29/08/2026
بیت اللہ شریف کے جنوب مغربی کونے کو، یمن کی سمت واقع ہونے کی وجہ سے رکنِ یمانی کہا جاتا ہے۔ یہ خانۂ کعبہ کے ان مبارک مقامات میں شامل ہے جن کی فضیلت احادیثِ نبوی ﷺ میں بیان ہوئی ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے بارے میں روایت ہے:
«إِنَّ مَسْحَ الْحَجَرِ وَالرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ يَحُطَّانِ الْخَطَايَا حَطًّا»
یعنی حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کو چھونا گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔
رکنِ یمانی کو طواف کے دوران اگر آسانی سے چھونا ممکن ہو تو اسے ہاتھ سے چھونا سنت ہے، تاہم اگر رش زیادہ ہو تو کسی دوسرے شخص کو تکلیف پہنچا کر آگے بڑھنا مناسب نہیں۔
اسی طرح رکنِ یمانی سے حجرِ اسود کے درمیان یہ قرآنی دعا پڑھنا منقول ہے:
﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
رکنِ یمانی ہمیں بیت اللہ شریف کی عظمت، سنتِ نبوی ﷺ اور طواف کے آداب کی یاد دلاتا ہے۔.
جهاز مدينتي Madinaty City Hall ShamsKhan