WhiteCoatology

WhiteCoatology 𝙒elcome To The Official FB Page Of WhiteCoatology...We Empower Students To Achieve Their Academic Goals With Expert Guidance & Free MDCAT/NCAT Preparation.

Follow Now To Unlock The Door To Success And Take Your Learning To The Next Level...💯🩺

20 Gas Law Formulas…🚨🚨
07/06/2026

20 Gas Law Formulas…🚨🚨

Physics Best Formula Sheet…🚨🚨
07/06/2026

Physics Best Formula Sheet…🚨🚨

ENGEECON SUNDAY TESTS SCHEDULE...🚨
06/06/2026

ENGEECON SUNDAY TESTS SCHEDULE...🚨

🚨 QCA FRESH MDCAT TEST SCHEDULE 2026 🚨پہلا ٹیسٹ 14 جون 2026 سے شروع ہو رہا ہے۔✅ مفصل رزلٹ اور کارکردگی کا جائزہ۔✅ کمزوری...
06/06/2026

🚨 QCA FRESH MDCAT TEST SCHEDULE 2026 🚨

پہلا ٹیسٹ 14 جون 2026 سے شروع ہو رہا ہے۔

✅ مفصل رزلٹ اور کارکردگی کا جائزہ۔
✅ کمزوریوں کی نشاندہی اور بہتری کا موقع۔
✅ میرٹ کی دوڑ میں آگے بڑھنے کا بہترین ذریعہ۔

پہلا ٹیسٹ: 14 جون 2026۔

آج کی محنت، کل کا میڈیکل کالج۔

Quality Coaching Academy (QCA)
Your Path to MDCAT Success.

ڈاکٹر ماہ نور ناصر جس پر تیزاب پھینکا گیا تھا 13 فیصد وجود جلا ہے ایک آنکھ متاثر ہے۔ہم تمام طبی عملے کے خلاف تشدد کی شدی...
06/06/2026

ڈاکٹر ماہ نور ناصر جس پر تیزاب پھینکا گیا تھا 13 فیصد وجود جلا ہے ایک آنکھ متاثر ہے۔

ہم تمام طبی عملے کے خلاف تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

نرسزز، ڈاکٹرز، پیرا میڈکس، سیکیورٹی گارڈز، وارڈ بوائز اور دیگر ہیلتھ ورکرز دن رات عوام کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ ان پر حملے، بدتمیزی یا تشدد نہ صرف انسانیت کے خلاف ہے بلکہ صحت کے نظام کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

ہسپتال علاج اور امید کی جگہ ہیں، تشدد کی نہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ طبی عملے کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

Respect Healthcare Workers — Save Lives, Save Healthcare.





پاکستان میں نرسزز کی تنخواہیں بہت کم ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں نرسزز مالی مشکلات کا شکار ہیں۔آج کی اس مہنگائی میں ایک نرس...
06/06/2026

پاکستان میں نرسزز کی تنخواہیں بہت کم ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں نرسزز مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

آج کی اس مہنگائی میں ایک نرس، جو 5 سال سخت محنت کرکے ڈگری حاصل کرتیں ہیں ، اسے اتنی کم تنخواہ دی جاتی ہے کہ وہ اپنے گھر کے اخراجات بھی مشکل سے پورے کر پاتے ہیں ۔

نرسزز دن رات مریضوں کی خدمت کرتیں ہیں، اپنی نیند، سکون اور صحت قربان کرتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے انہیں ان کی محنت کے مطابق حق نہیں دیا جاتا۔

وقت آ گیا ہے کہ نرسزز کو ان کا جائز مقام، بہتر تنخواہ اور عزت دی جائے۔

ایک مضبوط ہیلتھ سسٹم کے لیے نرسزز کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔

اب ہم سب کو ایک ہونا پڑے گا، اپنی آواز بلند کرنا ہوگی۔

نرسزز کسی سے کم نہیں ہیں، نرسزز ہی ہیلتھ سسٹم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

اگر نرسزز مضبوط ہوگئے، تو پورا ہیلتھ سسٹم مضبوط ہوگا۔





🚨 𝐂𝐡𝐢𝐞𝐟 𝐌𝐢𝐧𝐢𝐬𝐭𝐞𝐫 𝐈𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐬𝐡𝐢𝐩 𝐏𝐫𝐨𝐠𝐫𝐚𝐦 – 𝐑𝐞𝐬𝐜𝐮𝐞 𝟏𝟏𝟐𝟐 🚨An opportunity for young professionals to serve humanity!1) 1400 Resc...
06/06/2026

🚨 𝐂𝐡𝐢𝐞𝐟 𝐌𝐢𝐧𝐢𝐬𝐭𝐞𝐫 𝐈𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐬𝐡𝐢𝐩 𝐏𝐫𝐨𝐠𝐫𝐚𝐦 – 𝐑𝐞𝐬𝐜𝐮𝐞 𝟏𝟏𝟐𝟐 🚨

An opportunity for young professionals to serve humanity!

1) 1400 Rescue Interns will be selected.
2) Nursing, Paramedical & Allied Health graduates (Punjab domicile, age 18–30) can apply.
3) Last date: 20 June 2026.

Apply now via CTS & Rescue websites. (https://www.rescue.gov.pk/jobs/ActiveJobs.aspx)

| |

05/06/2026

ایم ڈی کیٹ کا امتحان سال میں ایک کے بجائے 2 بار منعقد کرنے کی تجویز۔۔۔🚨⚠️

05/06/2026

پاکستانی یونیورسٹیوں میں سٹوڈنٹس کی تعداد کیوں کم ہو رہی ہے؟

زرائع کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے سٹوڈنٹس کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے، جس نے ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں اور یونیورسٹیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق ملک کی 269 یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم سٹوڈنٹس کی مجموعی تعداد تقریباً 19 لاکھ 40 ہزار رہی، جو اس سے گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد کم ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کمی صرف تعلیمی شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کی معاشی صورتحال، حکومتی ترجیحات اور اعلیٰ تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ 2018 کے بعد سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے جاری اخراجات میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب مہنگائی، تنخواہوں، یوٹیلیٹی بلوں اور دیگر انتظامی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث متعدد سرکاری یونیورسٹیاں مالی دباؤ کا شکار ہو چکی ہیں۔

2025-26 کے وفاقی بجٹ میں اگرچہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے تقریباً 39.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، تاہم تعلیمی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ رقم بڑھتی ہوئی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کم فنڈنگ کے باعث یونیورسٹیوں کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے فیسوں میں اضافہ کرنا پڑتا ہے، جس کا براہِ راست اثر طلبہ اور ان کے خاندانوں پر پڑتا ہے۔

راولپنڈی کی فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر بشریٰ کے مطابق سٹوڈنٹس کے اندراج میں کمی کی کئی وجوہات ہیں۔ ان کے نزدیک مالی مشکلات، کم فیس والے کالج ڈگری پروگراموں کی دستیابی اور نوجوانوں کا گھریلو اخراجات میں معاونت کے لیے تعلیم کے بجائے ملازمت کو ترجیح دینا اس رجحان کے اہم اسباب ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقی لیبارٹریوں، سائنسی آلات اور تعلیمی انفراسٹرکچر میں مناسب سرمایہ کاری نہ کی گئی تو اس کے منفی اثرات معیشت کے مختلف شعبوں تک پہنچیں گے۔

قائداعظم یونیورسٹی کے اسکول آف پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے سربراہ ڈاکٹر محمد ندیم کا کہنا ہے کہ داخلوں میں کمی کی بنیادی وجہ متوسط طبقے کی معاشی مشکلات ہیں۔ ان کے مطابق ایک وقت تھا جب ان کے شعبے کے بی ایس پروگرام میں تقریباً چھ ہزار درخواستیں موصول ہوتی تھیں، لیکن حالیہ برسوں میں یہ تعداد نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بہت سے طلبہ داخلہ حاصل کرنے کے باوجود مالی وسائل کی کمی کے باعث تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔ ان کے بقول مہنگائی، بڑھتے ہوئے ٹیکس، یوٹیلیٹی بلوں اور فیسوں میں اضافے نے طلبہ کو تعلیم اور روزگار کے درمیان مشکل انتخاب پر مجبور کر دیا ہے۔

ویمن یونیورسٹی مردان کی وائس چانسلر پروفیسر رضیہ سلطانہ کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو درپیش مسائل کی جڑیں اسکولی سطح تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غربت، کم شرح خواندگی اور بنیادی تعلیم کے معیار میں کمزوری اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کو متاثر کرتی ہے۔ ان کے مطابق سرکاری یونیورسٹیوں کو مطلوبہ وسائل نہ ملنے کے باعث تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہے، جس سے طلبہ اور والدین کا اعتماد بھی کمزور پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ترجمان کا مؤقف ہے کہ بعض یونیورسٹیوں میں داخلوں میں کمی ضرور دیکھی گئی ہے، تاہم مجموعی طور پر ملک میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق 2010 میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی رکھنے والے طلبہ کی شرح تقریباً 2.1 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 13 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ترجمان نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مالی سال 2017-18 سے ایچ ای سی کا سالانہ بجٹ تقریباً 65 ارب روپے کے قریب برقرار ہے، جبکہ اسی عرصے میں اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

آل پبلک یونیورسٹیز بی پی ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن کے انفارمیشن سیکرٹری ڈاکٹر منظور احمد کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو درپیش بحران کی ایک بڑی وجہ ناکافی فنڈنگ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کے لیے مختص وسائل میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ یونیورسٹیوں کو فیسوں میں اضافے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ مہنگائی اور کمزور معاشی حالات میں بیشتر خاندانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں یونیورسٹیوں میں داخلوں کی شرح متاثر ہو رہی ہے۔

ماہرین تعلیم کا متفقہ مؤقف ہے کہ اگر یونیورسٹیوں کی فنڈنگ، تحقیق اور تعلیمی انفراسٹرکچر پر خاطر خواہ توجہ نہ دی گئی تو اس کے اثرات صرف تعلیمی شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ معیشت، صنعت، سائنس، ٹیکنالوجی اور پالیسی سازی بھی متاثر ہوگی۔ کیونکہ کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار مضبوط اور معیاری اعلیٰ تعلیمی نظام پر ہوتا ہے، اور پاکستان کو اس شعبے کو اپنی قومی ترجیحات میں نمایاں مقام دینا ہوگا۔

05/06/2026

🚨 ہسپتال میں فائرنگ کا واقعہ قابلِ مذمت ہے 🚨

ہسپتال علاج، شفا اور امید کی جگہ ہوتے ہیں، جہاں مریض اور طبی عملہ خود کو محفوظ محسوس کریں۔ ہسپتال میں فائرنگ کا حالیہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ تشویش ہے۔

ہم اس قسم کے تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ایسے واقعات نہ صرف مریضوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کے فرائض کی انجام دہی میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔

متعلقہ اداروں سے مطالبہ ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ہسپتالوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔

ہسپتالوں کو محفوظ بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Address

University Road
Barming
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when WhiteCoatology posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organisation

Send a message to WhiteCoatology:

Share