10/09/2026
آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں 27 ستمبر لانگ مارچ کے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی ہے جہاں جسٹس
ڈوگر اور ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے درمیان دلچسپ ریمارکس کا تبادلہ سنتے جاؤ اور ہستے جاؤ ۔۔۔۔۔
تم وزیراعلٰی کو روک نہیں سکتے ۔۔جسٹس ڈوگر
تم ائین پر عمل نہیں کرا سکتے ۔
ایڈووکیٹ جنرل Kpk ۔۔۔۔
میں دون دن کا وقت نہیں دے سکتا کل ہی آکر جواب دو جسٹس ڈوگر
مجھے دو دن چاہیے باقی تمہاری مجبوری سمجھ سکتا ہو تم کو بہت جلدی ہے ایڈوکیٹ جنرل پختون خواہ ،
مجھے آئین قانون پر عمل کرنا ہے جسٹس ڈوگر
آئین قانون اور تمہارے آرڈر پر دو سال سے ایک سپرنٹنڈنٹ عمل نہیں کر رہا وہ تمہاری نظر میں نہیں آتا وہاں آئین قانون بھول گئے ہو ایڈوکیٹ جنرل کے پی
مجھے قانون کا پتہ ہے میں بھولا نہیں ہو جسٹس ڈوگر۔۔۔
یہ لانگ مارچ اسلام آباد پر حملہ نہیں عدالتوں کے حق میں ہے آپ کے احکامات پر حکومتی ادارے اور سپرٹنڈنٹ اڈیالہ عملدرآمد نہیں کرتا ایڈووکیٹ جنرل کے پی
اسلام اباد کے شہریوں کو تحفظ دیں گے جسٹس ڈوگر
پہلے اپنے فیصلوں کو تحفظ تو دو ۔۔۔ایڈوکیٹ جنرل کے پی۔
کل تک کا ٹائم دیتا ہو آپ کو پتہ نہیں تھا ٹی وی پر دیکھتے جسٹس ڈوگر
میرے پاس فضول ٹائم نہیں کہ میں ٹی وی دیکھوں ایڈوکیٹ جنرل کے پی
ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختون خواہ نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جج جسٹس ڈوگر کو اج صحیح سے انکی اوقات یاد دلانے آئین قانون سکھانے پر اج اس جوان کو پورا قوم خراج تحسین پیش کرتے ہیں باقی اسلام آباد کے ہا ئی کورٹ سے انصاف کا کوئی امید نہیں