03/09/2026
بیانیہ کس کا جیت گیا؟
حضرت استاذ صاحب سے اظہارِ افسوس اور درخواست
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند دن قبل پڑوسی ملک کے یومِ فتح پر مولانا فضل الرحمان نے کیا شرکت کی، ایک دم اودھم مچ گیا۔ پروپیگنڈا ٹیم خیمے گاڑ کر سوشل میڈیا پر بیٹھ گئی، مولانا کے خلاف بیانیہ تشکیل دیا گیا۔ خبریں آنے لگیں کہ انڈیا کی فنڈنگ سے یہ تقریب منعقد ہوئی، مولانا ہمسایہ ملک کی تقریب میں شرکت کرکے انڈیا کے سپورٹر بن گئے۔
ادھر سے حضرت استاذ صاحب بھی پیچھے نہیں رہے، انہوں نے بھی پوڈکاسٹ کیا۔ وہ شکوہ کناں تھے کہ مولانا نے شرکت کیوں کی؟ اب دیکھتے ہیں استاذ صاحب مقتدرہ سے شکوہ کب کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیں اعتماد میں لیے بغیر افغان سفیر کو بلا کر ملٹری آفیسرز سے خطاب کیوں کروا دیا؟
ہم اس انتظار میں تھے کہ مقتدرہ سے شکوہ کریں گے، مگراستاذ صاحب کے ترجمان بولے کہ:
"یہ استاذ صاحب کے بیانیے کی جیت ہے۔"
واہ بھائی واہ! کیسا بیانیہ اور کس کا بیانیہ؟
ہمارے سامنے دو بیانیے ہیں۔ ایک مولانا فضل الرحمان کا بیانیہ کہ اپنے مسائل مذاکرات سے حل کریں، لڑائی مسائل کا حل نہیں۔
دوسرا بیانیہ تھا استاذ صاحب کا کہ یہ خوارج کے سہولت کار ہیں، ان کا گٹھ جوڑ انڈیا کے ساتھ ہے، جو سلوک خوارج اور انڈیا کے ساتھ ہونا چاہیے، ویسا ہی ان کے سہولت کاروں کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اور اس پر وہ احادیث بھی سناتے تھے اور افغان سرزمین پر ہونے والے اٹیکس کی تحسین بھی کرتے رہے۔
اب ہم استاذ صاحب سے اظہارِ افسوس کرتے ہیں؛ ایک اس وجہ سے کہ معلوم ہوتا ہے مقتدرہ نے آپ کے بیانیے کی بجائے مولانا کا بیانیہ مان لیا ہے، دوسرا اس وجہ سے کہ مقتدرہ نے آپ کی تشکیل گلگت کرکے پیچھے سے افغان سفیر بلا کر ملٹری آفیسرز سے خطاب کرا دیا اور آپ کو یکسر نظر انداز کردیا۔
دوسرے لفظوں میں مقتدرہ استاذ صاحب سے ہاتھ کر گئی ہے۔ قبلہ استاذ صاحب! اس سے آپ اندازہ کر لیں کہ مقتدرہ کی نظر میں آپ کی کیا حیثیت ہے۔ اس لیے ہم دعوت دیتے ہیں کہ آپ اپنوں کے پاس واپس لوٹ آئیں۔
اب آپ لاکھ مرتبہ کہتے رہیں کہ ہمارا بیانیہ جیت گیا، دنیا جان چکی ہے کہ بیانیہ کس کا جیتا ہے۔
مقتدرہ ایک دن مولانا کی ایک ایک بات مانے گی، آج نہیں تو کل؛ بیانیہ مولانا کا جیتے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔