04/09/2026
کوئٹہ کے دل میں قانون کا جنازہ آرچر روڈ پر کون حکومت کر رہا ہے کیا حکومت کی رٹ کمزور ہو چکی ہے یا بااثر افراد کے سامنے ضلعی انتظامیہ اور میٹروپولیٹن کے ذمے داران بے بس ہو چکے ہیں
گزشتہ روز ایک بار پھر آرچر روڈ سے گزرنے کا اتفاق ہوا جو منظر دیکھا اس نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال ذہن میں پیدا کر دیا کہ کوئٹہ میں حکومت کس کی ہے سرکار کی یا بااثر افراد کی چاروں طرف سے راستے بند ہیں شہری خوار ہیں دکاندار پریشان ہیں بچے کئی کئی کلومیٹر کا اضافی راستہ طے کرکے گھروں کو پہنچنے پر مجبور ہیں کاروبار تباہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف ایک پلازے کے تہہ خانے کا کام زور و شور سے جاری ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ سرکاری افسران کی طرف سے پیغامات موصول ہوئے کہ کام بند ہے صرف سڑک بنانے کا کام جاری ہے مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے اگر کام واقعی بند ہے تو پھر تہہ خانے کی تعمیر کس اجازت سے جاری ہے اگر تعمیراتی کام رک چکا ہے تو مشینری مزدور اور تعمیراتی سرگرمی کس قانون کے تحت جاری ہے آرچر روڈ کے دکانداروں سے پوچھا جائے تو ان کا کہنا ہے کہ پلازہ مالک نے ان پر احسان کرتے ہوئے دو دو فٹ کا راستہ چھوڑا ہے سوال یہ ہے کہ کسی شہری کو عوامی راستہ یا گزرگاہ چھوڑنے پر احسان جتانے کا اختیار کس قانون نے دیا ہے یہ کسی کی ذاتی زمین کا معاملہ نہیں یہ ایک ایسے علاقے کا معاملہ ہے جہاں روزانہ لاکھوں شہری آتے جاتے ہیں
اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی ایمونٹی پلاٹ ہے جس کا ذکر ہمارے دشمن ملک انڈیا کے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میں پر کیا جا رہا ہے اگر اس کا نقشہ منظور نہیں اگر اسے کمرشل استعمال میں لانے پر متعلقہ ادارے اصولی طور پر تحفظات رکھتے ہیں تو پھر تعمیراتی سرگرمی آخر کس کے اشارے پر جاری ہے نوٹس کچھ اور زمین پر منظر کچھ اور کوئٹہ میں ایک عجیب روایت جنم لے چکی ہے سرکاری دفاتر سے نوٹس جاری ہوتے ہیں افسران یقین دلاتے ہیں کہ کارروائی ہو رہی ہے کام بند کرانے کے احکامات جاری ہوتے ہیں مگر چند گھنٹے بعد جب شہری موقع پر پہنچتے ہیں تو منظر کچھ اور ہوتا ہے یہ تضاد معمولی بات نہیں
اگر حکومت کا حکم کاغذ پر ہو اور تعمیراتی مافیا کا حکم زمین پر تو پھر شہری کس کو حکومت سمجھیں میرے علم کے مطابق متعلقہ اداروں میں اس ایمونٹی پلاٹ کو کمرشل بنانے کے معاملے پر تحفظات موجود ہیں اگر ایسا ہے تو پھر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ کون ان تحفظات کو نظر انداز کروا رہا ہے کون تعمیراتی سرگرمی کو تحفظ دے رہا ہے اور کس کی پشت پناہی سے سرکاری احکامات بے اثر ہو رہے ہیں
میں کسی فرد پر الزام عائد نہیں کر رہا لیکن یہ سوال ضرور اٹھا رہا ہوں کہ اگر کوئی بااثر شخص سرکاری قوانین سے بالاتر نہیں تو پھر ایک متنازع تعمیر کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ کہاں سے آ رہی ہے لگتا ہے ایڈمنسٹریٹر بھی بے بس ہے
کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر اگر شہر کے معاملات درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور سخت اقدامات کا اعلان کر رہے ہیں تو انہیں مکمل انتظامی اور سیاسی پشت پناہی ملنی چاہیے کیونکہ اگر ایک ایڈمنسٹریٹر اپنے شہر میں غیرقانونی تعمیر رکوانے کی پوزیشن میں نہ ہو تو پھر شہری یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ بلڈنگ کنٹرول کے اختیارات کس کے پاس ہیں کوئٹہ میں مسئلہ صرف ایک پلازے کا نہیں مسئلہ یہ ہے کہ شہر میں قانون سب کے لیے برابر کیوں نہیں کہیں پانچ منزلہ کہیں چھ منزلہ اور کہیں اس سے بھی بلند عمارتیں تیزی سے تعمیر ہو رہی ہیں گلیاں سکڑ رہی ہیں نکاسی آب کا نظام دباؤ کا شکار ہے پارکنگ کی سہولت نہیں فائر بریگیڈ کے لیے راستے نہیں ٹریفک کا نظام پہلے ہی مفلوج ہے مگر تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے پہلے عمارتوں میں نکاسی آب کے لیے ڈھائی فٹ کا نکاسا بھی مسئلہ سمجھا جاتا تھا آج کئی عمارتیں گلیوں کی طرف مزید آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہیں اگر کسی کو شک ہے تو نجم الدین روڈ اور پٹیل روڈ کے پلازوں کا غیرجانبدارانہ معائنہ کرلیا جائے پھر معلوم ہوگا کہ نقشہ کیا کہتا ہے اور زمین پر کیا تعمیر ہوا ہے آرچر روڈ کے اطراف میں بچوں کا راستہ بھی بند اس معاملے کا ایک پہلو ایسا ہے جس پر شاید کسی حکومتی ادارے نے سنجیدگی سے غور نہیں کیا
اس تعمیر کے اطراف میں ایک گرلز کالج متعدد گزلز ہائی اسکول اور پرائمری اسکول موجود ہیں ہزاروں بچے روزانہ ان راستوں سے گزرتے ہیں دوسری طرف خواتین اپنی روزمرہ خریداری کے لیے انہی مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں آج صورتحال یہ ہے کہ راستے بند ہونے کی وجہ سے بچے کئی کلومیٹر کا اضافی سفر کرنے پر مجبور ہیں شہری ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں اور دکانداروں کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے
کیا حکومت نے کبھی ان دکانداروں سے پوچھا کہ ان کا نقصان کتنا ہو رہا ہے کیا کسی افسر نے کبھی یہ سوچا کہ اسکول جانے والے بچوں خواتین بزرگوں اور مریضوں کو ان بند راستوں کی وجہ سے کتنی مشکلات کا سامنا ہے
اگر تصاویر بنانے پر بھی خوف ہو تو قانون کہاں ہے اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ سننے میں آ رہی ہے کہ تعمیراتی مقام کے اطراف نوجوانوں کو اس مقصد کے لیے بٹھایا گیا ہے کہ کوئی شخص تعمیر کی ویڈیو یا تصاویر بنانے کی کوشش کرے تو اسے روکا جائے یا مبینہ طور پر تشدد کا سامنا کرنا پڑے اگر یہ بات درست ہے تو یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے
ایک عام شہری اگر کسی عوامی مسئلے کی تصویر بناتا ہے تو اسے خوفزدہ کرنے کا اختیار کسی کو نہیں گزشتہ روز ایک صحافی پر حملے کی خبر بھی سامنے آئی تھی اگر صحافی بھی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران محفوظ نہیں تو عام شہری کس سے توقع رکھے کوئٹہ کو خوف کی نہیں قانون کی ضرورت ہے تاجر نمائندے بھی سوالات کے کٹہرے میں تاجروں کے نمائندے عوام کی آواز ہوتے ہیں ان کا بنیادی فرض تاجروں اور شہریوں کے مفادات کا تحفظ ہے اگر کسی تعمیر کی وجہ سے درجنوں یا سینکڑوں دکانداروں کا کاروبار متاثر ہو رہا ہو تو تاجر تنظیموں کو سب سے پہلے متاثرہ دکانداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اگر کوئی تاجر نمائندہ کسی متنازع تعمیر کے معاملے میں عوامی مفاد کے بجائے کسی اور فریق کی سہولت کاری کرتا نظر آئے تو اس سے سوال ضرور ہونا چاہیے تاجر تنظیمیں افراد کی نہیں تاجروں کے اجتماعی مفاد کی نمائندہ ہیں کوئٹہ کے مستقل باشندے آخر کب تک خاموش رہیں آج مسئلہ صرف آرچر روڈ کا نہیں
آج ایک ایمونٹی پلاٹ پر تعمیر کا مسئلہ ہے کل کسی اور محلے میں پارک ختم ہوگا پرسوں کسی گلی میں پانچ یا چھ منزلہ عمارت کھڑی ہوگی اور اگلے دن کسی سڑک کا راستہ مزید تنگ ہوجائے گا جب تک شہری آواز نہیں اٹھائیں گے یہ سلسلہ جاری رہے گا کوئٹہ کے مستقل باشندوں کو اب سوچنا ہوگا کہ اگر شہر میں گلی گلی بے ہنگم تعمیرات ہوتی رہیں اگر ایمونٹی پلاٹس محفوظ نہ رہے اگر نقشے اور قوانین صرف کمزور لوگوں کے لیے رہ گئے تو آنے والی نسلوں کو ہم کیا شہر دیں گے ایک ایسا شہر جہاں نہ پارک بچے گا نہ کھیل کے میدان نہ کشادہ سڑکیں نہ پارکنگ نہ نکاسی آب کا مناسب نظام اور نہ ہی فائر بریگیڈ و ایمبولینس کے لیے راستے
سننے میں آیا ہے بیک ڈیٹ میں نقشوں کی منظوری ہو رہی ہے اگر یہ درست ہے تو تحقیقات ہونی چاہیے یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ نئے ایڈمنسٹریٹر کی طرف سے سخت اقدامات کے بعد پرانی تاریخوں میں نقشے منظور کیے جا رہے ہیں اگر یہ محض افواہ ہے تو متعلقہ ادارے اسے واضح طور پر مسترد کریں اور اگر اس میں ذرا بھی حقیقت ہے تو یہ محض ایک انتظامی بے ضابطگی نہیں بلکہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے جس کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے
کیونکہ اگر کسی نئی کارروائی سے بچنے کے لیے پرانی تاریخ ڈال کر نقشے منظور کیے جائیں تو پھر شہر کے بلڈنگ کنٹرول نظام کی ساکھ ہی ختم ہوجاتی ہے اس لیے میری حکامِ بالا سے درخواست نہیں بلکہ مطالبہ ہے کہ آرچر روڈ سمیت کوئٹہ کی تمام حالیہ تعمیرات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے منظور شدہ نقشے این او سیز زمین کا ریکارڈ کمرشلائزیشن کی اجازت اور تعمیر کی تاریخ سب کچھ عوام کے سامنے لایا جائے
وزیراعلیٰ صاحب کھڈ کوچہ سے کوئٹہ تک بھی نظر دوڑائیے
وزیراعلیٰ بلوچستان اگر کھڈ کوچہ میں درختوں کی کھٹائی میں مصروف ہے مگر جنابِ وزیراعلیٰ صاحب کوئٹہ بھی آپ کی ذمہ داری ہے آپ کے دارالحکومت کے عین دل میں اگر مبینہ طور پر قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں شہری راستوں سے محروم ہیں دکاندار کاروبار سے محروم ہو رہے ہیں اور سرکاری احکامات بے اثر نظر آ رہے ہیں تو اس طرف بھی نظر ڈالنا ضروری ہے
کوئٹہ میں کئی برس سے میں لوٹ مار تجاوزات غیرقانونی تعمیرات اور ادارہ جاتی کمزوری کے بارے میں لکھتا آیا ہوں افسوس یہ ہے کہ اکثر معاملات میں یا تو افسر بے بس دکھائی دیتا ہے یا پھر کسی نہ کسی سطح پر سہولت کاری کا تاثر پیدا ہوتا ہے اگر کوئی افسر واقعی ایمانداری سے کام کرنا چاہتا ہے تو حکومت کو اس کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے
اب فیصلہ حکومت نے کرنا ہے آرچر روڈ پر جاری تعمیراتی سرگرمی کو فوراً شفاف طریقے سے چیک کیا جائے
اگر نقشہ منظور شدہ ہے تو اسے عوام کے سامنے لایا جائے
اگر نقشہ منظور نہیں تو کام فوری طور پر روکا جائے
اگر زمین ایمونٹی پلاٹ ہے تو اس کی کمرشلائزیشن کی قانونی حیثیت واضح کی جائے اگر راستے بند کرنا قانونی ہے
اگر نہیں تو شہریوں کے راستے فوری کھولے جائیں
لگتا ہے ہم صرف کالم لکھتے رہ جائیں گے اور شہر ہمارے ہاتھوں سے نکل چکا ہوگا حکامِ بالا کو اپنے دفاتر سے باہر نکل کر دیکھنا ہوگا کہ ان کی ناک کے نیچے کیا ہو رہا ہے
کیونکہ آج سوال صرف ایک پلازے کا نہیں سوال یہ ہے کہ کوئٹہ میں قانون زندہ ہے یا صرف فائلوں میں دفن ہوچکا ہے