13/10/2025
مولاناعبدالرحمن مدنی صاحب نے لکھا اور کمال لکھا
افغانستان کی دو بڑی کمزوریاں ہیں
پچھلے 40 سال سے
ان کے پاس مسلسل جنگ کی وجہ سے اسپتال نہیں ہیں
اور ان کے پاس اچھے بڑے مدارس نہیں ہیں
گذشتہ چالیس سال سے وہ ان دو مجبوریوں کی بناء پر مسلسل پاکستان آتے جاتے اور رہتے رہے
باقی جو مہاجرین تھے وہ الگ ہیں
اس وقت بھی ان مسائل سے افغانی نکل نہیں پائے
امریکی ، ایرانی اور ہندوستانی پروپیگنڈے سے برین واشنگ کا شکار نئی افغان نسل کو سنبھالنے زیر بار احسان کرنے اور موجودہ 10 سالہ نسل کو اگلے 10 سال میں ہمنوا بنانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ وہاں 10 بڑے شہروں میں 10 بڑے اسپتال اور 10 بڑے مدارس بنادئیے جائیں
یہاں کے بڑے مدارس وہاں خوشی سے اپنی برانچز کھول لیں گے
اور انڈس اسپتال ماڈل پر وہاں مختلف اچھی شہرت کی حامل NGOs
اسپتال بھی بنالیں گی
تمام اساتذہ و ڈاکٹرز پاکستانی بھیجیں جائیں
علاج اور تعلیم میں خدمت کریں
زیر بار احسان کریں
شاگرد بنائیں
ہمنوا بنائیں
دینی علوم کے طلبہ سے زیادہ وفادار شاگرد کائنات میں کوئی نہیں ہوتا
دھیرے دھیرے افغانوں کو ٹرینڈ کرکے دونون شعبوں میں ان کی تعداد بڑھائی جائے
طویل المدنی منصوبہ ہے
اور اپنا بیانیہ پھیلانے اور ہمنوا بنانے کے لئے ایسے ہی منصوبوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے
تعلیم اور صحت ہی جدید دنیا میں
ہمنوا بنانے کے سب سے بڑے شعبے ہیں
مغربی 🌎 دنیا نے ہمیشہ یہی طریقہ اپنایا ہے
جتنے پیسے جنگ پر برباد کرنے اور جتنی جانیں دونون جانب سے جنگ میں ضائع کرنی ہیں اس سے کہیں سستا اور بہترین کام یہ ہے اور یہ ہمیں کرلینا چاہئے
ایران اور انڈیا ظاہر اور چھپے لیکن پکے ٹھکے دشمن ہیں
طریقے افغانستان اور افغانی سنبھالنے پڑیں گے
کمزور پاکستان ہو یا کمزور افغانستان
یہ ایران اور انڈیا کے مفاد میں تو ہے
ان دوہمسایہ اسلامی ممالک کے مفاد میں ہرگز نہیں ہے
اپنی چالیس سالہ محنت ،قربانی میزبانی اور کو بچانے کے لئے حکمت و مصلحت سے ہمیں آگے بڑھنا ہوگا
دو مسلمان ملکوں کے درمیان جلتی ہر تیل چھڑکنا اغیار کا اور لگی کو بجھانا قرآن کا حکم ہے
وہ افغانی ہوں یا تورانی
ہم پاکستانی سب سے پہلے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں
ابو عکامس عبد الرحمن مدنی
12/10/25
اتوار الجنگ والجدل