھ گئیں۔ پہلی بار اسے طلاق لفظ اتنا چبھا تھا۔ وہ ہمیشہ سے اس وقت کا انتظار کرتی رہی تھی جب وہاج اسے چھوڑ دے گا لیکن اب وقت بدل گیا تھا اور اس کے دل کی حالت بھی۔ وہاج اس کے دل کی حالت سے بے خبر تھا اور عینی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے کیسے بتائے۔ اسے ڈر تھا کہ وہ اسی کی طرح اسے دھتکار نہ دے، اس پہ یقین نہ کرے اور کہیں اس کی نفرت سہتے سہتے اس کی محبت ختم نہ ہو گئی ہو۔ یہی وہ خدشات تھے جن کی بنا پر وہ وہاج سے کچھ بھی کہنے سے ڈر رہی تھی۔ اس لیے وہ چاہتی تھی کہ وہاج ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کہے بغیر اس کے دل کی بات جان لے لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ محبت کو اظہار کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔
"اتنی دیر لگا دی واپس آنے میں۔"
"برتن دھو رہی تھی۔"
عینی نے براہ راست اس کی طرف نہیں دیکھا تھا۔
"تم رو رہی تھی؟"
اس کی بھیگی آواز سے اسے اندازہ ہو ہی گیا۔ عینی کی آنکھوں سے پھر آنسو بہنے لگے۔ وہاج بے چینی سے آگے ہوا۔
"کیا ہوا قرت؟"
"کچھ نہیں بس ایسے ہی۔"
عینی نے بے دردی سے اپنی آنکھیں رگڑیں۔ وہاج نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔
"آنسو یونہی تو نہیں آتے، مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے؟"
اس کے آنسو مزید تیزی سے بہنے لگے۔ وہاج نے اسے اپنے ساتھ لگائے رکھا اور رونے دیا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے آنسوؤں سے اس کی شرٹ کا بڑا حصہ گیلا کر دیا۔ رو رو کے دل ہلکا ہوا تو وہ چپ ہو گئی۔
"اب بتاؤ کیا ہوا ہے؟"
وہاج نے اسے الگ کیا اور اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔
"مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ میں بہت اکیلی ہو گئی ہوں۔ مجھے لگتا ہے مجھ سے سب چھن جائے گا۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے وہاج۔"
"میں ہوں نا جاناں۔ زبردستی مسلط کیا گیا شوہر ہی سہی۔ تم مجھے ہر جگہ، ہر وقت اپنے پاس پاؤ گی۔ اللہ نہ کرے موت مجھ سے پہلے تم تک پہنچے اور اپنی آخری سانس تک میں تمہارے ساتھ ہوں۔"
اس نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کے یقین دہانی کروائی۔
"چھوڑو گے تو نہیں مجھے؟"
"بالکل نہیں۔"
عینی نے اس کی کہنی میں ہاتھ ڈال کے اس کے کندھے پہ سر رکھ دیا۔
"تم نے پرفیوم بدل لی؟"
"ہاں اسی لیے تو میرے پاس آ کے بھی تمہارا دم نہیں گھٹتا۔"
وہ مسکرایا۔ عینی نے کچھ نہیں کہا۔ کچھ دیر بعد وہاج نے دیکھا تو وہ سو چکی تھی۔ کندھے کے زخم پہ رکھا اس کا سر اسے تکلیف دے رہا تھا۔ وہاج نے نرمی سے اپنا بازو اس کے نیچے سے نکالا اور اس کا سر اپنے سینے پہ رکھا۔ اس نے دھیرے سے اس کی آنکھوں کو چھوا، نجانے وہ کتنی راتوں سے جاگ رہی تھی۔
میسج کی آواز پہ وہ چونکا۔ پاکستان سے اس گارڈ کا میسج تھا جس کی تحویل میں وہ بہروپیا تھا۔ وہاج نے کل صبح اسے چھوڑنے کا حکم دے کے گارڈ کو اس کے پیچھے لگا دیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ اس شخص سے ضرور ملے گا جس کے کہنے پہ وہ یہ سب کر رہا ہے۔ میسج میں کسی لڑکی کی تصویر دیکھ کے وہ چونکا۔ مشرق کی لڑکیاں اس کی توقع سے زیادہ تیز ثابت ہو رہی تھیں۔ اس لڑکی نے چہرہ چادر سے ڈھانپ رکھا تھا اس کے باوجود وہ وہاج کو بہت جانی پہچانی سی لگی۔ اس نے ایک ہاتھ سے بمشکل تصویر زوم کی اور اگلے ہی لمحے اسے سخت دھچکا لگا۔ یہ کپڑے، چادر، سینڈل بہت دفعہ کی دیکھی ہوئی تھی۔ وہ تصویر کسی اور کی نہیں بلکہ اس کی اپنی بہن فاطمہ کی تھی۔ یقین کرنا بہت مشکل تھا۔ دروازہ کھلا تو وہ جیسے کسی خواب سے جاگا۔ اس نے ایک نظر ریان کو دیکھا جو ماتھے پہ بل ڈالے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا اور دوسری نظر عینی پہ ڈالی جو پر سکون سی سو رہی تھی۔ وہاج نے ہاتھ سے اسے چپ رہنے اور باہر جانے کا اشارہ کیا۔ وہ خفگی سے اسے دیکھتا باہر نکل گیا۔ وہاج نے احتیاط سے عینی کا سر تکیے پہ رکھا اور ریان کے پیچھے گیا۔ وہ جلا بھنا اس کمرے میں بیٹھا تھا جو بچپن میں اس کا ہوا کرتا تھا۔ اب بھی جب وہ آتا تھا تو یہیں رہتا تھا۔
"اس کی سوتن جیسا برتاؤ کرنا بند کرو ریان۔"
وہ اکتا کے بولا تو ریان کو اتنے غصے میں بھی ہنسی آ گئی۔
"یہ دیکھو، اس لڑکی کو جانتے ہو تم؟"
اس نے موبائل کی سکرین ریان کے سامنے کی۔
"یہ۔۔۔ یہ تو فاطمہ ہے۔"
وہ غور سے دیکھتے ہوئے بولا تو وہاج کی آخری امید بھی دم توڑ گئی۔ ریان جانے کیا کہہ رہا تھا وہ غائب دماغی سے سنتا رہا۔ پھر کس خیال کے تحت ایک دم اٹھا اور باہر نکل گیا۔ ریان حیرت سے اسے دیکھتا رہ گیا۔
**************
(جاری ہے)
Don't copy paste without permission.