08/09/2023
احساس:
جب میں بیچ چوراہے پہ کھڑے ہجوم کی شور و غوغا کو سنتا ہوں تو مجھے بے ساختگی سے اپنے گاؤں کی وہ تاریک خاموش شام یاد آتی ہے،
جہاں ہوا دھیمی چال چلتے ہوئے پیڑ پودوں سے ٹکراتی ہے ایک سرسراہٹ ایک انوکھی گیت پیدا ہوتی ہے، لیکن میں اس ہوا کی رطوبت اس گیت کی لطف کو محسوس نہیں کرسکتا ہوں
جب میں شہر کی عورتوں کو ٹہلتے ہوئے صبح کو چہل قدمی کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے میرے گاؤں کے وہ سادھی سیدھی لڑکیاں یاد آتی،
جنہیں کئی کئی مہینوں تک آئینے دیکھنے تک کہ فرصت نہیں ملتی ، لیکن میں ان لڑکیوں کی محرومیوں کو محسوس کرنے سے قاصر ہوں،جانے ایسی لڑکیوں کی خواب کیا ہوتے ہیں،
جب میں بڑے بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کو صاف ستھرے بستروں پر پڑے دیکھتا ہوں
تو مجھے میرے گاؤں کے وہ مائیں یاد آتی ہیں
جو زچگی کے شدت درد سے تڑپ تڑپ کر جان دیتی ہے
لیکن میں ان ماؤں کی درد سے ناآشنا ہوں،
جانے انکی تکلیف کی آخری حد کونسی ہوگی
جو بچے کی پہلی قلقاری پہ دم توڑے وہ
یا جب نومولود بچہ ساکت جامد
کسی گوشت کے لوتھڑے کی طرح
پڑے منہ چڑھاتا ہے،
جب میں شہر کے امیر کبیر بوڑھے مردوں کو
ماسک لگائے چشمہ پہن کر لائبریری کی رخ کرتے دیکھتا ہوں،
تو مجھے میری والد کے ہاتھوں میں پڑے چھالے
شدت سے یاد آتے ہیں،
لیکن میں یہ محسوس نہیں کرسکتا ہوں
کہ میرے والد گھنٹوں تنہا بیٹھ کر آخر کیا سوچتا ہے…؟
یا پھر وہ جاگتے ہوئے اس پرتعیش دنیا کی۔
خواب دیکھ رہا ہوتا ہے.
ابرام گرگ Ibram Gurg 🖤🥀