01/01/2026
آپ کی رائے ہماری حوصلہ افزائی ہے۔"
فلمیں دیکھنا تو ہم سب کا پسندیدہ مشغلہ ہے، لیکن آج میں آپ کو چند فلموں اورفلمی اداکاروں کے حوالے سے وہ راز بتانے جا رہا ہوں جو آپ نے شاید ہی کبھی سنے ہوں یہ حقائق اتنے حیران کن اور دلچسپ ہیں کہ فلموں سے محبت کرنے والوں کے لیے یہ کسی ٹریٹ سے کم نہیں۔
تیار ہو جائیں کیونکہ اب پردہ اٹھنے والا ہے ان فلمی رازوں سے، جو عام ناظرین کی سماعت اور نظروں سے ہمیشہ چھپے رہے۔
بالی وڈ دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری ہے، فلموں کی تعداد کے لحاظ سے ہالی وڈ سے بھی بڑی۔ جی ہاں"بالی وڈ ہر سال 1000 سے زائد فلمیں بناتا ہے، جبکہ ہالی وڈ کی سالانہ فلموں کی تعداد تقریباً 600 کے قریب ہوتی ہے۔
بالی وڈ کی پہلی بولتی فلم عالم آرا جو14مارچ1931 میں ریلیز ہوئی۔اس فلم کی مقبولیت اتنی زیادہ تھی کہ سینما گھروں کے باہر پولیس کو تعینات کرنا پڑا۔
فلم ''مغلِ اعظم'' کا ایک سین 9 سال میں مکمل ہوا۔فلم ''مغلِ اعظم'' (1960) کے رنگین گانے ''پیار کیا تو ڈرنا کیا'' کی شوٹنگ کے لیے اصل شیش محل بنایا گیا، جس میں 1000 سے زیادہ آئینے استعمال ہوئے۔اس سین پر 1.5 لاکھ روپے خرچ ہوئے، جو اُس وقت ایک مکمل فلم کی قیمت ہوتی تھی۔
راج کپور کی فلمیں روس میں بھارت سے بھی زیادہ مقبول تھیں۔راج کپور کی فلم ''آوارہ'' (1951) اور ''Shree 420'' سوویت یونین (روس) میں اتنی مقبول ہوئیں کہ وہاں کے لوگ ہندی گانے زبانی گانے لگے،یہاں تک کہ راج کپور کو روسی عوام نے ''بھارت کا چارلی چیپلن'' کہنا شروع کر دیا۔
رام گوپال ورما کی فلم ''بھوت'' کی شوٹنگ کے دوران سیٹ پر عجیب واقعات ہونے لگے تھے۔فلم کے عملے کے مطابق، سیٹ پر اکثر روشنی خودبخود بند ہو جاتی تھی، سامان گرنے لگتا تھا اور کچھ افراد نے ''عجیب سائے'' بھی دیکھے۔بعد میں پتا چلا کہ وہ عمارت واقعی پرانی اور بھوتیاحویلی کے نام سے مشہور تھی۔
امیتابھ بچن کو ان کے کیریئر کے آغاز میں آل انڈیا ریڈیو نے ان کی ''آواز ٹھیک نہ ہونے'' کی وجہ سے ریجیکٹ کر دیا تھا۔آج انہی کی گونج دار آواز ٹی وی شوز (جیسے KBC) اور فلموں کی جان بن چکی ہے۔
امیتابھ بچن کی فلم ''قلی'' کے حادثے کے بعد مکمل شوٹنگ روک دی گئی تھی۔ایک ایکشن سین کے دوران امیتابھ بچن کو اتنی شدید چوٹ لگی کہ وہ مہینوں کوما میں رہے پورا ملک ان کی صحت کے لیے دعا کر رہا تھا یہاں تک کہ نیوز چینلز پر صرف ''بچن صاحب کی طبیعت کی خبریں '' آتی تھیں۔
سنجے دت کو فلم ''Vaastav'' کے بعد اصل گینگسٹر سمجھا جانے لگا تھا۔ان کے کردار ''رگھو'' نے اتنا حقیقی اثر چھوڑا کہ ممبئی کے کچھ اصل گینگسٹرز نے انہیں فون کر کے تعریف کی اور پولیس نے بھی فلم کو کافی سنجیدگی سے لیا۔
عامر خان کو ''مسٹر پرفیکشنسٹ'' کہا جاتا ہے۔عامر خان اپنی فلموں کے لیے سالوں تک گُم ہو جاتے ہیں۔وہ ہر فلم پر اس قدر توجہ دیتے ہیں کہ فلم مکمل ہونے تک کوئی دوسرا پروجیکٹ قبول نہیں کرتے۔مثال کے طور پر ''دنگل'' کے لیے انہوں نے اپنا وزن 95 کلو تک بڑھایا، پھر چند ماہ میں 6 پیک ایبس بنائے۔
شاہ رخ خان کی یادداشت کمزور ہے۔شاہ رخ خان کھلے عام مانتے ہیں کہ وہ اکثر لوگوں کے نام بھول جاتے ہیں، یہاں تک کہ اپنی کچھ فلموں کے نام بھی،اس کے باوجود ان کی یادگار پرفارمنس اور مکالمے لوگ آج بھی یاد رکھتے ہیں۔فلم"دل والے دلہنیا لے جائیں گے'' ممبئی کے ماراٹھامندر سینما میں 20 سال سے زیادہ روزانہ لگاتار چلتی رہی،یہ دنیا کی ان چند فلموں میں شامل ہے جسے اتنے لمبے عرصے تک لگاتار سینما میں دکھایا گیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ فلم دل والے دلہنیا لے جائیں گے آج بھی سنیما میں چل رہی ہے۔ممبئی کے مارتھا مندر تھیٹر میں دل والے دلہنیا لے جائیں گے (20 اکتوبر 1995) سے مسلسل دکھائی جارہی ہے، اور مارچ 2025 تک ریکارڈ 29واں سال پہنچ چکا۔فلم ''کبھی خوشی کبھی غم'' میں شاہ رخ خان ایک سین میں واقعی رو دیئے، اس سین میں جب شاہ رخ اپنی ماں (جیا بچن) سے سالوں بعد ملتے ہیں، وہ آنسو ایکٹنگ نہیں تھے، بلکہ اصل جذبات تھے۔کرن جوہر نے وہ سین صرف ایک ہی ٹیک میں شوٹ کیا۔
سلمان خان'' کے پاس کبھی پاسپورٹ نہیں ہوتا تھا۔ایک وقت ایسا بھی آیا جب سلمان خان کے خلاف اتنے مقدمات چل رہے تھے (کالا ہرن کیس، ہٹ اینڈ رن کیس وغیرہ) کہ انہیں ملک سے باہر جانے کے لیے عدالت سے ہر بار خصوصی اجازت لینا پڑتی تھی۔
فلم ''ناگن'' میں اصل سانپ آیا تھا؟1976 کی ہارر فلم ''ناگن'' کی شوٹنگ کے دوران واقعی ایک بار اصل سانپ سیٹ پر آ گیا تھا، جس کی وجہ سے عملے کو فوری طور پر شوٹنگ روکنی پڑی۔
"کوئی مل گیا'' کی کہانی سائنس فکشن پر مبنی ہونے کے باوجود اصلی تحقیق پر تھی۔ہدایت کار راکیش روشن نے ناسا سائنسدانوں سے مشورہ لیا تھا کہ اگر ایک معذور بچہ ایکسٹرٹررسٹریل (جادو) سے ملے تو اس کے دماغی خلیے کیسے بدل سکتے ہیں۔فلم کا کردار جادو بھارتی سائنس فکشن کا پہلا کامیاب ایلین بن گیا۔ ہریتک کے دائیں ہاتھ میں دو انگوٹھے ہیں، جو عام طور پر ایک ''خاموش معذوری'' سمجھی جاتی ہے مگر مداحوں نے اسے ''لکی چارم'' مان لیا یہی انفرادیت ان کے کردار کو منفرد بناتی ہے، خاص طور پر فلم کوئی مل گیا میں۔ہریتک اپنے دائیں ہاتھ کے دوہری ناخن والے انگوٹھے کو کبھی نہیں چھپاتے،یہاں تک کہ" کوئی مل گیا "میں ایلین‘جادو’کو بھی یہی فیچر دیا گیا تاکہ کرداروں میں قربت محسوس ہو۔
فلم "برفی" میں شوٹنگ کے لیے پریانکا چوپڑا کے پاس دماغی خرابی کا سرٹیفکیٹ تھا۔ (فلم برفی2012) میں جھلمل (لڑکی) کا کردار ادا کرنے سے پہلے، پریانکا چوپڑا نے نیورولوجسٹ سے مشورہ لیا اور شوٹنگ کے دوران دماغی بیماری کی تشخیص والے افراد کی نقل و حرکات کا مشاہدہ کیا۔رنبیر کپور نے فلم ''برفی'' کے لیے گونگے بچوں کے اسکول میں 6 مہینے گزارے۔ان کے کردار ''برفی'' کو حقیقت کے قریب لانے کے لیے رنبیر کپورنے اصل گونگے اور بہرے بچوں کے ساتھ وقت گزارا اور ان کی حرکات سیکھیں کیوں کہ بغیر ڈائیلاگ کے اتنی زبردست ایکٹنگ ایک بڑا چیلنج تھا۔
مدھوبالا کی محبت کہانی ٹریجڈی سے کم نہیں تھی۔اداکارہ مدھوبالا اور دلیپ کمار کی محبت کی کہانی مشہور تھی، لیکن مدھوبالا کے والد نے دلیپ کمار پر مقدمہ درج کروا دیا تھا۔عدالت میں مدھوبالا نے دلیپ کمار کو دیکھا اور بس رو دی، مگر ان کی شادی نہ ہو سکی۔
"باجی راو مستانی'' کی لڑائیوں میں اصل تلواریں اور 20 کلو کے لباس استعمال ہوئے۔دپیکا پڈوکون، رنویر سنگھ اور پریانکا چوپڑا کے لباس 15 سے 20 کلو وزنی تھے، اور رنویر نے کئی سین میں اصل لوہے کی تلوار استعمال کی۔ صرف فلم ناظرین کو حقیقت کا تاثر دینے کے لیئے۔
1962میں لتا منگیشکر کے لیے پورے بھارت میں ریڈیو بند ہو گیا تھا۔ لتا منگیشکر شدید بیمار ہو گئیں اور یہ افواہ پھیل گئی کہ وہ اب زندہ نہیں رہیں۔اس پر آل انڈیا ریڈیو نے ان کی احترام میں کچھ دنوں تک ان کے گانے بند کر دیے۔
فلم ''لگان'' آسکر کے دروازے تک پہنچی، مگر صرف ایک ووٹ سے پیچھے رہ گئی۔2002 میں فلم لگان کوبیسٹ فارن لینگویج فلم کے لیے نامزد کیا گیا۔جیتنے والی فلم " نو مین لینڈ" تھی اور بتایا جاتا ہے کہ صرف 1 ووٹ سے" لگان" ہار گئی۔
گووندا نے ایک وقت میں چودہ فلموں پر ایک ساتھ کام کیا تھا۔ نوے کی دہائی میں گووندا اتنے مقبول تھے کہ ان کی شوٹنگ شیڈیول اتنی بھرپور تھی کہ وہ ایک دن میں تین مختلف فلموں کے لیے الگ الگ کپڑے، میک اپ، اور کردار بدلتے تھے۔گووندا نے 1987 کے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ ایک ہی وقت میں 70 فلموں کے کنٹریکٹ پر دستخط کرچکے تھے؛ بعض دنوں میں وہ پانچ مختلف سیٹوں پر شوٹ کرتے تھے۔
ریکھا نے فلم ''سلسلہ'' میں دلیپ کمار کے ساتھ نہیں، بلکہ اپنی اصل زندگی کی کہانی کے ساتھ کام کیا۔ فلم ''سلسلہ'' میں امیتابھ بچن، جیا بچن اور ریکھا تینوں نے کام کیا،جبکہ حقیقت میں امیتابھ اور ریکھا کے تعلقات کے چرچے تھے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ فلم دراصل ان کی اصلی زندگی پر مبنی تھی۔
دیپیکا پڈوکون کی فلم ''پدماوت'' کے ایک سین میں آئینے کی قیمت 20 کروڑروپے تھی۔گانے ''گھومر'' کی شوٹنگ کے لیے جو آئینہ دار محل بنایا گیا، وہ اتنا قیمتی تھا کہ سیکیورٹی ٹیم الگ سے مقرر کی گئی تھی۔صرف ایک آئینہ لاکھوں کا تھا اور سب ہاتھ سے بنے تھے۔
راہول دیو برمن نے ایک گانا“چمچوں ”سے بنایا!گانا تھا ''Mehbooba Mehbooba'' اس کے ابتدائی بیٹس بنانے کے لیے انہوں نے چمچ، پانی سے بھرا گلاس، اور بوتلیں استعمال کیں۔
شاہد کپور نے فلم''حیدر'' کے لیے اپنا پورا سر منڈوا کر اصل فوجی کی طرح زندگی گزاری۔فلم ''حیدر'' (2014) میں انہوں نے واقعی کئی دن کشمیر میں ایک خفیہ مقام پر عام لوگوں کی طرح رہ کر تربیت لی۔فلم کے ڈائریکٹر وشال بھاردواج نے کہا: ''شاہد نے ایکٹنگ نہیں کی۔
فلم "تُمبّاڈ"کی بارش نے یونٹ کوکئی برس بھگوئے رکھا۔ہاررفلم تُمبّاڈ صرف مون سُون کے اصلی پانی میں شوٹ ہوئی،ٹیم نے چار مسلسل برساتیں اور06 سال کا پوسٹ پروڈکشن جھیلا وہ اس لیئے!!! تاکہ ہر فریم میں مٹی، پانی اور اندھیرا سچ لگے۔
فلم اوم شانتی اوم کے ایک گانے میں 31 سپر اسٹارزنے شمولیت کی اور سب نے معاوضہ نہیں لیا۔فلم اوم شانتی اوم کے گیت“دیوانگی دیوانگی”میں شاہ رخ کے ساتھ 31 بڑے ستارے کیمیو میں جھومے، فرح خان نے بتایا کہ سبھی نے دوستی میں فری شوٹ کیا، بعد میں شاہ رخ خان نے تحائف بھجوائے۔
بالی وُڈ فلم کالکی2024 پر 600کروڑ روپے خرچ ہوئے۔یہ فلم صرف Telugu زبان میں نہیں، بلکہ ہندی سمیت چار زبانوں (تیلگو، ہندی، تمل اور ملیالم) میں ریلیز ہوئی اور بھارت کی سب سے مہنگی فلم ثابت ہوئی۔اس میں پربھاس، دیپیکا پڈوکون اور امیتابھ بچن جیسے بڑے ستارے شامل ہیں۔
فلم "شعلے" کے ایک مشہور کردار ''ٹھاکر صاحب'' (سنجیو کمار) کے ہاتھ فلم میں کٹ چکے ہوتے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ فلم کے اصل اسکرپٹ میں ''ٹھاکر'' انتقام کے وقت گبّر سنگھ کو اپنے ہاتھوں سے مارتا ہے۔لیکن بھارتی سنسر بورڈ نے اسے ''بہت زیادہ پرتشدد'' قرار دیا اور فلم کا اختتام بدلنے کا حکم دیا۔ یوں آخر میں، گبّر کو پولیس گرفتار کر لیتی ہے اور ٹھاکر کو انتقام لینے سے روک دیا جاتا ہے۔فلم شعلے کی شوٹنگ پانچ سال میں مکمل ہوئی۔فلم کا ہر سین پانچ پانچ کیمروں سے بیک وقت شوٹ کیا جاتا تھا، جو اُس دور کے لیے بہت نایاب بات تھی۔
سپون، بیئر بوتل اور“مہبوبا مہبوبا”۔آرڈی برمن نے "شعلے" کے اس آئٹم سونگ کی افتتاحی بیٹس بنانے کیلئے آدھی بھری بیئر بوتلوں میں پھونک مار کر اور چمچ سے گلاس بجا کر ریتم ریکارڈ کیا،ڈرم سیٹ کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔
سب سے زیادہ فلمیں کرنے والے اداکار(ایشو پریم جی،اشوک کمار)جگدیپ جیسے پرانے اداکاروں نے سینکڑوں فلمیں کیں، بعض کے کریڈٹ میں 300 سے زائد فلمیں ہیں۔
فلم" راک اسٹار" اُلٹی ترتیب سے فلمائی گئی تھی۔رنبیر کپور کے بالوں کی لمبائی میں تدریجی تبدیلی کے تسلسل کوبرقرار رکھنے کیلئے یونٹ نے کلائمیکس پہلے اور شروعاتی مناظر آخر میں شوٹ کیے،پوری فلم عملی طور پر ریورس بنی۔
"یہ تحریر دو دن کی محبت بھری محنت کا نتیجہ ہے۔
اگر پسند آئے تو لائک اور ایک خوبصورت سا کمنٹ ضرور کیجیے گا،