07/07/2026
عدالتی بائیکاٹ: روک تھام یا سہولت کاری؟
عدالت ایک ایسی پناہ گاہ ہے جہاں معاشرے کا وہ فرد دستک دیتا ہے جو ہر دروازے سے مایوس ہو چکا ہوتا ہے۔ جب ظلم اپنی حدیں پار کر جائے، طاقتور قانون کو روندنے لگے اور کمزور کے پاس کوئی سہارا نہ رہے، تو اس کی آخری امید عدالت ہی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گلی، محلے اور بازار میں معمولی جھگڑے کے دوران بھی کمزور فریق اعتماد سے کہتا ہے: “عدالت میں ملیں گے۔” یہ جملہ دراصل انصاف پر عوام کے یقین کا اظہار ہے۔
مگر افسوس کہ آج ایک طرف ریاست کی رٹ کمزور دکھائی دیتی ہے، قانون شکنی عام ہے اور ہر سمت بے یقینی کی فضا قائم ہے، تو دوسری طرف آئے روز عدالتی بائیکاٹ اور وکلاء کی ہڑتالیں عوام کی اسی آخری امید کو بھی متزلزل کر رہی ہیں۔ جب عدالتوں کے دروازے عملاً بند ہو جائیں تو انصاف صرف مؤخر نہیں ہوتا بلکہ بہت سے معاملات میں انصاف سے محرومی جنم لیتی ہے۔
عدالتی بائیکاٹ محض ایک پیشہ ورانہ احتجاج نہیں رہتا، بلکہ اس کا براہِ راست اثر اس غریب سائل پر پڑتا ہے جو اپنے مقدمے کی اگلی تاریخ کے لیے قرض لے کر عدالت پہنچتا ہے۔ اس کے لیے ہر ملتوی سماعت ایک نئی اذیت، اضافی اخراجات اور انصاف سے مزید دوری کا سبب بنتی ہے۔ یوں انصاف کی رفتار سست ہونے سے معاشرتی بے چینی بڑھتی ہے اور قانون پر عوام کا اعتماد کمزور پڑتا ہے، جس سے انتشار کو بالواسطہ سہولت ملتی ہے۔
احتجاج ہر شہری اور ہر طبقے کا آئینی و قانونی حق ہے، مگر ایسا احتجاج جو انصاف کی فراہمی کو معطل کر دے، اس کے طریقۂ کار پر ضرور غور ہونا چاہیے۔ وکالت ایک مقدس پیشہ ہے اور وکیل صرف اپنے مؤکل کا نمائندہ نہیں بلکہ نظامِ انصاف کا بھی اہم ستون ہے۔ اس ستون کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالتوں کے چراغ بجھنے نہ دے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ عدالتی بائیکاٹ کی روایت پر سنجیدگی سے نظرثانی کی جائے۔ اختلاف اور احتجاج کے ایسے متبادل طریقے اختیار کیے جائیں جن سے نہ وکلاء کی آواز دبے اور نہ ہی انصاف کے طلبگار عوام اپنے بنیادی حق سے محروم ہوں۔ کیونکہ جس دن عدالت عام آدمی کی آخری امید نہ رہے، اس دن معاشرہ قانون سے زیادہ طاقت کے سہارے چلنے لگتا ہے، اور یہی کسی بھی ریاست کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے