National Democratic Party

National Democratic Party Political Party

غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کو تقریباً گیارہ ماہ گزرنے کے باوجود  انکا منظر عام پر نہ آنا اور ریاستی اداروں کی خاموشی  قابل...
14/04/2026

غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کو تقریباً گیارہ ماہ گزرنے کے باوجود انکا منظر عام پر نہ آنا اور ریاستی اداروں کی خاموشی قابلِ تشویش ہے
این‌ ڈی پی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اپنے مرکزی رہنما غنی بلوچ کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ ان کی جبری گمشدگی کو آج تقریباً گیارہ ماہ کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، مگر تاحال نہ ان کے اہل خانہ اور نہ ہی پارٹی کو ان کی موجودہ حالت، صحت اور مقام کے حوالے سے کسی قسم کی آگاہی فراہم کی گئی ہے، جس کے باعث تمام متعلقہ افراد شدید ذہنی اذیت اور بے چینی کا شکار ہیں۔

پارٹی اور اہل خانہ نے مکمل طور پر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے ہر ممکن اقدام اٹھایا ہے۔ ان اقدامات میں ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست، ایف آئی آر درج نہ ہونے پر عدالت سے رجوع، بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کرنا، جبری گمشدگیوں کے کمیشن میں کیس جمع کروانا اور وہاں پیشیاں دینا، اس کے علاوہ پریس ریلیز، پریس کانفرنسز اور پرامن احتجاج شامل ہیں۔ ان تمام آئینی و قانونی ذرائع کے باوجود تاحال سرکاری سطح پر کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا، سوائے اس کے کہ کافی عرصے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔

غنی بلوچ ایک پُرامن سیاسی کارکن ہیں جن کا پیشہ کتب فروشی تھا اور وہ اسی کے ذریعے اپنی زندگی بسر کرتے تھے۔ وہ جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والے شخص تھے اور ہمیشہ سیاسی اور آئینی جدوجہد کو ترجیح دیتے رہے۔ تاہم، آج انہیں غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر انسانی طریقے سے حبسِ بے جا میں رکھ کر نہ صرف ان کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے ہیں بلکہ ان سے وابستہ تمام افراد کو اجتماعی ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ غنی بلوچ کو فوری طور پر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، ان کی خیریت کے حوالے سے آگاہ کیا جائے اور آئین و قانون کے مطابق ان کے حقوق کو یقینی بنایا جائے۔
مرکزی‌ترجمان: نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی

𝗦𝗶𝗹𝗲𝗻𝗰𝗶𝗻𝗴 𝗩𝗼𝗶𝗰𝗲𝘀 𝗪𝗼𝗻’𝘁 𝗦𝘁𝗼𝗽 𝘁𝗵𝗲 𝗗𝗲𝗺𝗼𝗰𝗿𝗮𝘁𝗶𝗰 𝗦𝘁𝗿𝘂𝗴𝗴𝗹𝗲𝑻𝒉𝒆𝒊𝒓 𝒂𝒃𝒔𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒔𝒕𝒓𝒆𝒏𝒈𝒕𝒉𝒆𝒏𝒔 𝒐𝒖𝒓 𝒓𝒆𝒔𝒐𝒍𝒗𝒆 𝒇𝒐𝒓 𝒅𝒆𝒎𝒐𝒄𝒓𝒂𝒕𝒊𝒄 𝒓𝒊𝒈𝒉𝒕𝒔 𝒂𝒏𝒅 𝒋𝒖𝒔𝒕𝒊...
02/04/2026

𝗦𝗶𝗹𝗲𝗻𝗰𝗶𝗻𝗴 𝗩𝗼𝗶𝗰𝗲𝘀 𝗪𝗼𝗻’𝘁 𝗦𝘁𝗼𝗽 𝘁𝗵𝗲 𝗗𝗲𝗺𝗼𝗰𝗿𝗮𝘁𝗶𝗰 𝗦𝘁𝗿𝘂𝗴𝗴𝗹𝗲
𝑻𝒉𝒆𝒊𝒓 𝒂𝒃𝒔𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒔𝒕𝒓𝒆𝒏𝒈𝒕𝒉𝒆𝒏𝒔 𝒐𝒖𝒓 𝒓𝒆𝒔𝒐𝒍𝒗𝒆 𝒇𝒐𝒓 𝒅𝒆𝒎𝒐𝒄𝒓𝒂𝒕𝒊𝒄 𝒓𝒊𝒈𝒉𝒕𝒔 𝒂𝒏𝒅 𝒋𝒖𝒔𝒕𝒊𝒄𝒆

*Ghani Baloch:*
A committed political worker of the National Democratic Party, was taken while traveling between Quetta and Karachi.
He believed in democratic struggle, not violence.
His enforced disappearance is not just an attack on an individual, but on political rights.
His family continues to wait in uncertainty and pain.
We demand that he be produced before a court of law.
Justice requires his safe and immediate return.

*Sana Baloch:*
Associated with the National Democratic Party as central leader, was reportedly detained from Multan Airport and has not been seen since.
His only path was peaceful political engagement.
Disappearing political workers weakens the foundations of democracy.
His loved ones are left without answers.
The state must ensure transparency and due process.
safely and immediately.

*Zahid Baloch:*
A zonal member from Karachi, was taken from Lyari, Karachi and remains missing.
He stood for political dialogue and democratic rights.
His disappearance raises serious questions about rule of law.
Karachi bears witness, yet silence continues.
His family deserves truth and justice.
We demand his recovery and legal accountability.

The cases of Ghani Baloch, Sana Baloch, and Zahid Baloch reflect a consistent pattern of enforced disappearances targeting political workers associated with the National Democratic Party. All three were reportedly taken from different locations, yet none have been produced before a court of law. This indicates a troubling absence of transparency and due process. Their disappearances are not isolated incidents but part of a broader pattern affecting democratic voices.
Such actions undermine constitutional rights and weaken trust in institutions. An immediate, lawful resolution is essential to uphold justice and democratic norms.

These NDP activists were taken for their political work, exposing a pattern of silencing democratic voices.
Their enforced disappearances violate basic human and political rights.
No court production or accountability has been shown.
We demand their safe return and justice.




کوئٹہ پریس کلب میں بلوچ خواتین کو پریس کانفرنس سے روکنے کے عمل کی شدید مذمت کرتے ہیںاین ڈی پی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے م...
03/03/2026

کوئٹہ پریس کلب میں بلوچ خواتین کو پریس کانفرنس سے روکنے کے عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں

این ڈی پی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ بلوچ خواتین کو آج کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس منعقد کرنے سے روکا گیا اور انہیں اپنی آئینی و جمہوری آواز بلند کرنے کا حق استعمال کرنے نہیں دیا گیا۔ جمہوری معاشرے میں پریس کلب محض ایک عمارت نہیں بلکہ عوامی آواز کا پلیٹ فارم ہوتا ہے، جہاں شہری اپنے مسائل، خدشات اور مطالبات پُرامن انداز میں میڈیا اور عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔
بلوچ خواتین کو پریس کلب میں داخل ہونے سے روکنا نہ صرف ایک افسوسناک اقدام ہے بلکہ یہ براہِ راست اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن کے مترادف ہے۔ پُرامن سیاسی سرگرمیوں، پریس کانفرنسوں اور احتجاج کو طاقت یا انتظامی ہتھکنڈوں سے روکنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ جب سیاسی کارکنوں کو اپنے مسائل بیان کرنے سے روکا جاتا ہے اور انہیں اظہار رائے کا حق نہیں دیا جاتا بلکہ اس کے بدلے تشدد کا سہارا لیا جاتا ہے تو اس کا رد عمل بھی ریاستی اداروں کے عمل سے متضاد نہیں ہو سکتا۔
جب ریاستی رویے مکالمے اور برداشت کے بجائے جبر، خوف اور تشددپر مبنی ہو جائیں تو وہ جمہوری نہیں بلکہ آمرانہ اور فاشسٹ طرزِ سیاست کی عکاسی کرتے ہیں۔ فاشسٹ رجحانات کی پہچان یہی ہے کہ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھا جائے، سیاسی کارکنوں کو خاموش کرایا جائے اور شہری آزادیوں کو سکیورٹی یا انتظامی جواز کے نام پر محدود کیا جائے۔ ایسے اقدامات نہ صرف آئین کی روح سے متصادم ہیں بلکہ معاشرے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلتے ہیں۔
نام نہاد جمہوریت کے دعوےداروں کو معلوم ہونا چاہئے کہ جمہوریت کی مضبوطی اسی میں ہے کہ اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور عوامی آواز کو دبانے کے بجائے سنا جائے کیونکہ جمہوریت طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، شفافیت اور مکالمے سے مضبوط ہوتی ہے۔ بلوچ خواتین کو پریس کانفرنس سے روکنا دراصل خواتین کی سیاسی شرکت پر قدغن لگانا اور بلوچستان میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرنے سے روکنا ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

بلوچستان میں جاری جبر اور سیاسی گھٹن ناقابلِ قبول ہےسی ٹی ڈی کی ماورائے آئین کاروائیاں اداراتی طرز عمل اختیار کر چکی ہی...
20/02/2026

بلوچستان میں جاری جبر اور سیاسی گھٹن ناقابلِ قبول ہے
سی ٹی ڈی کی ماورائے آئین کاروائیاں اداراتی طرز عمل اختیار کر چکی ہیں

مرکزی ترجمان نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بلوچستان میں جاری جبر اور آئینی حقوق کی مسلسل پامالیوں پر گہری تشویش اور سخت احتجاج کا اظہار کرتی ہے۔ بلوچستان ایک عرصے سے سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں، معاشی ناانصافی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، بے روزگاری، غربت ، بنیادی صحت و تعلیم کی سہولیات کی کمی ، سیاسی بے اختیاری اور نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کے تحت مقامی عوام کو فیصلہ سازی سے دانستہ خارج کرنا جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ان ریاستی پالیسیوں کے خلاف جب عوام اپنے آئینی حقوق اور وسائل پر اختیار کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو ان کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے سننے کے بجائے سیاسی مطالبات کی سکیورٹائزیشن کر کے جمہوری آوازوں کو ریاستی خطرہ قرار دے کر طاقت اورتشدد سے ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اختلافِ رائے کو ریاستی رٹ کے خلاف بغاوت قرار دینا اور سیاسی سرگرمیوں کو محض سکیورٹی مسئلہ بنا دینا دراصل سیاسی بحران کو مزید گہرا کرتا ہے۔

حالیہ عرصے میں پنجگور، بارکھان، نوشکی، مکران اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے نوجوانوں کی لاشوں کی برآمدگی نہایت تشویشناک اور افسوسناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ جبری گمشدگیوں میں شدید اضافہ ہو چکا ہے جبکہ متعدد خاندان عوامی فورمز پر آ کر یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ان کے پیاروں کو شفاف قانونی عمل کے بغیر ماورائے آئین حراست میں لیا گیا اور اکثر معاملات میں ڈیتھ اسکوائد کو شامل کیا گیا جنہوں نے نوجوانوں کو تشدد کر کے اغوا کرنے کے بعد یا انکی لاشیں ویرانوں میں پھینک دیں یا پھر انہیں اداروں کے ہاتھوں سونپ کر طویل عرصے تک جبری گمشدہ رکھا گیا جبکہ کراچی میں ایک بار پھر ڈرامائی انداز میں زیر حراست نوجوانوں کو مقابلے میں ہلاک ظاہر کیا گیا۔ ایسے واقعات محض انفرادی سانحات نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی اور انسانی حقوق کے بحران کی علامت ہیں، جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔

ریاست اور شہریوں کے درمیان آئینی اور اخلاقی معاہدے کے تحت ریاست شہریوں کی جان، مال، عزت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی پابند ہے۔ چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی، بغیر شفاف عدالتی عمل کے گرفتاری، اور جبری گمشدگی کے بعد ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات اس معاہدے کی روح کے منافی ہیں۔ فورتھ شیڈیول، پیکا ایکٹ اور انسدادِ دہشت گردی جیسے قوانین کا غیر متناسب اور وسیع اطلاق سیاسی فضا کو محدود کرتا اور اختلافِ رائے کو دبانے کے رجحان کو تقویت دیتا ہے۔ قانون کا مقصد انصاف کا تحفظ کے بجائے سیاسی عمل کو محدود کرنا ہوتا ہے تووہاںجبر سے پیدا ہونے والی خاموشی استحکام نہیں بلکہ بے اعتمادی اور ردِعمل کو جنم دیتی ہے۔

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ اگر صحافت، عدلیہ اور سول سوسائٹی کو آزادانہ کردار ادا کرنے دیا جائے تو واضح ہوگا کہ بلوچستان میں جاری شورش اور پر تشدد واقعات کے اصل ذمہدار کون ہیں لیکن بد قسمتی سے عملا بلوچستان کو نوآبادیاتی طرز پالیسیوں سے چلایا جا رہا ہے اور اسکی سب سے بڑی وجہ بلوچ سر زمین کے سائل وسائل کو لوٹنا ہے جس کے لیے پوری طاقت کے ساتھ بلوچ قومی تحریک کو سبوتاز کرنے کے لیے سیاسی ، صحافتی قدغنیں لگائی گئی ہیں۔ اطلاعات تک رسائی میں رکاوٹیں اور یک طرفہ بیانیہ عوامی شکوک و شبہات کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ طاقت کے ذریعے وقتی خاموشی تو مسلط کی جا سکتی ہے، مگر پائیدار امن صرف انصاف، شفاف احتساب اور بامعنی سیاسی مکالمے سے ہی قائم ہو سکتا ہے۔

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی واضح طور پر مطالبہ کرتی ہے کہ جبری گمشدگیوں اور مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کی آزاد، غیر جانبدار اور عدالتی نگرانی میں تحقیقات کر کے متاثرہ خاندانوں کو مکمل معلومات اور انصاف فراہم کیا جائے،اور بلوچستان کے سیاسی و معاشی مسائل کا حل طاقت کے بجائے آئینی اور جمہوری راستے سے تلاش کیا جائے۔ بلوچستان کے عوام کسی رعایت کے طلبگار نہیں بلکہ اپنے آئینی حقوق، وسائل پر اختیار اور باعزت سیاسی وجود کے حقدار ہیں۔

موجودہ حکومت اپنی نااہلی اور ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ان کا بوجھ عام عوام پر مسلط کر رہی ہےپشتون سرزمین پر موجود پشتون ...
05/02/2026

موجودہ حکومت اپنی نااہلی اور ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ان کا بوجھ عام عوام پر مسلط کر رہی ہے

پشتون سرزمین پر موجود پشتون عوام کے قومی حقوق اور بالادستی کے اصولی مؤقف کی مکمل تائید کرتے ہیں

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جاری پُرتشدد اور منظم واقعات نے سرکاری مشینری کی ادارہ جاتی بے نظمی، بے ربط رویّے اور بدانتظامی کو واضح کر دیا ہے۔ اندرونی طور پر کرپشن، اقربا پروری اور غلط پالیسیوں کے باعث مطلق العنان حکمرانوں نے اپنی ساکھ اور وقار کھو دیا ہے۔ بلوچستان میں طرزِ حکمرانی نوآبادیاتی نظام کی روشنی میں استعماریت کی شکل اختیار کر چکی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے اپنی ناکامیوں کا بوجھ عوام پر مسلط کر رہی ہے۔ شناختی کارڈز، پاسپورٹس، بینک اکاؤنٹس، موبائل سمز اور فورتھ شیڈول جیسے حربے استعمال کر کے بلوچ اور پشتون اقوام کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

بلوچ اور پشتون اقوام سینکڑوں سالوں سے برادرانہ اصولوں کے تحت اپنی اپنی سرزمینوں پر موجود ہیں، اور ہر مشکل وقت میں دونوں اقوام نے دست بدست ہو کر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، جس سے ایک مضبوط اور قابلِ فخر رشتہ قائم ہوا۔ بدقسمتی سے برطانوی سابقہ نوآبادیاتی سامراج نے ڈیورنڈ لائن، گنڈمک معاہدہ، گولڈ اسمتھ لائن اور سابقہ برٹش بلوچستان جیسے تنازعات کھڑے کر کے بلوچ اور پشتون سرحدات کو متاثر کیا، تاکہ ان دونوں اقوام کو محکوم رکھا جا سکے۔ اگرچہ انگریز نوآبادیات کا خاتمہ ہو چکا ہے، مگر بلوچ اور پشتون اقوام پر سامراجی پالیسیاں آج بھی مختلف شکلوں میں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں، جو دونوں اقوام کے لیے شدید بے چینی کا سبب بنی ہوئی ہیں۔

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی پشتون سرزمین پر موجود پشتون عوام کے قومی حقوق اور بالادستی کے اصولی مؤقف کی مکمل تائید اور حمایت کرتی ہے، دونوں اقوام کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ کسی بھی تیسرے فریق کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ اس مسئلے کو کسی بھی فورم پر استعمال کر کے بلوچ اور پشتون اقوام کے مابین غلط فہمیوں اور نفرت کے بیج بو سکے۔ بلوچ اور پشتون اقوام پر لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے محکومیت اور جبر کے نظام سے خود کو الگ کریں، تاکہ باہمی برادرانہ تعلقات کو ماضی کی مثبت روایات اور موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق نئے سرے سے منظم اور مضبوط کیا جا سکے۔

مرکزی ترجمان: این ڈی پی

بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں ،ریاستی جبر، مرکزی قیادت کی طویل گمشدگی  اور خواتیں کی  ماورائے آئین گرفتاریوں  پر...
28/01/2026

بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں ،ریاستی جبر، مرکزی قیادت کی طویل گمشدگی اور خواتیں کی ماورائے آئین گرفتاریوں پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہیں

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کے تسلسل کو انسانی حقوق کی بدترین اور منظم پامالی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے ۔ جبری گمشدگیوں کا غیر انسانی حربہ نازی جرمنی کی فسطائیت سے لے کر لاطینی امریکہ کی فوجی آمریتوں تک صرف ان ریاستوں کا شیوہ رہا ہے جو سیاسی اختلاف کو منطق اور دلیل کے بجائے جبر سے کچلنے کی پالیسی پر گامزن رہی ہیں۔ بلوچستان میں ۱۹۷۰ کی دہائی سے اسد مینگل اور احمد شاہ کرد کی گمشدگی سے شروع ہونے والا یہ سیاہ باب آج ایک باقاعدہ ریاستی پیٹرن کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو کہ عالمی انسانی حقوق کے قوانین کے ساتھ ساتھ ملکی آئین کی روح کے بھی منافی ہے۔

پارٹی قیادت اپنے مرکزی رہنماؤں کی طویل گمشدگی پر شدید رنج و غم اور غم و غصے کا اظہار کرتی ہے۔ پارٹی کے مرکزی رہنما غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کو آٹھ ماہ کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، جنہیں ۲۵ مئی ۲۰۲۵ کو کوئٹہ سے کراچی سفر کے دوران خضدار کے مقام پر مسافر کوچ سے اتار کر لاپتہ کیا گیا۔ اسی طرح، ۱۰ اگست ۲۰۲۵ کو مرکزی رہنما ثنا بلوچ کو ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بورڈنگ کا عمل مکمل کرنے کے بعد ایف آئی اے اہلکاروں کی جانب سے روکا گیا اور پھر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ ان رہنماؤں کے مقامِ حراست اور سلامتی کے بارے میں معلومات کی عدم فراہمی ریاست کے عدالتی اور انتظامی ڈھانچے کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ این ڈی پی سمجھتی ہے کہ مرکزی قیادت کو نشانہ بنانا دراصل پُرامن سیاسی جدوجہد کے راستے مسدود کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی یہ پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ ریاست فی الفور اپنی ان غیر آئینی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور تمام لاپتہ سیاسی کارکنوں، طلبہ اور بالخصوص نسریں بلوچ، فرزانہ زہری، خیر النسہ، رحیمہ بلوچ اور فاطمہ بلوچ سمیت تمام زیرِ حراست خواتین کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جبری گمشدگیوں کے اس سلسلے کو مستقل بنیادوں پر بند کر کے اس میں ملوث عناصر کا محاسبہ کیا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ریاست پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقِ زندگی اور تحفظ کی ضمانت دے، کیونکہ جبر اور خوف کی بنیاد پر کبھی بھی پائیدار استحکام یا سیاسی حل تلاش نہیں کیا جا سکتا۔

23/01/2026

نومان بلوچ ءُ طاہر بلوچ ءِ کوش ریاستی زوراکیانی درچ انت، اے ھاموشی مارا گیش وران کنت ۔ این ڈی پی تمپ ھنکین

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی تمپ ھنکین مند ءَ ریاستی پئوج ءِ دست ءَ دزگیری ءَ پد ماں بندیگ جاہ ءَ نمیران کنگ بوتگیں نومان ھیدر ءِ کوش ءُ کونشقلات ءَ ورنائیں طاہر بلوچ ءِ کوش ءَ ترندی ءَ گوں ایرجنت ءُ ھندی ءُ میان استمانی انسانی ھکانی گلاں چہ لوٹ کنت کہ اے زوراکیانی بگیری ءَ زوت ءَ زوت گامگیج بہ زور انت ءُ اشی ءِ گر ءُ دار ءَ بہ کن انت ۔

این ڈی پی چہ مند ءُ تمپ ءِ مھلوک ءَ ھمے لوٹ ءَ کنت کہ وتی دوستیگیں مردمانی کوش ءِ بگیری ءَ توار چست بہ کن ات ءُ این ڈی پی وتی باسمائیں راج ءِ گوما ھر گام ءَ ھمکوپگ انت۔ بلوچ راج اے وڈ ھاموش مہ بیت ءُ وتی دوستیگیں مردمانی ژانگولیں جونانی ودار ءَ مہ نند ایت ۔

مند ءُ تمپ ءَ ھوار سرجمیں بلوچستان ءِ باسمائیں مھلوک ءَ ریاست ءِ اے وڈیں رپک ءُ ھنر زانگی انت کہ آ مئے دوستیگیں مردمانی یل کنگ ءِ بھانہ ءَ ھمے پندل ءَ کنت کہ توار چست مہ کن ات، آیانی ارزی ءَ نبشتہ مہ کن ات تانکہ استان ءُ آئی ءِ داشتگیں کشندہ ٹولی ارزانی ءَ آیاں وتی نشانگ کت بہ کنت۔

کوئٹہ میں گرینڈ الائنس کے رہنماؤں کی گرفتاریوں  اور سرکاری ملازمین کے پُرامن احتجاج پر ریاستی جبر، تشدد اور گرفتاریوں کی...
21/01/2026

کوئٹہ میں گرینڈ الائنس کے رہنماؤں کی گرفتاریوں اور سرکاری ملازمین کے پُرامن احتجاج پر ریاستی جبر، تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہیں

این ڈی پی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کوئٹہ میں سرکاری ملازمین کے پُرامن احتجاج پر ریاستی جبر، تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ آج بلوچستان بھر کے سرکاری دفاتر کی تالہ بندی ثبوت ہیں کہ ملازمین کی اکثریت اس عمل میں شریک ہیں، جبکہ کئی روز سے ملازمین کی بڑی تعداد کوئٹہ کا رخ کر رہی تھی تاکہ وہ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے اپنا پُرامن احتجاج ریکارڈ کرا سکیں۔ گرینڈ الائنس کے رہنماؤں کی گرفتاریوں، کئی روز سے جاری چھاپوں، اور آج احتجاج کے دوران گرینڈ الائنس کے آرگنائزر قدوس کاکڑ سمیت متعدد ملازمین کی گرفتاریوں کے ساتھ پولیس کی جانب سے تشدد کا سہارا لینا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت بلوچستان مسائل کو گفت و شنید کے بجائے طاقت کے ذریعے حل کرنے کی روایتی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ یہ پالیسی ریاستی آئیں کےبرخلاف ہر شہری کے پُرامن احتجاج اور اظہار رائے کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ملازمین کے جائز مطالبات، بالخصوص ڈی آر اےسمیت دیگر بنیادی حقوق کا مطالبہ غیر قانونی نہیں بلکہ ہر سرکاری ملازم کا آئینی حق ہیں۔ حکومت کی جانب سے طاقت کے ذریعے ان مطالبات کو دبانے کی کوشش غیر آئینی اور طاقت پر مبنی رویے کی عکاسی کرتی ہے۔ مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام گرفتار ملازمین کو فوری اور بلا مشروط رہا کیا جائے، پُرامن احتجاج پر تشدد اور گرفتاریوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، اور حکومت سنجیدہ، شفاف اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرے۔

بلوچستان میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ طویل عرصے سے یہ دیکھا گیا ہے کہ ملازمین، طلبہ یا عام شہریوں کے جائز مطالبات کا جواب تشدد اورگرفتاری کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ طاقت کے استعمال سے احتجاج کو دبایا نہیں جا سکتا، بلکہ مسئلہ مزید پیچیدہ اور کشیدہ ہو جاتا ہے۔ اس ریاستی رویے کو نہ صرف غیر جمہوری بلکہ بلوچستان کے حالات کو مزید بگاڑنے والا سمجھتی ہے۔

مزید واضح کرتے ہیں کہ اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف جاری مقدمہ اسی ریاستی طاقت کے غلط استعمال کی ایک اور مثال ہے۔ یہ وکلاء انسانی حقوق کے حساس معاملات، خاص طور پر بلوچ مسنگ پرسنز اور مظلوموں کے لیے آواز بلند کرنے کی وجہ سے نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ ہم ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی ہر غیر آئینی اور غیر جمہوری کارروائی فوری طور پر روکاجائے تاکہ انسانی حقوق کے محافظ اپنا جائز اور آئینی کام بلا خوف جاری رکھ سکیں۔

We, the National Democratic Party (NDP), observe the change of state policies of involving Baloch women into the heinous...
06/01/2026

We, the National Democratic Party (NDP), observe the change of state policies of involving Baloch women into the heinous act of enforced disappearances – which we term illegal and against the state standards. It is a larger pattern of Baloch repression which will shape worse in time to come if not resisted, protested and stopped at the earliest. The masses, unbiased institutions and international community need to play their key role. Particularly, the Baloch people.

Central Spokesperson
National Democratic Party

We, at the National Democratic Party, are gravely concerned about Farzana and the two siblings in Dalbandin including Ra...
06/01/2026

We, at the National Democratic Party, are gravely concerned about Farzana and the two siblings in Dalbandin including Rahima Baloch. This is a direct and grave human right violation where citizens are arrested, disappeared and never presented before a court of law to face trial – no matter under which laws and provisions. We denounce such arrests and demand an end to such illegal policies against the Baloch at large.

Central Spokesperson
National Democratic Party

National Democratic Party discourages Baloch women abductions and sees them as a direct threat on the national and inter...
06/01/2026

National Democratic Party discourages Baloch women abductions and sees them as a direct threat on the national and international standards of life along with their illegality and excessive use of power and privilege. We ask for immediate release of the detained Baloch women, accountability for the culprits and an end to anti-Baloch policies.

Central Spokesperson
National Democratic Party

“Any act of enforced disappearance is an offence to human dignity. It is condemned as a denial of the purposes of the Ch...
02/01/2026

“Any act of enforced disappearance is an offence to human dignity. It is condemned as a denial of the purposes of the Charter of the United Nations and as a grave and flagrant violation of the human rights and fundamental freedoms proclaimed in the Universal Declaration of Human Rights and reaffirmed and developed in international instruments in this field.”



Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when National Democratic Party posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to National Democratic Party:

Share