Only PTM

Only PTM اس پیج کا مقصد صرف اور صرف پی ٹی ایم کو سپورٹ کرنا ہے۔

کل عید ہے، خدا سب کو مبارک کرے۔ اس عید میں اپنے ان ساتھیوں کو نہ بھولیں جو ریاست کے غیر آئینی اقدام کا شکار ہیں۔ کچھ نام...
26/05/2026

کل عید ہے، خدا سب کو مبارک کرے۔ اس عید میں اپنے ان ساتھیوں کو نہ بھولیں جو ریاست کے غیر آئینی اقدام کا شکار ہیں۔ کچھ نام صرف افراد نہیں ہوتے، وہ ایک قوم کے سوال، درد اور امید کی علامت بن جاتے ہیں۔ حنیف پشتین اور نوراللہ ترین 11 نومبر 2025 سے جبری طور پر لاپتہ ہیں۔ علی وزیر اور صمد لالا طویل عرصے سے قید میں ہیں، جبکہ فرید آفریدی 18 مئی سے جبری طور پر گمشدہ ہیں۔ دن گزرتے جا رہے ہیں، مگر سوال وہی ہے: آخر کب تک؟ ہر گزرتا دن صرف ایک عدد نہیں، بلکہ خاندانوں کی بے چینی، ماؤں کی دعاؤں، بچوں کے انتظار اور انصاف کی امید کا ایک اور باب ہے۔
اختلافِ رائے یا سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر، انسانی وقار، قانونی عمل اور بنیادی حقوق ہر انسان کا حق ہیں۔ اگر کوئی الزام ہے تو عدالت موجود ہے، قانون موجود ہے۔ خاموشی اور غیر یقینی کسی بھی معاشرے کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے۔ یہ صرف چند افراد کا معاملہ نہیں، بلکہ انصاف، آئین اور انسانیت کے بارے میں ایک اجتماعی سوال ہے۔


24/05/2026
21/05/2026

جب سکول سے گھر جانے والے معصوم بچے بھی محفوظ نہ رہیں، تو پھر یہ دعوے کس کے لیے ہیں کہ سب کچھ کنٹرول میں ہے؟
ریاستی کواڈ کاپٹر ڈرون کارروائی کے نتیجے میں ایک کمسن طالب علم کی جان چلی گئی اور دوسرا شدید زخمی ہوا۔ یہ اس پالیسی اور طرزِ حکمرانی کی ناکامی ہے جس میں انسانی جان کی حرمت کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔
کیا ان معصوم بچوں کی کوئی قیمت نہیں؟
کیا ان علاقوں کے لوگوں کی زندگیاں اتنی سستی ہو چکی ہیں؟

اي استاده حال ده وطن سنګه ديسکول ته ماشومان درځي که نه درځي یہ بچہ صبح سکول گیا تھا واپسی پر ڈرون سے مار کر شہید کیا گیا...
21/05/2026

اي استاده حال ده وطن سنګه دي
سکول ته ماشومان درځي که نه درځي
یہ بچہ صبح سکول گیا تھا واپسی پر ڈرون سے مار کر شہید کیا گیا۔
ڈرون اٹیک میں کبھی بھی کسی آرمی چیف جرنیل، جج ، وزیر اعظم، صدر، گورنر اور وزیر اعلی کا بچہ نہیں مارا گیا۔لیکن ہمیشہ غریب اور لاچار لوگوں کے بچے مارے جارہے ہیں۔
کیا اس ملک میں غریبوں کا کوئی حق نہیں؟
یاد رکھیں، ہمارا رب تھمارے مظالم دیکھ رہے ہیں۔
اللہ تعالٰی ظالم کو معاف نہیں کرتا۔

19/05/2026

ایک دفعہ ضرور پڑھیں

په دي رياست کښي امن غوښتونکي شکنجه کيږي او ترهګر ارتي تڼي کرزي.د پي ټي ايم تکړه ملګری فرید اپريدي د پښور ارباب روډ نه او...
18/05/2026

په دي رياست کښي امن غوښتونکي شکنجه کيږي او ترهګر ارتي تڼي کرزي.
د پي ټي ايم تکړه ملګری فرید اپريدي د پښور ارباب روډ نه اوس ماښام پنجابي استعمارګرو ادارو اوچت کړو .
د ټولو ملګرو نه خواست دی چی په سوشل میډیا غږ پورته کړېي.

17/05/2026

مشر منظور احمد پښتين ♥️ ده سر په بدله ده پښتون قام ژغورنه کوي
راځئ چې دښمن ته يو لاس شو

پی ٹی ایم کے حوالے سے اے این پی کے ہر وقت بدلتے ہوئے مؤقف کے پیچھے کارفرما وجوہات2018 پی ٹی ایم کے شروع سے اب تک اے این ...
16/05/2026

پی ٹی ایم کے حوالے سے اے این پی کے ہر وقت بدلتے ہوئے مؤقف کے پیچھے کارفرما وجوہات
2018 پی ٹی ایم کے شروع سے اب تک اے این پی کا پی ٹی ایم کے حوالے سے بدلتا موقف

1۔ پی ٹی ایم کے اسلام آباد دھرنے میں اسفندیار ولی خان نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ “پی ٹی ایم کا لینڈ مائنز ختم کرنے کا مطالبہ میرا بھی مطالبہ ہے۔ پی ٹی ایم کا لاپتہ افراد کی رہائی کا مطالبہ میرا بھی مطالبہ ہے۔ میں پاکستان کے اقتدار پرست حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ ان جوانوں کی بات سن لو، ورنہ انجام برا ہوگا۔”

2۔ مگر بعد میں اسفندیار ولی خان پی ٹی ایم کی مخالفت کرتے ہوئے ایک صحافی سے کہتے ہیں کہ
“پی ٹی ایم سے ہمارا اختلاف تشدد پر ہے۔”
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی ایم پر تشدد کا الزام ریاست بھی ثابت نہیں کر سکی۔ اسفندیار ولی خان کے اس بیان پر اے این پی کی اکثر قیادت نے ان کا ساتھ نہیں دیا، بلکہ بعض نے مخالفت بھی کی۔ خان زمان کاکڑ نے اس بیان کے ردِعمل میں فیس بک پر ایک پوسٹ لکھا تھا
“لوگ جو بھی کہیں، مگر ہمیں معلوم ہے کہ پی ٹی ایم نے آج تک ایک گملا بھی نہیں توڑا، تشدد تو بہت دور کی بات ہے۔”

3۔ پھر ایمل ولی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی ایم کو ریاست نے بنایا ہے۔ اسلام آباد دھرنے میں منظور پشتین کو اسٹیبلشمنٹ نے کنٹینر فراہم کیا تھا۔
(بحوالہ پختونخوا ڈائری یوٹیوب چینل)

4۔ 15 مئی 2018 کو میاں افتخار حسین نے ٹویٹ میں لکھا کہ
“پی ٹی ایم کے مطالبات جائز ہیں۔ حکومت اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ان مسائل کے حل پر مکمل توجہ دے۔ ان مطالبات کو کوئی اور رنگ دینے سے اجتناب کیا جائے۔ نہ یہ قوم کے مفاد میں ہے اور نہ ملک کے مفاد میں۔”

5۔ الیکشن کے بعد اسفندیار ولی خان ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ
“وزیرستان مکمل طور پر آرمی کے قبضے میں ہونے کے باوجود پی ٹی ایم کے دو ممبران نے قومی اسمبلی کی نشستیں کیسے جیتیں، اگر ریاستی ہمدردی شامل نہیں تھی؟” ( گو کہ پی ٹی ایم پاکستان کی پارلیمانی سیاست نہیں کرتی ) ۔ بحوالہ “پختونخوا ڈائری” یوٹیوب چینل

15 جنوری 2020 کو، بحوالہ انڈپینڈنٹ اردو، اسفندیار ولی خان نے کہا تھا:
6۔ پی ٹی ایم کے جو مطالبات ہیں، وہ اے این پی کے منشور کا حصہ ہیں۔
7۔ اے این پی نے روزِ اول سے پی ٹی ایم کے مطالبات کی حمایت کی ہے۔
باقی حصہ کمینٹ میں دیکھے:

Address

Gwand Kalay
Peshawar
21123

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Only PTM posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share