Pukhtoonkhwa Students Organization buitems

Pukhtoonkhwa Students Organization buitems PASHTOONKHWA STUDENTS ORGNIZATION IT UNIVERSITY QUETTA

کوئٹہ کے دل میں قانون کا جنازہ  آرچر روڈ پر کون حکومت کر رہا ہے کیا حکومت کی رٹ کمزور ہو چکی ہے یا بااثر افراد کے سامنے ...
04/09/2026

کوئٹہ کے دل میں قانون کا جنازہ آرچر روڈ پر کون حکومت کر رہا ہے کیا حکومت کی رٹ کمزور ہو چکی ہے یا بااثر افراد کے سامنے ضلعی انتظامیہ اور میٹروپولیٹن کے ذمے داران بے بس ہو چکے ہیں

گزشتہ روز ایک بار پھر آرچر روڈ سے گزرنے کا اتفاق ہوا جو منظر دیکھا اس نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال ذہن میں پیدا کر دیا کہ کوئٹہ میں حکومت کس کی ہے سرکار کی یا بااثر افراد کی چاروں طرف سے راستے بند ہیں شہری خوار ہیں دکاندار پریشان ہیں بچے کئی کئی کلومیٹر کا اضافی راستہ طے کرکے گھروں کو پہنچنے پر مجبور ہیں کاروبار تباہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف ایک پلازے کے تہہ خانے کا کام زور و شور سے جاری ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ سرکاری افسران کی طرف سے پیغامات موصول ہوئے کہ کام بند ہے صرف سڑک بنانے کا کام جاری ہے مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے اگر کام واقعی بند ہے تو پھر تہہ خانے کی تعمیر کس اجازت سے جاری ہے اگر تعمیراتی کام رک چکا ہے تو مشینری مزدور اور تعمیراتی سرگرمی کس قانون کے تحت جاری ہے آرچر روڈ کے دکانداروں سے پوچھا جائے تو ان کا کہنا ہے کہ پلازہ مالک نے ان پر احسان کرتے ہوئے دو دو فٹ کا راستہ چھوڑا ہے سوال یہ ہے کہ کسی شہری کو عوامی راستہ یا گزرگاہ چھوڑنے پر احسان جتانے کا اختیار کس قانون نے دیا ہے یہ کسی کی ذاتی زمین کا معاملہ نہیں یہ ایک ایسے علاقے کا معاملہ ہے جہاں روزانہ لاکھوں شہری آتے جاتے ہیں
اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی ایمونٹی پلاٹ ہے جس کا ذکر ہمارے دشمن ملک انڈیا کے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میں پر کیا جا رہا ہے اگر اس کا نقشہ منظور نہیں اگر اسے کمرشل استعمال میں لانے پر متعلقہ ادارے اصولی طور پر تحفظات رکھتے ہیں تو پھر تعمیراتی سرگرمی آخر کس کے اشارے پر جاری ہے نوٹس کچھ اور زمین پر منظر کچھ اور کوئٹہ میں ایک عجیب روایت جنم لے چکی ہے سرکاری دفاتر سے نوٹس جاری ہوتے ہیں افسران یقین دلاتے ہیں کہ کارروائی ہو رہی ہے کام بند کرانے کے احکامات جاری ہوتے ہیں مگر چند گھنٹے بعد جب شہری موقع پر پہنچتے ہیں تو منظر کچھ اور ہوتا ہے یہ تضاد معمولی بات نہیں
اگر حکومت کا حکم کاغذ پر ہو اور تعمیراتی مافیا کا حکم زمین پر تو پھر شہری کس کو حکومت سمجھیں میرے علم کے مطابق متعلقہ اداروں میں اس ایمونٹی پلاٹ کو کمرشل بنانے کے معاملے پر تحفظات موجود ہیں اگر ایسا ہے تو پھر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ کون ان تحفظات کو نظر انداز کروا رہا ہے کون تعمیراتی سرگرمی کو تحفظ دے رہا ہے اور کس کی پشت پناہی سے سرکاری احکامات بے اثر ہو رہے ہیں
میں کسی فرد پر الزام عائد نہیں کر رہا لیکن یہ سوال ضرور اٹھا رہا ہوں کہ اگر کوئی بااثر شخص سرکاری قوانین سے بالاتر نہیں تو پھر ایک متنازع تعمیر کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ کہاں سے آ رہی ہے لگتا ہے ایڈمنسٹریٹر بھی بے بس ہے
کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر اگر شہر کے معاملات درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور سخت اقدامات کا اعلان کر رہے ہیں تو انہیں مکمل انتظامی اور سیاسی پشت پناہی ملنی چاہیے کیونکہ اگر ایک ایڈمنسٹریٹر اپنے شہر میں غیرقانونی تعمیر رکوانے کی پوزیشن میں نہ ہو تو پھر شہری یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ بلڈنگ کنٹرول کے اختیارات کس کے پاس ہیں کوئٹہ میں مسئلہ صرف ایک پلازے کا نہیں مسئلہ یہ ہے کہ شہر میں قانون سب کے لیے برابر کیوں نہیں کہیں پانچ منزلہ کہیں چھ منزلہ اور کہیں اس سے بھی بلند عمارتیں تیزی سے تعمیر ہو رہی ہیں گلیاں سکڑ رہی ہیں نکاسی آب کا نظام دباؤ کا شکار ہے پارکنگ کی سہولت نہیں فائر بریگیڈ کے لیے راستے نہیں ٹریفک کا نظام پہلے ہی مفلوج ہے مگر تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے پہلے عمارتوں میں نکاسی آب کے لیے ڈھائی فٹ کا نکاسا بھی مسئلہ سمجھا جاتا تھا آج کئی عمارتیں گلیوں کی طرف مزید آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہیں اگر کسی کو شک ہے تو نجم الدین روڈ اور پٹیل روڈ کے پلازوں کا غیرجانبدارانہ معائنہ کرلیا جائے پھر معلوم ہوگا کہ نقشہ کیا کہتا ہے اور زمین پر کیا تعمیر ہوا ہے آرچر روڈ کے اطراف میں بچوں کا راستہ بھی بند اس معاملے کا ایک پہلو ایسا ہے جس پر شاید کسی حکومتی ادارے نے سنجیدگی سے غور نہیں کیا
اس تعمیر کے اطراف میں ایک گرلز کالج متعدد گزلز ہائی اسکول اور پرائمری اسکول موجود ہیں ہزاروں بچے روزانہ ان راستوں سے گزرتے ہیں دوسری طرف خواتین اپنی روزمرہ خریداری کے لیے انہی مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں آج صورتحال یہ ہے کہ راستے بند ہونے کی وجہ سے بچے کئی کلومیٹر کا اضافی سفر کرنے پر مجبور ہیں شہری ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں اور دکانداروں کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے
کیا حکومت نے کبھی ان دکانداروں سے پوچھا کہ ان کا نقصان کتنا ہو رہا ہے کیا کسی افسر نے کبھی یہ سوچا کہ اسکول جانے والے بچوں خواتین بزرگوں اور مریضوں کو ان بند راستوں کی وجہ سے کتنی مشکلات کا سامنا ہے
اگر تصاویر بنانے پر بھی خوف ہو تو قانون کہاں ہے اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ سننے میں آ رہی ہے کہ تعمیراتی مقام کے اطراف نوجوانوں کو اس مقصد کے لیے بٹھایا گیا ہے کہ کوئی شخص تعمیر کی ویڈیو یا تصاویر بنانے کی کوشش کرے تو اسے روکا جائے یا مبینہ طور پر تشدد کا سامنا کرنا پڑے اگر یہ بات درست ہے تو یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے
ایک عام شہری اگر کسی عوامی مسئلے کی تصویر بناتا ہے تو اسے خوفزدہ کرنے کا اختیار کسی کو نہیں گزشتہ روز ایک صحافی پر حملے کی خبر بھی سامنے آئی تھی اگر صحافی بھی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران محفوظ نہیں تو عام شہری کس سے توقع رکھے کوئٹہ کو خوف کی نہیں قانون کی ضرورت ہے تاجر نمائندے بھی سوالات کے کٹہرے میں تاجروں کے نمائندے عوام کی آواز ہوتے ہیں ان کا بنیادی فرض تاجروں اور شہریوں کے مفادات کا تحفظ ہے اگر کسی تعمیر کی وجہ سے درجنوں یا سینکڑوں دکانداروں کا کاروبار متاثر ہو رہا ہو تو تاجر تنظیموں کو سب سے پہلے متاثرہ دکانداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اگر کوئی تاجر نمائندہ کسی متنازع تعمیر کے معاملے میں عوامی مفاد کے بجائے کسی اور فریق کی سہولت کاری کرتا نظر آئے تو اس سے سوال ضرور ہونا چاہیے تاجر تنظیمیں افراد کی نہیں تاجروں کے اجتماعی مفاد کی نمائندہ ہیں کوئٹہ کے مستقل باشندے آخر کب تک خاموش رہیں آج مسئلہ صرف آرچر روڈ کا نہیں
آج ایک ایمونٹی پلاٹ پر تعمیر کا مسئلہ ہے کل کسی اور محلے میں پارک ختم ہوگا پرسوں کسی گلی میں پانچ یا چھ منزلہ عمارت کھڑی ہوگی اور اگلے دن کسی سڑک کا راستہ مزید تنگ ہوجائے گا جب تک شہری آواز نہیں اٹھائیں گے یہ سلسلہ جاری رہے گا کوئٹہ کے مستقل باشندوں کو اب سوچنا ہوگا کہ اگر شہر میں گلی گلی بے ہنگم تعمیرات ہوتی رہیں اگر ایمونٹی پلاٹس محفوظ نہ رہے اگر نقشے اور قوانین صرف کمزور لوگوں کے لیے رہ گئے تو آنے والی نسلوں کو ہم کیا شہر دیں گے ایک ایسا شہر جہاں نہ پارک بچے گا نہ کھیل کے میدان نہ کشادہ سڑکیں نہ پارکنگ نہ نکاسی آب کا مناسب نظام اور نہ ہی فائر بریگیڈ و ایمبولینس کے لیے راستے
سننے میں آیا ہے بیک ڈیٹ میں نقشوں کی منظوری ہو رہی ہے اگر یہ درست ہے تو تحقیقات ہونی چاہیے یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ نئے ایڈمنسٹریٹر کی طرف سے سخت اقدامات کے بعد پرانی تاریخوں میں نقشے منظور کیے جا رہے ہیں اگر یہ محض افواہ ہے تو متعلقہ ادارے اسے واضح طور پر مسترد کریں اور اگر اس میں ذرا بھی حقیقت ہے تو یہ محض ایک انتظامی بے ضابطگی نہیں بلکہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے جس کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے
کیونکہ اگر کسی نئی کارروائی سے بچنے کے لیے پرانی تاریخ ڈال کر نقشے منظور کیے جائیں تو پھر شہر کے بلڈنگ کنٹرول نظام کی ساکھ ہی ختم ہوجاتی ہے اس لیے میری حکامِ بالا سے درخواست نہیں بلکہ مطالبہ ہے کہ آرچر روڈ سمیت کوئٹہ کی تمام حالیہ تعمیرات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے منظور شدہ نقشے این او سیز زمین کا ریکارڈ کمرشلائزیشن کی اجازت اور تعمیر کی تاریخ سب کچھ عوام کے سامنے لایا جائے
وزیراعلیٰ صاحب کھڈ کوچہ سے کوئٹہ تک بھی نظر دوڑائیے
وزیراعلیٰ بلوچستان اگر کھڈ کوچہ میں درختوں کی کھٹائی میں مصروف ہے مگر جنابِ وزیراعلیٰ صاحب کوئٹہ بھی آپ کی ذمہ داری ہے آپ کے دارالحکومت کے عین دل میں اگر مبینہ طور پر قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں شہری راستوں سے محروم ہیں دکاندار کاروبار سے محروم ہو رہے ہیں اور سرکاری احکامات بے اثر نظر آ رہے ہیں تو اس طرف بھی نظر ڈالنا ضروری ہے
کوئٹہ میں کئی برس سے میں لوٹ مار تجاوزات غیرقانونی تعمیرات اور ادارہ جاتی کمزوری کے بارے میں لکھتا آیا ہوں افسوس یہ ہے کہ اکثر معاملات میں یا تو افسر بے بس دکھائی دیتا ہے یا پھر کسی نہ کسی سطح پر سہولت کاری کا تاثر پیدا ہوتا ہے اگر کوئی افسر واقعی ایمانداری سے کام کرنا چاہتا ہے تو حکومت کو اس کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے
اب فیصلہ حکومت نے کرنا ہے آرچر روڈ پر جاری تعمیراتی سرگرمی کو فوراً شفاف طریقے سے چیک کیا جائے
اگر نقشہ منظور شدہ ہے تو اسے عوام کے سامنے لایا جائے
اگر نقشہ منظور نہیں تو کام فوری طور پر روکا جائے
اگر زمین ایمونٹی پلاٹ ہے تو اس کی کمرشلائزیشن کی قانونی حیثیت واضح کی جائے اگر راستے بند کرنا قانونی ہے
اگر نہیں تو شہریوں کے راستے فوری کھولے جائیں
لگتا ہے ہم صرف کالم لکھتے رہ جائیں گے اور شہر ہمارے ہاتھوں سے نکل چکا ہوگا حکامِ بالا کو اپنے دفاتر سے باہر نکل کر دیکھنا ہوگا کہ ان کی ناک کے نیچے کیا ہو رہا ہے
کیونکہ آج سوال صرف ایک پلازے کا نہیں سوال یہ ہے کہ کوئٹہ میں قانون زندہ ہے یا صرف فائلوں میں دفن ہوچکا ہے

03/09/2026

پشتونخوا میپ کے مشر محمود خان اچکزئی کی رہائش گاہ پر پی ٹی ایم کے مرکزی و صوبائی ممبران کی صوبائی کورڈینیٹر نور باچا کی سربراہی میں مشر محمود خان اچکزئی سے ملاقات ہوئی۔

ملاقات میں پشتونخوا وطن میں جاری ناامنی، معاشی قتلِ عام اور مختلف مسائل پر تبادلۂ خیال ہوا.

03/09/2026

بدامنی قبضہ گرو قوتوں کی پیدا کردہ ہے، جہاں وسائل وہاں دہشتگردی پھیلائی جارہی ہے، نواب ایاز خان جوگیزئی
پشتونخوا و طن کو مختلف سازشوں کے ذریعے تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا ہے،انسان ہر طرح کے حالات میں گزار کر سکتا ہے لیکن بد امنی میں نہیں،گرین پاکستان پروجیکٹ پشتون وطن پر قبضہ کا منصوبہ ہے عوام اس سے دور رہیں
کامیاب تاریخی جرگہ کا انعقادپر مبارکباد پیش کرتا ہوں، جرگہ نے اپنے وطن،عوام کے مستقبل کو سنوانے اور محفوظ بنانے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے،کوئٹہ میں منعقدہ سہ روزہ پشتون قومی جرگہ (جنوبی پشتونخوا)کے اختتام پر صدارتی خطاب
کوئٹہ(پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے پشتونخوامیپ کے چیئرمین ملی مشر محمود خان اچکزئی کی دعوت پر کوئٹہ میں 31,30اگست اور یکم ستمبر 2026منعقدہ سہ روزہ پشتون قومی جرگہ (جنوبی پشتونخوا)کے اختتام پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب تاریخی جرگہ کے انعقاد پر جنوبی پشتو نخوا کے تمام عوام اور پشتون قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اب ہم سب نے ہمت کرنی ہوگی اور اپنی حالت خود بدلنے کے لیے قدم اٹھانے ہوں گے۔ اتحاد اتفاق اور یگانگی کی جو مثال آج آپ نے پیش کی ہے یہ ہمارے تاریخ کا حصہ اور آنے والی نسلوں کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ پشتونخواوطن کی معدنیات اور تمام قدرتی خزانوں پر قبضہ جمانے کے لیے کچھ لوگوں نے ہمارے وطن کا سودا غیروں سے کر کے دہشت گردی کے ذریعے ہمیں اپنے وطن کی حق ملکیت حق کے حاکمیت اور حق کے خود ارادیت سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔جرگہ کی تمام کمیٹیاں قابل داد قابل تحسین ہیں۔آج جنوبی پشتونخوا نے اپنے تمام اضلاع میں 1400 سے زائد ممبران کا انتخاب کر کے اپنے مستقبل کو سنوارنے اور محفوظ بنانے کا تاریخی فیصلہ کیا ہر صورت میں اسے عملی جامع پہنا کر رہیں گے۔ بدامنی دراصل قبضہ گر قوتوں کی جانب سے پیدا کردہ ہے جہاں وسائل دریافت ہوں وہاں دہشت گردی کو پھیلایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو ڈرا، دھمکا کر قتل و غارت، خوف وہراس میں ڈال کر ان کی قدرتی وسائل پر قبضہ کیا جا سکے ان کی زمینیں الاٹ کی جائیں اور انہیں نقل مکانی پر مجبور کیا جائے۔21ویں صدی میں عوام کے ساتھ ایسی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ پشتونخوا و طن کو مختلف سازشوں کے ذریعے تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا ہے، پہلے یہاں کے عوام کا معاشی قتل عام کیا گیا اور اب تو سرعام مختلف ناموں سے لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست ہمارے ساتھ جو کچھ کر رہی ہے وہ اب ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔سہ روزہ جرگے میں مختلف مکتبہ فکر اور نظریات و زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں نے جو تقاریر کی ہیں اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انسان ہر طرح کے حالات میں گزار کر سکتا ہے لیکن بد امنی میں نہیں۔ اب تو بدامنی،دہشت گردی اور لاقانونیت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ لوگ خود کو اپنے گھروں کے اندر بھی محفوظ نہیں سمجھ رہے۔ مختلف ناموں سے لوگوں کو یہاں لا کر بسایا جا رہا ہے اور پتہ نہیں کن مقاصد کے لیے انہیں وقتا فوقتا استعمال کیا جائے گا۔ ان گھمبیر حالات اور دگرگوں صورتحال کو دیکھ کر شہدائے زیارت کے دھرنے سے ہی سب نے یہی تجویز پیش کی تھی کہ جرگہ بلا کر اپنے مسائل کے فیصلے اپنے مستقبل کے فیصلوں پر غور کیا جائے گا۔آج کا یہ تین روزہ تاریخی جرگہ بنومنعقدہ 11تا 14مارچ 2022 جرگے کے فیصلوں کی کڑی ہے اور موجودہ صورتحال کو پرکھنے اور وطن کو بچانے کے لیے فیصلہ کن ادارہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرگے نے جو فیصلے کیے اور اپنے ادارے بنائے اب یہ ادارے خود ہی پشتونخواوطن کے تمام اندرونی خلفشار اور جھگڑوں،قبائلی رنجشوں کے فیصلے کرے گی اور تمام پشتون اپنی آپس کی رنجش اور دشمنیاں ختم کر کے متحد ومنظم ہوکر دشمن کے سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جرگے کی تمام کمیٹیاں اصل عوامی طاقت کا منبع ہوں گی۔ پشتنی دود دستور، اعلیٰ روایات، انصاف کے تقاضوں پر مبنی اور غیر جانبدارانہ فیصلوں پر انہیں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ میں اب تک سینکڑوں قتل کے فیصلے کیے ہیں اور سب سے پہلے میں نے دشمنی میں دیت کے طور پر عورت دینے کی رسم کو ختم کرنے کا اعلان کیا، جب میں نے نوابی کی دستار پہنی تو سب سے پہلے یہ فیصلہ کیا کہ عورت کو بدی، دشمنی میں عیوض کے طور پر نہیں دیا جائے گا جو بہت انسان دشمن رسم تھی ہمیں اپنی عورتوں کو جائیدادوں میں حصہ دینا ہوگا۔ عورت کو سیال بنانا ہوگا۔تب سے آج تک دشمنی میں عورت نہیں دی گئی جس پر میں تمام پشتون عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں ہمیں عورتوں کو انسان سمجھنا ہوگا انہیں اپنا اسلامی اور پشتنی اعلیٰ روایات کے مطابق حق دینا ہوگا۔ نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ اگر چہ پشتون اللہ تعالیٰ کی جانب سے غریب پیدا نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین کے ایسے ٹکڑے کا مالک بنایا ہے جہاں دنیا کی سب سے قیمتی معدنیات وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہیں لیکن پشتون نوجوان اس کے باوجود دیار غیر میں پہلے محنت مزدوری تو اب کچرہ دانوں میں کچرہ چُننے میں مصروف ہیں۔اپنے وطن کے کوئلے، کرومائٹ اور دیگر معدنیات مزدور کی حیثت سے دوسروں کے لیے نکالتے ہیں یہ وطن ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے سروں کے قربانی کے نتیجے میں ایسے پالا کہ اس کے ایک ایک پتھر، درخت اور ایک ایک انچ زمین کے لیے نہ صرف پرائے قابضوں بلکہ اپنے لوگوں کا بھی خون بہایا ہے۔ پشتون تو اپنی زمینوں میں دوسرے گاؤں کے ریوڑوں، بھیڑ بکریوں کو بھی چرنے نہیں دیتے اس پر ایک دوسرے کے ساتھ دشمنیاں کرتے ہیں لیکن آج دوسرے صوبوں سے پرائے لوگ آکر لاکھوں ایکڑ زمین ایک کاغذ کے عیوض اپنے نام الاٹ کررہے ہیں۔ کیونکہ پشتونوں میں اتفاق کا فقدان ہے۔ اپنے آپس میں ذرا بھی رحم بردباری سے کام نہیں لیتے لیکن جب دوسروں نے ان کے تمام قیمتی خزانوں سے بھرے پہاڑ الاٹ کیئے تو اس پر خاموش ہیں۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ گرین پاکستان کا منصوبہ دراصل پشتون وطن پر قبضہ کا منصوبہ ہے اس منصوبے سے عوام کے دور رہنا ہوگا، ٹریکٹر، ٹیوب ویل، شمسی سولر کے لالچ دیکر زمینوں کے انتقالات کیئے جاتے ہیں اورسود درسودقرضوں کے ذریعے عوام کی زمینوں کو لوٹنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ زرعی ترقی وخوشحالی کے انقلاب کی باتیں پشتونوں کی زرعی بربادی پر منتج ہوں گی۔ تین سے چار لاکھ روپے دیکر بجلی ختم کردی گئی جو 6گھنٹے تک ملتی تھی ان 6گھنٹوں میں زمیندار اور عوام اپنے ضرورت کے مطابق پانی کا استعمال کرتے تھے اب سولر کے ذریعے صبح سے شام دن پانی کا استعمال اور ضیاع ہورہا ہے زیر زمین پانی کی سطح انتہائی نیچے چلی گئی ہے۔ لوگوں کو نہ صرف پینے کا صاف پانی کی قلت کا سامنا ہوگا بلکہ آبنوشی کا بحران پیدا ہوگا، پانی کی سطح کی کمی، ٹیوب ویل اور کنویں خشک، زمینیں بنجر ہونے لگیں گی۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو مختلف نشئی مواد کا عادی بناکر انہیں ذہنی طو ر پر مفلوج کیا جاتا ہے ایک سازش کے تحت پشتونوں کے نئی نسل کو نشے کا عادی بناکر انہیں برباد کرکے اپنے حقوق کے مطالبے اور سیاسی جمہوری جدوجہد اور قومی تحریک سے دستبردار کرانا چاہتے ہیں اور یہ نشئی مواد سرکاری جگہوں سے آتی ہیں۔قلعہ سیف اللہ میں افیون ہیروئن کی فصل کا خاتمہ ہوسکتا ہے تو قلعہ عبداللہ میں کیوں نہیں ہوسکتا، یہ کیسا قانون ہے کیسی انتظامیہ ہے، تمام وطن میں اس ناسورہیروئن کی فصل کا خاتمہ ضروری اور لازمی ہے اور اس ناسور نشے کے ذریعے ہمارے وطن کے بچوں کو تباہ کیا جارہا ہے۔ہمیں مل کر اپنے وطن اور اپنے نوجوانوں کے مستقبل کو بچانا ہوگا۔ #

03/09/2026
27/08/2026

محکمه اوقاف کے افیسران نے قبضه مافیا اور حکومتی کرپٹ وزرا کے ساتھ مل کر ارچر روڈ گیبریل سکول کی زمین کو اونے پونے داموں نیلام کیا

20/08/2026

کبیر افغان صوبا يي جنرل سیکرټري

Address

BUITEMS TaKatu Campus
Quetta
28100

Telephone

+923468307392

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pukhtoonkhwa Students Organization buitems posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share