Baloch Students Organization

Baloch Students Organization This is the Official page of Baloch Students Organization.

مرکزی چیئرمین بالاچ قادر کے خلاف ہراسانی کی مہم قابلِ مذمت ہے : بی ایس اوبی ایس او کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ...
12/03/2026

مرکزی چیئرمین بالاچ قادر کے خلاف ہراسانی کی مہم قابلِ مذمت ہے : بی ایس او

بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کے مرکزی چیئرمین بالاچ قادر کے خلاف مسلسل مقدمات، عدالتی پیچیدگیوں اور غیر ضروری قانونی دباؤ کا استعمال دراصل ایک منظم ہراسانی مہم کا حصہ ہے۔ گوادر میں زیرِ سماعت مقدمے کو اچانک کوئٹہ منتقل کرنے کا اقدام اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ ایک سیاسی اور طلبہ رہنما کو غیر معمولی طریقوں سے دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ بالاچ قادر ایک عرصے سے بلوچستان کے طلبہ اور نوجوانوں کی سیاسی و سماجی آواز کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ آئینی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کے مسائل کو سیاسی و فکری سطح پر اجاگر کیا ہے۔ تاہم بدقسمتی سے حکومتِ وقت کی جانب سے اس جمہوری کردار کو تسلیم کرنے کے بجائے انہیں مسلسل قانونی مقدمات اور انتظامی فیصلوں کے ذریعے ذہنی اور سیاسی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں انتہائی تشویشناک عمل سمجھا جاتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک سیاسی کارکن کے خلاف اس نوعیت کے اقدامات دراصل سیاسی عمل کو محدود کرنے اور طلبہ سیاست کو دبانے کے مترادف ہیں۔ اگر ایک منتخب طلبہ قیادت کو اس طرح کے دباؤ اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا تو اس سے نوجوانوں کے اندر سیاسی عمل پر اعتماد کمزور ہوگا اور جمہوری اداروں کے بارے میں بد اعتمادی پیدا ہوگی۔

مرکزی ترجمان نے حکومتِ وقت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے اسے جمہوری معاشرے کا فطری حصہ سمجھے۔ سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات اور مسلسل دباؤ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے حالات مزید پیچیدہ ہوتے ہیں۔ بالاچ قادر کے خلاف جاری ہراسانی کے سلسلے کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور انہیں ایک سیاسی کارکن کے طور پر آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کا حق دیا جائے۔

بی ایس او کے ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان کے نوجوان سیاسی شعور رکھتے ہیں اور وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کی نمائندہ آوازوں کو کس طرح دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے اقدامات وقتی طور پر دباؤ تو پیدا کر سکتے ہیں مگر سیاسی شعور اور جمہوری مطالبات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بالاچ قادر کے خلاف جاری یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ حکومت کی سیاسی برداشت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

قوم کے جذبات سے کھیلنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے: ترجمان بی ایس او اوستہ محمداوستا محمد: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ا...
04/03/2026

قوم کے جذبات سے کھیلنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے: ترجمان بی ایس او اوستہ محمد

اوستا محمد: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) اوستا محمد کے ترجمان نے اپنے ایک سخت اخباری بیان میں کہا ہے کہ بلوچ کلچر ڈے جیسے قومی و ثقافتی دن کو ذاتی تشہیر اور مالی مفادات کے لیے استعمال کرنا افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض افراد نے سرکاری افسران، قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماؤں سے لاکھوں روپے کے فنڈز جمع کیے، مگر عملی طور پر پروگرام کو محض چند افراد کے ساتھ فوٹو سیشن تک محدود رکھا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ کلچر ڈے ہماری تاریخ، ثقافت اور قومی شناخت کی علامت ہے۔ اس اہم دن کو سنجیدہ، منظم اور عوامی انداز میں منایا جانا چاہیے تھا، مگر بدقسمتی سے اسے غیر سنجیدہ سرگرمی میں تبدیل کر دیا گیا۔ اگر واقعی خطیر رقم جمع کی گئی ہے تو اس کی مکمل تفصیلات اور اخراجات کی شفاف رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔

بی ایس او اوستا محمد نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ نمائندے کے کردار کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور الزامات درست ثابت ہونے کی صورت میں سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ صحافت ایک ذمہ دار پیشہ ہے، اسے ثقافتی اقدار کے استحصال کا ذریعہ نہیں بننے دیا جا سکتا۔

ترجمان نے خبردار کیا کہ بلوچ نوجوان اپنی ثقافت کی توہین برداشت نہیں کریں گے۔ آئندہ ایسے کسی بھی عمل کی صورت میں بھرپور احتجاج اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا

جبری گمشدگیاں بلوچ سیاسی تاریخ کا مستقل زخم ہیں۔ مرکزی ترجمان بی ایس اوکوئٹہ: (پ ر) بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے اپنے جا...
06/02/2026

جبری گمشدگیاں بلوچ سیاسی تاریخ کا مستقل زخم ہیں۔ مرکزی ترجمان بی ایس او

کوئٹہ: (پ ر) بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ کو 6 فروری 1976 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، جو بلوچستان کی تاریخ میں جبری گمشدگیوں کے ایک سیاہ باب کی علامت ہے۔ یہ امر انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ آج دہائیوں بعد بھی ان کی بازیابی ممکن نہ ہو سکی اور نہ ہی ان کے اہلِ خانہ کو کوئی جواب دیا گیا۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ شہید اسد جان مینگل بلوچستان کے سرخیل قومی راہشون سردار عطاءاللہ مینگل کے جوانسال فرزند تھے، جنہیں سیاسی انتقام اور قومی شعور کو کچلنے کی پالیسی کے تحت لاپتہ کیا گیا۔ شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ کی جبری گمشدگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان میں اختلافِ رائے اور قومی سوچ کو ختم کرنے کے لیے ریاستی جبر کو ایک منظم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 6 فروری 1976 کا دن آج بھی بلوچ قوم کے لیے ایک دردناک یاد ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جبری گمشدگیاں کوئی نیا عمل نہیں بلکہ ایک طویل اور مسلسل ظلم کا تسلسل ہیں۔ شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ جیسے افراد کی گمشدگی نے نہ صرف ان کے خاندانوں کو ناقابلِ تلافی صدمہ پہنچایا بلکہ پوری بلوچ قوم کو اجتماعی اذیت میں مبتلا کیا۔

بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ جبری گمشدگیاں آئینِ پاکستان، بین الاقوامی انسانی حقوق اور بنیادی اخلاقی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اگر ریاست واقعی قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے تو شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کے بارے میں سچ قوم کے سامنے لایا جائے۔

انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی و مقامی تنظیموں، سول سوسائٹی، وکلا اور جمہوریت پسند قوتوں سے اپیل کی کہ وہ اس تاریخی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔

آخر میں مرکزی ترجمان نے واضح کیا کہ بی ایس او تمام لاپتہ افراد کی بازیابی تک اپنی سیاسی و جدوجہد جاری رکھے گی اور تاریخ کے اس سیاہ باب کو فراموش نہیں ہونے دے گا۔

بلوچی کے عظیم شاعر مبارک قاضی کی یومِ پیدائش کی تقریب کی منسوخی بلوچستان کے اجتماعی ورثے پر حملہ ہے: بی ایس اوبلوچ اسٹوڈ...
26/12/2025

بلوچی کے عظیم شاعر مبارک قاضی کی یومِ پیدائش کی تقریب کی منسوخی بلوچستان کے اجتماعی ورثے پر حملہ ہے: بی ایس او

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 24 دسمبر کو اورماڑہ میں بلوچی زبان کے عظیم شاعر مبارک قاضی کی یومِ پیدائش کے موقع پر منعقد ہونے والی ادبی تقریب کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے روکنا اور اس کی این او سی منسوخ کرنا نہ صرف ایک شرمناک اقدام ہے بلکہ بلوچستان کے اجتماعی شعور، ثقافتی ورثے اور ادبی شناخت پر ایک منظم حملے کے مترادف ہے۔

ترجمان نے کہا کہ مبارک قاضی کا شمار بلوچی ادب کے ان عظیم شعرا میں ہوتا ہے جنہیں عوامی سطح پر بے پناہ پذیرائی حاصل ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کا نام اور کام پہچانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی منفرد اور فکر انگیز شاعری کے ذریعے بلوچ ثقافت، تاریخ اور قومی شناخت کو اجاگر کیا اور نئی نسل کو فکری شعور عطا کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ضلعی انتظامیہ گوادر کی جانب سے اورماڑہ میں 24 دسمبر کو منعقد ہونے والی اس ادبی تقریب کی این او سی منسوخ کرنا انتہائی حیران کن اور افسوسناک ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کو دانستہ طور پر محدود کیا جا رہا ہے۔

مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ ایک جانب حکومتِ بلوچستان مختلف اضلاع میں ادبی تقریبات کے انعقاد کے دعوے کرتی نظر آتی ہے، جبکہ دوسری جانب بلوچی زبان کے مقبول ترین شاعر مبارک قاضی کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب کی اجازت نہیں دی جاتی، جو حکومت کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان بلوچ شناخت، زبان اور ادبی سرگرمیوں سے خوفزدہ ہو کر ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، جو نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ بلوچستان کے ثقافتی مستقبل کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

بی ایس او نے مطالبہ کیا کہ ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں پر عائد تمام غیر اعلانیہ پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں اور بلوچ قومی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے

ماما قدیر بلوچ کا انتقال قومی سانحہ ہے : بی ایس اوبلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں ما...
20/12/2025

ماما قدیر بلوچ کا انتقال قومی سانحہ ہے : بی ایس او

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں ماما قدیر بلوچ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک قومی سانحہ قرار دیا ہے۔ ماما قدیر بلوچ محض ایک فرد نہیں تھے بلکہ وہ ایک عہد، ایک مسلسل جدوجہد اور ان ہزاروں خاندانوں کی امید تھے جن کے پیارے جبری گمشدگی کا شکار بنائے گئے۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ ماما قدیر بلوچ صبر و استقامت کی وہ مجسم تصویر تھے جنہوں نے ذاتی المیے کو اجتماعی شعور میں بدل دیا۔ وہ ان گنت مظلوم خاندانوں کے لیے خاموشوں کے وکیل بن کر سامنے آئے اور پُرامن جدوجہد کے ذریعے ریاستی جبر اور ناانصافی کو بے نقاب کرتے رہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ماما قدیر بلوچ کے بیٹے کو جب لاپتہ کیا گیا اور بعد ازاں اس کی مسخ شدہ لاش پھینکی گئی تو یہ سانحہ کسی ایک باپ تک محدود نہ رہا۔ اسی اندوہناک واقعے کے بعد ماما قدیر بلوچ نے فیصلہ کیا کہ وہ صرف اپنے بیٹے کے لیے نہیں بلکہ بلوچستان کے تمام لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک دکھ زدہ باپ پورے خطے کے مظلوموں کی علامت بن گیا۔

مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں ماما قدیر بلوچ کی جدوجہد ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے طویل احتجاجی مارچ، پُرامن مزاحمت اور غیر متزلزل عزم آنے والی نسلوں کے لیے شعور، حوصلے اور استقامت کا ذریعہ رہیں گے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ سچائی اور اخلاقی برتری کے ساتھ کی جانے والی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

بی ایس او سمجھتی ہے کہ ماما قدیر بلوچ جیسے کردار قوموں کے اجتماعی ضمیر کی نمائندگی کرتے ہیں، اور ان کی جدائی بلوچستان کے سماجی و سیاسی شعور کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کا نام لاپتہ افراد کی تحریک کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اپنے تمام کارکنان اور ذمہ داران کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ ماما قدیر بلوچ کی آخری رسومات میں شرکت کریں اور ان کے مشن کی تکمیل کے عزم کی تجدید کریں۔

بی ایس او کی 58 سالہ جدوجہد شہداء کے نظریات اور استقامت کا تسلسل ہے۔  بی ایس او شال: (پ ر) بی ایس او گزشتہ 58 سالوں سے ش...
26/11/2025

بی ایس او کی 58 سالہ جدوجہد شہداء کے نظریات اور استقامت کا تسلسل ہے۔ بی ایس او

شال: (پ ر) بی ایس او گزشتہ 58 سالوں سے شہداء کے نظریات اور ان کی قربانیوں کے تسلسل کو مشعلِ راہ بنا کر حقیقی، منظم اور فکری سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھا رہی ہے۔ یہ تنظیم نہ صرف بلوچ طلبہ کی اجتماعی آواز رہی ہے بلکہ قومی حقوق، سماجی انصاف اور فکری بیداری کی اس طویل جدوجہد میں رہنمائی کا کردار ادا کرتی آئی ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے اپنا 58 واں یومِ تاسیس شال میں پرجوش انداز سے منایا۔ تقریب میں بی ایس او کے مرکزی سینیئر وائس چیئرمین نذیر بلوچ، شال زون کے آرگنائزر کبیر بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن نیاز بلوچ، شال زون کے ڈپٹی آرگنائزر حاجی گل بلوچ، شال زون کے آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن کامران بلوچ اور شال زون کے مختلف یونٹس کے عہدیداران و کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور اسٹیج سیکرٹری کے فرض جامعہ بلوچستان کے یونٹ سیکرٹری ملک شعیب بلوچ نے سر انجام دی

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بی ایس او کا قیام محض ایک طلبہ تنظیم کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری و سیاسی تحریک کے طور پر عمل میں آیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ قبائلی، لسانی، خاندانی اور علاقائی تقسیم میں بٹے بلوچ طلبہ کو ایک قومی شناخت، ایک فکری سمت اور ایک مضبوط سیاسی پلیٹ فارم فراہم کیا جائے، جہاں وہ نہ صرف خود باشعور بنیں بلکہ اپنے معاشرے میں بیداری کا ذریعہ بھی بنیں۔

تنظیم نے اپنے قیام کے ابتدائی دنوں سے ہی بلوچستان کے ہر کونے میں عملی سیاسی سرگرمیوں، فکری تربیت، نظریاتی بحث و مباحثوں اور تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر توجہ دی۔ بی ایس او نے اپنے رسائل، ادبی و سیاسی دیوانوں، تربیتی نشستوں اور قومی سیمینارز کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کے ذہنوں کو جمود سے نکال کر انہیں جدید سیاسی شعور، تنقیدی بصیرت اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے آشنا کیا۔ انہی کوششوں کی وجہ سے بی ایس او نہ صرف ایک طلبہ تنظیم رہی بلکہ بلوچ قومی تحریک کا فکری انجن بن کر سامنے آئی۔

مقررین نے اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی کہ ریاستی مقتدرہ قوتیں ہمیشہ سے فکری و سیاسی بیداری کو اپنے لیے خطرہ تصور کرتی رہی ہیں۔ اسی لیے بی ایس او کے بڑھتے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ کبھی تقسیم کی پالیسی، کبھی منفی پروپیگنڈا، تو کبھی ریاستی آپریشنز—مگر بی ایس او کے نظریاتی کارکنوں نے اپنی فکری استقامت اور سیاسی شعور کے ساتھ ہر طرح کے جبر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ شہداء کے خون نے نہ صرف تنظیم کی بنیادوں کو مضبوط رکھا بلکہ ہر مشکل دور میں کارکنوں کے حوصلوں کو بلند کیا۔

انہوں نے کہا کہ بی ایس او کی تاریخ قربانیوں، عزم، نظریے اور مزاحمت کی تاریخ ہے۔ یہ وہ تنظیم ہے جس نے فکری طور پر پورے بلوچ سماج کو متاثر کیا، نوجوانوں کو ایک قومی مقصد کی جانب راغب کیا، اور انہیں بتایا کہ قوموں کی تقدیر صرف تعلیم، شعور، جدوجہد اور نظریاتی ثابت قدمی سے بدلتی ہے۔ آج بھی بی ایس او اسی میراث، اسی تسلسل اور انہی نظریات پر کاربند ہے، اور بلوچ قومی جدوجہد کے فکری محاذ کی قیادت کر رہی ہے۔

آخر میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بی ایس او کے کارکن منظم رہیں، فکری تربیت پر توجہ دیں، تنظیمی ڈسپلن کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں اور ہر اس قوت کا مقابلہ کریں جو بلوچ طلبہ کو تقسیم، کمزور یا غیرسیاسی بنانے کی کوشش کرے۔ کیوں کہ بی ایس او صرف ایک تنظیم نہیں، ایک سیاسی اسکول، ایک شعوری تحریک اور ایک قومی ذمہ داری ہے—جسے شہداء کے لہو نے ہمیشہ زندہ رکھا اور مستقبل بھی یہی شعور زندہ رکھے گا

بی ایس او کا 58واں یومِ تاسیس نوجوانوں کی فکری آزادی کا عہد ہے۔ مرکزی ترجمانبلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے ...
26/11/2025

بی ایس او کا 58واں یومِ تاسیس نوجوانوں کی فکری آزادی کا عہد ہے۔ مرکزی ترجمان

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے تنظیم کے 58ویں یومِ تاسیس کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ بی ایس او نصف صدی سے زائد عرصے سے بلوچ نوجوانوں کی فکری آزادی، سماجی انصاف، علمی بیداری اور جمہوری جدوجہد کی علمی و سیاسی روایت کو آگے بڑھا رہی ہے۔ علم، شعور اور اسٹوڈنٹس پاور پر یقین رکھنے والی یہ تاریخی تنظیم ہر دور میں فکری مزاحمت، قربانی اور اجتماعی وقار کا استعارہ بنی رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بی ایس او کی سیاست کا مرکز ہمیشہ تعلیم، کیمپسز کی آزادی، طلبہ یونین کی بحالی، خواتین طلبہ کی بھرپور شمولیت اور بلوچستان کے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کی جدوجہد رہی ہے۔ آج جب نوجوان مختلف سیاسی، سماجی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں تو ایسے میں بی ایس او کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور ناگزیر ہو چکا ہے۔

مزید کہا گیا کہ تنظیم اپنے تمام یونٹس، کیڈر اور ہمدردوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے مشکل حالات، دباؤ اور رکاوٹوں کے باوجود تنظیمی ڈسپلن، فکری مشن اور اصولی موقف کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ اس موقع پر سابق رہنماؤں، شہداء اور ان ساتھیوں کو بھی یاد کیا گیا جنہوں نے علمی، فکری اور تنظیمی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے گراں قدر قربانیاں دیں۔

ترجمان نے کہا کہ باشعور نوجوان کسی بھی معاشرے کی اصل قوت ہوتے ہیں اور بی ایس او اسی شعور کو مضبوط بنانے کے لیے میدانِ عمل میں موجود ہے۔ 58ویں یومِ تاسیس کے موقع پر تنظیم نوجوانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ علمی و فکری سرگرمیوں، تنظیمی ڈھانچے اور اجتماعی شعور کو مزید مضبوط کریں تاکہ بلوچستان ایک باوقار، باخبر اور بااختیار معاشرے کی طرف آگے بڑھ سکے۔

آخر میں ترجمان نے کہا کہ بی ایس او اپنی تاریخی وراثت اور اصولی سیاست کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ تاریخ یہی ثابت کرتی ہے کہ قومیں جبر اور پابندیوں سے نہیں بلکہ تعلیم، شعور اور اجتماعی بیداری سے ترقی کرتی ہیں اور بی ایس او اسی راستے کی مسافر ہے۔

بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ فی الفور بحال کیا جائے: بی ایس اوبلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان بھر، خصوص...
18/11/2025

بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ فی الفور بحال کیا جائے: بی ایس او

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان بھر، خصوصاً دارالحکومت شالکوٹ میں جاری مسلسل انٹرنیٹ بندش، ہاسٹلز میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور حکومتی نااہلی پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکیسویں صدی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے دور میں بلوچستان کے طلبہ کو انٹرنیٹ جیسی بنیادی ضرورت سے محروم رکھنا ایک افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ تعلیم کے دروازے بند کرنا ترقی نہیں بلکہ پسماندگی کو مزید گہرا کرنے کے مترادف ہے۔

ترجمان نے کہا کہ کٹھ پتلی صوبائی حکومت کی ناکامی ہر موڑ پر واضح ہے۔ ایک طرف حکومت طلبہ کو لیپ ٹاپ دینے اور آن لائن کمانے کے کورسز کروانے کے دعوے کر کے تشہیری سیاست کرتی ہے، دوسری طرف انہی طلبہ سے انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولت چھین لی جاتی ہے۔ یہ دوہرا معیار اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر غافل ہے اور صرف دکھاوے کی سیاست میں مصروف ہے۔

مزید کہا گیا کہ جامعات اور ہاسٹلز میں گیس اور بجلی کی مستقل کمی طلبہ کیلئے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ سرد ترین موسم میں گیس کا نہ ہونا اور بجلی کے طویل بریک ڈاؤن طلبہ کی صحت، تعلیم اور روزمرہ زندگی پر سنگین اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ حکومت کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ وہ طلبہ کی حالت زار پر نہ تو سنجیدہ ہے اور نہ ہی کوئی عملی قدم اٹھا رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کے طلبہ پہلے ہی معاشی، سماجی اور تعلیمی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اور موجودہ صوبائی حکومت کی ناکامی ان مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر رہی ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش، ہاسٹلز کی بدحالی اور بنیادی سہولیات کی ناپیدی حکومت کی نااہلی اور غفلت کا کھلا ثبوت ہے۔

آخر میں ترجمان نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر انٹرنیٹ بحال کرے، ہاسٹلز میں گیس و بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے اور طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کیلئے عملی اقدامات کرے۔طلبہ کو مزید نظرانداز کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

بولان میڈیکل کالج میں ہراسگی،اکیڈمک بلیک میلنگ، ناانصافیاں اور شفافیت کے فقدان پر شدید تشویش ہے۔ بی ایس او شال زون بلوچ ...
16/11/2025

بولان میڈیکل کالج میں ہراسگی،اکیڈمک بلیک میلنگ، ناانصافیاں
اور شفافیت کے فقدان پر شدید تشویش ہے۔ بی ایس او شال زون

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کے ترجمان نے اپنے جاری
کردہ بیان میں کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کے خلاف تھانیداری کلچر، طاقت کے استعمال اور طلباء تنظیموں کے خلاف منفی سرکاری پروپیگنڈے کے بعد اب مبینہ طور پر اکیڈمک بلیک میلنگ، پاس اور فیل کرنے کے اختیارات کے ناجائز استعمال اور ہراسگی جیسے سنگین واقعات کی خبریں سامنے آرہی ہیں جو نہایت تشویشناک ہیں۔ گزشتہ سال بھی بولان میڈیکل کالج میں طلباء و طالبات کو ہاسٹلز سے بیدخل کرکے سڑکوں پر بے یار و مددگار چھوڑا گیا اور ان کے ساتھ دشمن جیسا رویہ اختیار کیا گیا۔ اُس وقت بھی ہم نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ طلباء تنظیموں کو بزور طاقت خاموش کرانے کی پالیسی تعلیمی اداروں میں منفی ماحول، سفارش کلچر، بلیک میلنگ، ہراسگی اور مالی کرپشن جیسے رجحانات کو مضبوط کرے گی، مگر بدقسمتی سے اس
طرف توجہ نہیں دی گئی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اب انفرادی نوعیت کے واقعات سامنے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نظام میں شفافیت کا فقدان ہے۔ ہم طلباء اور اساتذہ کے مقدس رشتے کی قدر کرتے ہیں تاہم امتحانات اور دیگر اکیڈمک معاملات میں احتساب کا یکساں عمل ہونا ضروری ہے۔ اگر کسی مضمون کا رزلٹ خراب آتا ہے تو اس کی ذمہ داری صرف طلباء پر نہیں بلکہ اساتذہ اور کالج انتظامیہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اسی طرح بلیک میلنگ جیسے تاثر کو ختم کرنے کے لئے لازم ہے کہ کیمپس کے تمام اہم معاملات بالخصوص امتحانی نظام میں طلباء و طالبات کو نمائندگی دی جائے تاکہ کوئی فرد یا ادارہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال نہ کر سکے۔

انہوں نے کہا ہے ہر کلاس کے سینئر طلباء و طالبات کو تحریری امتحانات کی مارکنگ اور زبانی امتحانات کے دوران بطور مبصر شامل کیا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور کسی طالب علم کو ناانصافی کا نشانہ نہ بنایا جاسکے۔ مزید برآں کوئی بھی عام طالب علم کسی ناجائز اقدام کے خلاف اکیلے کھڑا نہیں ہو سکتا، اس کے لئے اجتماعی آواز اور طلباء تنظیموں کا کردار ناگزیر ہے۔ تعلیمی اداروں ک چاہئے کہ کیمپس اور اکیڈمک معاملات میں طلباء تنظیموں کے ساتھ رابطے، مکالمے اور مشاورت کی پالیسی اپنائیں تاکہ بلوچستان یونیورسٹی کے پچھلے افسوسناک واقعات کی طرح بولان میڈیکل کالج میں کوئی ناخوشگوار صورتحال جنم نہ لے۔

Baloch Students Organization (University of Balochistan Unit) Shaal Zone, organized its weekly study circle under the le...
29/10/2025

Baloch Students Organization (University of Balochistan Unit) Shaal Zone, organized its weekly study circle under the leadership of Unit Secretary Shoaib Baloch.

The session focused on the topic "The Role of BSO in Student Politics." It began with a two-minute silence in remembrance of the martyrs of Balochistan

Atif Rodini Baloch, a member of the BSO Central Committee, delivered a detailed lecture speech covering student politics, the organization history, BSO contributions, and its ongoing political struggle.

The study circle concluded with an engaging question-and-answer session.

بلوچستان کے معروف بینجو نواز استاد رفیق کے انتقال قومی نقصان ہے۔ بی ایس او بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے ا...
27/10/2025

بلوچستان کے معروف بینجو نواز استاد رفیق کے انتقال قومی نقصان ہے۔ بی ایس او

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہاکہ بلوچستان کے معروف بینجو نواز استاد رفیق کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے قومی نقصان قرار دیتی ہے۔ استاد رفیق نہ صرف براہوی و بلوچی موسیقی کے ممتاز فنکار تھے بلکہ وہ ان چند شخصیات میں سے تھے جنہوں نے مقامی موسیقی کے آلات، بالخصوص بینجو کو عالمی سطح پر شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

بلوچستان کی سرزمین صدیوں سے تہذیب و ثقافت کی امین رہی ہے، جہاں فنکار اپنے فن کے ذریعے محبت، امن اور مزاحمت کا پیغام دیتے آئے ہیں۔ استاد رفیق جیسے فنکار اس خطے کے اصل سفیر تھے جنہوں نے اپنی دھنوں کے ذریعے بلوچ معاشرے کے جذبات، دکھ اور امیدوں کو آواز دی۔ ان کا فن کسی نسل، قبیلے یا زبان تک محدود نہیں تھا بلکہ پورے خطے کی مشترکہ ثقافتی روح کی نمائندگی کرتا تھا۔

بی ایس او سمجھتی ہے کہ فنکار معاشرے کے ضمیر ہوتے ہیں، جو اپنے فن کے ذریعے قوموں کی شناخت اور تاریخ کو زندہ رکھتے ہیں۔ استاد رفیق کی جدائی بلوچستان کے ثقافتی منظرنامے کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کا فن آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔

بی ایس او ثقافتی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ استاد رفیق جیسے فنکاروں کے ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں، تاکہ یہ قیمتی ثقافتی سرمائے مٹنے نہ پائیں۔

بی ایس او استاد رفیق کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور تمام موسیقی سے وابستہ افراد سے اظہارِ ہمدردی کرتی ہے اور ان کے فن کو بلوچستان کی ثقافتی تاریخ کا لازوال حصہ قرار دیتی ہے۔

Baloch Students Organization (Degree College Unit) Shaal Zone, organized a weekly study circle that sparked meaningful c...
21/10/2025

Baloch Students Organization (Degree College Unit) Shaal Zone, organized a weekly study circle that sparked meaningful conversation. The Study Circle's Chief Guest, BSO Central Secretary General Samand Baloch, led an engaging discussion on the topic

"Why Student Politics is Crucial"

His insights shed light on the importance of students taking an active role in shaping their society.

The lecture was followed by a dynamic questions and answers session, where students eagerly exchanged ideas and perspectives. Before the main discussion, Shaal Zone Organizer Kabeer Baloch delivered an inspiring opening address, setting the tone for the event.

Zonal Organizing Committee Member Kamran Baloch skillfully moderated the session, keeping the energy high and the conversation flowing smoothly.

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Baloch Students Organization posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Baloch Students Organization:

Share