25/09/2025
تنظیم چیئرمین زبیر بلوچ کے بیہیمانہ قتل پر رنجیدہ ہے: بی ایس او
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بی ایس او پجار کے سابق چیئرمین زبیر بلوچ کے بہیمانہ قتل پر گہرے رنج و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ بلوچ طلبا تحریک اور قومی جدوجہد کو کچلنے کی منظم سازش ہے۔ زبیر بلوچ کو نشانہ بنا کر دراصل بلوچ طلبا سیاست کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں تحریکوں کو مٹانے کے بجائے مزید طاقتور بنا دیتی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ زبیر بلوچ نے اپنی زندگی تعلیم، انصاف، قومی شعور اور طلبا کے حقوق کے لیے وقف کی۔ وہ ایک جری اور اصولی رہنما تھے جنہوں نے ہر مشکل وقت میں نوجوانوں کو امید اور رہنمائی دی۔ ان کا قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ قوم کے باشعور بیٹوں کو راستے سے ہٹانے کے لیے گھناؤنی پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں۔
بی ایس او اس بہیمانہ قتل کی شدید ترین مذمت کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ زبیر بلوچ جیسے رہنما جسمانی طور پر مارے جا سکتے ہیں مگر ان کے نظریات اور قربانیاں کبھی ختم نہیں کی جا سکتیں۔ ان کا خون بلوچ طلبا کے لیے عزم اور مزاحمت کا نیا عہد ہے۔تنظیم شہید زبیر بلوچ کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے۔ اس دوران تمام تنظیمی سرگرمیاں محدود رکھی جائیں گی اور مختلف تقریبات کے ذریعے شہید کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ شہید زبیر بلوچ کی قربانی اس بات کا اعلان ہے کہ بلوچ طلبا اپنے قومی حق، اپنی شناخت اور اپنی سرزمین کے تحفظ کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے خون کا ایک ایک قطرہ بلوچ قوم کے اجتماعی عزم کو اور زیادہ مضبوط کرے گا۔